سقوط ڈھاکہ اور ذرائع ابلاغ (۱)

سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا اتنا بڑا اور عظیم سانحہ ہے کہ جس کی ذمہ داری کسی خاص فرد یا شعبے سے وابستہ افراد پر ڈالنا قطعاً ممکن نہیں۔ عام طور پر مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا تمام تر ملبہ سیاستدانوں اور فوج کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اُس وقت کے پاکستان میں شامل صوبہ بنگال سے ہونے والی زیادتیوں میں مملکت خداد کے دیگر اداروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ انہی میں سے ایک ملک کا چوتھا اہم ترین ستون کہلانے والا میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا شعبہ بھی ہے کہ جس نے ایک نازک وقت میں ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے فرائض سے غفلت برتی اور عوام کے سامنے حالات و واقعات کی درست ترجمانی پیش کرنے کے بجائے تصویر کا محض ایک ہی رخ دکھانے پر اکتفا کیا جو بنیادی صحافتی اخلاقیات کے بھی بالکل خلاف ہے۔

قیام پاکستان کے بعد تقریباً ایک دہائی تک ذرائع ابلاغ بغیر کسی حکومتی دباؤ کے اپنے کام جاری رکھے ہوئے تھا۔ 1957ء تک ملک بھر میں اخبارات کے خلاف تقریباً 60 مقدمات درج تھے جس سے اخباری صحافت کو حاصل آزادی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 1958ء میں پاکستان کا پہلا مارشل لاء جنرل محمد ایوب خان کی سربراہی میں نافذ ہوا جس نے نہ صرف تمام شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی پاکستان میں پہلی بار مقتدر حلقے کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کی مثال اُس وقت مشرقی و مغربی پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کی جانب سے جاری ترقی پسند تحریک کے خلاف ایوب خان حکومت کے اقدامات سے حاصل کی جاسکتی ہے کہ جسے ان کی حکومت نے اپنی آمد کے مختصر عرصہ بعد زیر اثر کرلیا نیز 2 قومی خبر رساں ادارے اے پی پی (ایسوشیئٹڈ پریس آف پاکستان) اور پی پی آئی (پاکستان پریس انٹرنیشنل) کو بھی اپنے قبضہ میں کرلیا۔ مزید برآں بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو نشریات اداروں کو خبریں فراہم کرنے سے قبل حکومتی منظوری لازمی قرار دینے، اخبارات کو معاشی بحران کے بہانے حکومتی تحویل میں لینے کے لیے نیشنل پریس ٹرسٹ کے قیام، 1961ء میں پریس قوانین اور پھر 1963ء میں ان قوانین پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت بنانا وہ تمام اقدامات تھے کہ جس کا مقصد آمرانہ حکومت کے جابرانہ اقدامات سے عوام کو بے خبر رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو دبانا تھا۔

اس وقت اخبارات کا بنیادی موضوع سیاست ہوا کرتا تھا، جس پر حکومت کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد بڑی واضح تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ بیانیہ خبروں کو ان کی شخصیات کی مناسبت سے ترجیح دیئے جانے کا آغاز ہوا جس کے باعث اصل خبر کہیں گم ہوگئی اور اس کی جگہ دعووں اور وعدوں نے لے لی۔ حکومت کی ان تمام سختیوں اور پابندیوں کے باوجود 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ملک کے تمام ذرائع ابلاغ نے ہر سطح پر حکومت اور فوج کا ساتھ دیا اور جنگ کے اختتام پر عوام کے سامنے اسے ایک بڑی فتح بنا کر پیش کیا۔ لیکن جنوری 1966ء میں ہونے والے معاہدہ تاشقند پر دستخط نے فتح کی اس خوشی کو ہار کے غمگین احساس میں تبدیل کردیا جس نے آگے جا کر غصہ کی شکل اختیار کرلی اور حکومت کے خلاف پہلی بار منظم عوامی تحریک کا آغاز ہوا۔

ذرائع ابلاغ جو کہ عوام کے احساسات کا حقیقی ترجمان سمجھا جاتا ہے کو ایوب خان حکومت کی جانب سے انتہائی سخت پابندیوں کے باعث حکومت اور عوام کے درمیان سوچ کا فاصلہ بڑھتا گیا۔ ایوب خان کی حکومت عوام کے احساسات کو سمجھنے سے محروم رہی تو دوسری جانب حکومت اپنے موقف کے اظہار میں بھی ناکام رہی۔ لہٰذا فوجی حکومت نے اپنی روایتی سختی برتتے ہوئے عوامی تحریک کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا لیکن اس نے عوامی غصہ میں کمی لانے کے بجائے انہین مزید مشتعل کردیا جس کے باعث تحریک میں مزید شدت آگئی۔ اور یوں مارچ 1969ء میں ایوب خان اقتدار جنرل یحی خان کے سپرد کر کے مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

جنرل یحیی خان نےاولاً معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے ان کے تمام مطالبات ماننے کا فیصلہ کیا۔ اور یوں براہ راست الیکشن اور پارلیمانی نظام، تجارتی و طلبہ تنظیموں کی بحالی کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو بھی پابندیوں سے خلاصی نصیب ہوئی۔ یحیی خان کی حکومت نے مئی 1969ء میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا جس کی تاریخ دسمبر 1970ء رکھی گئی۔ اس اعلان کے بعد سے ملک کی تمام 63 سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ اس اہم موقع پر ذرائع ابلاغ نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا اور ان بیانات کو اخبارات میں زیادہ واضح انداز سے چھاپہ جانے لگا کہ جس میں سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔ اس وقت کے اخبارات نے صحافتی اصولوں کو ایک طرف ڈال کر افواہوں، اندیشوں اور پیشن گوئیوں کو بھی خبروں کی صورت دے دی جس نے عوام میں کئی طرح کی غلط فہمیوں کو جنم دیا۔

یحیی حکومت نے پریس و پبلیکیشن آرڈیننس (پی پی او) کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے باعث اخبارات کی ایک نئی پود سامنے آئی جس میں وہ اخبارات بھی شامل تھے کہ جن پر ماضی میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ان میں سے اکثر اخبارات نے انتہائی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص سیاسی شخصیات کی مدد اور حمایت کرنا شروع کردی۔ مشرقی و مغربی پاکستان کی عام بول چال زبانوں میں فرق ہونے کے باعث اخبارات کا ایک مخصوص گروہ مشرقی پاکستان تک محدود ہوگیا تو دوسری جانب مغربی پاکستان سے شائع ہونے والے اخبارات نے بھی یہی رخ اختیار کیا اور یوں ذرائع ابلاغ میں بھی ایک واضح تقسیم نظر آنے لگی۔

الیکشن سے قبل حکومتی ماتحت ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ نے کھل کر دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے آئندہ الیکشن میں ان کی آسان اور واضح کامیابی کی نوید سنائی۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی جس نے عوام کے ذہنوں پر بہت منفی نقوش چھوڑے۔ حکومتی اخبارات کے یک طرفہ موقف کی ترجمانی کے باعث اگست 1969ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 'مساوات' کے نام سے اخبار جاری کیا جس کا مقصد پارٹی کا موقف عوام تک پہنچانا تھا۔ جبکہ انہی مقاصد کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے دو اخبارات 'کوہستان' اور 'جسارت' کا اجراء 1970ء میں کیا گیا۔ اس صورتحال میں مغربی پاکستان کے صرف ایک اخبار 'آزاد' نےغیرجانبداری سے حالات کی درست ترجمانی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں پاکستانی پیپلز پارٹی اور مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی جیت کا خیال ظاہر کیا جو بعد میں بالکل درست ثابت ہوا۔ لیکن مجموعی طور پر ذرائع ابلاغ نے جانبدارانہ اور یک طرفہ سوچ اپناتے ہوئے ملک کی مجموعی صورتحال کو نظر انداز کردیا اور اکثر اخبارات مخصوص جماعتوں کی طرفداری کرتے ہوئے مستقبل کی غلط منظر کشی کرتے رہے۔

(اس بلاگ کا اگلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. اچھی تحریر ہے .
    جہاں تک کوہستان اخبار کا تعلق ہے .وہ نسیم حجازی نے نکالا تھا. اور یہ جماعت اسلامی کا ترجمان اخبار ہر گزنہیں تھا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. صحافت کو جانبداری سے پاک ہونا چاہیئے جو سچ ہے صرف اسے ہی چھاپنا چاہیئے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. @ دانیال دانش
    بلاگ پر خوش آمدید اور تصحیح کے لیے بہت بہت شکریہ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. راشد حسین says:

    ڈھاکہ میں نے بھی ڈوبتے دیکھا ہے۔ اس دن وہ ڈھاکہ مرگیا جہاں میں نے جنم لیا تھا، جہاں میں نے کرکٹ کے پہلے اور شاید آخری سبق لیے تھے کہ اسکے بعد کبھی کرکٹ کی فرصت ہی نہ ملی۔ اس دن میرا بچپن ایسا گیا کے پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا اور زندگی بدل گئی۔ میرا شہر مجھ سے روٹھ گیا تھا اور ایسا روٹھا کہ میرا دشمن ٹھہرایا گیا۔
    میں اسوقت سیکنڈ کیپیٹل اسکول میں ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ دسمبر میں امتحانات ہونے والے تھے سو اسکی تیاری بھی تھی۔ امتحانات کے بعد مجھے انعام بھی ملنے والا تھا اور میرے استاد کاظمی صاحب نے مجھے ملنے والی کتاب دکھائی بھی تھی۔ ابھی مجھے کتاب ملنے بھی نہ پائی تھیی کہ جنگ چھڑ گئی۔

    جس دن جنگ چھڑی اس دن صدر یحییٰ خان کی تقریر کے دوران ہی مجھے دکان دوڑایا گیا تاکہ میں اپنے چھوٹے بھائی کیلیے دودھ کے ڈبے لاسکوں۔ جنگ چھڑنے سے کچھ پہلے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ پر جنرل نیازی کو یہ پڑھتے سنا تھا

    ان سرحدوں کی جانب کبھی نظر اٹھا کر نہ دیکھنا
    کہ یاں سنتری کھڑے ہیں
    یاں بدر کا ہے عالم
    یاں حیدری کھڑے ہیں

    بعد ازاں میں عرصہ تک ان حیدریوں کو تلاشتا رہا پر کہیں نہ ملے۔
    🙄 🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. راشد حسین says:

    بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔
    بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔
    بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔

    اس ضمن میں انہوں نے اس وقت ڈھاکہ میں تعینات میجر جنرل محمد حسین انصاری کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں پر نالاں تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمیں ہر عورت سے ہونے والے زنا بالجبر اور ہر قتل کا حساب دینا پڑے گا۔

    اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی کے بارے میں صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جوانوں کے غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا کل رات تیرا اسکور کتنا رہا۔‘ یہاں اسکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد سے ہوتی تھی۔

    بریگیڈیئر صدیقی لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی فوجیوں کی عورتوں کو بےحرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے ، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جاکر کرے۔‘
    😯 😯

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 15 December 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com and Muhammad Asad, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: سقوط ڈھاکہ اور ذرائع ابلاغ (۱) http://nblo.gs/bQbPW [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *