بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے!

5

عرصہ 7 ماہ اور 9 دن بعد کوئی تحریر اس بلاگ پر شائع ہونے جا رہی ہے۔ اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج میں بلاگ شائع کرنے کا تہیہ کر کے لکھنے بیٹھا ہوں۔ دفتر سے گھر کی طرف سفر کے دوران خیال آیا کہ بلاگ لکھے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ خود سے پوچھا کیوں؟ تو جواب میں صرف دو ہی وجوہات سامنے آئیں، پہلی مصروفیت اور دوسری فراغت۔

دیگر مصروف لوگوں کی طرح ہمیں بھی مصروفیت میں بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملتا کہ وہ کام زیادہ ضروری ہیں جس کے لیے آپ دفتر میں موجود ہیں یا جن سے دال روٹی کا بندوبست ہو سکے۔ اور جب فراغت ہوتی ہے تو اس میں بلاگ اس لیے نہیں لکھا جاتا کہ سامنے رکھے بجلی، گیس اور فون کے بل سر پر تلوار بن کر سر لٹک رہے ہوتے ہیں اور انہیں چکتانے کے چکر میں مزید کام یعنی مصروفیت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔

لیکن پھر سوچا کہ بلاگ لکھنے میں کون سے ہاتھی گھوڑے لگتے ہیں؟ بلاگ تو نام ہی بے لاگی کا ہے۔ اور الحمدللہ خدا نے آنکھ، کان اور ذہن سلامت رکھے ہیں تو کیوں نہ جو دیکھا، سنا اور سمجھا جائے، وہ لکھ بھی دیا جائے۔ بلاگ کی ہر تحریر کو بیک وقت اردو ادب اور صحافت کا طرہ امتیاز بنانے کے چکر میں پڑگئے تو یہاں مکڑیوں نے جالے ہی بنا لینے ہیں!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    میں تو زندہ ہی بلاگ کی وجہ سے ہوں ورنہ آپ کی طرح بِلوں کے چکر میں پڑا بستر سے لگا ہوتا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. سعید کہتے ہیں

    بلاگ کی ہر تحریر کو بیک وقت اردو ادب اور صحافت کا طرہ امتیاز بنانے کے چکر میں پڑگئے تو یہاں مکڑیوں نے جالے ہی بنا لینے ہیں!

    بالکل صحیح۔ مکمل اتفاق

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. Sarwat AJ کہتے ہیں

    یہ بھی خوب رہی . . بلاگ جس کو پہلے ہم ویب لاگ سے ماخوذ سمجھتے تھے. .اب اُس کی ایک نئی تشریح وجود میں آگئی….. 🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمد زبیرمرزا کہتے ہیں

    شاباش لکھتے رہیں – آپ اور حسان کی بدولت مجھے نیٹ پہ پڑھنے کی عادت پڑرہی ہے (اب تک یہ ہی دوبلاگ پڑھے ہیں)
    ایک دوست نے اصرار کیا اُن کابلاگ پڑھا کروں (ٹیکنالوجی پرمبنی) جو بقول اُن کے لوگ تکیہ لگا کےپڑھتے 🙂 میں نے کوشش کی توآنکھیں بوجھل ہونے لگیں تو تکیہ لگا کہ سوگیا اور پھر ان کے بلاگ کا رُخ نہیں کیا- میری دلچسپی سماجی موضوعات میں جو آپ کے بلاگ پہ موجود ہیں (اگرچہ کم ہیں)-

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.