2009 کی 3 خوشگوار یادیں

0

سال 2009ء نے جاتے جاتے جہاں ہمارے لئے بہت سی تلخ یادیں چھوڑیں، وہیں اس سال کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے کہ جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت مثبت نقوش چھوڑے. یہ واقعات مملکت خداد پاکستان کے ان اہم واقعات میں سے ایک ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو بہتر کیا.

آزاد عدلیہ کی بحالی:
دو سال سے جاری وکلاء کی آزاد عدلیہ تحریک سال 2009ء میں اپنے منطقی انجام تک پہنچی. یہ تحریک نومبر 2007ء کو لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد سے شروع ہوئی. اس طویل اور صبر آزما جدوجہد میں وکلاء سمیت میڈیا، مختلف این جی اوز، سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا. اس تحریک کے دوران کئی اتار چڑھاؤ دیکھے گئے لیکن بلاآخر اس عظیم تحریک کی کامیابی کی نوید 14 اور 15 مارچ 2009ء کی درمیانی شب کو اس وقت سنائی دی کہ جب موجودہ وزیراعظم نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کو 2 نومبر 2007ء والی پوزیشن پر بحال کردیا.

20 ٹونٹی ورلڈکپ میں فتح:
گو کہ سال 2009ء پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لئے زیادہ سازگار نہ رہا اور پاکستان کسی قابل قدر سیریز میں کامیابی حاصل نہیں کرسکا لیکن ایک موقع پر پاکستانی ٹیم نے کرکٹ کے میدانوں میں اپنے جھنڈے گاڑ کر پوری دنیا میں پاکستان کے گرتے ہوئے امیج کو سہارا دیا. دوسرے 20 ٹونٹی عالمی کپ کے شروع میں پاکستان کو کسی قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن فائنل میچ میں آخر کار قوم کی دعائیں اور ٹیم کی انتھک محنت رنگ لے آئیں اور پاکستان نے 21 اور 22 جون 2009ء کی درمیانی شب سری لنکا کی ٹیم سے ایک دلچسپ مقابلہ کے بعد جیت لیا. اس جیت نے دنیا بھر میں پاکستانیوں کو سر فخر سے بلند کردیا. عالمی مقابلہ میں اس جیت پر اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور بھرپور جشن منایا.

NFC ایوارڈ کی متفقہ منظوری:
1974ء میں شروع ہونے والے قومی مالیاتی کمیشن (National Finance Commission) کے ساتویں ایوارڈ کا فارمولا طے کرنے کی شروعات ستمبر 2009ء میں ہوئی. جس کا پہلا اجلاس کوئٹہ میں ہوا. اس کا مقصد بلوچستان کے احساس محرومی کو کم کرنا تھا. اس کے علاوہ کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد میں بھی اجلاس منعقد کئے گئے جن میں صوبوں کے مالی معاملات، وسائل، ٹیکس اور سروسز کی تقسیم سمیت دہشت گردی، غربت، گیس اور بجلی کی کمیابی جیسے اہم معاملات پر طویل غور و خوص کیا گیا. جس کے بعد 31 دسمبر 2009ء کو وزیراعظم نے چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کی موجودگی میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن پر دستخط کردئے. اس معاہدہ کی خاص بات اس کا تمام صوبوں اور وفاق سے متفقہ منظوری ہے. سابقہ معاہدوں میں کی جانے والی غلطیوں کی تصحیح کرتے ہوئے اس ایوارڈ میں تمام صوبوں کے جائز حقوق اور مطالبات کو تسلیم کیا گیا. اس متفقہ معاہدہ سے جہاں بین الصوبائی روابط کو فروغ ملے گا وہیں موجودہ وفاقی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بھی کسی قدر فائدہ پہنچ سکے گا. نیز اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل اور صوبائی خودمختاری کی طرف پیش قدمی بھی کہا جارہا ہے.

دعا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ سال کے برعکس 2010ء میں زیادہ خوشگوار واقعات وقوع پذیر ہوں تاکہ پاکستان سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی، وسائل کی کمی، خارجی و داخلی مشکلات، صوبوں کی درمیان اختلافات سمیت دیگر اہم حل طلب مسائل سے چھٹکارا حاصل کرلے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.