بدلنا ہوگا خود ہم کو

4
یقین مانو کہ جب تک یہ نظام زر نہ بدلے گا
بھیانک مفلسی کی رات کا یہ منظر نہ بدلے گا

اگر بالفرض میں رہبر کسی کو مان لوں تو پھر
ضمانت کون دے کہ راہ میں وہ رہبر نہ بدلے گا؟

جاگیردار، انوسٹر، بھائی و منسٹر، سب کا ہے ایک ہی گھر
عوام جب تک نہ بدلے گی، یہ پورا گھر نہ بدلے گا

مزاج دہر بھی تلخ و ترش کتنا ہی سہی مگر
بدلنا ہوگا خود ہم کو، کوئی آکر نہ بدلے گا

شاعر: نامعلوم

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. محمد زبیرمرزا کہتے ہیں

    یہ شوق اورذوق بھی رکھتے ہیں آپ بہت خُوب

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمداسد کہتے ہیں

    @محمد زبیرمرزا: اس نظم کے شاعر اب تک نامعلوم ہیں۔ آپ کو اگر علم ہو تو ضرور بتایئے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد زبیرمرزا کہتے ہیں

    @محمداسد باوجودتلاش کے شاعرکا نام معلوم نہیں ہوا- کوشش جاری ہے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.