سقوط ڈھاکہ اور ذرائع ابلاغ (۲)

(گزشتہ سے پیوستہ)

ذرائع ابلاغ کا کام نہ صرف عوام کو حالات و واقعات سے باخر رکھنا ہوتا ہے بلکہ انہیں درست راستے کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن جنرل محمد ایوب خان کے آمرانہ دور میں کٹھن حالات گزارنے کے بعد ملنے والی آزادی نے ذرائع ابلاغ کو ان دونوں ہی اہم فرائض سے غافل کردیا۔ اور یوں جنرل یحیی خان کی جانب سے ملنے والی چھوٹ کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ نے سیاست دانوں کی جذباتی باتوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے لوگوں کو ملکی صورتحال کی بابت گمراہ کرنا شروع کردیا۔ اگر 1970ء کے اخبارات غیر جانبدارانہ طور پر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتے، مشرقی و مغربی پاکستان کے باسیوں کو ایک دوسرے کے جذبات، مطالبات اور ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے تو امید کی جاسکتی تھی کہ فوج اور سیاسی جماعتیں عوامی دباؤ کے باعث وہ کام انجام نہ دیتیں جو ملک کی تقسیم کا باعث بنے۔

1970ء کے انتخابات سے یہ بات واضح ہوگئی کے مغربی و مشرقی پاکستان کے درمیان ایک وسیع سیاسی خلا موجود ہے۔ ذرائع ابلاغ کی توقع کے برخلاف مغربی حصہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کی مستحکم پوزیشن حاصل کرلی۔ پیپلز پارٹی (یا شاید مشرقی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں) کو یہ بات گوارا نہ ہوئی اور انہوں نے جنرل یحیی خان کی جانب سے 3 مارچ 1971ء کو بلائے گئے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ جس پر عوامی لیگ نے بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے 7 مارچ 1971ء کو عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کردیا۔ جس پر آمرانہ حکومت نے ایک بار بھر اس تحریک کو طاقت کے زور سے دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کی سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگادیا۔

ان نازک مراحل میں ذرائع ابلاغ کی یہ ذمہ داری تھی کہ عوام کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے، سیاسی قوتوں پر اکثریتی رائے کو تسلیم کرنے اور ملکی مفاد میں مل کر کردار ادا کرنے پر زور دیتے اور فوج کو جنگ کے ممکنہ خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے۔ لیکن اخبارات کی بڑی اکثریت حکومتی زبان اپناتے ہوئے "سب ٹھیک ہے" کا راگ الاپتی رہی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف جذباتی بیان بازیوں کو مزید فروغ دینے میں بھی کردار ادا کرتی رہی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار 'روزنامہ آزاد' کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کو 15 مارچ 1971ء کی اشاعت میں "اِدھر ہم، اُدھر تم" کی 'پنچ لائن' کے ساتھ شائع کردیا جس نے صحافت میں ایک مثال قائم کردی۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ صحافت کا یہ خراب معیار صرف مغربی پاکستان ہی تک محدود تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مملک کے دونوں حصوں میں ہونے والی صحافت انتہائی دگرگوں حالت کا شکار تھی۔ جو چند اخبارات مشرقی و مغربی حصوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے تھے ان کے سامنے زبان کے فرق نے بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کردی۔ مشرقی پاکستان کے افراد اردو اخبارات اور مغربی پاکستان کی اکثریت بنگالی اخبارات نہ پڑھ سکنے کے باعث ایک دوسرے کے جذبات سے آگاہ نہ ہوسکے۔ انگریزی اخبارات مثلاً ڈھاکہ سے شائع ہونے والے پاکستان آپزرور اور مارننگ نیوز کے علاوہ کراچی سے جاری ہونے والے ڈان اور پاکستان ٹائمز بھی بہت مشہور تھے لیکن انگریزی جاننے والوں کی قلیل تعداد ہونے کے باعث کوئی جامع کردار ادا کرنے سے قاصر تھے۔

زبان کے مسئلہ میں مغربی پاکستان کے اخبارات نے انتہائی افسوسناک کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت صوبہ بنگال پاکستان کی مجموعی آبادی کا 56 فیصد تھا جن کا مطالبہ بنگالی کو قومی زبان بنانے کا تھا۔ لیکن لسانی و قومی تفریق کی وباء سے بچنے کے لیے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا جس پر مشرقی پاکستان کے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اخبارات کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو اول تو کوئی اہمیت ہی نہ دی اور جب 7 سال بعد بنگالی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا تو اردو مخالف افراد کو ملک کا باغی قرار دیا جانے لگا۔ حالانکہ بنگالی کو اردو کے مقابلے میں تاریخی و عددی اعتبار سے سبقت حاصل تھی اور یہ معاملہ کسی طور ملک سے بغاوت کا نہیں بنتا تھا۔

25 مارچ 1971ء کو شروع ہونے والے آپریشن سرچ لائٹ نے تمام معاملات کو فوجی قیادت کے جنگجوانہ ذہنیت کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔ ملک کے دیگر تین اہم ستونوں سیاست، عدالت اور صحافت کی غفلت کے باعث پاکستان مخالف سازشیں ایک کے بعد ایک کر کے کامیاب ہوتی چلی گئیں۔ 15 دسمبر 1971ء تک سرکاری ذرائع ابلاغ سمیت دیگر اخباری ذرائع بھی پاکستانی افواج کی فتح اور باغیوں کی شکست کی نوید سناتے رہے اور غیر ملکی میڈیا کو دشمنان پاکستان قرار دیتے رہے۔ لیکن 16 دسمبر 1971ء کے دن نے ہر اس فرد کا دل چیر کر رکھ دیا کہ جو پاکستان کے لیے محبت کا تھوڑا سا بھی جذبہ رکھتا تھا۔

آج جبکہ میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے تو اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ بڑھ چکی ہوچکی ہے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو دکھانے اور ان سے سبق حاصل کرنے کا درس دینے کے ساتھ خود بھی اپنے کردار پر غور کرے۔ آج کی صحافت صرف اخبارات تک محدود نہیں رہی۔ بڑی تعداد میں موجود ریڈیو چینلز، ٹیلی ویژن چینلز اور انٹرنیٹ بلاگز و سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے باعث جہاں معلومات کی تیز ترسیل آسان ہوئی وہیں محبت کے پھول اگانے اور نفرت کے کانٹے بچھانے میں بھی بہت آسانی میسر آگئی۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام محب وطن شہری اور صحافت سے جڑے افراد اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ملکی مفاد میں کردار ادا کریں اور لسانی بنیادوں پر ملک کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوششوں سے اجتناب کریں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے
UncleTom says:

معلوماتی پوسٹ پڑھ کر کافی علم حاصل ہوا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ہر چند کہ موقع اور وقت گزر چکا ہے لیکن یہ تحریر مجحے ایسی محسوس ہو رہی ہے جو آپ جیسے خوبصورت جذبات سے میل کھاتی ہےhttp://www.thenewstribe.co.uk/beta/urdu/?p=965

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

عبداللہ صاحب
اُس وقت تو ايک ہی جاگيردار منظر پر تھا "ذوالفقار علی بھٹو"۔ نہ يحیٰ خان جاگير دار تھا نہ کوئی اور جرنيل
ليکن آپ کے پير تو ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کے اتحادی ہيں

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عبداللہ says:

پاکیستان کے جاگیردار سیاست دانون کی جاگیردارانہ ذہنیت کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

سقوطِ ڈھاکہ کے مجرم ہيں اُس وقت کے جرنيل اور ذوالفقار علی بھٹو
مجيب الرحمٰن تو قابلِ اعتماد کبھی بھی نہ تھا ۔ جس پارٹی کا وہ رُکن تھا اُس کے صدر "حسين شہيد سہروردی" بھی اسے قريب نہيں آنے ديتے تھے
ايک بہت اہم کردار ہے جسے اس وقت کے فيصلہ سازوں نے مکمل طور پر دُور رکھا ۔ يہ واحد شخص تھا جو اليکشن سے پہلے اور بعد مجيب الرحمٰن کا مقابلہ کر سکتا تھا "عبدالحميد خان بھاشانی" ۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب