زیادہ استعمال ہونے والے ٹیگز:

جمہوریت کا ریپ

“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔” وہ قہقہے پر قہقہے لگائے جا رہا تھا اور میں تھا کہ جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ دل تو چاہ رہا تھا اسے گلا دبا کر خاموش کردوں لیکن اس وقت ٹی وی اسکرین پر جلتی بجھتی لال پٹیاں زیادہ اہم تھیں کہ جس میں وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک (پہ اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری سے مذاکرات کا پروگرام طے ہونے کی خبریں چل رہی تھیں۔

بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے!

عرصہ 7 ماہ اور 9 دن بعد کوئی تحریر اس بلاگ پر شائع ہونے جا رہی ہے۔ اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج میں بلاگ شائع کرنے کا تہیہ کر کے لکھنے بیٹھا ہوں۔ دفتر سے گھر کی طرف سفر کے دوران خیال آیا کہ بلاگ لکھے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ خود سے پوچھا کیوں؟ تو جواب میں صرف دو ہی وجوہات سامنے آئیں، پہلی مصروفیت اور دوسری فراغت۔

دیگر مصروف لوگوں کی طرح ہمیں بھی مصروفیت میں بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملتا کہ وہ کام زیادہ ضروری ہیں جس کے لیے آپ دفتر میں موجود ہیں یا جن سے دال روٹی کا بندوبست ہو سکے۔ اور جب فراغت ہوتی ہے تو اس میں بلاگ اس لیے نہیں لکھا جاتا کہ سامنے رکھے بجلی، گیس اور فون کے بل سر پر تلوار بن کر سر لٹک رہے ہوتے ہیں اور انہیں چکتانے کے چکر میں مزید کام یعنی مصروفیت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔

لیکن پھر سوچا کہ بلاگ لکھنے میں کون سے ہاتھی گھوڑے لگتے ہیں؟ بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے۔ اور الحمدللہ خدا نے آنکھ، کان اور ذہن سلامت رکھے ہیں تو کیوں نہ جو دیکھا، سنا اور سمجھا جائے، وہ لکھ بھی دیا جائے۔ بلاگ کی ہر تحریر کو بیک وقت اردو ادب اور صحافت کا طرہ امتیاز بنانے کے چکر میں پڑگئے تو یہاں مکڑیوں نے جالے ہی بنا لینے ہیں!

کیا گوگل انڈیا کا اشتہار پاکستانی فلم کی نقل ہے؟

گوگل انڈیا نے بھارت میں ادارے کی تشہیر کے لیے ایک عدد اشتہار Reunion بنایا ہے کہ جس میں گوگل سرچ کی سہولیات مثلاً موسم کا حال جاننے، پروازوں کا شیڈول معلوم کرنے کا طریقہ اور گوگل پلس وغیرہ کی افادیت کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس تین منٹ کے اشتہار میں دو دوستوں کی کہانی دکھائی گئی ہے کہ جو پاک – بھارت تقسیم کے بعد الگ ہوگئے اور پھر ان کے احباب نے طویل عرصے بعد ان کے ملاپ کو گوگل کے ذریعے ممکن بنایا۔

google india pak reunion advertisement

میں نے فیس بک پر پہلی بار گوگل انڈیا کا اشتہار دیکھا تو میرے ذہن میں پاک سر زمین پروڈکشنز کی پیش کردہ ایک مختصر فلم کا خیال آیا کہ جس کا حوالہ میں اکثر ٹیکنالوجی سے بغض رکھنے والے افراد کو دیا کرتا تھا۔ یہ مختصر فلم Respect کے نام سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کے فروغ اور کمیونی کیشن کی افادیت کے موضوع پر بنائی گئی تھی اور اس کا مرکزی خیال بالکل وہی تھا کہ جسے گوگل آج پیش کر کے داد و تحسین وصول کر رہا ہے۔ اس فلم کو گذشتہ سال ماہ دسمبر میں ریلیز کیا گیا تھا اور یہ ایک عرصے تک کافی مقبول رہی تھی۔

ذیل میں پاکستانی نوجوانوں کی تیار کردہ ویڈیو ملاحظہ کریں اور فیصلہ کریں کہ کیا واقعی گوگل انڈیا نے اسی خیال کو نقل کیا ہے؟

الیکشن 2013ء اور پتنگ باز سجنا

ممکن ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان پورے ملک میں الیکشن 2013ء کو صاف و شفاف کروانے میں کامیاب ہوگیا ہو لیکن 11 مئی کو کراچی کی عوام نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا، اس کے بعد الیکشن کمیشن کی کسی بات پر یقین کرنا ممکن نہیں رہا۔ ماضی میں جس طرح شہر کراچی کے انتخابی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جاتا رہا اسی طرح اس بار بھی کھلم کھلا دھاندلی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود پولنگ اسٹیشنز میں نہ صرف جعلی ووٹ ڈالے گئے بلکہ حق رائے دہی کو استعمال کرنے کی غرض سے آنے والوں ووٹرز سمیت ریٹرننگ آفیسرز اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری عملے کو بھی زدو کوب کیا گیا۔

تمام دن الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان "پتنگ باز سجنا" سے وفا کرتے رہے

تمام دن الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان “پتنگ باز سجنا” سے وفا کرتے رہے

اس دہشت گردی کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ روایتی میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک سب ہی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بزور طاقت انتخابی عمل کو یرغمال بنتے دیکھ کر کراچی میں واضح نمائندگی رکھنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مہاجر قومی موومنٹ نے انتخابی عمل کے بیچ ہی کراچی میں الیکشن کے بائیکاٹ کا ہی اعلان کر دیا۔ لیکن آفرین ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر کہ جو اس خوشی کے دن کراچی والوں کو روتا دھوتا دیکھتا رہا لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ محسوس ہوتا تھا کہ شفاف انتخابات کے ذمہ دار دونوں اہم ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان “پتنگ باز سجنا” سے وفائی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

شاید کچھ “حق پرست” حضرات فیس بک، ٹویٹر اور بلاگز پر انتخابی عمل میں دھاندلی کی ویڈیوز شیئر کرنے والوں اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کو جماعتی، تحریکی، طالبانی ایجنٹ یا کچھ اور قرار دے کر ایم کیو ایم کی دھاندلیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں، لیکن اس وقت کیا کیجیے گا کہ جب غیرجانبدار فلاحی تنظیمیں بھی انتخابات کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کی غیر اخلاقی و غیر قانونی حرکتوں کا پردہ فاش کریں؟ مثال کے لیے آپ FAFEN (آزاد اور منصفانہ انتخابات کے نیٹ ورک) کے چند ٹویٹس ملاحظہ کریں کہ جس میں نام لے کر انتخابی عمل میں دراندازی کرنے والی تنظیم کی نشاندہی کی گئی ہے۔