انداز بیاں اور . . .

مولویوں سے چڑنے اور خار کھانے کے لیے وجوہات کا ہونا ہر گز ضروری نہیں۔ یہی کافی ہے کہ وہ مولوی ہیں. نہ صرف بڑے بلکہ اب تو بچے بھی اس روشن خیالی کے پوری طرح عادی ہوچکے ہیں. وہ جانتے ہیں کہ اگر ممی سویرے سویرے جگا کر مسکراتے ہوئے صاف ستھری شرٹ اور دھلی ہوئی نیکر کے ساتھ چم چم کرتے جوتے پہنا رہی ہیں تو اب پانچ کلو کا بیگ لے کر اسکول جانا ہے. اور اگر ممی ناک بھوں چڑھا کر سوراخ والی ٹوپی اور پرسوں ترسوں کے کپڑے پہنارہی ہیں تو اب پھولدار کپڑے میں لپٹی کتاب کو تھامے دو پٹی والی چپل پہن کر مدرسہ کی طرف ہولینا ہے.

اگر اسکول میں ٹیچر خوش ہو کر گال اور ہتھیلی پر اسٹار یا کوئی کارٹون نما چیز بنادے تو اسے ہر سو صدارتی ایوارڈ کی طرح دکھایا جائے گا نیز روزانہ ہاتھ پھیر اسے تازہ بھی کیا جائے. اور اگر مدرسہ میں مولوی صاحب سر پر ہاتھ پھیر دیں تو نہ صرف سر کو بلکہ بچے کو بھی الٹ پلٹ کر دسیوں بار چیک کیا جائے گا، آیا جسم پر ہاتھ کی حرارت یا دل و دماغ میں نصیحت باقی تو نہیں.

(مسٹر حنین تارڑ کی "ڈیموکریٹس ہمارے بھائی ہیں" سے اقتباس)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے
dua says:

ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

میں نے بھی اپنے بلاگ پر اسی رویے کے متعلق کچھ عرصہ قبل لکھا تھا، مزید تبصرہ کیا لکھوں ، جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ تو پہلے ہی یہاں لکھ چکاہوں
http://yasirimran.wordpress.com/2009/09/29/islami-uloom/
شکریہ

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

میں تو جاوید اقبال صاحب اور محمد فیصل صاحب سے متفق ہوں.. ویسے بھی آج کل تو یہ ایک فیشن ہے .مولویوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے لئے دین میں کوئی آسان راہ تلاش کی جاتی ہے. اختلاف تمام لوگوں میں ہوتا ہے. آپ دیکھیں گے کہ ایک ہی مرض کے علاج کی اپروچ تمام ڈاکٹروں کے ہاں یکساں نہیں ہوتی. مثال کے طور پر بلڈ پریشر کا علاج ہومیو پیتھی، طب، اور ایلوپیتھی سب میں جدا ہے. اب تو سُنا ہے ایکو پنکچر والے بھی دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ وہ دمہ، بلڈ پریشر اور دوسرے امراض کا علاج کر سکتے ہیں. کیا ان تمام طریقوں کے اختلاف کی بنیاد پر ان تمام پیشوں کا بائیکاٹ کر دیا جائے؟ کیا ان سب کی توہین شروع کر دی جائے؟ کیا ان کی ہدایات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا جائے؟

ہر گز نہیں!!!. اگر ایسا کیا گیا تو یہ ایک صحت مندانہ طرز عمل ہر گز نہ ہوگا.
باقی آپ میں سے کسی کو کسی نے بندوق کی نوک پر مولوی کی بات ماننے پر مجبور نہیں کیا ہے. اگر مولوی سے نفرت اتنی شدید ہے تو آپ اس نفرت میں اتنا آگے بھی بڑح سکتے ہیں کہ ترک اسلام کر دیں. آپ کو کسی نے نہیں روکا. مگر صرف اس وجہ سے کہ آپ اس کی بات اپنی کم عقلی کی وجہ سے سمجھ نہیں پا رہے اُاُس بے چارے کی توہین تو نہ کریں. اگر بات نہیں ماننی تو نظر انداز کر دیں.
اللہ اللہ خیر صلا.، .

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عبداللہ says:

ایک مدرسہ یہ بھی ہے!
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100419_secular_madrassah_as.shtml

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ہمارے معاشرے میں یہ بات بہت عجیب ہے کہ کو ئی ڈاڑھی والا کوئی غلط کام کرے اُس کا ذمہ دار عمومی طور پر تمام اسلام پسندوں کو ٹہرایا جاتا ہے، یاد رکھئے ہر ڈاڑھی والا مولوی کہلانے کے قابل نہیں . اور یہ تو اسی طرح ہے کہ ہم کلین شیو مشرف ، زرداری، بش، وغیرہ کی حرکتوں کا ذمہ دار تمام کلین شیو افراد کو ٹہرائیں ،ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے.اگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولویوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے تو یہ بھی بتا دیجئے کہ کلین شیو افراد نے بحیثیت مجموعی اس ملک کے لئے کیا کیا ہے؟ مولویوں کو برا بھلا کہنے والے والوں! اگر یہ مولوی نہ ہوتے تو شاید آپکے کلین شیو احباب آپکا جنازہ بھی نہ پڑھا سکیں. .

