ایشیا کرکٹ کپ 2010ء

6

فیفا ورلڈ کپ کیا شروع ہوا شائقین کھیل تو جیسے گووووووووول کے شور میں کرکٹ کو ہی بھلا بیٹھے. بھئی اسے بے وفائی نہ کہیں تو کیا کہیں کہ جس کھیل میں نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے دور کے پڑوسیوں تک کی دال نہیں گلتی اس میں اتنی دلچسپی لی جارہی ہے کہ گھر کی مرغی کو دال برابر سمجھ کر اپنی کرکٹ ٹیم کو تو فراموش ہی کر بیٹھیں. چلیے اگر اب تک آپ ایشیاء کپ 2010ء پر توجہ مرکوز نہ کرسکے تو اب کرلیجیے کہ ہم صبح کا بھولا شام کو پہنچے تو بھولا نہیں کہتے کے مصداق آپ کو بھی بے وفائی کے الزام سے بری کیے دیتے ہیں.

ایشیا کپ 2010ء میں موجود چاروں ایشیائی ٹیسٹ ٹیمیں یعنی سری لنکا، پاکستان، بھارت اور بنگلادیش ایک دوسرے سے مقابلہ کے لیے اس بار سری لنکا کے شہر دمبولا میں 15 جون سے جمع ہوچکی ہیں جہاں ہر ٹیم فائنل تک رسائی کے لئے تین میچز کھیلے گی. ایک طرف روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے مابین مقابلہ دیکھنے کے سب منتظر ہیں تو دوسری طرف سابق چیمپیئن سری لنکا ایک بار پھر میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. نیز بنگلادیش بھی کسی اپسیٹ کی امید لگائے میدان میں اترچکی ہے.

پاکستان نے اپنا پہلا میچ سری لنکا کے خلاف کھیلا تو اکثریت کی رائے میں سری لنکا اس میچ میں فیورٹ تھی اور نتیجہ بھی کچھ مختلف نہ ہوا. سری لنکا نے اپنے ہوم گراؤنڈ و ہوم کراؤڈ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور کھیل کے بیشتر اوقات پاکستانی بالروں اور خصوصاَ بیٹسمینوں کو حاوی ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا. چند ایک مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ پاکستانی بیٹسمین 243 رنز کا ٹارگٹ پورا کرسکتے ہیں لیکن سری لنکا کی شاندار فیلڈنگ اور لسیتھ ملنگا کی عمدہ بالنگ اس میں رکاوٹ بنی جنہوں نے پانچ پاکستانی بیٹسمینیوں کو پویلین کی راہ دکھاتے ہوئے سری لنکا کی 16 رنز سے فتح میں اہم کردار ادا کیا. اس کے باوجود شعیب اختر کے 41 رنز کے عوض 3 وکٹیں اور شاہد خان آفریدی کی دھواں دھار سنچری کو نہ سراہنا کم ظرفی ہوگی. گو کہ شاہد خان آفریدی اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار تو نہ کرواسکے لیکن مین آف دی بیچ کے درست حقدار ضرور ٹہرے.

پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہونے والے صحت مند مقابلے کے برعکس بھارت اور بنگلا دیش کا میچ یک طرفہ اور لو اسکورنگ رہا. بنگلادیش کے کپتان شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ تو کرلیا لیکن اپنے فیصلہ کو درست ثابت نہ کرسکے. ٹی ٹونٹی میB بری کارکردگی کے بعد سے شدید تنقید کا سامنے کرنے والی بھارتی بولنگ نے کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث پوری بنگلادیشی ٹیم صرف 168 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی. رہی سہی کسر بھارتی بیٹسمینوں خصوصاَ گھمبیر کے 82 رنز نے پوری کردی. یوں بھارت نے 6 وکٹ سے ایک آسان کامیابی حاصل کرلی.

ایشیاء کپ کی دونوں فیورٹ ٹیموں سری لنکا اور بھارت نے اپنے میچز جیت کر فائنل تک رسائی کو بڑی حد تک آسان بنا لیا ہے. لیکن مقابلہ ابھی ختم نہیں ہوا. اس لیے پاکستان اور بنگلادیش سخت محنت سے ٹورنامنٹ میں واپس آنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں. قوی امید ہے کہ اگلے دو یا تین میچز میں اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کونسی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوتی ہے اور کونسی ٹیم فائنل میں پہنچنے کی اہل ہے. اس لیے چند دنوں کے لیے فیفا کو ریڈ کارڈ دکھائیں اور اپنی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تیاری کریں. بس ایک بار ایشیا کپ ہاتھ میں آجائے تو پھر مل کر واکا واکا کریں گے. تو پھر سب تیار ہیں . . . ؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. شعیب صفدر کہتے ہیں

    میری دلچسپی صرف اُس کپ میں ہوتی ہے جس میں پاکستان کی ٹیم ہو دوئم پاکستان و اندیا کے میچ میں چاہے کھیل کوئی بھی ہو۔۔۔ :mrgreen:
    سمجھ تو گئے ہو گے۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. خرم ابن شبیر کہتے ہیں

    جی شکریہ ویسے میں بھی فٹ بال نہیں دیکھ رہا بس کرکٹ ہی دیکھ رہا ہوں میچ تو اچھا ہوا تھا لیکن ہار گے چلیں ہار جیت تو لگی رہتی ہے لیکن شاہد آفریدی نے اچھی بیٹنگ کی امید ہے آگے بھی ایسے ہی کھیلے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. سعد کہتے ہیں

    اگلے پانچ سال تک پاکستانی کرکٹ ٹیم سے کوئی امید مت رکھی جائے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمداسد کہتے ہیں

    @ شعیب صفدر
    جی جی ہمیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ آپ کھیلوں کے معاملے میں کافی روشن خیال واقع ہوئے ہیں :mrgreen: .

    @ خرم ابن شبیر
    جی بالکل خرم صاحب. شاہد آفریدی نے ایک اچھی اننگ کھیل کر فارم میں واپسی کا برملا اعلان کردیا جو ضرور دوسری ٹیموں کے پریشانی کا باعث ہوسکتا ہے. ان کے علاوہ اگر دو کھلاڑی بھی جم کر کھیل لیں تو ٹیم کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا.

    @ سعد
    ایسا نہیں کہتے سعد صاحب! ہماری ٹیم میں پوٹینشل بہرحال موجود ہے لیکن یہ سیاست سے باہر نکل کر اور میرٹ پر کھلاڑیوں کو مستقل مواقع فراہم کریں تو کوئی بعید نہیں یہی ٹیم صرف پانچ ماہ میں بھارت اور سری لنکا جیسی ٹیموں کو ہر سکتی ہے. کم از کم میں نئے کھلاڑیوں کی ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں کارکردگی کے لیے بہت پرامید ہوں لیکن ٹیسٹ میچز میں شاید اگلے دو تین سال ہماری دال نہ گل سکے. 😐

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ابوشامل کہتے ہیں

    فٹ بال دیکھنا صحت کے لیے کرکٹ سے زیادہ مفید ہے کیونکہ اس میں کوئی بھی ہارے یا جیتے، ہمیں غم نہیں ہوتا 😛
    اور میرا یہ فلسفہ پہلا میچ درست ثابت کرتا ہے جسے جیتنے کے باوجود حریف ٹیم کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.