عوامی تجزیے

جس طرح سیاستدانوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع چاہیے اسی طرح موبائل استعمال کرنے والوں کو ایس ایم ایس کرنے کا بہانہ چاہیے. بذریعہ ایس ایم ایس اپنے اظہار خیال دوسروں تک پہنچانے کے لیے موقع و محل کی کوئی قید نہیں. معاملہ چاہے شہر کا ہو یا گاؤں کا، ملکی ہو یا غیر ملکی، کھانے کا ہو یا پینے کا، کرکٹ کا ہو یا فٹ بال کا، پیٹرول کا ہو یا ڈیزل کا ایس ایم ایس کی آمد و رفت جاری و ساری رہتی ہے اور وہ بھی بلا اجازت. آج کل ملک میں چینی کا بحران جاری ہے تو پیغامات بھیجنے والے اس میں بھی پیچھے نہیں اور اس موضوع پر کچھ اس طرح عوامی تجزیے کیے جارہے ہیں:

فراز اور چینی
واپسی کا سفر اب ممکن نہیں فراز
ہم تو نکل چکے ہیں چینی کی تلاش میں

میرے اُس شہر عداوت میں بسیرا ہے فراز
جہاں چرس تو ملتی ہے مگر چینی نہیں ملتی

خواہش
اکبر: " بولو انارکلی! تمہیں کیا چاہیے؟ تاج یا تخت؟ "
انارکلی: " جہاں پناہ! مجھے تاج چاہیے نہ تخت . . . بس ایک کلو چینی مل جائے تو نوازش ہوگی!!! "

(میمنی) فلمی سین:
ولن ہیروئن کو اٹھاکر لے جارہا ہے اور وہ چلا رہی ہے: " می کو بچا اقبالیہ! می کو بچا . . . "
اقبالیہ: " جیبن! میں ابھی نئی آسکتا . . . دکان پر چینی کی بہت لمبی لائن ہے "

حکومتی اعلان!
کوئی سوئی مانگے، ہم تیر دیں گے
کوئی مولوی مانگے، ہم پیر دیں گے
کوئی لسی مانگے، ہم کھیر دیں گے
لیکن اگر
کوئی چینی مانگے، تو ہم چیر دیں گے

راز کی بات
یار آپ سے ایک بات کرنی ہے . . . کوئی پاس تو نہیں . ؟ . زرا اکیلے ہوجاؤ . . . اور کسی کو مت بتانا . . . ورنہ کوئی بھی مسئلہ ہوسکتا ہے . . . غور سے سنو . . . چینی ہے آپ کے پاس؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@اسد علی
خوش آمدید اسد! تجویز کا شکریہ مگر ٹھکائی لگائیں بھی تو جناب کس کس کی؟ 🙄

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اس کی بجاے کیا یہ بھتر نہ ھو گا۔۔ کہ اپنی اصلاح کی جاے۔۔ چینی کی پروڈکشن کے بھتر طر یقہ جات پر توجہ دی جاے اور بحران کے ذمہ داروں کی ٹھکائ کی جاے.. 😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@جعفر
میں میٹھی بات کیسے کروں؟ جب چینی میں نے کھائی نہیں 😆

@افتخار اجمل
بلاگ پر خوش آمدید.
درست فرمایا آپ نے. گذشتہ دنوں اےآروائی نیٹورک کی جانب سے بھی بائیکاٹ کا مشورہ دیا گیا اور پچھلے دنوں حکومت سندھ نے سرکاری دفاتر میں چینی کے استعمال پر پابندی عائد کردی جو یقینآ خوش آئند اقدام ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اگر لوگ فیصلہ کریں کہ وہ ایک ماہ چینی نہیں کھائیں گے اور پریس کانفرنس کر کے اس کا اعلان کردیں تو کتنے لوگ مر جائیں گے یا بیمار پڑ جائیں گے چینی نہ ملنے کی وجہ سے ؟
لیکن ہمارا رویہ اُلٹا ہے ۔ اِدھر اخبار نے خبر لگائی چینی ناياب اُدھر سب نے چینی کا شکار شروع کر دیا ۔ کسی نے گھر بھر لیا اور کسی نے دکان میں چھپا دی ۔ اور چھاتی پر ہاتھ مار کر سب کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں ۔ کیا اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے؟

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جعفر says:

فراز کادوسرا شعر اچھا ہے
باقی میں اگرچہ چینی کا ذکر تو ہے لیکن ہیں پھیکے۔۔۔
:mrgreen:

اس تبصرے کا جواب دیںجواب