ٹی20 عالمی کپ: سپر8 مرحلہ شروع

6

30 اپریل 2010ء سے شروع ہونے والے تیسرے ٹی 20 عالمی کپ کا پہلا مرحلہ اختتام پزیر ہوا. وارم اپ میچز کے بعد جن اپسیٹس کی پیشن گوئیاں کی گئیں وہ پوری تو نہ ہوسکیں لیکن چند میچز میں نومولود ٹیموں کا اچھا کھیل دیکھنے کو ضرور ملا. پہلے مرحلہ کے اختتام پر چار گروپوں میں سے جن دو دو ٹیموں نے سپر 8 میں جگہ بنائی، انہیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے. پہلے گروپ یعنی گروپ E میں پاکستان کے ہمراہ انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں موجود ہیں جبکہ دوسرے گروپ F میں بھارت، سری لنکا، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل ہیں.

پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کی بات کی جائے تو بالنگ کا شعبہ انتہائی کمزور نظر آرہا ہے. پاکستانی ٹیم کا کوئی ایک بالر بھی میچ کے کسی بھی مرحلہ میں دوسری ٹیم پر حاوی ہوتا نظر نہیں آیا ماسوائے محمد عامر کے. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کوچ اور کپتان کی نظریں صرف بیٹنگ کو بہتر اورمضبوط بنانے میں لگی ہیں حالانکہ مضبوط بالنگ کے ذریعے رنز کو روکنا بھی ٹی 20 میں بہت ضروری ہے. اس کے علاوہ شاہد آفریدی کی کپتانی بھی زیادہ متاثر کن نہیں. اب تک ان کی وہ برقی رفتاری نظر نہیں آئی جس کی ان سے توقع کی گئی تھی. بنگلہ دیش کے خلاف آفریدی نے بڑی دیر تک دفاعی انداز اپنائے رکھا جس کی وجہ سے ان کے بیٹسمینوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا. جبکہ دوسرے میچ میں محمد حفیظ کی آسٹریلوی بیٹسمینوں کے ہاتھوں پٹائی ہونے کے باوجود بالنگ میں تبدیلی نہ کرنا اور عبدالرزاق سے بالنگ نہ کروانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے.

اب نہ صرف آفریدی بلکہ پوری پاکستانی ٹیم کو سنجیدگی سے بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ میں موجود کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ اب ان کا مقابلہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ سے ہونے جارہا ہے. اس کے علاوہ پاکستانی ٹیم کو چاہیے کہ وہ مقابلہ سے قبل دوسری ٹیم کی پچھلی کارکردگی پر بھی غور کرے تاکہ اچھے کھلاڑیوں کو جلد قابو کیا جاسکے. مثلاَ انگلینڈ کے ایون مورگن اور لیون وائٹ کے علاوہ ساؤتھ افریقہ کے جیک کیلس پچھلے دو میچز میں بہت نمایاں سکور بنا چکے ہیں لہٰذا ان بیٹسمینوں کو رنز بنانے سے روکنا ہوگا. بالنگ کے شعبہ میں نیوزی لینڈ کے شین بونڈ اور نیتھن میکولم، ساؤتھ افریقہ کے ڈیل اسٹین اور چارل لینگولٹ خطرناک ثابت ہوسکے ہیں اس لیے ان بالروں کے خلاف بھی ڈٹ کر بیٹنگ کرنی ہوگی.

اگر پاکستان اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کا پتا صاف کردیتا ہے تو امید ہے کہ باقی میچز میں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی. لیکن اگر انگلینڈ کی نسبتاَ کمزور ٹیم پاکستان کو زیر کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پھر پاکستان کے لیےسنبھلنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے کیونکہ ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ اس عالمی کپ کی دو بہترین ٹیمیں ہیں. ایک اور اہم نقطہ یہ کہ پچھلے مرحلہ کے آخری میچ جس طرح بارش کی نظر ہوئے اور فیصلہ ڈک ورتھ لوئس کے ذریعہ نکالا گیا، اسی طرح سپر 8 کے میچ بھی بارش سے متاثر ہونے کا قوی امکان ہے. اس لیے پہلی اننگ میں بالعموم اور دوسری اننگ میں بالخصوص پہلے سے حساب کتاب لگا کراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بارش سے میچ متاثر ہونے کی صورت میں میچ ہاتھ سے نہ نکلے.

