زیادہ استعمال ہونے والے ٹیگز:

الیکشن 2013ء اور پتنگ باز سجنا

ممکن ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان پورے ملک میں الیکشن 2013ء کو صاف و شفاف کروانے میں کامیاب ہوگیا ہو لیکن 11 مئی کو کراچی کی عوام نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا، اس کے بعد الیکشن کمیشن کی کسی بات پر یقین کرنا ممکن نہیں رہا۔ ماضی میں جس طرح شہر کراچی کے انتخابی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جاتا رہا اسی طرح اس بار بھی کھلم کھلا دھاندلی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود پولنگ اسٹیشنز میں نہ صرف جعلی ووٹ ڈالے گئے بلکہ حق رائے دہی کو استعمال کرنے کی غرض سے آنے والوں ووٹرز سمیت ریٹرننگ آفیسرز اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری عملے کو بھی زدو کوب کیا گیا۔

تمام دن الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان "پتنگ باز سجنا" سے وفا کرتے رہے

تمام دن الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان “پتنگ باز سجنا” سے وفا کرتے رہے

اس دہشت گردی کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ روایتی میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک سب ہی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بزور طاقت انتخابی عمل کو یرغمال بنتے دیکھ کر کراچی میں واضح نمائندگی رکھنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مہاجر قومی موومنٹ نے انتخابی عمل کے بیچ ہی کراچی میں الیکشن کے بائیکاٹ کا ہی اعلان کر دیا۔ لیکن آفرین ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر کہ جو اس خوشی کے دن کراچی والوں کو روتا دھوتا دیکھتا رہا لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ محسوس ہوتا تھا کہ شفاف انتخابات کے ذمہ دار دونوں اہم ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور افواج پاکستان “پتنگ باز سجنا” سے وفائی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

شاید کچھ “حق پرست” حضرات فیس بک، ٹویٹر اور بلاگز پر انتخابی عمل میں دھاندلی کی ویڈیوز شیئر کرنے والوں اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کو جماعتی، تحریکی، طالبانی ایجنٹ یا کچھ اور قرار دے کر ایم کیو ایم کی دھاندلیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں، لیکن اس وقت کیا کیجیے گا کہ جب غیرجانبدار فلاحی تنظیمیں بھی انتخابات کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کی غیر اخلاقی و غیر قانونی حرکتوں کا پردہ فاش کریں؟ مثال کے لیے آپ FAFEN (آزاد اور منصفانہ انتخابات کے نیٹ ورک) کے چند ٹویٹس ملاحظہ کریں کہ جس میں نام لے کر انتخابی عمل میں دراندازی کرنے والی تنظیم کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اردو بلاگستان اور پرفیوم چوک

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں یا کبھی کراچی کا تفصیلی دورہ کرچکے ہیں تو شہر کی دیواروں پر سیاسی نعروں کی چاکنگ کے علاوہ غیر سیاسی وال چاکنگ بھی ضرور دیکھی ہوگی۔ ان میں بابا عامل بنگالی کے ذریعے معشوق کو غلام بنانے سے لے کر شادی سے پہلے یا بعد میں طبی معائنہ کروانے کے مشورے تک سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔ ان غیر سیاسی وال چاکنگ کے ذریعے جس نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ گلستان جوہر کا “پرفیوم چوک” ہے کہ جو آپ کو ہر محلے کی گلیوں، دکانوں کے شٹروں، روڈ پر لگے خالی اشتہار بورڈ، چوراہے پر لگی ٹین کی چادروں غرض یہ کہ ہر چیز پر لکھا نظر آئے گا۔

perfume-chowk-gulistan-e-jauhar

پرفیوم چوک، گلستان جوہر کی وال چاکنگ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ یہ ایک طویل اور دلچسپ کہانی ہے۔ مختصر یہ کہ آج سے کوئی دس، بارہ سال قبل گلستان جوہر میں مرسلین خان نامی صاحب نے ایک کیبن میں عطر کا کاروبار شروع کیا۔ یہ کیبن ویسا ہی تھا کہ جیسے عام طور پر پان فروش استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت چونکہ گلستان جوہر اتنا گنجان آباد نہ تھا، اس لیے مرسلین خان صاحب نے اپنے دکان نما کیبن کی تشہیر کے لیے وال چاکنگ کا سہارا لیا اور مختلف علاقوں کی دیواروں کو بلا جھجک “پرفیوم چوک، گلستان جوہر” کے نام سے رنگنا شروع کردیا۔ اس دوران مرسلین خان صاحب کو کئی مسائل کا سامنا بھی ہوا جن میں متعدد بار ان کا کیبن مسمار کیئے جانے سے لے کر کینٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے 2.8 ملین جرمانہ عائد کیا جانا بھی شامل ہے لیکن ان سب کے باوجود مرسلین خان اپنے کام میں جتے رہے اور کراچی کا کوئی ایسا محلہ نہ چھوڑا کہ جہاں پرفیوم چوک کا نام نہ لکھا ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس علاقے کو لوگ پرفیوم چوک کے نام سے جانتے ہیں۔ بس اور رکشہ میں سفر کرنے والے بھی چوک کا نام استعمال کرتے ہیں۔ بقول شخصے چوک کے قریب رہنے والے لوگ تو شناختی کارڈ میں پتہ درج کروانے کے لیے بھی نزد پرفیوم چوک بطور حوالہ استعمال کرنے لگے ہیں۔ اور تو اور مشہور ٹی وی چینلز اس پر نہ صرف ڈاکیومینٹریز بناچکے ہیں بلکہ ایک مشہور ڈرامہ سیریل بھی اس نام سے بنایا اور نشر کیا جا چکا ہے۔

اب آتے ہیں اس کہانی کو بیان کرنے کے مقصد پر۔ ہم یعنی اردو بلاگستان کے ساتھی انتہائی مہذب اور پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگیا کہ اردو بلاگر جس لگن کے ساتھ لکھ رہے ہیں اور اردو کو فروغ دے رہے ہیں اتنا کسی دوسری زبان میں بلاگنگ کرنے والوں نے نہ کیا ہوگا۔ ہمارے درمیان کئی ایک مثالی بلاگز اور بلاگر موجود ہیں کہ جن کا کوئی ثانی نہیں۔ سنجیدہ، سیاسی، طنز و مزاح، تنقیدی، تاریخی، کھیل، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت تقریباً ہر موضوع پر اردو بلاگر لکھ رہے ہیں۔ یہ ہمارے ساتھیوں کی ناقابل بیان محنت ہی کا نتیجہ ہے کہ ایک دہائی قبل بویا جانے والا اردو بلاگنگ کا بیج آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ لیکن اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے اتنی محنت اور لگن کے باوجود اردو بلاگر کو اتنی پزیرائی کیوں حاصل نہیں ہو پائی کہ جتنی دیگر خصوصاً انگریزی زبان میں بلاگنگ کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم قومی زبان میں بلاگنگ کرتے ہیں کہ جو ہر تین جماعت پاس شخص بھی پڑھ سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں انگریزی بلاگرز و سوشل میڈیا ماہرین چھائے رہتے ہیں؟

اس کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں کہ جن میں اردو بلاگران کی اکثریت کا غیر ضروری شرمیلا پن، بے لچک رویہ اور مواقع سے فائدہ نہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ ملک میں تقریباً ہر ہفتے کسی نہ کسی ادارے یا این جی او کے تحت سوشل میڈیا سیمینارز اور meet-ups ہوتی رہتی ہیں کہ جن کا اردو بلاگران کو اول تو علم ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو وہ اس میں شرکت نہیں کرتے۔ یوں ہم نہ صرف خود اپنے بلاگ کی تشہیر کا موقع ضائع کرتے ہیں بلکہ اجتماعی طور پر اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا موقع بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ آپ تصور کریں کہ اگر اردو بلاگران بھی مرسلین خان کی طرح بلاجھجک اور قدرے بے لچک رویہ اپنائیں، شرما حضوری کو کچھ دیر کے لیے چھٹی پر بھیج دیں اور ہر تقریب، چھوٹی بڑی meet-ups میں شرکت کی کوشش کریں تو اردو بلاگنگ کو کس قدر فائدہ پہنچے گا۔ ممکن ہے کہ اردو بلاگران کسی غیر زبان میں ہونے والے سیمینار یا تقریب میں شرکت کرنا عجیب محسوس کریں لیکن میری نظر میں اس کا فائدہ کم از کم دو طرح سے اردو بلاگنگ کو پہنچ سکتا ہے۔ اول یہ کہ اردو بلاگر کی تقاریب میں موجودگی وہاں موجود لوگوں کی توجہ اردو زبان میں بلاگنگ کی طرف مبذول کروائے گی اور دوسرا فائدہ اردو بلاگر کو حاصل ہونے والا تجربہ ہے کہ جسے وہ بعد ازاں عملی اقدامات کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔

مرسلین خان کے مثال دینے کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ جناب آپ بھی اسپرے لیں اور دیواروں کو اپنے بلاگ اور اس کے ایڈریس سے رنگنا شروع کردیں۔ ہمیں صرف مرسلین خان کی پرفیوم چوک مارکیٹنگ اسٹریٹیجی کو اپنے طریقہ سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والے شخص کو ہر جگہ اردو بلاگ اور اردو بلاگستان کا نام نظر آئے۔ کم از کم پاکستان میں جب بھی سوشل میڈیا یا بلاگنگ کے حوالے سے کوئی کام کیا جائے تو اس میں کسی نہ کسی اردو بلاگ کا نام بھی شامل ہو۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ اردو بلاگران خود سے آگے بڑھیں، اردو کمیونٹی سے باہر نکل کر آن لائن اور آف لائن دونوں طرز پر بلاگنگ کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں، بلاجھجک اپنا اور اپنے بلاگ کا تعارف ہر جگہ پیش کریں، دیگر زبانوں کے کامیاب بلاگران سے سیکھیں اور حاصل ہونے والے تجربے کو اردو بلاگنگ کے فروغ پر استعمال کریں۔ یوں مستقبل میں لوگ “اردو بلاگستان” سے اپنی وابستگی کو بھی فخریہ طور پر بطور حوالہ استعمال کرسکیں گے۔

راجہ

ایک تھا راجہ۔ وہ عام قصے کہانیوں کے راجاؤں اور مہاراجاؤں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کا تعلق سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں حاجی سائیں داد سے تھا۔ وہ اپنے والدین کی پہلی اور آخری اولاد تھا جو شادی کے دس سال بعد انہیں ملی۔ اس نرینہ اولاد کے لیے باپ روشن خان نے کتنی دعائیں کیں اور  ماں نے کہاں کہاں منتیں مانگیں اور وہ ایک الگ داستان ہے۔ والدین نے اکلوتی اولاد کو نازوں سے پال پوس کر بڑا کیا اور اچھے وقتوں میں اپنے راجہ کی شادی ایک میٹرک پاس لڑکی نجمہ سے کردی اور یوں اس کہانی میں راجہ کے ساتھ رانی بھی شامل ہو گئی۔

سال 2008ء میں الیکشن ہوئے تو راجہ نے بھی ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے ‘تیر’ پر ٹھپہ لگایا۔ اس کے کانوں میں جلسے جلوسوں میں موجود سینکڑوں لوگوں کے سامنے کیے گئے سیاسی وعدوں کی گونج کے علاوہ دل میں غریب عوام اور شہداء کی پارٹی کے لیے ہمدردی بھی موجود تھی۔ پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر راجہ  نے ان سے روٹی، کپڑا اور مکان کی آس لگا لی۔ انتخابات کے نتائج آئے تو راجہ کی پارٹی وفاق اور صوبہ سندھ میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ راجہ اس کامیابی پر بہت خوش ہوا کیوں کہ اب اسے پارٹی کی خدمت کرنے کا صلہ ملنے والا تھا۔

راجہ کے والدین بوڑھے ہوگئے اور وہ دو بچوں کا باپ بن گیا تو اسے والدین کا سہارا اور خاندان کی کفالت کے لیے نوکری کی ضرورت پیش آئی۔ مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دینے والے اس غریب راجہ کی نظریں اپنی محسن پارٹی کی جانب ٹکیں کہ جنہوں نے اس سے کئی ایک وعدے کیے تھے۔ راجہ نے نوکری کے حصول کے لیے اپنی پارٹی کے نمائندوں سے بات کی، پھر تھوڑی کوششوں سے اوپر تک رسائی حاصل کی اور مقامی نمائندے سے بہتر نوکری کی درخواست کی لیکن کسی شخص کے پاس راجہ کی درخواست کو ایک نظر دیکھنے کا بھی وقت نہیں تھا۔

مقامی اور صوبائی نمائندوں سے مایوس ہو کر اس نے حکمراں جماعت کے اعلیٰ عہدیداران سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ راجہ کے والد نے اسے بارہا اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کے بارے میں بتایا لیکن راجہ جیسا شخص بھلا قائدین کے وعدوں کو کیسے بھول سکتا تھا۔ وہ اسلام آباد جانے پر بضد رہا اور والدین نے اکلوتی اولاد کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے جوڑ توڑ کر کچھ پیسوں کا بندوبست کردیا اور یوں راجہ اسلام آباد پہنچ گیا۔

راجہ نے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا سوچا مگر ناکامی ہوئی تو پھر صدارتی محل کی جانب قدم اٹھانے کی کوشش کی لیکن اسے وزیر اعظم یا صدر سے ملاقات تو درکنار ان کی ایک جھلک بھی نہ دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ دو روز تک حکومتی اہل کاروں سے ملاقات کی کوششیں کرنے کے بعد بالآخر 24 اکتوبر 2011ء کو راجہ نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے خود کو نظر آتش کر کے غربت، تنگ دستی سمیت تمام غموں سے آزاد کرلیا۔

نوشہرو فیروز کے راجہ رند کی ایک سال پرانے واقعے کو سب بھول چکے ہوں گے۔ اسمبلی میں بیٹھے 270 ارکان اسمبلی کے ذہنوں سے بھی یہ راجہ محو ہوچکا ہوگا۔ باقی اراکین اسمبلی تو ایک طرف راجہ جیسے کارکنوں کی محنتوں اور ووٹوں سے قومی اسمبلی میں پہنچنے والے سید ظفر علی شاہ اور مرتضی خان جتوئی بھی اپنے حلقے کے اس غریب راجہ کو بھول چکے ہوں گے۔ کیوں کہ ایسے کئی راجا تو آتے جاتے ہی رہتے ہیں۔

میں اس تمام واقعہ کا قصور وار راجہ ہی کو ٹھراتا ہوں کیوں اس نے خودکشی کے لیے انتہائی غلط وقت کا انتخاب کیا۔ راجہ نے جس وقت اسلام آباد پہنچنے اور اپنی پارٹی کے اہل کاروں سے ملنے کی کوشش کی اس وقت پوری پارٹی سابقہ سربراہ نصرت بھٹو کے انتقال پر شدید دکھ دکھ اور رنج میں تھی۔ راجہ کو اپنی اوقات دیکھتے ہوئے اپنی خودکشی کو مؤخر کردینا چاہیے تھا کیوں کہ نصرت بھٹو کے قصیدے پڑھنے میں مصروف سیاسی رہنما اور ذرائع ابلاغ اس پر توجہ دینے میں اپنا وقت کیوں ضائع کرتے۔

راجہ اگر تھوڑا انتظار کرتا تو مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم یا ان کے وزراء کی فوج ظفر موج میں سے کوئی راجہ کی دہائی سنتا اور اسے اپنے گھر یا دفتر میں چھوٹی موٹی نوکری دے سکتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صدر صاحب فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کسی محکمے میں بھرتی کروادیتے یا کم از کم کسی انکم سپورٹ پروگرام سے اس کی مدد ہی فرما دیتے۔ اب آپ یہی دیکھ لیں کہ فریال تالپور نے راجہ کی بیوہ کو ایک لاکھ روپے اور نوکری دی۔ راجہ کی میت کو جس وقت سپرد خاک کیا جارہا تھا ٹھیک اسی وقت اس کے گھر تیسرے بچے کی ولادت ہوئی۔ راجہ تھوڑا صبر کرتا تو اپنے بیٹے کی شکل دیکھ پاتا لیکن اسے شاید یہ خوف تاری تھا کہ وہ  اس بچے کو کیا منہ دکھائے گا۔

سوشل میڈیا پر سیاسی نفرت انگیزی

حج کے دوران وادی منی میں تین شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس عمل کو رمی کہتے ہیں کہ جو 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔ عازمین حج کی جانب سے شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا حجم چنے کے برابر ہونا کافی ہے۔ لیکن چونکہ لفظ شیطان سے ہمیں شدید دائمی نفرت ہے اس لیے بعض لوگ رمی کے دوران شدید غصہ کی سی کیفیت میں بڑے پتھروں کے علاوہ جوتیوں اور چپلوں تک کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ نیز زبان سے بھی وہ نہ صرف شیطان بلکہ اس کے رشتہ داروں کو بھی ایسے القابات سے نوازتے ہیں کہ الامان فی الحفیظ۔ اس طرح ایک قدرے آسان عمل مشکل ہوجاتا ہے اور حاجیوں کے لیے مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ اب آپ اس کا فیصلہ خود ہی کرسکتے ہیں حج کے دوران اگر اپنے ہی مسلمان بھائی کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو بھلا یہ فرض اور اس کے لیے کی جانے والی محنت بارگاہ رب العزت میں کس طرح قبول ہوگی۔

شیطان کے لیے یہ جذباتی کیفیت و نفرت صرف دوران حج تک ہی محدود نہیں رہتی البتہ وہاں سے وطن واپس آتے ہی ہمارا قبلہ اور شیطان دونوں ہی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جس شیطان کو اذیت پہنچانے کی غرض سے کنکریاں ماریں گھر آکر اسی کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ بالخصوص سیاسی صاحبان کے جو سیاست کو مذہب کا درجہ اور انتخابات کو جنگ مان کر اس میں ہر چیز کو جائز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ انتخابات 2013ء جیسے قریب آرہے ہیں ویسے ہی سیاسی جیالوں میں بھی جوش بڑھتا جارہا ہے۔ اس کا مظاہرہ دیکھنے کے لیے آپ کو گھر سے باہر جانے کی قطعاً ضرورت نہیں بس ایک نظر سوشل میڈیا پر ڈال لیجیئے۔ فیس بک کی ہی مثال لے لیں کہ جہاں اکثر و بیشتر مختلف سیاسی و نظریاتی کے حامل افراد کی طرف سے اظہار نفرت اور مفروضوں کی بنیاد پر برا بھلا کہنے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

بعض لوگ اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ جس چیز پر دوسروں کو نشانہ بنا رہے ہیں بذات خود اسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کو زبان درازی پر لتاڑ رہے ہیں تو تنقید کے لیے اس  قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کریں گے کہ جو گلی کے نکڑ پر کھڑے اوباش لڑکوں یا عوامی بیت الخلا کی دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں۔ گویا کہ فیس بک وال نہ ہوئی کسی پبلک ٹوائلٹ کی دیوار ہوگئی۔ یا پھر کسی کو شدت پسندی کا طعنہ دیتے ہوئے خود بھی انتہا پسندی کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں۔

اس کام کے لیے تصاویر کا سہارا لینا بہت عام بات بن گئی کہ جسے لوگ آسانی سے شیئر کر کے نفرت انگیزی کو مزید شہہ دے سکیں۔ آپ “آئی ہیٹ فلاں” یا “ماسٹر آف یوٹرن” جیسے صفحات ملاحظہ کرلیں کہ جن کا مقصد ہی سیاسی مخالفین کی پول پٹیاں کھولنا، ماضی کی واقعات کی مثالوں، حالیہ واقعات یا پھر اپنی من گھڑت کہانیوں کو بنیاد بنا کر سیاسی و نظریاتی مخالفین کا مذاق اڑانا اور ان کی تضحیک کرنا ہوتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے دیکھ کر کہ یہ افراد دوسری جماعتوں کو لتاڑتے ہوئے نہ تو اپنے الفاظ کو قابو میں رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ ان کی غیر اخلاقی گفتگو ان کی خاندانی تربیت کی عکاسی کر رہی ہے۔ چاہے وہ یہ کام شدید غصہ کی کیفیت میں کر رہے ہوں یا دل کو سکون پہچانے کے لیے۔ درحقیقت گندی زبان کا استعمال خود ان کے اپنے تصور اور موقف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ رہی سہی کسر وہ لوگ پوری کردیتے ہیں جنہیں بغیر پڑھے یا سمجھے تصویر شیئر کرنے اور فحش باتوں کو آگے بڑھانے کو شوق ہوتا ہے کہ اس سے انہیں بھی دلی سکون ملتا ہے۔

ملک کی سیاسی تاریخ اور موجودہ دور کے سیاسی پنڈتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ سوشل میڈیا پر سرگرم سیاسی کارکنان کی یہ “محنت” انتخابات کے وقت بالکل برباد ہوجانی ہے کہ جب ان کے رہنما سیاسی مصلحت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے نظر آئیں گے۔ تب انہیں احساس ہوگا کہ سالوں تک جس شخص یا جماعت کی مخالفت میں وہ مغلظات سے بھرپور سرخیوں والی تصاویر شیئر کرتے رہے اور دوسروں سے الجھ کر، ذاتیات کی حد تک جا کر لڑ نے، اپنی تذلیل کر وا کر اور دوسروں کی بے عزتی کر کے، میں نہ مانوں کی بنیاد پر بے جا بحث میں وقت برباد کرکے اپنے ہی تصور کو خراب کرتے رہے اس سے حریف پر کوئی اثر ہوا ہی نہیں۔ اس کے برعکس مخالف کی مشہوری کو چار چاند لگ گئے۔

اگر کسی جماعت یا شخص کے موقف، نظریات یا تعلیمات میں صداقت ہے اور وہ حقیقت میں عام عوام کے لیے مفید ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے مناسب رائج طریقوں سے عوام الناس تک پہنچائے نا کہ جبراً دوسروں پر ٹھوسنے یا مخالف پر تنقید پر اپنا وقت برباد کرے۔ سیاسی تحریکوں کے دوران دیواروں کو گالیوں سے رنگ دیئے جانے کا منظر جب بھی دیکھا یہی خیال کیا کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اس لیے سیاسی رہنما کچھ بھی لکھوا دیتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پڑھے لکھے لوگوں کی اجتماع گاہ ہے اور کم از کم یہاں تو دائرہ اخلاق کے حد میں رہتے ہوئے سیر حاصل بحث کی توقع کی جاسکتی ہے۔