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ راحت حسین
خدا کرے آپ بھی اس خوبصورت اسمائلی کی طرح مسکراتے رہیں 😆

@ احمد عرفان شفقت
بلاگ پر خوش آمدید. میں بھی آپ کی طرح جاوید اقبال صاحب کی مذکورہ بات کی تائید کرتا ہوں.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

لیکن ہم اپنےآپ سےڈرتےہیں کہ اگراسلامی نظام شروع ہوجائےگاتوہماراکیابنےگا"۔۔۔
جاوید اقبال صاحب، یہ تو آپ نے بالکل حقیقت کہی ہے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Hasan says:

”بھائی حسن، بات یہ ہے کہ حکومت کی بات آپ نےکی ہےکہ مولوی ہمیشہ حکومت میں رہیں ہیں لیکن ان کےپاس کیااختیارات تھے؟”

اتنے اختيارات تو تھے کہ اپنے مطالبات منواتے رہے ڈيزل پرمٹ سميت-

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Hasan says:

"میں ان مولویوں کی بات جوکہ عمل میں بھی مولوی ہوں۔ کہ ہرکام میں قرآن وسنت کی پیروی کریں ایسےمولوی نہیں جوکہ ہروقت اپنےنفس کی پیروی کریں۔"

ايسے مولوی ہيں کونسے جو کہ ہرکام میں قرآن وسنت کی پیروی کریں؟ پليز مثالوں سے واضح کريں تاکہ سند رہے-

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
راحت حسین says:

جی تو چاہتا ہے کہ اسد جی کی ہر تحریر پر تبصرہ ضرور کیا جائے، خواہ وہ آف ٹاپک ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس مولیانہ موضوع پر ایک خوبصورت سمائل ہی خادم کا تبصرہ جانئے.
😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بھائی حسن، بات یہ ہے کہ حکومت کی بات آپ نےکی ہےکہ مولوی ہمیشہ حکومت میں رہیں ہیں لیکن ان کےپاس کیااختیارات تھے؟یاان کی پارلمینٹ میں اکثریت تھی نہیں اوروہ بس نام کےمولوی ہیں میں ان مولویوں کی بات جوکہ عمل میں بھی مولوی ہوں۔ کہ ہرکام میں قرآن وسنت کی پیروی کریں ایسےمولوی نہیں جوکہ ہروقت اپنےنفس کی پیروی کریں۔

والسلام
جاویداقبال

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ عین لام میم
بلاگ پر آپ کی آمد اورعمدہ تبصرہ میرے لئے باعث مسرت ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اب تو تبصرے پہ ہی تبصرہ کرنا پڑے گا
مولویوں نے ہی تو اس ملک کا یہ حال کیا ہے
مولوی حکومت میں پوری طرح نہیں تھے تو ہمارا پچھلے دس سال سے یہ حال ہے
اگر جو عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہوتی تو اب تو اتوار و منگل بازاروں میں غلاموں کی خریدوفروخت ہو رہی ہوتی

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

السلام و علیکم
میں ان سب باتوں سے زیادہ واقف نہیں ہوں اور تجربے کے لحاظ سے بھی پیچھے ہوں لیکن میرے خیال میں جس نظریے کا بھی استعمال غلط کیا جائے گا ، اس کا نتیجہ ایسا ہی نکلے گا جیسا کے اسلامیزم کے ساتھ ہوا اور ہو رہا ہے. جب آپ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی حساس چیز کو استعمال کریں گے تو غلطیاں تو ہوں گی جن کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا.
آج ہم نوجوان اگر دینی حلقوں کے خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہیں اور اس کی پڑی وجہ ہمارے بڑوں کا دین کی طرف رویہ تھا جس نے ہمیں اس دوغلے پن سے اکتاہٹ پر مجبور کیا ہے.
مولوی مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو. مولوی طبقہ بدنام ہے اسلئے کہ ہم اس میں اِن پُٹ دیتے نہیں ہیں اور آؤٹ پُٹ کی امید ایکسٹرا رکھتے ہیں.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

مجھے مولويوںسے کوئی گلہ نہيں سوائے اس کے کہ حلوہ اتنا زيادہ کيوں کھاتے ہيں

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

عارف کريم و حسن صاحبان
دوسرے پر ظنز کرنے يا دوسرے کی بُرائی بيان کرنے سے قبل انسان کو اپنے کردار کا محاسبہ کر لينا چاہيئے ۔ ہمارے معاشرہ کی تباہی کا سبب مولوی جو اقليت ميں ہيں نہيں ہيں بلکہ مولويوں کے دشمن جو بھاری اکثريت ميں ہيں وہ خود ہيں ۔ مولوی کا اگر قصور ہے کہ اس نے قرآن غلط پڑھايا تو مانا جا سکتا ہے مگر ايسا نہيں ہے ۔ پڑھنے والا جو پڑھتا ہے وہ مولوی کے پاس ہی چھوڑ کر آ جاتا ہے اور اپنے سارے معاملات اللہ کے حُکم کے تابع کرنے کی بجائے اپنی دنياوی خواہشات کے تابع رکھتا ہے جس سے معاشرہ بگڑتا ہے اور موردِ الزام مولوی کو ٹھہراتا ہے ۔
حسن صاحب ۔ حدود آرڈيننس کو غلط کہنے سے پہلے اس کا مطالعہ تو کر ليتے ۔ عورت يا لڑکيوں پر ظلم حدود آرڈیننس کی وجہ سے نہيں ہوا بلکہ اس کو ناکام بنانے کی وجہ سے ہوا ہے ۔ وقت ہو تو مندرجہ ذيل روابط پر تحارير پڑھ ليجئے شاید کچھ واضح ہو جائے
http://www.theajmals.com/blog/%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%94-%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%91%DB%81%DB%94-%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AC-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86/

http://www.theajmals.com/blog/2007/03/25

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Hasan says:

“تعالی ہمارےاعمال پراپنی نظرکرم کرےاورہم کوسچاپکامسلمان بننےکی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین“

تو پھر مولويوں سے بچ کے رہيں-

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Hasan says:

“صاحب،مولویوں کوکونساآپ نےکوئی حکومت دی ہےکہ انہوں نےملک کایہ حال کیاہےایک “

آپ کيا پچھلي چند دہائياں کسی غار ميں رہے ہيں کہ ملکي حالات سے اس قدر لاعلم ہيں؟

مولوی ہميشہ حکومت ميں رہے ہيں اور اپنا آپ منواتے رہے ہيں- حدود آرڈيننس جيسا ”اسلامي” قانون انہی کا مرہون منت ہے جس سے متعدد بے گناہ بچيوں کو مظالم کا نشانہ بنايا گيا- ضيا کے دور ميں تو مولويوں کو لاٹری نکلی ہوئی تھي-

ابھی حال ہی ميں مولويوں کی حکومت نے پختونخواہ ميں طلبان کو جو کھلی چھٹی دی ہوئی تھی اسکا نتيجہ قوم اب تک بھگت رہی ہے-

جو گرھيں مولويوں نے ہاتھ سے باندھی تھيں وہ گرھيں اب قوم دانتوں سے کھولنے ميں لگی ہے-

آجکل بھی مولوی پشاور يونيورسٹی ميں طالب علم کو جان سے مار کے اور پنجاب يونيورسٹي ميں طلبا اور پروفيسروں کو پيٹ کر ثواب دارين حاصل کر رہے ہيں-

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
عارف کریم صاحب نےتبصرہ کیاہے<اصل میں مولویوں سے والہانہ محبت نے پاکستان کو ایسا استحکام بخشا ہے آنے والی نسلیں انکے کارناموں کے گن گا رہی ہیں۔<
تارڑصاحب نےبہت اچھانکتہ نکالاہےکہ ہم نےدراصل انگریزوں کےبچھائےہوئےجال میں گرکراپناآپ بھی گنوادیاہے۔یہ مولوی لوگ ہیں جوکہ ہم اپناآپ یادکرواتےرہتےہیں نہیں توہم کبھی کےبھول چکےہوتےکہ ہم کیاہیں ہم توبس نام کےمسلمان رہ گئےہیں عمل ہماری زندگیوں سےغائب ہوچکاہے۔
اوربھائي عارف صاحب،مولویوں کوکونساآپ نےکوئی حکومت دی ہےکہ انہوں نےملک کایہ حال کیاہےایک دفعہ انکوآزماناتوچاہیےکہ وہ کیاکرتےہیں لیکن ہم اپنےآپ سےڈرتےہیں کہ اگراسلامی نظام شروع ہوجائےگاتوہماراکیابنےگا۔اللہ تعالی ہمارےاعمال پراپنی نظرکرم کرےاورہم کوسچاپکامسلمان بننےکی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

والسلام
جاویداقبال

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

میں کچھ کہہ نہیں سکتا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
arifkarim says:

اصل میں مولویوں سے والہانہ محبت نے پاکستان کو ایسا استحکام بخشا ہے آنے والی نسلیں انکے کارناموں کے گن گا رہی ہیں۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جعفر says:

یہ تارڑ چاچا جی بھی بنیاد پرست نکلے۔۔۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
سعد says:

واقعی! درست کہا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب