بدعنوان بلاگ

22

اس نے زبان اوپر کے تالو سے چپکائی، پھر اس کا ایک طرف کا درمیانی سرا الگ کرتے ہوئے ‘کِھ’ کہا اور سر دائیں بائیں ہلانے لگا۔ جیسے صدر یا وزیراعظم کے خطاب سے قبل تلاوت کلام پاک ضرور ہوتی ہے، اسی طرح وہ اپنے خطاب سے پہلے ‘کِھ’ کی آواز نکالنا ضروری ہے۔ میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔ اول یہ کہ وہ ایک طویل لیکچر دینے کے موڈ میں ہے دوم یہ کہ وہ میرے بلاگ سے بالکل بھی متاثر نہیں۔

میں نے اسے اپنے بلاگ سے متعارف کروایا تو اس نے بڑی توجہ سے اسے دیکھا اور پھر دو چار پرانی تحریریں پڑھیں۔ لیکن وہ متاثر نہ ہوسکا تبھی اس نے اپنے مخصوص انداز میں تاسف کا اظہار کیا۔ میں نے اس سے سوال کیا “کیا کمی لگتی ہے اس میں تمہیں؟”۔ “موضوعات کی” اس نے فوراَ جواب دیا “کچھ موضوعات بلاگ میں جان ڈال دیتے ہیں جو کہ اب تک تمہارے بلاگ پر نہیں”۔ “مثلاَ کس قسم کے موضوعات ہونے چاہیں؟” میں نے پھر دریافت کیا۔ اور جواب میں اس کا متوقع لیکچر شروع۔

“موضوعات اور خصوصاَ بلاگ کے موضوعات کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تم کبھی کبھار کھیل، کمپیوٹر یا طنز و مزاح پر لکھو، لیکن کوشش کرو کہ زیادہ تحریریں لوگوں اور ان کے جذبات سے متعلق ہوں۔ یاد رکھو کہ منفی بات سے انسانی جذبات زیادہ جلدی بیدار ہوتے نا کہ مثبت بات سے۔ اس لیے کوشش کرو کہ جیسے لوگ سوچتے ہیں تم اسے تبدیل کر کے اپنی مرضی کی سوچ ان تک پہنچاو۔ گویا تم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرو کہ تم لوگوں سے اچھا سوچتے ہو۔ جواباَ وہ تمہیں سوچ تبدیل کرنے کے لیے دلائل دیں گے۔ جنہیں تم نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا ہے۔ اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقل مند ثابت کرنے اور دوسرے کو غیر دانشمند ثابت کرنے کے لیے چرب زبانی و اردو دانی کا بے دریغ استعمال کرو۔ اپنے نظریاتی مخالف کو تبصرہ میں مدلل جواب دے سکو یا نہ دے سکو، بس آخری چند سطور میں اس کی ذات کے بارے میں ایسی بات لکھو کہ اسے تمہارا گھونسا اپنی ناک پر لگتا محسوس ہو۔ تبصرہ چاہے ایک سطر کا ہو یا دس سطروں کا، جواب ہمیشہ ضخیم اور ایسا ہونا چاہیے کہ پڑھنے والا تمہارے علم پر عش عش کر اٹھے۔ کسی کے تبصرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تمہارا اپنا بلاگ ہے اور نہ ہی دو تبصرہ نگاروں کا جھگڑا حل کرانے کی کوشش کرو۔ ورنہ بلاگ تبصروں کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر تبصرہ نگار آپس میں ایسا نہ کریں تو تم ایک دو بار خود اپنے زور بیان سے مخاطب الکلام کو زچ کر دو۔ پھر دیکھو کہ تم اور تمہارا بلاگ کیسے اپنے حلقہ میں ایک پہچان بنتے ہیں”۔

وہ اور بھی کچھ بہت کہنا چاہ رہا تھا لیکن میں نے بات کو مختصر کرنے کے لیے پوچھا “مثلاَ ایسا جذباتی مواد آئے گا کہاں سے؟”۔ وہ تو جیسے اسی سوال کا منتظر تھا۔ جھٹ میرے ہاتھ سے کی بورڈ لیا اور مانیٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ادھر نظر رکھنے کا کہا۔ میں چپ چاپ اسے دیکھنے لگا۔ اس نے پہلے یوٹیوب کھولی اور پھر سرچ میں لکھا “کوا حلال ہے”۔ میرے ماتھے پر شکنیں آگئیں اور میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ میرا سوال سمجھ گیا اور کہا “دیکھو، ہم سب جانتے اور مانتے ہیں کوا یا طوطا وغیرہ کھانا حرام ہے، لیکن انٹرنیٹ پر ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو فریق مخالف کے منہ سے اسے حلال کہلوا لیتے ہیں۔ اب چونکہ کوا حلال تو نہیں لیکن چند الفاظ اسے حلال کرنے کے زمرے میں لیے جارہے ہیں اس لیے یہ ہوگیا ایک متنازع موضوع۔ تو اس پر اگر یکطرفہ تحریر مع ویڈیو لنک بلاگ پر لگائی جائے، اور ویڈیو میں موجود صاحب، ان کے حلقہ احباب، ان کے ماضی اور ان کے پیروکاروں کو بھی لپیٹ میں لے کر ان پر سنجیدگی سے کڑی تنقید کی جائے تو ان کے مخالفین تمہیں شاباشی دینے کے لیے اور حمایتی ایسی کی تیسی کرنے کے لیے بلاگ پر دھڑا دھڑ آنا شروع ہوجائیں گے اور یوں ضرور بالضرور تبصروں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے اور ۔ ۔ ۔ ۔”۔

“لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ ویڈیو شکل سے ہی جھوٹی اور فریب لگ رہی ہے اور اس میں کی گئی بات سیاق و سباق سے بھی باہر ہے”۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “ہمیں کیا لینا دینا اس کی اصل یا تصدیق سے، بس ہمیں ملی اور ہم نے لوگوں کی رائے جاننے کے لیے بلاگ پر لگادی” اس نے یہ مشکل بھی حل کردی اور میں خاموش ہوگیا۔ اس نے پانچ چھ سیکینڈ انتظار کیا اور پھر مسکراتے ہوئے پوچھا “تو کیا خیال ہے جناب؟”۔ “میں یہ نہیں کرسکتا” میں نے کورا جواب دیا “کیونکہ میرا بلاگ بلاعنوان ہے اور میں اسے بدعنوان نہیں بنانا چاہتا”۔ میرا جواب سن کر وہ ایک بار پھر افسوس سے اپنا سر دائیں بائیں ہلانے لگا جیسے وہ اس وقت بے وقوف ترین بلاگر کے سامنے بیٹھا ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

22 تبصرے

  1. عثمان کہتے ہیں

    بہت خوب :mrgreen:
    لگتا ہے کہ آپ کا واسطہ بھی سیانوں سے پڑتا رہتا ہے. وہ آپ کو بھلے ویڈیو پر قائل نہ کرسکا لیکن ایک دلچسپ تحریر کا سامان تو پیدا کر گیا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمد ریاض شاہد کہتے ہیں

    اسد
    اچھی تحریر ہے اور شاید زیادہ تر نووارد بلاگر ایسا ہی سوچتے ہیں مگر مجھے بلاگنگ کا میڈیم بہت پسند آیا . اس میں کوئی آپ کی بات کاٹ کے اپنی نہیں شروع کر سکتا . اور آپ اپنی بات پوری آزادی سے کہ سکتے ہیں مزید برآں بحث و تمحیص سے سوچ کے کچھ نئے در وا ہوتے ہیں جن کا پہلے ہمیں احساس نہیں ہوتا. ہو سکتا ہے کہ ہم دوران بحث مقابل کے دلائل کو تسلیم نہ کریں مگر بعد میں ٹھنڈے دل سے سوچنے پر بعض اوقات ہماری رائے ضرور اثر انداز ہوتی ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. یاسر عمران مرزا کہتے ہیں

    ایسی ہی ایک دو تحاریر جاوید چودھری نے بھی لکھیں۔ بلاگ پر اس طرح کی تحاریربلاگ پر زیادہ ہٹس پانے کے لیے تو کام دے سکتی ہیں لیکن ایک اچھی شناخت بنانے کے لیے بالکل نہیں۔

    اچھی کوشش ہے جناب
    پسند آئی تحریر، بہت شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. یاسر خوامخواہ جاپانی کہتے ہیں

    لگتا ھے آپ بھی تپے ھوئے ھو مگردھیمی آنچ پر ۔بحرحال تحریر خوبصورت ھے۔ 😆 😆 ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. شازل کہتے ہیں

    ہمارے کچھ بلاگرز ایسا ہی کر رہے ہیں
    نام لینے کی ضرورت نہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. سعد کہتے ہیں

    آپ اس کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنے بلاگ کو کوئی عنوان دے ہی دیں۔ کب تک بلا عنوانی میں ڈوبے رہیں گے؟
    ویسے بقول سیانے کے، جن لوگوں کا کوا حلال ہوتا ہے انہیں آپ دلیلوں سے قائل نہیں کر سکتے! اور پھر وہی ہوتا ہے جو آپ نے اوپر بیان کیا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. جعفر کہتے ہیں

    یار اسد صاحب
    میرے چھابے میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کوئی خوف خدا ہی کرلیا ہوتا۔۔۔
    :mrgreen:
    میں بلاگستان میں جاوید چوہدریانہ اشٹائل کا سول ڈسٹری بیوٹر و ایجنٹ وغیرہ ہوں
    😀
    میں چاہے اس بلاگ پر تبصرہ کروں نہ کروں لیکن پڑھتا ضرور ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ آپ کا انداز تحریر پختہ اور سوچ واضح ہے۔ جو اتنی بالی عمریا میں قابل تعریف ہے۔ بلکہ کسی بھی عمر میں قابل تعریف ہے۔
    اس تحریر سے مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں میری سول ڈسٹری بیوشن شپ چھن نہ جائے۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. Md کہتے ہیں

    اچھی تحریر ہے آپکو لکھنے کا فن آتا ہے-شُکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. یاسر عمران مرزا کہتے ہیں

    جعفر
    ہا ہا ہا ہا :mrgreen:
    مجھے بھی یہی ڈر لگ رہا ہے۔لیکن خوشی بھی ہے کہ اب آپکی مناپلی نہیں رہے گی :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. ابوشامل کہتے ہیں

    بہت خوب اسد!۔ سوچ کی بہت اچھی عکاسی کی ہے آپ نے۔
    ویسے آپ کے “خیر خواہ” نے بلاگ کو “ہٹ” کرنے کے لیے بہت زبردست “ٹپس” دی ہیں لیکن لگتا ہے آپ ان کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ 😛
    آپ بلاگنگ کو چھوڑیے ہمارے نجی ٹی وی چینلوں کو دیکھ لیجیے ہر جگہ یہی چل رہا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس میں آپ جیسی مثبت سوچ کے حامل نوجوان بھی ہیں جو اس گھٹیا سوچ سے دور ہیں۔ اللہ آپ کو مزید ہمت دے۔ آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. پھپھے کٹنی کہتے ہیں

    ہر کسی کا اپنا اپنا انداز ہے اور ہر کوئي اچھا لکھ رہا ہے تبھي تو چل رہا ہے بس ذرا برداشت کی ہمت پيدا کر ليں تو سب اچھا لگے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. محمد احمد کہتے ہیں

    بہت خوب ! بہت اچھا لکھا ہے.

    بلاگ کا ٹریفک بڑھانے کا یہ آسان ترین طریقہ ہے کہ اپنے بلاگ پر ایسا کچھ لکھ ماریں کہ جسے لوگ پڑھتے ہی تلملا اُٹھیں اور لگیں اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے.
    .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    لگتا ہے کہ آپ کے اتاليق کے ايک دو شاگرد بلاگ بنا چکے ہيں اور اُن کی نصحت کے مطابق کامياب جا رہے ہيں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. جاویداقبال کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب اچھی تحریر ہے۔بہت اچھےٹپ دی ہےبلاگ کوہیٹ کرنےکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 😆

    والسلام
    جاویداقبال

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. محمداسد کہتے ہیں

    @ عثمان
    جی درست کہا آپ نے. یہ تو ان بہت سی مثالوں میں سے ایک ہے کہ جس میں ‘دانشور’ حضرات اپنے ‘تجربہ’ کی روشنی میں کامیاب شارکٹس سے نوازتے ہیں. یہ تو سننے والے پر ہے کہ وہ اس کے اثرات سے محظوظ ہوتا ہے یا محفوظ رہتا ہے 🙂 .

    @ محمد ریاض شاہد
    جی بالکل درست فرمایا. نہ صرف بلاگ دنیا بلکہ مجھے انٹرنیٹ فورم بھی اس لیے زیادہ مناسب لگتے ہیں کہ وہاں ایک تو آپ کو دوران گفتگو کاٹا نہیں جاتا اور دوسرا یہ کہ آپ کے پاس دوسرے کے موقف کو سمجھنے کے لیے بھی لامحدود وقت موجود ہوتا ہے. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اکثر اوقات بحث نظریات سے ذاتیات کا رخ کرجاتی ہے جو کہ ناپختہ ذہن اور غیر مدلل بحث کی عکاسی کرتی ہے. لہٰذا اگر ان چیزوں کو تبدیل کرلیا جائے تو میرے خیال میں انٹرنیٹ بلاگز و فورمز زیادہ جلدی وہ مقام حاصل کرسکتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں. اگر اسی طرح ایک دوسرے پر ذاتی و خاندانی تنقید پر مبنی تقریریں ہوتی رہیں تو بہتری کی قطعاَ امید نہیں.

    @ یاسر عمران مرزا
    جی آپ نے درست فرمایا. میں خود جاوید چودھری کی اس تحریر کی تلاش میں ہوں کہ جس میں انہوں نے چٹپٹے ٹاک شوز پر کڑی تنقید کی تھی. مجھے اس کالم کی اس لیے بھی تلاش ہے کہ اس کے بعد ‘کل تک’ کی رینکنگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ;-)۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. محمداسد کہتے ہیں

    @ یاسر خوامخواہ جاپانی
    سینک محسوس کرنے اور تحریر پسند کرنے کا شکریہ یاسر! 🙂 .

    @ شازل
    حفظ ماتقدم کے طور پر میں بھی نام لینے سے پرہیز کرنا بہتر سمجھتا ہوں 😉

    @ سعد
    میرا بھی یہی خیال ہے کہ جو کوے کو حلال مان لے، پھر اس کے سامنے دلائل بوگس ہوجاتے ہیں. آپ اسے لاکھ کہہ لیں کہ کوا سائنسی و غیر سائنسی لحاظ سے نقصاندہ ہے تو بھی وہ کہے گا کہ تم ‘ایکسٹریمسٹس’ کوے کے متعلق تنگ نظری کا شکار ہو 🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. ابن سعید کہتے ہیں

    بات اور موضوع تو جانے پہچانے اور عام ترین ہیں بس اس تحریر میں قابل ذکر بات انداز تحریر ہے جس کے لئے داد قبول فرمائیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. محمداسد کہتے ہیں

    @ جعفر
    ہا ہا ہا 😀
    نہیں جعفر آپ بے فکر رہیں. میرا ارادہ قطعاَ آپ کے چوہدرانہ اسٹائل کی رٹ کو چیلنج کرنے کا نہیں. پیروڈی میں جو ملکہ آپ کو حاصل ہے اسے اپنانا یا چرانا کوئی آسان بات نہیں. (جوابی تعریف :mrgreen: )
    بلاگ لکھنا میں ایک ذمہ داری سمجھتا ہوں. یہاں جو کچھ لکھا جاتا ہے میں کلی طور پر اس کا ذمہ دار ہوں. اگر کوئی غلط بات لکھوں تو اس کا بھی اتنا ہی جوابدہ ہوں جتنا کہ کوئی درست چیز لکھنے کا. لہٰذا کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہاں ایسا لکھا جائے جس کا دفاع بھی کیا جاسکے. نا کہ ششکے کی بے سروپا چیزیں اٹھا کر بلاگ پر چپکا دی جائیں صرف اس لیے کہ بلاگ چلتا رہے اور نام بنتا رہے.

    @ Md
    بلاگ پر خوش آمدید اور تحریر کو پسند کرنے کا شکریہ

    @ یاسر عمران مرزا
    یاسر صاحب! مجھے بھی ایک ڈر لگ رہا ہے. وہ یہ کہ کہیں جعفر اس انداز تحریر کو جملہ حقوق کی خلاف ورزی قرار نہ دے دیں. یا پھر اسے اپنے زنبیل سے غائب ہونے والی تحریر قرار دے کر اس کی ملکیت کا دعویٰ نہ کردیں 😆

    @ ابوشامل
    وہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
    ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
    بس کچھ اسی طرح کی صورتحال ہے کہ جہاں ہر کام میں شارٹ کٹ چل رہا ہو. وہاں ‘ادھر’ کے لئے بھی کچھ ایسے ہی مشورہ مل سکتے ہیں.
    ٹی وی چینل میں تو چلیں اینکر کو فیس ہی ‘ہاٹ ڈائیلاگ’ کی ملتی ہے. لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ بلاگنگ کے متعلق لوگ اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں کہ بلا تحقیق اور دلیل ایک ایسی بحث شروع کر دیں جس کی سرے سے کوئی تُک ہی نہیں بنتی.
    آخر میں حوصلہ افزائی اور دعاوں کا شکریہ بزرگوار 😉

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. محمداسد کہتے ہیں

    @ پھپھے کٹنی
    اچھا لکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ فضول موضوعات پر اپنے قابلیت کو ضایع کیا جائے. ویسے تو یہ لکھنے والوں پر منحصر ہے لیکن اچھا لکھنے والوں کو زیادہ سنبھل کر لکھنا چاہیے کہ ان کے قلم اور تحریر میں تاثیر ہونے کی وجہ سے لوگوں میں کوئی غلط چیز نہ سرائیت کر جائے.

    @ محمد احمد
    میرا بھی یہی خیال ہے کہ اکثر “مصنفین” اسی لیے جان بوجھ کر ‘کروشل ٹاپکس’ کا انتخاب کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے لوگوں کی جذباتیت بیدار ہو۔ یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ ہر ذی شعور شخص اپنی بے عزتی پر تلملاتا ہے، اس لئے اس ترکیب کو بھی ایک موثر ہتھیار کے طور پر کئی بار استعمال ہوتے دیکھا ہے.

    @ افتخار اجمل بھوپال
    میں ایک کو دو کے ہمسائے میں رکھ کر پڑھنا چاہوں گا. کیونکہ مجھے اتالیقوں کے شاگردوں کی تعداد بڑھتی ہوئے محسوس ہورہی ہے 😐 .

    @ جاویداقبال
    شکریہ جاوید اقبال. تو پھر بتائیے کیا ارادے ہیں آپ کے؟ اس پر کچھ عمل بھی کرنا ہے یا صرف تعریف ہی . . . 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. محمداسد کہتے ہیں

    @ ابن سعید
    عام ترین موضوعات پر مبنی اس عام سے بلاگ پر خوش آمدید.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. وقاراعظم کہتے ہیں

    ہاہاہا….. واہ بھئی زبردست، آپ ایک خاص ذہنیت کی خوب عکاسی کی ہے. ویسے میں بھی آج کل کوئی وڈیو یا پمفلٹ ڈھونڈھ رہا ہوں کیونکہ اچھا لکھنا تو اپنے بس کا نہیں
    😉

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.