اصلی نقلی

سات سمندر پار کے اخبار نے ایک ویڈیو جاری کی، جسے ہمارے ملک کے پڑھے لکھے اور باشعور دنیا کے میڈیا نے بھی اچک لیا. ٹیلیویژن چینلز پر پٹیاں جگ مگ کرنے لگیں اور ریڈیو پر دل دوز چیخوں والے پرومو نشر ہونے لگے. جید مصنفین نے مذمت کے لیے قلم تھام لیے اور برقی دنیا کے باسیوں کی انگلیاں کی بورڈ پر برسنے لگیں. سیاسی تنظیموں کو قوم کی بیٹی پر ظلم نظر آنے لگا اور برساتی مینڈک آرگانائزیشن انسانی حقوق کی رٹی ہوئی کتابوں کے بوسیدہ اسباق دہرانے لگے. ویڈیو کی ترویج کے لیے اردو لکھاریوں نے طالبان کی 'ط' پر نقطہ لگا کر اور انگریزی لکھاریوں نے Muslim کو Mulsim لکھ کر اپنے دل کو تشفی پہنچائی. کراچی سے لے کر کوئٹہ، اسلام آباد سے لے کر ایبٹ آباد اور لاہور سے لے کر لاڑکانہ تک کالے جھنڈوں کے غول برآمد ہونے لگے، کالا کپڑا بیچنے والے اور بینر بنانے والوں کی ایک دن میں چاندنی ہوگئی. نبی (ص) پر جان قربان کردینے والے کے دعوی دار قرآن کے پیغام "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ" تک کو بھلا کر میدان میں کود پڑے.

دور طالب علمی میں خبر کی جو تعریف پڑھی، اسے ہر ممکن زاویہ سے اس ویڈیو کو پرکھنا چاہا. لیکن ناکامی ہوئی. یہ ویڈیو کس نے بنائی؟ کب بنائی؟ کیسے بنائی؟ کہاں بنائی؟ یہ وہ سوال تھے جن کا جواب اس ویڈیو کو 'خبر' کے زمرہ میں لاتا. لیکن ان سوالوں کے جوابات کا علم کسی آدم زاد کے پاس نہ تھا. پھر بھی! ایک ایسے دور میں کہ جب سائنسدان اس دنیا کی تخلیق کا وقت، اسباب، طریقہ کار سے لے کر انسان کے وجود اور کائنات کے اختتام تک کو پرکھنے کے لیے ثبوت اکھٹے کررہے ہیں، ہمارے میڈیا کو اس مختصر ویڈیو کا ثبوت حاصل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی اور یوں یہ فلم "خبر" بن گئی. نامعلوم اداکاروں، ہدایتکاروں اور ذرائع سے ملنے والی اس فلم کو صرف چوبیس گھنٹوں میں ہزاروں بار پیش کیا گیا.

کچھ نے کھل کر اور کچھ نے ذومعنیٰ انداز میں اس 'خبر' کی بھرپور مذمت کا شرف حاصل کیا. کسی اینٹی مولوی نے اس ویڈیو پر قیمتی تجزیہ پیش کرکے اسلامی تعزیرات اور قرآنی سزاؤں کو آڑے ہاتھوں لیا تو کسی نے اپنے ہی ملک کے باسیوں پر فوراَ چڑھ دوڑنے کا مطالبہ پیش کردیا. ہر حملہ کو دھڑلے سے قبول کرنے والوں کی تردید کے باوجود اس 'خبر' کو طالبان کا انصاف اور بربریت کی مثال جیسی سرخیاں لگا کر بھی پیش کیا گیا. حکومت نے بھی مذمت تو کی، مگر محتاط. اس 'خبر' کو خبر نا ماننے والے، ویڈیو کو جعلی تصور کرنے والے لوگ نقارخانہ میں طوطی کی مثال بن گئے. اسلام پر انگلی اٹھانے والوں کو روکتے ہوئے بھی ڈر تھا کہ کہیں 'طالبان' کے ساتھی ہونے کا فتویٰ جڑ کر عبرت ناک سزا کا مستحق نہ ٹہرادیا جائے.

پھر یوں ہوا کہ عدالت نے نوٹس لے کر طوفان روکنے کی کوشش کی. طوفان تو رک گیا، لیکن سونامی نہ رک سکا. امن کی کوششیں اسی سونامی میں غرق ہوئیں اور سوات امن معاہدہ کی فاختہ کے پر کاٹ دیےگئے. دونوں طرف کے 'مجاہدین' ایک دوسرے کے خلاف کمر بستہ ہوگئے اور باقی عوام ڈرے سہمے آگ و خون کے مناظر دیکھے جانے لگے. ویڈیو پر مہر تصدیق لگانے والے کسی ہارر فلم کی طرح یہ سب انجوائے کرتے رہے. سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور قریباِ ایک سال بعد عدالت نے اس 'خبر' کو جھوٹا قرار دے دیا. لالچی اداکاروں کی نشاندہی تو ہوگئی، لیکن ہر 'خبر' پر نظر رکھنے یا سب سے پہلے 'خبر' دینے کے دعویٰ داروں، ہر ایک کا میڈیا ٹرائل کرنے والوں سے کسی نے 'زرد صحافت' کی ڈیفینیشن تک نہ پوچھی. سوات میں امن کی پہلی کوشش کو آخری میں تبدیل کر نے کے لیے پروپگنڈا کرنے والوں کی ڈکشنری سے بھی 'سوری' نام کا لفظ مٹ چکا ہے. اب نفرتیں ایک دوسرے کے دلوں میں رچ بس چکیں اور بندوق کی نوک پر امن قائم ہوچکا. اب سوری، معذرت، معافی اور ویڈیو کو ڈرامہ ثابت کرنے کی باتوں کا فائدہ بھی کیا ہے. جب مسلمان کو مسلمان سے لڑانے اور مروانے کی کوشش کامیاب ہوچکی. امن کی فاختہ کا جنازہ نکال کر امن کی آشا کو تخلیق کرلیا گیا. جنہیں امن کے تابوت میں کیل ٹھونکنے تھے، وہ تو اپنا کام کرچکے. اب اصلی نقلی کا کیا رونا؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

16 تبصرے

  1. سوال .. کیا سارے مسائل محض ایک ویڈیو کے گرد ہی گھوم رہے ہیں یا گھوم رہے تھے؟ دہشت گردی مثلا حالیہ لاہور کے خود کش حملے بھی محض کسی غیر ملکی اخبار کی اچکی ہوئی خبر ہی ہے ؟ اور ملک میں طالبان کی طرف سے کوئی خود کش حملہ اور دہشت گردی سرے سے ہوئی نہیں محض سات سمندر پار کے اخبارات کی خبریں ہیں؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. سٹیٹ آف ڈینائل

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عبداللہ says:

    ریاض صاحب کچھ لوگ اسٹیٹ آف ڈینائل میں رہنا پسند کرتے ہیں 😳

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. اس دوسری خبر کے مصدقہ ہونے پہ اتنا یقین کیوں ہے. باقی کبریں جو آتی ہیں، انکی تردید آپ کب جاری کریں گے. وہاں سے آئے ہوئے لوگ جو کچھ بتاتے ہیں انکو جھٹلانے کے لئے کوئی مئوثر تھریک آپکی طرف سے کب چلائ جائے گی. کراچی میں ایسے لا تعداد لوگ ملیں گے جو وہاں کے مقامی ہیں اور ان حالات سے گھبرا کر وہاں سے نکل آئے ہیں. انکی زبان کس طرح بند کریں گے. اسکے لئے آپکے پاس کیا منصوبہ ہے. محض آپکے صدقے واری ہونے سے تو طالبان کی محبت میں ہم غرق ہونے سے رہے. ان زمینی حقائق کو تو تبدیل کیجئے. ورنہ اپنے نکتہء نظر کو

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. سعد says:

    راشد کامران صاحب آپ کی بات درست ہے. ملک کے مسائل اور بھی ہیں. مثلآ
    مہنگائی
    غربت
    لوڈشیڈنگ
    تعلیم کی کمی
    امریکہ کے ڈرون حملے
    ایم کیو ایم کی بھتہ خوری، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ
    بلوچستان کا مسئلہ وغیرہ وغیرہ
    آپ پرانے بلاگر ہیں اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں ان سب مسائل کو ایک ہی پوسٹ میں بیان کرنا ممکن نہیں
    😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. بالکل اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک پوسٹ میں تمام باتیں بیان نہیں کی جاسکتیں لیکن اس پوسٹ سے ایسا تاثر ابھر رہا ہے جیسے یہ ویڈیوں دراصل طالبان اور پاکستان کے عوام درمیان خلیج کی واحد وجہ ہے.. تو اس سلسلے میں عرض تھی کہ یہ تو بہت ثانوی بات ہے اصل مسئلہ وہ دہشت گردی ہے جو طالبان کی مذہبی جنونیت کی وجہ سے پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف ہیں.. اس طرح کی ویڈیوز وقتی جذبات ابھارنے کے کام تو آسکتی ہیں اور باقی کچھ نہیں لیکن طالبان کو کور فراہم کرنے والے یا طالبان کے ہر اقدام کی توجیح فراہم کرنے والے ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے اگر اس ویڈیوں کو غلط ثابت کردیا جائے تو اور کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں تو دراصل یہ ویڈیو آج کی صورتحال میں کوئی مسئلہ نہیں..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. @ راشد کامران
    یہ سوال تو ان حلقوں سے پوچھنا چاہیے جو ویڈیو کی تقسیم کو ثواب دارین سمجھ کر کنٹرول سی اور کنٹرول وی رہے تھے. ہمارے کسی مسئلہ کا تعلق اس ویڈیو سے تھا نہ ہے، لیکن پھر بھی اسے لالی وڈ کی بہترین فلم بنا کر پیش کیا جانا خیانت نہیں تو اور کیا ہے. طالبان کے مظالم ثابت کرنے کے لیے جس جھوٹ کا سہارا لیا گیا، اس کی قطعاَ کوئی وقعت ہی نہیں تھی، لیکن پھر بھی اس جھوٹی تبلیغ کرنے والوں کو زرا بھی افسوس نہیں.

    @ محمد ریاض شاہد
    . . . فروم دی آفنسز سائڈ

    @ عنیقہ ناز
    دوسری خبر پر اعتبار کی وجہ مکمل تحقیقات اور عدالت سے اس کی توسیق ہے. اندھی تقلید کی مثال بننے والی اس ویڈیو کو اگر آپ اب بھی جھوٹ ماننے پر تیار نہیں تو مطلع فرمادیں کہ یہ ویڈیو کب؟ کس نے؟ کیوں؟ کہاں؟ اور کیسے بنائی؟
    یہ سراسر لایعنی بات ہے کہ جھوٹی ویڈیو کی ترویج و تبلیغ میں اس قدر کھو جائیں کہ اصل لوگوں کو ہی بھلا بیٹھیں. دراصل اعتراض ہی اس بات پر ہے کہ اس طرح کی چیزوں کے بجائے ان حقیقی کرداروں کو جو سوات میں طالبان کے ظلم کا نشانہ سامنے لانا چاہیے۔ نا کہ اشتہارات، ٹی آر پیز اور اسپانسرز کی لالچ میں دروغ گوئی کی عظیم و شان مثالیں قائم کی جائیں. اور امن کی طرف بڑھنے والے قدموں کو روک دیا جائے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. @ سعد
    آپ کی بات بالکل درست. لیکن افسوس ہوتا ہے کہ اپنی بات رکھنے کے لیے لوگ دوسرے کے موقف کو سن اور سمجھ تک نہیں رہے.

    @ راشد کامران
    یا تو آپ نے تحریر مکمل نہیں پڑھی یا پھر آپ غلط فہمی کا شکار ہیں. تحریک طالبان پاکستان کے مظالم ثابت کرنے کے لیے کسی بھی ویڈیو، بیان یا ثبوت کی ضرورت ہی باقی نہ رہی. تو پھر اس ویڈیو کو جھوٹ مان لینے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلینے میں حرج ہی کیا ہے. وقتی جذبات ابھارنے کی اس ویڈیو (بقول آپ کے) نے سوات امن معاہدہ جیسی امن کی کوششوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا. اگر وہ حلقہ جو اس ویڈیو پر آسمانی صحیفہ سمجھ کر ایمان لے آیا، تھوڑا سا توقف اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتا تو بالکل ممکن ہے کہ سوات میں ہونے والی شرپسندی کا کوئی سیاسی حل نکل آتا. لیکن افسوس کہ دوطرفہ شدت پسندی میں درمیانی راستہ کے متلاشیوں کا دم گھٹ گیا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عبداللہ says:

    اس کی مثال یوں لیتے ہیں کہ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مروان بن حکم کو اپنا معتمد خاص نہ بناتے اور اعلی عہدوں پر بنو امیہ کو نہ بٹھاتے تو خوارجی ؟انہیںشہید نہ کرتے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. عبداللہ says:

    حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر حضرت معاویہ کی خلافت مان لیتے تو جنگ صفین نہ ہوتی؟
    یا حضرت امام حسین یزید کی بیعت کر لیتے تو واقعہ کربلا نہ ہوتا ؟جی نہیں یہ سب کچھ ہوتا اس لیئے کہ ان کے کرنے والون نے دل میں ٹھان لی تھی اور ان کی مدافعت کرنے والوں کے دل دنیا مین پڑ کر کمزور پڑ چکے تھے،اگر یہ وڈیو جاری نہ ہوتی تب بھی سوات امن معاہدہ ختم ہوجانا تھا کیونکہ اس کے کرنے والے مخلص نہیں تھے اور نہ ہیں وہ سرف اور صرف ان معاہدوں کی آڑ میں اپنی جنگی قوت بڑھارہے تھے ،

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. عبداللہ says:

    ایم کیو ایم کی بھتہ خوری، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ
    سعد،
    اسٹیٹ آف ڈینائل کی ایک اور مثال 😳

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. ميں تو پھر بھی طالبان کے خلاف ہی رہوں گی ايک ويڈيو کا نقلی ہونا ميری ان سے نفرت کو محبت ميں نہيں بدل سکتا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. سوات امن معاہدہ صوفی محمد کی تقریر نے خراب کیا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. @ عبداللہ
    جنگ صفین اور حضرت امام حسین (رض) کے متعلق آپ کی بات کا میں کچھ جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ یہ کوئی ایرے غیرے مسلمان کی بات نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجعمین کے متعلق ہے، اس لیے چھوٹی سی بات کی بڑی پکڑ بھی ہوسکتی ہے.

    @ پھپھے کٹنی
    بلاگ پر خوش آمدید. یہاں کوئی طالبان کے خلاف ہونے سے نہ تو روک رہا ہے اور نہ ہی نفرت کی کمی کا مشورہ دیا جارہا ہے. صرف ایک غلط پہلو کی نشاندہی کی ہے، جو سیاسی و میڈیائی فنکاریوں کی وجہ سے پروان چڑھا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. راحت حسین says:

    طالبان کی حمایت یا مخالفت سے قطع نظر میٰں محمد اسد جی کی اس بات سے اتفاق کروں گا کہ میڈیا پر چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئیے. ہمارے ملک میں انتشار پھیلانے میں زرد صحافت کا کردار قابلِ ذکر ہے..

    انکے کنگ میکرز بننے کے جنون کی روک تھام سے حالات اور عام آدمی کی بے چینی کسی حد تک کم ہو سکتی ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. کسی انسان کو بھی ان طالبان سے محبت نہیں ہو سکتی جو پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ طالبان ہیں کون، کن کو طالبان بناکر پیش کیا جا رہا ہے، کون طالبان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے
    اندھادھند نفرت سے ہمیں کیا مل جائے گا، اور جب ہم لوگ جانتے ہیں کہ طالبان غلط ہے تو ان پر جھوٹی ویڈیو کا الزام کیوں لگائیں، اگر ویڈیو جھوٹی ہے تو ہمیں مان لینا چاہیے
    اگر ایک بندہ بےاس جھوٹ کو جھوٹ کہتا ہےتو اس بے چارے کو زبردستی طالبان کا ساتھی اور حمایتی قرار دے دیا جاتا ہے
    کیا رویے ہیں جی ہمارے :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *