تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ

کرکٹ کا میلہ ایک بار پھر ٹی 20 عالمی مقابلہ کی صورت میں سجنے جارہا ہے. کرکٹ کے شائقین میں سب سے زیادہ مقبول، 20 اوورز فی اننگ پر مشتمل یہ کرکٹ مقابلہ تیسری بار ہونے جارہا ہے. اور اب سے ٹھیک اگلے روز بعد یعنی 30 اپریل 2010ء کو ویسٹ انڈیز میں اس عالمی مقابلہ کا باقاعدہ آغاز بھی ہوجائے گا. چونکہ ایشیائی ممالک کی کرکٹ ٹیمیں خصوصآ پاکستان اس مقابلہ میں ایک بڑا نام رکھتی ہیں اس لیے اس مقابلہ میں پاکستانیوں کی دلچسپی غیر معمولی حد زیادہ تک ہے.

تیسرے ٹی 20 عالمی کپ میں کل 12 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کو چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے. پاکستان کا گروپ A دیگر گروپوں کے مقابلہ میں زیادہ مشکل کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں ایک روزہ کرکٹ مقابلوں کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے علاوہ بنگلہ دیش کی ٹیم بھی شامل ہے جو کہ کسی بھی ٹیم کو ہرانے کے صلاحیت رکھتی ہے. اس ٹورنامنٹ کی ایک اور خاص بات اس میں افغانستان کی کرکٹ ٹیم کی پہلی بار شرکت بھی ہے.

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ماضی قریب کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نتیجا زیادہ حوصلہ بخش نہیں. آسٹریلیا سے ٹیسٹ، ایک روزہ سیریز اور پھر ٹی 20 میچ میں شرم ناک شکست کے بعد ٹیم کا مورال کافی گرا ہوا محسوس ہوتا ہے جس کا اثر انگلینڈ کے خلاف کھلے جانے والے دو ٹی20 میچز میں نظر آیا. ٹیم میں سیاست اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام میں چند کھلاڑیوں کو پابندی اور جرمانہ کا بھی سامنا ہے. جس سے نہ صرف دیگر طرز کی کرکٹ بلکہ ٹی 20 کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑی بھی کرکٹ کے میدانوں سے باہر بیٹھنے پر مجبور ہیں.

سابق عالمی کپ کی فاتح ٹیم میں موجود تین کھاڑیوں یونس خان، شعیب ملک اور عمر گل کی کمی اس بار شدت سے پاکستانی ٹیم کو محسوس ہوگی. یونس خان اور شعیب ملک کو پابندی جبکہ عمر گل کو فٹنس مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو اس بار اپنے گھر میں بیٹھ کر میچز سے لطف اندوز ہونا پڑے گا. موجودہ ٹیم کا مقابلہ سابق چیمپیئن ٹیم سے کیا جائے تو بالنگ کا شعبہ عمر گل کی غیر موجودگی کی وجہ سے نستباَ کمزور نظر آتا ہے. جبکہ بیٹنگ کا شعبہ اکمل بردارن، مصباح الحق اور شاہد آفریدی کی وجہ سے کافی بیلنس نظر آتا ہے.

سابقہ خراب کارکردگی اور موجودہ مشکلات کے باوجود پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کے دفع کے لیے مکمل تیار ہونے کا دعوی کررہے ہیں. اس کے علاوہ بھارتی ٹیم بھی IPL کے اختتام کے بعد نئے اور پرانے تجربیکار کھلاڑیوں کے ساتھ میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. اکثر مبصرین کی رائے میں اس بار آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیم بھی مقابلہ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دی جاسکتی ہیں. جبکہ کچھ لوگوں کا ووٹ ساوتھ افریقہ کی ٹیم کے حق میں ہے.

ٹی 20 طرز کی کرکٹ میں کسی بھی طرح کی پیشن گوئی کرنا تقریباَ نا ممکن ہے کیونکہ ماضی میں یک طرفہ مقابلہ بہت کم دیکھنے میں آئے جبکہ کئی بار چھوٹی سمجھی جانے والی ٹیم نے بڑی ٹیم کو ہرا کر سب کو حیران کردیا. جیسا کہ ہمیں وارم اپ میچ میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب زمبابوی نے آسٹریلیا کو بالکل آخری اوور میں ایک رن سے مات دے دی. اس کے باوجود ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے لیے پر امید ہیں. اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کامیابی نصیب فرمائے. آمین

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@ Muhammad Ibraheem
بلاگ پر خوش آمدید. آپ کی آمد باعث مسرت رہی 🙂 . لیکن آپ کے تبصرہ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا 😕

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Muhammad Ibraheem says:

Mera khayal hay k is game k format ki wajah say kisi bhi team ko favorite qarar nahi diya ja sakta .. Shoaib Malik or Rana Naved ki adam mojodgi say hamri team moshkil mawaqay par larkharaey gi zaror.. magar mokhtasar tarz k is moqablay mai kuch bhi hosakta hay.. awam ko apnay mind baraay upsets k lyey tayyar rakhnay chahey!!

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ ابوشامل
متفق 🙂

@ یاسر عمران مرزا
لیکن میرے خیال میں پاکستانی ٹیم میں فائنل نہیں تو سیمی فائنل میں پہنچنے کا پوٹیشنل بالکل موجود ہے۔ اگر قسمت کی بات کی جائے تو بھارت اور پاکستان کے لیے قسمت کا کھیل والا معاملہ میں نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ قسمت ایک بار تو چلو چانس دے ہی دیتی ہے۔ مگر دو بار فائنل مین پہنچنا الگ بات ہے۔ ہاں! فائنل کی جیت کو قسمت کہا جاسکتا ہے۔ جو کہ پہلے فائنل میں بھارت پر اور دوسرے میں پاکستان پر مہربان ہوئی.

@ راحت حسین
بہت شکریہ راحت جی! ویسے آپ کو تو موجودہ حالات میں افغانستان کے لیے دعا کرنی چاہیے 😆
ٹھیک ہے کہ نہیں 😉

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
راحت حسین says:

"اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کامیابی نصیب فرمائے. آمین"

آمین۔ ثم آمین ‍

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

میرے لیے تو صرف اتنا کافی ہے کہ ٹیم کوئی ذلت آمیز نتیجہ لانے کی بجائے درمیانہ سا کھیل قائم رکھتے ہوے کوئی درمیانی پوزیشن حاصل کر لے، فائنل جیتنا تو دور کی بات لگتی ہے۔ آخری دفعہ یہ نالائق پتہ نہیں کس طرح فائنل تک پہنچ کر جیتنے میں کامیاب ہو گئے تھے، شاید قسمت اچھی تھی، لیکن ہر بار قسمت ساتھ نہیں دیتی،جس طرح انہوں نے پہلے سری لنکا میں بیستی کرائی پھر آسٹریلیا میں بیستی کرائی، اس طرح کی کسی بیستی سے بچ گئے تو سمجھون گا انہوں نے بہت کچھ کر لیا۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

گزشتہ سال ٹی 20 میں پاکستان کا جیتنا ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ گو کہ پاکستان کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں ہے لیکن امید پہ دنیا قائم ہے اور پاکستان کی موجودہ ٹیم اس حالت میں بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اس کے بعد سارا کام قسمت کا ہے جو ٹی 20 میں کچھ زیادہ ہی چلتی ہے 🙂 ۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب