72 گھنٹوں کا کھیل

ہفتہ کے روز حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا حکم نامہ جاری کیا گیا. اس حکم نامے کے جاری ہونے کے فوری بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سہہ رکنی بینچ ترتیب دیا جس نے اس حکم نامہ کو آئین کی شق 177 کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے معطل کردیا. بعد ازاں وزیراعظم اور ان کے رفقاء کی جانب سے قومی اسمبلی میں اس حکومتی اقدام کا بھرپور دفاع کیا گیا. لیکن ہر طرف سے مستقل بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد پیر کی شب وزیراعظم نے اچانک چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک عشائیہ میں ملاقات کی اور پھر دوسرے روز خوشخبری کی نوید بھی سنائی. منگل کے روز وزیراعظم پاکستان کی جانب سے پچھلے حکم نامہ کو واپس لیتے ہوئے نئے حکم نامہ کا اجراء کیا جو کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تمام سفارشات کے عین مطابق ہے.

ایک پیچیدہ نظر آنے والا معاملہ 72 گھنٹوں کے اندر طے تو پا گیا لیکن اس دوران بہت سے ایسی حقیقتیں سامنے آئیں جن کے بارے میں شکوک و شبہات  کافی عرصہ سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں پائے جاتے تھے. اس حکم نامہ کے اجراء سے پہلے ایک اجلاس ایوان صدر میں منعقد ہوا جس میں صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر قانون سمیت دیگر آئینی ماہریں شامل تھے. اس اجلاس میں وزیراعظم کا اختلاف اکثریت کی رائے سے متصادم تھا لہٰذا نوٹیفیکیشن وہی جاری ہوا جو صدر مملکت، وزیر قانون اور ان کے قریبی رفقاء کی مرضی و منشاء کے مطابق تھا. یوں حکومت نے ایک ایسے معاملہ میں غیر ٹانگ اڑائی جو سرے سے کوئی بڑا مسئلہ ہی نہ تھا. چونکہ موجودہ عدلیہ میں کوئی جج ایسا موجود نہیں جو سیاسی وابستگی رکھتا ہو یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کا ہمدرد ہو اس لیے یہ سوچنا ہی فضول ہے کہ ایک جج کو سپریم کورٹ بھیج کر یا نہ بھیج کر حکومت یا کسی دوسری سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچے گا. اور جب فائدہ پہنچنا ہی نہ تھا تو اس معاملہ کو مسئلہ کا روپ دینا صرف اور صرف سیاسی ذہانت کی کمی لگتی ہے. ان بہتر گھنٹوں میں جو چیز سب سے پہلے کھل کر سامنے آئی وہ یہ کہ ایوان صدر اور سپریم کورٹ میں موجود دوریاں اور ناراضگیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہیں.

دوسری طرف سابقہ حکم نامہ کے اجراء اور فوری عدالتی معطلی نے سیاسی جماعت کے اراکین کو بھی بھرپور متحرک کردیا. معطلی کے فیصلہ کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے آصف زرداری کی حمایت میں ریلیاں نکالیں اور ان ریلیوں میں عدالت کا غصہ مسلم لیگ (ن) پر نکالا. اس دوران نواز شریف کی تصاویر اور پتلے جلانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا گیا اور صدر مملکت کے پتلے جلائے جانے لگے. اس کے علاوہ نواز شریف نے صدر کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے کر اپنے کارکنان کی حوصلہ افزائی کی تو معاملہ عدالتی سے زیادہ سیاسی مسئلہ محسوس ہونے لگا. کارکنان کے اس تیز اور سخت ردعمل سے ایک بات ثابت ہوگئی کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت چاہے جتنی بار حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کروائے، ان کے پارلیمانی اراکین فرینڈلی اپوزیشن بننے کی کوشش کریں یا پیپلز پارٹی کی قیادت جتنی دعوتیں منعقد کرلیں، چاہے جتنے معاہدہ کرلیں، دونوں جماعتوں کے سربراہان بھائی بھائی بن جائیں یا ایک دن میں دسیوں بار گلے ملتے اور تصویریں بنواتے رہیں، اس سے عام کارکن کو فرق پڑتا ہے اور نہ ہی اس کی سوچ تبدیل ہوتی ہے. عام سیاسی کارنان کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف موجود جذبات ہمدردی کی شکل اختیار نہیں کرسکتے. عام سیاسی کارکن اپنی قیادت پر اندھا اعتماد ضرور کرتا ہے لیکن وہ کبھی دوسری سیاسی جماعت کے کاموں یا رہنماوں سے مطمئن نہیں رہتا. اور وقت آنے پر اپنا غصہ تصویریں اور پتلے نظر آتش کر کے لیتا ہے. لہٰذا ان بہتر گھنٹوں میں دونوں جماعتوں کے کارکنان کے سخت ردعمل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سابقہ ادوار کی طرح اس بار بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں گی اور ان میں اتحاد ممکن نہیں.

تیسری اور سب سے اہم چیز اس حکم نامہ کے بعد جو سامنے آئی وہ تنہائی تھی. جی ہاں! ایوان صدر کی تنہائی. حکم نامہ جاری ہوا تو وزیراعظم بھی اس سے متفق نظر نہیں آتے تھے. گو کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں ایک پرجوش تقریر کے ذریعے صدر مملکت کو مطمئن اور مدمقابل کو خوف زدہ کرنے کی کوشش تو کی لیکن وہ کوئی بھی حتمی اعلان نہ کرسکے. یوں وزیراعظم ہاؤس اور صدارتی محل کے درمیان سوچ کا فرق تو ظاہر ہوا ہی ساتھ ساتھ دیگر حکومتی اتحادیوں نے بھی تمام بہتر گھنٹوں میں خاموشی اختیار کر رکھی جس سے یہ بات واضح ہوگئی کے حکم نامہ کے اجراء کا فیصلہ کسی اتحادی جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا تھا. کابینہ میں موجود وزراء سمیت اے این پی یا ایم کیو ایم کے کسی بھی عہدیدار نے صدر مملکت کے اس فیصلہ کا دفاع کرنا یا ہمدردی کے دو بول بولنا مناسب نہیں سمجھا. الطاف حسین اور صدر مملکت کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد بھی کوئی مثبت بیان سامنے نہیں آسکا. جس کی کمی پچھلے تین روز کے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں بہت زیادہ محسوس کی گئی. اس لیے معطل شدہ حکم نامہ کو حکومتی کے بجائے صدارتی کہنا بھی حق بجانب ہوگا.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. ہماری حکومتوں کا نان ایشوز میں الجھے رہنا اب ایک روایت بن گیا ہے.. ہوسکتا ہے اہم واقعات سے توجہ ہٹانے کے لیے پرائم ٹائم میں یہ ڈرامے چلادیتے ہیں.. تھیوری بنانے پر آئیں تو یہی بھی لگتا ہے ملا برادر کی گرفتاری کی خوش خبری پر غیر معمولی ردعمل سے بچنے کے لیے قوم کو دوسری طرف الجھایا جائے. 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. جعفر says:

    راشد صاحب کے ذہن رسا کی داد دیتا ہوں
    😆

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. ملا برادر کی گرفتاری اتنی زیادہ "خوش کن" خبر نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایک تحریر بلاگ پر پیش کروں گا، برادر زبیر انجم کا تجزیہ ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عبداللہ says:

    کسی بھی بہانے کسی کے بھی ذریعے اللہ کرے کہ پاکستان انصاف کی راہ پر گامزن ہو،آمین
    وہ کیا کہتے ہیں شک میں پڑی قوم، بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسی قوم بس یہی کہتی ہے لگتا تو نہیں لیکن شائد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. عبداللہ says:

    خوب لکھا ہے !دعا کریں کہ یہاں کے لوگوں کو عقل آئے اور گدھوں سے نجات ملے مگر گدھوں کی جگہ گدھوں(زیر کے ساتھ) سے پالا نہ پڑے 🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ says:

    😳 یہ تبصرہ مکی کے بلاگ پر پوسٹ کرنا تھا جلدی میں اور بے دھیانی میں یہیں پوسٹ ہوگیا آپ مناسب سمجھیں تو ڈلیٹ کردیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *