خواتین کی فتح اور مرد ہوئے صف آراء

12 نومبر 2010ء کو چین کے شہر گوانگژو (کوانگچو) میں 16ویں ایشیائی کھیلوں کا آغاز ہوا تو پاکستان کی جانب سے بھی کئی کھلاڑی مختلف کھیلوں میں ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے چین پہنچ چکے تھے۔ گو کہ پاکستانی دستوں میں بہت سے کھیلوں کی ٹیمیں شامل ہیں لیکن شائقین کھیل اس بار پاکستان کی ہاکی ٹیم سے بہت زیادہ حوصلہ افزاء نتائج کی امید کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکواش، ٹینس اور اسنوکر میں بھی اچھی پوزیشن متوقع ہے۔ لیکن پاکستان کے مقبول ترین کھیل کرکٹ کو حیرت انگیز طور پر اس بار زیادہ توجہ حاصل نہیں ہوسکی جس کی بڑی وجہ پاکستانی قومی کرکٹرز کے حالیہ اسکینڈلز اور کرکٹ بورڈ کی جاری بدانتظامیاں ہیں۔

ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار شامل کیے جانے والے (ٹی 20 طرز) کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی خواتین اور مردوں کے علیحدہ دستے کررہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں خواتین کے مقابلے ہوئے جس میں پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے اپنے ہر میچ میں خوب جم کر کھیل پیش کرتے ہوئے نہ صرف دونوں گروپس میچز میں کامیابی حاصل کی بلکہ سیمی فائنل اور پھر فائنل میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے لیے 16ویں ایشیائی کھیلوں میں پہلا سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ فائنل میچ کی خاص بات پاکستانی ٹیم کی آل راؤنڈر ندا راشد کی چار وکٹس اور نصف سینچری کی بدولت بنگلادیش کو پاکستان کے ہاتھوں 10 وکٹوں کی تاریخی شکست ہے۔ اس کامیابی پر خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثناء میر سمیت پوری ٹیم حقیقی معنیٰ میں تعریف کی حقدار ہے اور ان کی جتنی بھی پزیرائی کی جائے کم ہے۔

دوسری جانب مردوں کی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی اگلے مرحلے کی شروعات پر  میدان میں اترنے کے لیے تیار ہوچکے ہیں۔ خالد لطیف کی قیادت میں بننے والی مردوں کی ٹیم میں علاقائی کرکٹ سے تعلق رکھنے والے کئی مستند کھلاڑی جیسے عظیم گھمن، لال کمار، شہریار غنی اور جلات خان وغیرہ موجود ہیں تاہم اس میں قومی کرکٹ ٹیم کا کوئی نامور کھلاڑی شامل نہیں۔ خواتین ٹیم کے برعکس مردوں کی ٹیم کا سامنا سری لنکا کی تجربے کار ٹیم سے بھی ہوسکتا ہے جس کا شمار دنیاء کرکٹ کی سرفہرست ٹیموں میں ہوتا ہے۔ بھارت کی عدم شرکت سے ایشیائی کھیلوں میں کرکٹ کا مزہ تھوڑا کم تو ہوا ہے لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوا اس لیے سنسنی خیز مقابلوں کی بھرپور توقع کی جارہی ہے۔

پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے تو بھارت کی غیر موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھایا، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ مردوں کی کرکٹ ٹیم بھی جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے میدان مارتی ہے یا قومی کرکٹ ٹیم کی طرح ۔ ۔ ۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. علی عامر نے کہا:

    محنت میں عظمت ہے۔
    خواتین کرکٹ ٹیم کی اس بے مثال کامیابی پہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے ۔۔۔۔ کم ہے۔
    اس فتح نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے بھی کئی سوالیہ نشانات چھوڑے ہیں۔ کاش وہ ان سے سبق حاصل کریں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. ابوشامل نے کہا:

    یہ مہینہ پاکستانی اسپورٹس کے لیے بہت اچھا جا رہا ہے۔
    پہلے جنوبی افریقہ کے لیے خلاف ایک سنسنی خیز و یادگار ون ڈے سیریز ہوئی۔ اس کے بعد ویمنز کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز میں سونے کا یہ تمغہ جیتا۔ ہاکی ٹیم فائنل تک پہنچ چکی ہے۔ مردوں کی کرکٹ ٹیم نے عالمی نمبر دو جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کی۔
    اتنی ساری خوشخبریاں ہضم نہيں ہوں گی 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد نے کہا:

    @ ابوشامل
    درست! اب تو ایشین گیمز میں ہاکی اور اسکواش میں بھی طلائی تمغہ جیتنے کے بعد اس بات میں شبہ نہیں کہ گذشتہ ہفتہ کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کے لیے بہت خوش کن رہا. 😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 21 نومبر 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com and Muhammad Asad, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: خواتین کی فتح اور مرد ہوئے صف آراء http://nblo.gs/aPdeH [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے