اور پاکستان جیت گیا

5

بلاآخر ہماری قومی ٹیم نے پچھلے ٹیسٹ میچ میں 150 رنز کی ہزیمت کا جواب آسٹریلیا کو دے ہی دیا۔ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف یہ فتح پندرہ سال بعد حاصل ہوئی ہے لہٰذا اس کی خوشی بالکل ایسے ہی منائی جارہی ہے جیسا کہ شادی کے پندرہ سال بعد اولاد نرینہ کی پیدائش پر دیکھی جاتی ہے۔ ان پندرہ سالوں میں کئی بار پاکستان کو ٹیسٹ میچز جیتنے کے مواقع میسر آئے لیکن کبھی خراب بیٹنگ اس جیت میں رکاوٹ بنی تو کبھی بالرز اور فیلڈرز نے خانہ خراب کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کل رات سے آج دوپہر تک یہ سوال بارہا تنگ کرتا رہا کہ کیا پاکستان واقعی جیت جائے گا؟

آج جب کھیل شروع ہوا تو چند ہی منٹ بعد دل دھڑکنے کی رفتار میں اضافہ شروع ہوا۔ لیکن ٹارگٹ چونکہ کم تھا اس لیے زیادہ انتظار تو نہ کرنا پڑا البتہ بیٹسمین امید کے مطابق نہ کھیلنے پر افسوس ہوا۔ ایک آسان ہدف کو ازخود مشکل بناکر جیتنا شاید کھلاڑیوں کے لیے زیادہ خوش کن بات ہوگی۔ ممکن ہے بہت سے لوگ All’s Well that Ends Wellکے مصداق اس فتح کے بعد کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کی کوتاہیوں کو نظر انداز کردیں گے۔ لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ ٹیم کی کمزوریوں کو آج ہی سے دور کرنے کا کام شروع کرلیا جائے۔

ڈریے نہیں جناب! ہم اس جیت کا مزہ بالکل کر کرا نہیں کریں گے بس چند تجاویز ہی دیں گے جو آئندہ آنے والی سیریز میں ٹیم کی بہتر کارکردگی کے لیے ضروری ہیں۔ سب سے پہلے اگر بات کی جائے کپتانی کی تو سلمان بٹ اس میچ میں زیادہ کھل کر کپتانی کرتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ زیادہ تر فیصلے انہوں نے سینیر ساتھیوں کی منشاء کے مطابق کیے جو کہ کوئی دوسرا کھلاڑی بھی کرسکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ بالنگ میں تبدیلی بھی پچ اور ہوا کے رخ کے مطابق کرنے کے بجائے بالر کے اسپیل کی بنیاد پر کرتے رہے۔ جس وجہ سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوا کہ فاسٹ بالر کے اینڈ سے اسپنر اور اسپنر کے اینڈ سے فاسٹ بالر بالنگ کرے تو زیادہ بہتر نتائج آسکتے تھے۔

سلمان بٹ سابق کپتان انضمام الحق کی طرح اکثر اوقات خاموش کھڑے بالرز کو چھکے اور چوکے لگتے دیکھتے رہے۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ فیلڈنگ کے دوران بالرز سے براہ راست رابطہ میں رہتے اور اسے کپتان کی طرح رہنمائی اور حوصلہ دیتے۔ اس کے علاوہ فیلڈ سیٹنگ اوربیٹنگ آرڈر میں وقت کے ساتھ تبدیلی کا بھی فقدان نظر آیا۔ بالخصوص دوسری اننگ تو یہ دونوں چیزیں میں بہت زیادہ محسوس ہوئیں۔

آخری اہم بات اس میچ میں ‘شاہد آفریدی’ کی ریٹائرمنٹ تھی۔ موجودہ ٹیم کے دو نئے کھلاڑیوں اظہر علی اور عمر امین کا موازنہ اگر شاہد آفریدی سے کیا جائے تو وہ دونوں نہیں تو کسی ایک پر ضرور سبقت رکھتے ہیں۔ اس لیے ٹیم میں عمر امین کی جگہ شاہد آفریدی کو شامل کیا جاتا تو نا صرف ایک اسپنر بلکہ ایک اچھا فیلڈر بھی دستیاب ہوجاتا۔ نیز شاہد آفریدی کی باعزت رخصت کا بھی انتظام ہوجاتا جو کہ ہر کرکٹر کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ ٹیسٹ میچ امپائر روڈی کرٹزن کا بھی آخری میچ تھا جس پر انہیں تمام کھلاڑیوں نے خراج تحسین بھی پیش کیا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی فاتح ٹیم کے مقابلے میں آسٹریلیا کا کھیل زیادہ بہتر نا رہا۔ اور یہی وجہ اس ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز اختتام کی سب سے بڑی وجہ بنا۔ پچھلے ٹیسٹ میچ اور آسٹریلیا کی ہوم سیریز میں پاکستان کی درگت بننے کے بعد جیت تو ایک طرف میچ ڈرا ہوجانے کا بھی یقین کچھ کچھ لوگوں ہی کو تھا۔ بہرحال اب جبکہ فتح پاکستان کو نصیب ہوئی تو ہم دعا کرتے ہی کہ پاکستان کی اس ٹیسٹ میچ میں فتح ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو جس کے بعد ٹیم نہ صرف ٹی ٹونٹی بلکہ ایک روزہ اور ٹیسٹ میچز میں بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کرسکے۔ آمین

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. عثمان کہتے ہیں

    پاکستان آسٹریلیا سے پندرہ سال بعد ٹیسٹ جیتا ہے.
    مجھے تو خوشی کے بجائے یہ جملہ سن کر شرمندگی سی ہوتی ہے
    😥

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عمران اشرف کہتے ہیں

    بات تو باعث شرمندگی ہی ہے اگر سوچیئے۔
    آخری ایک رن بنانے سے پہلے بھی وکٹ دی ہے انھوں نے۔یہ تو حال ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد کہتے ہیں

    بھئی خوشی اسی بات تو ہے کہ پندرہ سال بعد ہماری ٹیم جیت گئی. اگر پچیس سال بعد بھی نا جیتتی تو ہم کیا کرسکتے تھے؟ ہیں جی 😆

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.