لب لباب یہ کہ پاکستانی ٹیم سپر 8 کے ہر میچ کو فائنل سمجھ کر اور مربوط حکمت عملی ترتیب دے کر کھیلے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ نہ صرف سیمی فائنل بلکہ فائنل میں بھی اپنی جگہ پکی کرلے. سپر 8 مرحلہ میں موجود تمام ہی ٹیمیں دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیمیں سمجھی جاتی ہیں، اس لیے امید یہی ہے کہ اس مرحلہ میں ٹی 20 کی اصل رنگینی یعنی دھواں دار بیٹنگ، برق رفتار بالنگ اور چاک و چوبند فیلڈنگ سے محظوظ ہونے کا پورا موقع میسر آسکے گا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. ابوشامل کہتے ہیں

    شاہد آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جس طرح لگی بندھی حکمت عملی چلائی ہے اس نے مجھے سخت مایوس کیا ہے۔ ٹوئنٹی 20 ایک متحرک قسم کی کرکٹ ہے اور اس میں لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدلتی رہتی ہے، اس لیے کپتان کو بھی اپنی حکمت عملی میں مناسب تبدیلیاں لانی چاہئیں۔ ایک چیز جو بہت زیادہ کھٹک رہی ہے وہ عبد الرزاق جیسے میچ وننگ کھلاڑی کو بہت زیادہ استعمال نہ کرنا ہے۔ اسے بیٹنگ آرڈر میں بھی اوپر لایا جائے اور عامر کے ساتھ رزاق کے ذریعے بالنگ کا آغاز کیا جائے۔ بالنگ آپشن موجود ہونے کے باوجود محمد حفیظ کا استعمال سمجھ سے باہر ہے۔ اسپن بالنگ صرف سعید اجمل اور شاہد آفریدی کو سنبھالنی چاہیے۔ حفیظ کو اپنی بیٹنگ پر توجہ دینے دیا جائے اور بالنگ میں پھنسا کر اسے ڈبل مائنڈ نہ کیا جائے۔
    آفریدی پر کپتانی کا دباؤ ضرور ہوگا اور یہی چیز اس کی بیٹنگ اور بالنگ پر اثر انداز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
    مجھے پاکستان سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں لیکن اگر آج کے میچ میں پاکستان اعتماد کے ساتھ کھیلا اور میچ جیتنے میں کامیاب ہوا تو اگلے دونوں میچز میں وہ بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے۔ اور نیوزی لینڈ کے خلاف جیت بھی سکتا ہے۔ البتہ جنوبی افریقہ کے خلاف اسے بہت زیادہ مشکل پیش آ سکتی ہے ۔ بہرحال دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
    اس سلسلے میں لکھنے کا بہت شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. خرم ابن شبیر کہتے ہیں

    جی یہ بات تو درست ہے بولنگ بلکل کامیاب نہیں رہی ابھی تک لیکن اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ ہماری دعائیں پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد طارق راحیل کہتے ہیں

    پاکستان سپر 8 میں آگیا اس کی ہی امید نہ تھی
    اب آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے 😕

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. سعد کہتے ہیں

    امید ہے کہ قوم کا کرکٹ کا بخار اب تک اتر گیا ہو گا!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ابوشامل کہتے ہیں

    ارے سعد میاں! ابھی تو بخار چڑھا ہے 😛
    برادر اسد ہم تو آپ کی طرف سے پاکستان کی خوش قسمتی پر ایک تحریر کا آسرا لگائے بیٹھے ہیں 🙂 ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    @ خرم ابن شبیر
    تو سمجھیے آپ کی دعائیں کچھ کچھ رنگ لے ہی آئیں 😆 ورد جاری رکھیے۔

    @ محمد طارق راحیل
    امید پہ دنیا قائم ہے 😉

    @ سعد
    یہ بخار تو کل وقتی ہے جناب! چڑھتا اترتا رہتا ہی ہے. لیکن ختم نہیں ہونے والا کبھی 🙂

    @ ابوشامل
    سپر 8 کے میچ اختتام پذیر ہوجائیں تو پھر کچھ رائے زنی کا سوچتے ہیں ❗

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.