بیک ٹو دا فیوچر II اور آج کی گاڑیاں

7

“جہاں ہم جا رہے ہیں وہاں سڑکوں کی ضرورت نہیں”۔ یہ ڈائیلاگ مشہور زمانہ فلم بیک ٹو دا فیوچر II کا ہے۔ 30 سال پہلے تین فلموں پر مشتمل اس سلسلے نے عالمگیر شہرت سمیٹی اور آج بھی دنیا بھر میں مجھ جیسے لاکھوں پرستار موجود ہیں جو اسے بار بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ سائنسی موضوع پر بنائی گئی اس فلم کے تین حصے ہیں جن میں مرکزی کردار ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان سفر کرتے ہیں، ایک ایسی گاڑی کے ذریعے جو ٹائم مشین ہوتی ہے۔ لیکن اچانک اس فلم کا ذکر کیوں؟ اس لیے کہ اب سے دو روز قبل وہی تاریخ تھی جب بیک ٹو دا فیوچر II کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایمٹ براؤن، عرف ڈوک، اور ہیرو مارٹی میک فلائی اپنی “ٹائم مشین” میں سفر کرتے ہیں، یعنی 21 اکتوبر 2015ء کا سفر!

پہلی فلم کے مقابلے میں سلسلے کی دوسری فلم کی گاڑیوں میں ایک جدت تھی، یہ چار پہیوں پر دوڑنے کے علاوہ ہوا میں بھی اڑ سکتی تھی۔ کہانی بیان کرکے آپ کے لیے فلم کا مزہ خراب نہیں کروں گا لیکن 2015ء کے بارے میں چند پیشن گوئیاں اور توقعات پر روشنی ڈالوں گا، جو 1989ء میں کی گئی تھیں۔

فلم میں ڈاکٹر ایمٹ براؤن نے 2015ء میں گاڑیوں میں دستیاب قابل ذکر جدتوں کا ذکر کیا تھا۔ ان میں اڑنے والی گاڑیاں، ہوور بورڈز، قدرتی فضلات کا بطور ایندھن استعمال، حادثے کی صورت میں ڈرائیور کو گاڑی سے نکالنے والا خودکار نظام وغیرہ شامل تھا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ان پیشن گوئیوں کو دور حاضر میں پرکھ سکیں۔

back to the future day

بیک ٹو دا فیوچر II میں اڑنے والی گاڑی کا خیال گو کہ نیا نہیں تھا، اس سے قبل بھی فلموں میں ایسے اڑن کھٹولے دکھائے گئے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواب آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی بڑے پیمانے پر اڑن گاڑیوں کے استعمال پر کوئی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بات اپنی جگہ کہ کاریں بنانے والے ادارے گاڑیوں کو جدید سے جدید ترین بنانے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن ابھی ان کی تمام دوڑ دھوپ سڑکوں پر چار پہیوں سے چلنے والی گاڑیوں تک محدود ہے۔ بہرحال، فلم میں اڑتی ہوئی گاڑیوں کے لیے ہوا میں تیرتے ہوئے روبوٹک پٹرول اسٹیشن، ٹریفک کے مختلف اشارے اور دوران پرواز حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے خودکار انخلاء کا نظام بھی دکھایا گیا لیکن جب ایسی گاڑیاں بن ہی نہیں رہیں تو پھر ان پر کچھ لکھنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

hoverboard

ہوور بورڈ کے خیال کو ہینڈو اور پھر ٹویوٹا کے ذیلی ادارے لیکسز نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ گو کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام نہیں ہوسکی لیکن کہا جا سکتا ہے کہ بیک ٹو دا فیوچر II میں زمین اور پانی پر چلنے والا ہوور بورڈ تیار ہوچکا ہے۔ ہینڈو کا تیار کردہ ہوور بورڈ مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرکے بنایا گیا ہے جسے آپ عام سڑک پر استعمال نہیں کرسکتے۔ لیکسز کا پیش کردہ سلائیڈ ہوور بورڈ بھی مقناطیسی تکنیک کو استعمال کرتا ہے لیکن یہ فلم میں دکھائے گئے ہوور بورڈ کی طرح زمین اور پانی دونوں کے اوپر سے گزر سکتا ہے۔

1989ء سے 2015ء کا سفر کرنے کے لیے ڈوک کی 88 میل فی گھنٹے سے دوڑنے والی گاڑی میں کیلے کے چھلکے اور مشروبات کو بطور ایندھن استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خیال بھی دور جدید میں حقیقت کے روپ میں ڈھل رہا ہے کیونکہ اب گاڑیوں کے چند برانڈز بایو ڈیزل (Bio Diesel) پر چلنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بہت سے افراد کھانے پکانے میں استعمال ہونے والے تیل سے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن گیس سے چلنے والی گاڑیاں بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیک ٹو دا فیوچر میں 2015ء کے لیے کی گئی پیشن گوئیاں کافی حد تک قابل عمل بھی ہیں بلکہ کئی ایسی ہیں جن سے ہم آج لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فلم کے لکھاری باب گیل نے گاڑیوں کے معاملے میں کچھ زيادہ ہی توقعات باندھ لی تھیں، جن پر ہم پورے نہیں اتر سکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. محمد نعیم کہتے ہیں

    باب گیل کی طرح اہل کراچی نے بھی ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے متعلق کیے گئے سرکاری اعلانات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ مگر آج نتیجہ یہ ہے کہ جو چنگی چی جیسی سواری بھی عوام کو میسر تھی وہ بھی چھن گئی ہے۔ ٹریفک میں پھنسے اہل کراچی اور بس اسٹاپ پر نہ ملنے والی گاڑی کے منتظر مسافر بیک ٹو دا فیوچر II کے خیالی پلاو سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. نوراسلام کہتے ہیں

    aero mobil نے 2014 میں شاید اُڑنے والی گاڑیوں کا خواب سچ کردیا تھا۔ اب تو دوسری کمپنیز کی گاڑیاں بھی پروں سمیت باہر نکلنے کو تیار ہیں۔ بالکل اسی طرح آج سے دس سال پہلے اٹک میں چند ایسے رکشے تیار ہو چکے تھےجو کہ اڑ سکتے تھے۔ شاید ہم نے جومیڈیا پر دیکھا نہیں وہ دنیا میں ہے ہی نہیں اور آج ہمارے پاس سب کچھ ہے مگر انسانوں کو زمین پر رینگنے والی گاڑیوں کو ٹکرانےاور ٹریفک قوانین توڑنے سے ہی فرصت نہیں ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد اسد کہتے ہیں

    @نوراسلام: آپ نے اگر غور کیا ہو تو میں نے ‘اڑن کھٹولے’ کا ذکر کیا ہے۔ اصل بات یہ یاد دلوانی ہے کہ پہلے بھی اڑنے والی گاڑیوں کا خیال پیش کیا جا چکا ہے لیکن مشہور تب ہوا جب انگریزی فلم میں دکھایا گیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ خیال اور شے پہلے پیش کر کے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عامر مرزا کہتے ہیں

    فلم میکر کی مستقبل کے بارے میں پیشنگوئیاں پڑھ کر مرحوم ابنِ صفی یاد آئے۔
    ان کی جاسوسی دنیا سیریز میں ایک کردار تھا، فولادی؛ ایک روبوٹ۔ چند سال بعد روس سے ایک سچ مچ کا روبوٹ آ گیا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمد اسد کہتے ہیں

    @عامر مرزا: کیا واقعی؟ میں ابن صفی کو زیادہ نہیں پڑھ سکا اس لیے میرے لیے یہ نیا انکشاف ہے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. نوراسلام کہتے ہیں

    @محمد اسد: یہاں میں آپ کو ایک تاریخی واقعہ یاد دلا دوں جب ایوب خان کو بھارتی مندوب نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایسی قوم بستی ہے جس کو سب کچھ کرنے کے بعد پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا تھا۔ جس کے جوابی وار میں ایوب صاحب نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایسی قوم بستی ہے جوکہ سب کچھ کرڈالتی ہے، اُس کے بعد اُس کو یاد آتا ہے کہ اُس نے کیا کیا ہے۔ یقیناً اس طرح کی صورتحال یہاں عام ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.