زیادہ استعمال ہونے والے ٹیگز:

کامیاب بچہ #SuccessKid

کیا آپ اس بچے کو جانتے ہیں؟ چلیے ایک اشارہ لیجیے کہ یہ بچہ سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر انتہائی مشہور ہونے والوں میں سے ایک ہے ۔ ۔ ۔ پہچانا؟

#successkid

کامیاب بچہ 27 ستمبر 2014ء کو آٹھ سال کا ہوچکا ہے۔

اگر نہیں پہچانا تو کوئی بات نہیں، کچھ منٹ پہلے میں بھی اس بچے کو نہیں جانتا تھا۔ یہ بچہ دراصل فیس بک کے ذریعے شہرت پانے والے میمیز میں سے ایک ‘سیمی’ عرف #SuccessKid ہے۔ جناب سیمی کی تصویر ان کی والدہ لینی گرینر نے اس وقت لی تھی جب ان کی عمر صرف 11 ماہ تھی اور فلوریڈا کے ساحل سمندر پر موجود تھے۔ گو کہ ان کی تصویر کو فلکر پر زیادہ ‘فیورٹس’ تو نہیں ملے لیکن سوشل میڈیا بطور میمی اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھتی چلی گئی اور آج بھی جاری ہے۔

کمیاب بچے کی میمی کو لوگ عموماً ایسے وقت میں استعمال کرتے ہیں کہ جب انہوں نے کوئی ایسا ‘بچوں والا کارنامہ’ انجام دیا ہو جسے عام طور پر مشکل سمجھا جاتا ہو۔ کچھ افراد اسے غصے کے اظہار کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

جمہوریت کا ریپ

“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔” وہ قہقہے پر قہقہے لگائے جا رہا تھا اور میں تھا کہ جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ دل تو چاہ رہا تھا اسے گلا دبا کر خاموش کردوں لیکن اس وقت ٹی وی اسکرین پر جلتی بجھتی لال پٹیاں زیادہ اہم تھیں کہ جس میں وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک (پہ اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری سے مذاکرات کا پروگرام طے ہونے کی خبریں چل رہی تھیں۔

بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے!

عرصہ 7 ماہ اور 9 دن بعد کوئی تحریر اس بلاگ پر شائع ہونے جا رہی ہے۔ اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج میں بلاگ شائع کرنے کا تہیہ کر کے لکھنے بیٹھا ہوں۔ دفتر سے گھر کی طرف سفر کے دوران خیال آیا کہ بلاگ لکھے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ خود سے پوچھا کیوں؟ تو جواب میں صرف دو ہی وجوہات سامنے آئیں، پہلی مصروفیت اور دوسری فراغت۔

دیگر مصروف لوگوں کی طرح ہمیں بھی مصروفیت میں بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملتا کہ وہ کام زیادہ ضروری ہیں جس کے لیے آپ دفتر میں موجود ہیں یا جن سے دال روٹی کا بندوبست ہو سکے۔ اور جب فراغت ہوتی ہے تو اس میں بلاگ اس لیے نہیں لکھا جاتا کہ سامنے رکھے بجلی، گیس اور فون کے بل سر پر تلوار بن کر سر لٹک رہے ہوتے ہیں اور انہیں چکتانے کے چکر میں مزید کام یعنی مصروفیت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔

لیکن پھر سوچا کہ بلاگ لکھنے میں کون سے ہاتھی گھوڑے لگتے ہیں؟ بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے۔ اور الحمدللہ خدا نے آنکھ، کان اور ذہن سلامت رکھے ہیں تو کیوں نہ جو دیکھا، سنا اور سمجھا جائے، وہ لکھ بھی دیا جائے۔ بلاگ کی ہر تحریر کو بیک وقت اردو ادب اور صحافت کا طرہ امتیاز بنانے کے چکر میں پڑگئے تو یہاں مکڑیوں نے جالے ہی بنا لینے ہیں!

کیا گوگل انڈیا کا اشتہار پاکستانی فلم کی نقل ہے؟

گوگل انڈیا نے بھارت میں ادارے کی تشہیر کے لیے ایک عدد اشتہار Reunion بنایا ہے کہ جس میں گوگل سرچ کی سہولیات مثلاً موسم کا حال جاننے، پروازوں کا شیڈول معلوم کرنے کا طریقہ اور گوگل پلس وغیرہ کی افادیت کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس تین منٹ کے اشتہار میں دو دوستوں کی کہانی دکھائی گئی ہے کہ جو پاک – بھارت تقسیم کے بعد الگ ہوگئے اور پھر ان کے احباب نے طویل عرصے بعد ان کے ملاپ کو گوگل کے ذریعے ممکن بنایا۔

google india pak reunion advertisement

میں نے فیس بک پر پہلی بار گوگل انڈیا کا اشتہار دیکھا تو میرے ذہن میں پاک سر زمین پروڈکشنز کی پیش کردہ ایک مختصر فلم کا خیال آیا کہ جس کا حوالہ میں اکثر ٹیکنالوجی سے بغض رکھنے والے افراد کو دیا کرتا تھا۔ یہ مختصر فلم Respect کے نام سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کے فروغ اور کمیونی کیشن کی افادیت کے موضوع پر بنائی گئی تھی اور اس کا مرکزی خیال بالکل وہی تھا کہ جسے گوگل آج پیش کر کے داد و تحسین وصول کر رہا ہے۔ اس فلم کو گذشتہ سال ماہ دسمبر میں ریلیز کیا گیا تھا اور یہ ایک عرصے تک کافی مقبول رہی تھی۔

ذیل میں پاکستانی نوجوانوں کی تیار کردہ ویڈیو ملاحظہ کریں اور فیصلہ کریں کہ کیا واقعی گوگل انڈیا نے اسی خیال کو نقل کیا ہے؟