دو واقعات اور ایک بیان

گذشتہ جمعرات کراچی میں دو انتہائی افسوسناک واقعات میں مذہبی افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جن میں 5 علماء کرام شہید اور 12 کے قریب زخمی ہوئے۔ صبح کے وقت اہلسنت والجماعت پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولانا عبدالغفور ندیم اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں مولانا اپنے دو بیٹوں اور ڈرائیور سمیت شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کے صاحبزادے معاویہ جاں بحق ہوئے۔ اسی روز رات میں نسبتاً زیادہ اہم واقعہ رونما ہوا جس میں ممتاز عالم دین اور ختم نبوت کے سربراہ مولانا سعید احمد جلال پوری کو ان کے دیگر تین ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔

ان دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل میں مذہبی و سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا اور اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی۔ لیکن سب سے منفرد ردعمل ہمارے وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک صاحب کا تھا۔ وزیر داخلہ نے ان واقعات کو مذہبی فسادات کرانے کی سازش قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بعض قوتیں 'دیوبندیوں' اور 'بریلویوں' کو آپس میں لڑوانا چاہتی ہیں۔ بیان کے دیگر حصہ کا ذکر فضول سمجھتا ہوں کہ وہی پرانی قاتلوں کا جلد پکڑنے اور سخت ترین سزا دینے والے دیگر ڈائیلاگ نئی تاریخ میں نئے انداز سے دہرائی گئے۔ لیکن وزیر داخلہ کے منہ سے دو فرقوں کے واضح نام شاید پہلی بار سنے گئے۔ معلوم نہیں یہ وزیر داخلہ صاحب کی اپنی خواہش ہے یا پھر واقعی ان کے پاس کوئی واضح ثبوت بھی ہے کہ مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے۔

کراچی کے ماضی پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ بدقسمت شہر کئی بار مذہبی اور لسانی فرقہ واریت کو جھیل چکا ہے۔ مذہبی فرقہ واریت میں ملوث دو گروہوں کو شیعہ اور سنی کہا جاتا رہا ہے۔ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات کے بعد یہ شک سر ابھارنے لگا کہ مذہبی فرقہ واریت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ لیکن علماء کرام کے انتہائی قابل تعریف اور مثبت رویہ نے ایسی تمام تر قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کردیا جس کے بعد دہشت گردوں نے اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے ایسی شخصیات کو نشانہ بنانا شروع کیا جو مختلف مکاتب فکر کے درمیان کسی بھی طرح کے اتحاد اور یک جہتی کی علامت ہیں۔

مولانا یوسف لدھیانوی کی الم ناک شہادت کے بعد مولانا سعید احمد جلال پوری کو ختم نبوت کا سربراہ چنا گیا تھا۔ انہوں نے مجلس ختم نبوت کے موقف کو تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام کے سامنے پیش کیا اور حمایت چاہی۔ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ان کی کوششوں سے تمام مسالک کے علماء نے جن بیشتر چیزوں پر اتفاق کیا ان میں مسئلہ ختم نبوت بھی تھا۔ اس وقت کوئی بھی مسلمان (مسلک یا فرقہ) اس بات کو قطعاَ قبول نہیں کرتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے۔ چاہے وہ بریلوی ہو، دیوبندی ہو، اہلحدیث یا وہابی ہو، یہاں تک کے شیعہ علماء بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کرچکے ہیں۔

لہٰذا مولانا سعید جلال پوری کے انتقال پر وزیر داخلہ کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں بات کہنا کہ حالیہ واقعہ 'بریلوی' اور 'دیوبندی' کو لڑانے کی سازش کا حصہ ہے، بالکل بے بنیاد ہے۔ مولانا صاحب اپنی حیثیت میں بریلیوں اور دیوبندیوں سمیت تمام ہی مسالک کی ترجمانی فرماتے تھے، اس لیے ان کی شہادت سے یہ اخذ کرنا کہ کسی بریلوی نے دیوبندی سمجھ کر انہیں شہید کیا ہے مضحکہ خیز بات ہے۔ بھلا ایک ایسا شخص جو دونوں حلقوں میں یکساں مقبول ہو کو کوئی کیوں نشانہ بنائے گا۔

وزیر داخلہ کے حالیہ بیان سے چند نا سمجھ اور کم عقل اس واقعہ کو فرقہ وارانہ زاویہ سے ضرور دیکھیں گے جو کہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے کیونکہ جمعرات کو ہوئے دونوں واقعات کسی بھی طرح ان کی بیان کردہ تھیوری پر پورے نہیں اترتے۔ لہٰذا وزیر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی خراب کارکردگی کو طالبان یا مذہبی فرقہ وارایت کے لیبل میں چھپانے اور لوگوں کے ذہنوں میں مذہب کا غلط رخ پیش کرنے کے بجائے دیئے گئے سرکاری کام کو درست طریقے سے انجام دیں اور ملک کے اصل اور حقیقی دشمنوں کا سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں تو اس میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

16 تبصرے

  1. ابوشامل نے کہا:

    مولانا جلالپوری کے قتل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے قاتلوں نے ایک ایسے موقع پر انہیں شہید کیا جب چند روز قبل ہی انہوں نے براس ٹیک کے سربراہ زید حامد کو مناظرے کا چیلنج کیا تھا اور ان کے خلاف فتوی جاری کیا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ قاتلوں نے اس موقع کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ سب کی نظریں پہلے زید حامد پر جائیں اور یوں اصل قاتل بچ جائیں۔
    حقیقت یہی ہے کہ سعید جلالپوری کی شہادت میں انہی لوگوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے یوسف لدھیانوی کو شہید کیا۔
    (نوٹ: یہ تبصرہ خانہ دائیں کے بجائے بائیں جانب الائن ہوا ہوا ہے، اس جانب توجہ دیجیے، شکریہ)

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. اس ميں وہ لوگ ہی ملوث ہوں گے جنہوں نے لُدھيانوی اورشامزئی صاحبان کو شہيد کيا ۔ اسے فرقہ واريت کہنا حقيقت سے منہ چھپانا ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. Talkhaba نے کہا:

    None other than Zaid Hamid Kazzab his martyred this Great Aashiq Rasool (SAW) and great scholar. For detail please visit
    http://zaidhamidexposition.wordpress.com/

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عبداللہ نے کہا:

    حامد میر نے ہفتہ پہلے اپنے پروگرام میں بتایا تھا کہ ایک سابقہ وزیر اعلی سندھ اے این پی کی مقامی قیادت کوورغلا رہے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف کاروائیاں کرے اور وہ ان کا ساتھ دیں گے مقصد کراچی میں بے گناہ لوگوں کا خون بہا کر حکومت تبدیل کرنا ہے،
    لگتا ہے مقامی قیادت کو اے این پی کی مرکزی قیادت نے ایسی کسی سازش میں حصہ بننے سے منع کردیا ہے اس لیئے وہاں سے مایوس ہوکر ایسی کاروائیاں کی جارہی ہیں تاکہ مذہب کے نام پر لوگوں کو لڑوایا جاسکے!اب سوال یہ ہے کہ یہ سابق وزیر اعلی سندھ ہیں کون؟؟؟
    اور حکومت ختم ہوکر نئے انتخابات میں کس کا فائدہ ہے؟؟؟ ہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمداسد نے کہا:

    اول الذکر اہلسنت والجماعت کے زخمی رہنماء مولانا عبدالغفور ندیم صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔

    @ ابو شامل
    تبصرہ خانہ میں تبدیلی کردی گئی ہے. چیک کرلیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ نے کہا:

    افتخار اجمل نے صحیح کہا یہ فرقہ واریت نہیں
    بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ملک کے خلاف سازش ہے اور اس سازش کے کرداروں کا پتہ لگا کر انہیں پہلی فرصت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. عبداللہ نے کہا:

    ان جرائم میں پنجابی طالبان ملوث ہیں،اور یہ طالبان ان لوگوں کے منہ پر جوتا ہیں جو ایم کیو ایم کو دہشت گردکہتے رہے ہیں اور کراچی میں ہونے والے تمام جرائم ایم کیو ایم کی گردن میں فٹ کرتے رہے ہیں جبکہ ان جرائم میں بھی ان کے اپنے علاقے کے لوگ ملوث رہے ہیں 👿

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. محمداسد نے کہا:

    @ عبداللہ
    آپ کے موقف میں بھی بالکل وہی تضاد پایا جاتا ہے جو وزیر داخلہ کے بیان میں موجود ہے اور جس کی نشاندہی میں نے اپنی تحریر میں کرنے کی کوشش کی ہے. اگر آپ کھلے ذہن اور زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ دونوں شہید ہونے والے علماء افغان طالبان کے بہت حد تک حامی رہے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ مولانا عبدالغفور صاحب تو بذات خود سپاہ صحابہ کے سرکردہ رہنماء سمجھے جاتے ہیں. آپ کو علم ہوگا کہ پنجابی طالبان کی اصطلاح دراصل لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کا نظریہ سپاہ صحابہ پاکستان سے مطابقت رکھتا ہے. چونکہ ماضی میں مولانا عبدالغفور اور مولانا سعید احمد صاحب کشمیر اور افغان جہاد میں مصروف تنظیموں کی اخلاقی حمایت کرتے رہے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ ان کی شہادت کے پیچھے پنجابی طالبان کا ہاتھ ہے، قطعاَ درست نہیں.

    اگر آپ درست نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایک لمحہ کے لیے ذاتی عناد ایک طرف رکھ کر اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ ان علماء کی شہادت سے سب زیادہ فائدہ کس گروہ کو پہنچا ہے؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عبداللہ نے کہا:

    پنجابی طالبان وہ کرمنل پنجابی ہیں جو مذہبی جماعتوں میں گھس کر جرائم کررہے ہیں کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ چوریوں اور ڈاکوں میں ملوث رہے ہیں،اور ان جماعتوں کے مزہبی رہنماؤں نے ان کی طرف سے مجرمانہ خاموشی اختیار کیئے رکھی بالکل اسی طرح جیسے جماعت اسلامی نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو صرف اس لیئے نہیں نکالا کہ ایک تو ان کی تعداد میں کمی آتی اور وہ بہت سے کام جو خود نہ کرسکیں ان سے کروائے جاتے تھے اب ان کے ہتھیار بیک فائر کررہے ہیں!
    مذہب کا نام لے کر کیا کیا اس ملک میں نہیں ہورہا اس سے تو شائد آپ بھی واقف ہوں گے اب جان کر انجان بنے رہیں تو آپ کی مرضی!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. عبداللہ نے کہا:

    جب آپ مجرموں کو اپنی صفوں میں پناہ دیتے ہیں
    تو وہ آپکی اخلاقیات کی پیروی کے پابند نہیں ہوتے انکو جہاں سے چار پیسے ذیادہ ملیں گے وہ انکی گود میں جا بیٹھیں گے،آپ بھی اگر زمینی حقائق کو اور حامد میر کے تبصرے کو سامنے رکھیں تو اور بہت سی باتیں آپ کی سمجھ میں بھی آجائیں گی!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. انکل ٹام نے کہا:

    عبداللہ صاحب آپکا تبصرہ پڑھ کر مذہبی تنضمیوں کے بارے میں آپ کی کم علمی کا پتا چلتا ہے . آنجناب تو بتاتا چلوں کے مذہبی تنظیموں کے کارکن تنخواہ پر نہیں بلکہ فی سبیل اللہ کام کرتے ہیں . اسی لیے کسی بھی دہشت گرد یا مجرم کا ایسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا چہ معنی دارد ؟؟ ہاں ایسے لوگ ایم کیو ایم جیسی تنظیم میں ضرور شامل ہو سکتے ہیں جہاں "پروٹیکشن منی" کے نام پر بھتہ لے سکیں یا کوی اغوا براے تاوان کر سکیں . .دوسری جہالت کا مظاہرہ آپ نے پنجابی طالبان کا لفظ استعمال کر کے کیا ہے . طالبان ایک مذہبی نظریات پر چلنے والے گروہ کا نام ہے جس میں رنگ و نسل کو نہیں دیکھا جا سکتا ۔۔ ہاں ای کیو ایم کے لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو یہ کام کر سکیں ۔ جو لوگ اردو سپیکنگ اور پنجابی سپیکنگ کے نام پر کام کر سکیں ۔ بہرحال ان حضرات کے قتل پر پولیس کے اب تک کی تفتیش میں شیعہ کی ایک دہشت سپاہ محمد گرد تنظیم جسکو ایران سے فنڈز ملتے ہیں کا ہاتھ نظر آتا ہے ۔ انہوں نے پہلے بھی علما کو شہید کیا تھا اور مولانا مفتی یوسف لدھیانوی شہیدؒ اور مولانا شامزیؒ شہید کے قتل میں بھی انہی لوگوں کا ہاتھ تھا ۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ نے کہا:

    انکل ٹام سچ بہت کڑوا ہوتا ہے،جس طرح آپ مجھے کم علم کہہ رہے ہیں ایسے ہی میں آپکے علم کو بھی مکمل نہیں سمجھتا!
    ایم کیو ایم کیا کرتی ہے اور کیا نہیں اس کی ایک دنیا گواہ ہے آپ یونہی اپنے ذہن کو مت تھکائیں،:)
    میرا خیال ہے کہ آپ تمام مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو
    اپنے جیسا سمجھ رہے ہیں جبکہ جس طرح کسی سیاسی جماعت میں کرمنل گھس کر اپنے آپ کو پروٹیکٹ کرتے ہیں ایسے ہی مذہبی جماعتوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں اور پھر یہ تو کچھ لوگوں کی ذہنیت ہوتی ہے کہ
    نماز میرا فرض ہے اور چوری میرا پیشہ!
    یعنی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی!
    مجھے چھوڑیئے اداروں کی سن لیجیئے یا وہ بھی ایم کیو ایم سے مل گئے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ !
    اور یہ پنجابی طالبان والی جہالت صرف میری نہیں ہے ایک دنیا کہہ رہی ہے
    دیکھ جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
    کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. انکل ٹام نے کہا:

    میرے کئی دوست ایسے ہیں جو ایم کیو ایم میں رہ بھی چکے ہیں اور ایم کیو ایم کی "چوکیاں" ان کے گھر کے پاس ہیں . کتنوں کے رشتے دار ایم کیو ایم میں ہیں کتنوں کے دوست . اسی لیے اس معمالے میں آپ مجھے کم علم نہیں کہہ سکتے .میں معلومات ان لوگوں سے لیتا ہوں جنکا براہِ راست تعلق رہ چکا . جی آدھی دنیا بھی آپ جیسی ہے کل کو اردو سپیکنگ طالبان بھی نظر آیں گے .. الطاف صاحب نے کراچی میں ان کی موجودگی کا شور تو مچا ہی دیا تھا ... ہو سکتا ہے آپ کے بارے میں ہی بات کر رہے ہوں :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. عبداللہ نے کہا:

    یہ دوست کے دوست کے دوست والی کہانیاں اب پرانی
    :mrgreen: ہوگئی ہیں اور بے اثر بھی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے