تعصب کا سانچہ (جھلکیاں)

28

بھائیو، بہنو، بزرگو اور دوستو! السلام علیکم اور جشن آزادی مبارک۔ سلام کے بعد عرض ہے کہ میں آپ کی خدمت میں ایک سانچہ لے کر حاضر ہوا ہوں جس کا نام ہے ‘تعصب کا سانچہ’۔

ساتھیو! اگر آپ آچکے ہیں تنگ اپنے اوپر ہونے والی جائز و ناجائز تنقید سے یا آپ اس ملک کی لسانی تفریق میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں یا اگر آپ اس یوم آزادی پر اپنی قوم کے لازوال عنايتات گنوانا چاہتے ہیں اور دوسری اقوام کے نقصانات بلاگ بند کرنا چاہتے ہیں یا آپ اپنے آباو اجداد کے قصیدے پڑھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی مٹی پلید کرنا چاہتے ہیں تو یہ سانچہ آپ کے بہت کام آئے گا۔ جس کا نام ہے ‘تعصب کا سانچہ’ ۔ ۔ ۔ ‘تعصب کا سانچہ’ ۔ ۔ ۔ ‘تعصب کا سانچہ’ ۔ ۔ ۔

پیارے پیارے میٹھے میٹھے بھائیو! یہ سانچہ چائنہ میڈ بالکل نہیں۔ بلکہ اس میں ہمارے بلاگستان کے نامور بلاگران کی انتھک اور مسلسل محنت شامل ہے۔ یہ سانچہ استعمال میں انتہائی آسان ہے۔ آپ چاہے جہاں کہیں رہتے ہوں اور جو بھی زبان بولتے ہوں بس سانچہ میں موجود (اپنی پارٹی) اور (مخالف پارٹی) کی جگہ اپنے مرضی و منشاء کے مطابق نام ‘فِل’ کر دیں اور باقی کا کام اس سانچہ پر چھوڑدیں۔ اس سانچہ کی چند جھلکیاں بطور ٹرائی آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:

مجھے شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ (اپنی پارٹی) کی صرف مخالفت نہیں کی جاتی بلکہ اس کے خلاف ایک عجیب طرح کا بغض پایا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ملک میں امن کی راہ میں یہ بغض اور یہ تعصب ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کسی کو اس بات پر تشویش نہیں کہ جنوبی پنجاب سے آنے والے دہشت گرد (مخالف پارٹی) یونٹ آفسوں سے گرفتار ہورہے ہیں۔

بات یه ہے جی که (اپنی پارٹی) کو ہٹا کر باقی کی ساری پارٹیاں تو پارٹیاں هیں که ان پر پاکستانی قوم کی نمائیندگی کا لیبل ہی نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ اور جھوٹے سچے جیسے بھی هیں سب صرف صوبوں کی نمائیندگی کرتے هیں۔ مجھے یاد هے که اپنے لہجے کی وجه سے (مخالف پارٹی) کے لوگ کھ عجیب لگتے تھے بچپن میں لیکن اگر کوئی ان کو ان کی اوقات یاد دلاتا تھا تو یه لوگ اس بات کا برا مناتے تھے اس لیے اجسارے پاکستانی هیں اور ان کی اولادیں بھی پاکستانی هیں۔

(اپنی پارٹی) کی نمائیندگی اب کراچی سے کشمیر تک ھے۔ یہ پڑھے لکھے با شعور لوگوں کی جماعت ھے جو ظلم کو ظلم کہنا جانتے ھیں (مخالف پارٹی) جیسے بزدل اور غلامانہ ذہنیت کے لوگ نہیں ھیں جنہیں کھانے پکانے، کپڑے پہننے اور بات کرنے کی تمیز تو آج تک نہیں آسکی۔ دنیا جانتی ھے کے جوا، شراب نوشی، برہنہ مجرے، چرس نوشی، بسنت کے نام پر کھلے عام عیاشی (مخالف پارٹی) کا کلچر ھے۔

تو میرے (مخالف پارٹی) قوم کے فرد جب آپ کے اجداد درختوں میں اُلٹا لٹک کر رات بسر کیا کرتے تھے، اس وقت (اپنی پارٹی) کے ہاں کئی تہذبیں جنم لے چکی تھیں۔ ہمارے ہاں شہر بسائے جا رہے تھےاور آپ کے اجداد لکھنے سے بھی قاصر تھے۔ جن کو آپ مشورہ نما طعنہ دے رہے ہیں، وہ سب تو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئے تھے، آپ یا آپ کے اجداد نے ان پر کونسا احسان عظیم کیا ہے؟

(مخالف پارٹی) کے لوگ رہتے تو یہیں ہیں۔ لیکن ذرا اس شہر میں ہونے والے مسائل کے لئے انکی کوششوں کو دیکھیئے تو محض تعصب اور کچھ نہیں۔ ان کی آبادیاں اس شہر کی غلیظ آبادیوں میں آتی ہیں اور ہمارے دیگر (دوسری مخالف پارٹی) کے بھائی انکی تربیت کرنے کے بجائے انکے اس عمل پہ انکی پیٹھ ٹھونکتے رہتے ہیں۔ (مخالف پارٹی) کی جتنی آبادی جہاں کہیں موجود ہے اس میں سے نوے فی صد زمین غیر قانونی قابضین کی ہے۔

اس سانچے کو استعمال کرنے والے پہلے دس خوش نصیبوں کو کمپنی کی طرف سے ملے گا ایک عدد ‘خدا کا بندہ’ جو درجنوں کے حساب سے تبصرہ کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ملیں گے پانچ عدد جعلی تبصرہ نگار بھی جو دوسروں کے نام سے تبصرہ کر کے آپ کے موقف کو پہنچائیں گے لازوال طاقت۔ اور یوں لگ جائیں آپ کے بلاگ کو چار چودھویں کے چاند۔

جس بھائی یا بہن کو تعصب کا سانچہ چاہیے ہو نام لے کر مانگ لیں، شرم نا کریں۔ پیکیٹ کے پیچھے بھی ایک نمبر چھپا ہے جس پر کال کر کے گھر بیٹھے اس سانچہ کو مفت منگوایا جاسکتا ہے۔ تو پھر آج ہی طلب کریں اور چھاپ دیں اپنے بلاگ پر شیطان کا نام لے کر۔ جسے رہتی دنیا تک زندگی کی مہلت حاصل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

28 تبصرے

  1. شعیب صفدر کہتے ہیں

    بہت عمدہ!! جناب یہ سانچہ تو نہایت ہی اچھا تیار ہو گیا ہے.
    یہ کتنی زبانوں میں دستیاب ہو گا؟؟ اور کیا مستقل بنیادوں پر اس میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں گی ؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. ابن سعید کہتے ہیں

    کیا لا جواب پیشکش ہے پیارے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. سعد کہتے ہیں

    ایک عدد سانچہ مجھے بھیج دیں۔ میں بھی مخالف پارٹی سے بہت تنگ ہوں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    اپنی باری پہ تو آپ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ تو کوا حلال چینل کا ہے. یار لوگ اس وقت بھی آپکی پیٹھ اسی طرح آکر ٹھونکتے ہیں
    اس میں ایک نکتہ آپ بھول گئے کہ جب آپکی پارٹی نہ ہو اس کھڑاگ میں تو آپ کریں وہ جو میں کر رہا ہوں. اسکا سانچہ بھی پلیز ضرور بتا دیں. تاکہ فارغ وقت میں اسپہ ہاتھ صاف کیا جائے.
    ابھی وہ سارے لوگ جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں یہاں آکر کہیں گے ہم تو وضو کر رہے تھے قسم سے تماشہ تو کسی اور کا تھا. میں نے سوچا میں جلدی سے اپنا تبصرہ ڈالدوں، کبھی تو ہری جھنڈی کا کام کرتا ہے اور کبھی فل اسٹاپ. آج دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ڈفر - DuFFeR کہتے ہیں

    جی او شیرا
    پر مرغے کی ٹانگ ایک ہی رہنی ہے
    میں نہ مانوں، بھینس کے تھن تو پانچ ہی ہوتے ہیں بس
    اور اب شاہوں کی بکریوں کا ذکر تو خودکش حملے کے مترادف ہو جائے گا اس لیے 😐 ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. احمد عرفان شفقت کہتے ہیں

    یہ بائیں کو نیچے جھنڈا خوب ہے جی
    😀
    کیسے لگایا ہے جناب یہ؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد کہتے ہیں

    @ شعیب صفدر
    بس جی یہ تو ہمارے سینئرز کی کاوش ہے. ہم نے تو بس ان کے کلام کو فساد عامہ کی خاطر مجموعہ کی شکل دینے کی کوشش کی ہے. سانچہ کی کامیابی کی صورت میں اس کا مکمل ورژن بمعہ سروس پیک اور زبان پیک بھی شائع کیا جاسکتا ہے.

    @ سعد
    آپ اپنے مخالف کی تفصیلات کمپنی کو ارسال کردیں. اسے دیکھتے ہوئے آپ کو سانچہ کی مکمل کاپی ارسال کردی جائے گی. مخالف کل وقتی ہونے کی صورت میں اسپیشل ایڈیشن بھی ترتیب دیا جاسکتا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. خورشیدآزاد کہتے ہیں

    بحیثیت ایک پاکستانی کے یقین کریں میں جب بھی تعصب پر مبنی تحریر پڑھتا ہوں تو اندر ہی اندر کڑتا ہوں کہ فیس بک اور اردو بلاگ پر کیوں اس کےخلاف آواز بلند نہیں ہوتی….. حال ہی میں ہماری اردو ویب پر ایک تحریر نظر سے گزری جس میں اسی تعصب کے سانچے کا بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا تھا اور انتہائی دیدہ دلیری سے اس کی پرچار بھی کی جارہی تھی….. آپ کی تحریر ایک جہاد ہے اور خداراہ اس کو جاری رکھیئے گا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. محمداسد کہتے ہیں

    @ عنیقہ ناز
    کیا یہ واقعی آپ کا تبصرہ ہے؟ لگ تو عبداللہ کا رہا ہے.
    خیر، کوا اور کاغذ تو معلوم نہیں کس چینل اور زمانہ کا تھا البتہ بغض و عناد کا درس تو موجودہ دور میں باآسانی دستیاب ہے. بھانت بھانت کی بولیاں مختلف ٹولیوں میں جاری ہیں. مولویوں کے کفریانہ فتووں سے تنگ پڑھے لکھے لوگ اب خود پکڑ پکڑ کر لوگوں کو غیر پاکستانی قرار دے رہے ہیں. ایسے میں ان کی پارٹی کو منافق کہا جائے یا کچھ اور یہ کمپنی کے عہدیداران پر چھوڑتے ہیں.

    بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے تو بعد میں آئیں گے پہلے تو اس گنگنا کو بہانے والے آموجود ہوئے ہیں جن کا میں صدق دل سے شکر گزار ہوں. اسے سے سانچہ کی مشہوری میں کافی تقویت ملے گی. لگے ہاتھوں میری پارٹی بھی بتادیجیے تاکہ اگلا سانچہ کی تیاری شروع کی جائے. نہیں پتا تو فل اسٹاپ لگا لیجیے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد کہتے ہیں

    @ ابن سعید
    شک ۔ ۔ ۔ شک ۔ ۔ ۔ شکریہ

    @ ڈفر – DuFFeR
    مرغے اور بھینس پر بھی ایک طویل بحث کی جاسکتی ہے اگر ان کی قومیت پتا چل سکے۔ ممکن ہے مرغے کی ایک ٹانگ کسی (مخالف پارٹی) قوم کے بندہ نے چوری کی ہو۔ اور شاہوں کی بکریاں اگر خودکشن حملہ کررہی ہیں تو وہ یقینا وہی ہوں گی ۔ ۔ ۔ وہی!۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. عمران اشرف کہتے ہیں

    نہایت عمدہ سانچہ بنایا ہے.میں عموما ایسے سانچوں سے کنارہ کرتا ہوں، آپ یہ بتانا بھول گئے کے یہ سانچہ کسی کا بہی دل دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے. کسی کو کہیں بہی بےعزت کر سکتا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. محمداسد کہتے ہیں

    @ خورشیدآزاد
    بلاگ پر خوش آمدید. آپ کا تبصرہ spamمیں چلا گیا جس کی وجہ سے شائع ہونے میں قدرے وقت لگا. اس کی معذرت.

    بات اصل اپنوں ہی کی ہے. جب کوئی باہر کا شخص ہمارے خلاف پروپگنڈا کرتا ہے تو ہم اسے منہ توڑ جواب دیتے ہیں. لیکن جب کوئی آپ کا اپنا ساتھی، باشعور اور تعلیم یافتہ شخص جو لسانی و فرقہ وارانہ تقسیم کی برائیوں سے پوری طرح آگاہ بھی ہو وہ اس طرح کا کام کرے تو شدید افسوس ہوتا ہے. اس طرح کی حرکت کو ننھے بچہ کا کارنامہ کہہ کر درگزر نہیں کیا جاسکتا. سیر حاصل بحث صحت مند معاشرہ کی پہچان ہے، لیکن “انڈہ پہلے آیا یا مرغی” جیسی بحث کا نتیجہ کیا نکلنا ہے، وہ سب ہی جانتے ہیں.

    @ عمران اشرف
    کنارہ کنارہ ہی رہیے جناب۔ اگر اس کا اثر آپ پر پڑگیا تو پھر لگ پتا ہی جائے گا. دل دکھانے کی صلاحیت والی بات ضروری تھی، چلیے اب آپ نے لکھ دی سمجھیے میں نے شامل کرلی.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. نعمان کہتے ہیں

    میں باقی سب کی طرح آپ کی تعریف نہیں کرونگا۔

    نہ آپ کی تحریر کا مزاح عمدہ ہے نہ اس میں چاشنی اور اچھا طنز ہے۔ نیک مقصد ضرور لائق تحسین ہے مگر ایک تحریر کے طور پر اس میں کوئی خاص بات نہیں۔

    آپ کے اقتباسات کافی حد تک ایکدوسرے سے مختلف ہیں اور اگر آپ اس میں سے ایک پارٹی کا نام نکال کر دوسری کا لگادیں تو یہ کارآمد نہیں رہتا۔ یوں آپ کی تحریر کا یہ طنز کہ تمام تعصب کے عنوان کے تحت لکھی گئی تحریریں ایک جیسی
    لگتی ہیں۔ خام ہے۔

    ان فیکٹ ان میں سے چند پوسٹس جیسے جہانزیب کی پوسٹ میں باوجود اس کے کہ انتہائی دل آزار متعصبانہ تذکرے ہوئے وہیں کافی اچھے مباحث بھی ہیں جیسے یہ کہ اقبال نظریہ پاکستان کے خالق تھے یا نہیں۔ اور اردو پنجابی کی ترقی یافتہ شکل ہے کہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. یاسر خوامخواہ جاپانی کہتے ہیں

    اگر میں اپنی پسندیدہ پارٹی کا نام لکھ کر اس سانچے کو استعمال کر لوں تو؟ کیا حرجانہ دینا پڑے گا؟
    یا سزا کے طور پر عبد اللہ کو وصول کرنا پڑے گا؟
    :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. جعفر کہتے ہیں

    😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. محمداسد کہتے ہیں

    @ نعمان
    بلاگ پر آمد اور تبصرہ کا شکریہ.
    یہ تو اس سانچہ کے چنیدہ ٹکڑے ہیں جسے طویل محنت سے ترتیب دیا گیا. اسی لیے ان میں کوئی تعلق ہے نہ مطابقت۔ ہاں! مقصد تو سب کا ایک ہی ہے کہ میں بڑا اور وہ چھوٹا۔ اور ایسی تحاریر اصولوں کا بالائے طاق رکھ کر ہی لکھی جاسکتی ہیں. رہا میری تحریر کا سوال تو وہ ہے ہی بے کار اور فضول کہ اس سے تعصب اور متعصب پر ضرب آتی ہے.

    بہرحال! خصوصیات سے عاری تحریر پر تبصرہ کا ایک بار پھر شکریہ. آئندہ بہتر لکھنے کی کوشش رہے گی.

    @ یاسر خوامخواہ جاپانی
    آپ تو جاپان میں ہیں، لہٰذا اس کے بدلے آپ کو اور بھی بہت کچھ ہرجانہ دینا پڑے گا. اس لیے تھوڑا خیال سے استعمال کیجیے گا. کیونکہ نقصان کم ہونے کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں. ہاں! زیادہ نقصان کے ازالہ کا نظام موجود ہے 😆 .

    @ جعفر
    😯

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    اسد صاحب ، میں ے زیادہ نہیں تقریباً دو مہینے پہلے مودودی صاحب کے فرمودات کی ایک کاپی لگائ تھی تو اسکے رد عمل میں جو تحاریر لکھی گئیں وہیں مجھے آپکی طرف سے کوا حلال چینل کا تعارف حاصل ہوا۔ آئیڈیا اچھا تھا پسند آیا میں نے یاد رکھا۔ آپ بھول گئے۔ اب جیسا کہ مروجہ طریقہ ء کار ہے کہ آپ جس پارٹی کے خلاف چلنے والی مہم کے خلاف بولیں اسی کے کہلاتے ہیں تو اسی مروجہ طریقہ ءکار کے باعث میں آپکو مودودی صاحب کی جماعت یعنی جماعت اسلامی میں ڈالتی ہوں۔ اور میں اپنی اس تنقید کو بالکل جائز سمجھتی ہوں۔
    آپ نے اپنی اس تحریر میں دو رویوں کو ملا دیا ہے ایک یہ کہ سیاسی بنیادوں پہ ہونے والی جانبداریت اور اس پہ بحث اور دوسرے اپنی ثقافت کو برتر ثابت کرنا۔ میری ایسی کوئ تحریر نہیں جس میں ، میں نے کبھی اپنی نسل یا زبان پہ فخر کیا ہو۔ یا میں نے یہ کہا ہو کہ ہم مہاجر کتنی اعلی چیز ہیں۔
    جہانزیب اور خاور صاحب کی اس طرح کی پوسٹس کی مذمت کر کے ہی آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ورنہ یہ صرف چند لوگوں کو مذاق مہیا کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔
    تبصرہ نگار اپنی رائے میں جو کچھ لکھیں، یہ صاحب بلاگ کی ذمہ داری نہیں۔ لیکن بلاگ لکھنے والے پہ اسکی تحاریر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لئے محض چند مبصرین کی وجہ سے جو بلاگنگ نہیں کرتے غیر ذمہ دارانہ تحاریر لکھنا کسی بلاگر کو کیا زیب دیتا ہے۔
    مجھے ایک صاحب آجکل باقاعدگی سے فحش گالیاں لکھ کر بھیجتے ہیں۔ جس میں وہ اپنے آپکو طالبان کا حامی اور پنجابیوں سے محبت کرنے والا ثابت کرتے ہیں تو کیا میں ایک اس جیسے ایک ذہنی مریض کی وجہ سے پنجاب کی بحیثیت ایک قوم تذلیل شروع کر دوں۔ میں اس سلسلے میں زیادہ پختگی کا ثبوت دیتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ وہ ایک ذہنی مریض ہے جو کسی خاتون کو ہراساں کرنا چاہتا ہے۔ اسکی وجہ سے میں نے ماڈریشن لگا دی ہے۔ لیکن میں نے اسکی وجہ سے اہل پنجاب کو گالیاں دیں نہ انکی ثقافت کو برا بھلا کہا۔
    آخر کچھ پنجاب کے بلاگرز تو مجھے خاصے پسند ہیں جیسے ریاض شاہد صاحب، اور یہ اپنا بیبا خرم شہزاد یہ بھی تو پنجاب سے ہی ہیں۔ تو کیا اس ذہنی مریض کی وجہ سے میں ایک پوری قوم کو جن میں یہ لوگ بھی شامل ہیں انکی تذلیل شروع کر دوں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. جہانزیب اشرف کہتے ہیں

    ایک تو جو میں نے لکھا وہی کچھ کم تکلیف دہ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے خوشی سے لکھا، اسی لئے ساتھ یہ وضاحت لکھنا ضروری سمجھا کہ تحریر سراسر تعصب پر مبنی ہے، یعنی کہ اس میں حقائق بیان نہیں کئے گئے صرف نشتر چلائے گئے ہیں . پھر لوگوں نے پڑھا بھی سر بھی دھنا اور اس میں تاریخ بیان کرنا شروع کر دی . میں خاور کی تحریر کی مذمت کرنے ہی پہنچا تھا مگر کسی نے مذمت کی آڑ میں اپنے دل کی غلاظت صاف کی تھی، یہ دکھانے کے لئے کہ دلوں کی غلاظت کیسے ذہنوں کو پراگندہ کرتی ہے ویسی ہی ایک غلیظ تحریر میں نے لکھی . چونکہ اس قبیل کی غلاظت کافی عرصہ سے ایک مخصوص بلاگ پر جاری تھی اور صاحبہ بلاگ کو کبھی وہ غلاظت محسوس نہیں ہوئی، اور عرصہ دراز تک مختلف لوگوں کے توجہ دلانے پر بھی انہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ غلاظت ذہنوں کو پراگندہ کیسے کرتی ہے، اب شائد انہیں ایسا سمجھانا نہ پڑے کیونکہ اب پہلی بار ان کو اپنے لئے وہ محسوس ہوئی ہے، جس کا وہ اگلے چھ ماہ اظہار کرتی رہیں گی اور جہاں جہانزیب اشرف کا نام آئے گا انہیں صرف وہی غلیظ تحریر یاد آئے گی جس کی بنیاد پر وہ جہانزیب اشرف پر وہ بہتان باندھتی رہیں گی اور صفائی دینا گوارہ نہیں کریں گی .
    خیر میں کہہ رہا تھا کہ اپنی غلیظ تحریر پر مجھے پہلے ہی کم شرمندگی نہ تھی اور جب یہاں اس میں سے اقتباس پڑھے تو تریر اور زیادہ گھٹیا لگی . سمجھانے کا اچھا انداز ہے . انشاللہ میری جانب سے پہلے بھی ایسا کچھ نہیں لکھا گیا نہ ہی آئندہ کسی قسم کا ارادہ ہے. صرف اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کے لئے وہ متعصبانہ تحریر آپ کو پڑھنے کو ملی . جس پر میں ایک دفعہ پھر معذرت خواہ ہوں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. محمداسد کہتے ہیں

    @ عنیقہ ناز
    محترمہ میں اتنا بدنصیب بلاگر نہیں جو اپنے لکھے کو ہی بھول جائے. نیز اس دقیانوسی مروجہ طریقہ کار کا استعمال او نتیجہ دونوں بالکل غلط ہیں. اور اگر آپ کے اس قول “جس پارٹی کے خلاف چلنے والی مہم کے خلاف بولیں اسی کے کہلاتے ہیں” کو درست مان لیں تو اس بارے میں فرمایئے گا کہ یہاں آپ تعصب پھیلانے کی کوشش کے خلاف تحریر کی مخالفت کررہی ہیں؟
    دو رویوں کو ملانے والی بات انہی مباحثوں سے اخذ کی گئی ہے جنہیں آپ سیاسی جانبداری کہنا چاہ رہی ہیں. یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی تو رہی نہیں کہ تنقید ایک سیاسی جماعت سے شروع ہوتی ہے تو لسانیت، قومیت یا مذہب پر جا کر ختم ہوتی ہے. اور اس قسم کی تنقید برائے تنقید کا کوئی نتیجہ نہ آج نکلا ہے نہ کل نکلے گا.
    آپ نے ضرور بالضرور اپنی قوم کی بڑائی بیان نہیں کی ہوگی، لیکن دوسری قوم کو نیچا دکھانے کی کوشش بذریعہ تبصرہ یہاں تو ضرور فرمائی ہے. جہانزیب اور خاور کی تحاریر ہی گر مسئلہ ہیں تو جواب دینے والوں نے ان کی غلط فہمیاں کم کرنے کے بجائے ان کی “اوقات” یاد دلانے کی کوشش کر کے بڑھائی ہی ہیں جو کہ کسی طور قابل تعریف نہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. محمداسد کہتے ہیں

    @ جہانزیب اشرف
    بلاعنوان بلاگ پر خوش آمدید.
    اپنا بلاگ شروع کرنے سے پہلے میں نے جن اچھے اردو بلاگرز کو پڑھا ان میں آپ بھی شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس تمام معاملہ میں سب سے زیادہ حیران کن عمل میری نظر میں آپ ہی کا تھا. لیکن اس سے کہیں زیادہ قابل مذمت وہ عمل ہے جس کے ردعمل میں اس طرح کی تحریریں لکھی جاتی ہیں.
    عام حالات میں شاید میں خود اردو بلاگرز کے متعلق اس طرح کی تحریر لکھنے کا سوچتا بھی نہیں لیکن ایم کیو ایم سے تعصب کا فضول سوال پھر اس کے عجیب جواب سے شروع ہونے والا سلسلہ نا جانے کہاں تک پہنچتا، اس لیے ضروری سمجھا کہ تعصب کی اس لڑی کو توڑا جائے. اب دیکھیے کون رکتا ہے اور کون نہیں رکتا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. راحت حسین کہتے ہیں

    اللہ کریم ہمٰیں نسلی اور صوبائی تعصب کی لعنت سے نجات دلائیں، پاکستان نہ تو کسی نے ہماری جھولی میں بطور بھیک ڈالا ہے اور نہ ہی تحفے میں ملا ہے… ہمٰیں ایک آزاد اور باوقار قوم بنانے کا خواب دیکھ کر اسکی تکمیل کے لئے ہمارے آباء و اجداد اپنی جانوں پہ کھیل گئے، اور ہم ابھی تک مہاجر، پنجابی اور پٹھان ہی کہلائے جانے (یا کہنے ) پر مصر ہیں…. (جی ہاں، یہ بظاہر گھسی پٹی اور سینکڑوں بار کی دہرائی ہوئی باتیں ہی ہیں، لیکن ہر بار کی طرح اس خیال سے بیان کر دیں کہ شاید اب کی بار کارگر ثابت ہو جائیں).

    دلآزار اور قوم پرست تبصرے پڑھ کر دل بہت دکھتا ہے، مندرجہ بالا لنک وزٹ کر کے ایک بار تو جی چاہا کہ آج سے خود کو بلوچ کہنا اور سمجھنا شروع کر دوں کہ شاید اس طرح وہ گالیاں کم تکلیف دہ محسوس ہوں جو اپنے ہی بھائی اور بہنیں سرعام دے رہے ہیں.

    گنواراور احمق “بندوں” کے بیہودہ تبصرے تو “جواب جاہلاں خاموشی است” کے مصداق انسان پی ہی جاتا ہے لیکن یہی کام جب تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے بھائی بہن کرتے ہیں تو ایک بار پھر عرض کروں گا بہت رنج ہوتا ہے. .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  22. عبداللہ کہتے ہیں

    چونکہ میرا ذکر بھی اس پوسٹ میں ہے تو میں اپنے بارے میں وضاحت ضروری سمجھتا ہوں!
    میں پچھلے کئی سال سے تبصرے کررہا ہوں،اور میں نے ہمیشہ یہ بتایا کہ میرا خاندان سندھی پنجابھی پٹھان اور اردو اسپیکنگ لوگوں پر مشتمل ہے اور محلہ بھی گونا گوں مسالک اور زبانوں کا مجموعہ ہے!(یہاں تک کہ وہاں قادیانی بھی موجود ہیں)
    مجھے ہمیشہ یہی سکھایا گیا کہ یہ سب چیزیں صرف پہچان کے لیئے ہین تفاخر کے لیئے نہیں!
    اور انسان صرف دو حصوں میں بٹے ہوتے ہیں اچھے انسان برے انسان ،سچے انسان جھوٹے انسان ،مہذ ب انسان بد تہذ یب انسان پڑھے لکھے انسان جاہل انسان،مجرم انسان اور جرائم سے نفرت کرنے والا انسان،اگر میرے دل میں کوئی تعصب ہے تو ایک برے ،بدتہذ یب ،جاہل(خصوصا جو جہالت کا مظاہرہ بھی کرے)اور مجرم انسان کے لیئے ہے!!!!
    میں سب زبانوں اور قوموں کی یکساں عزت کرتا ہوں اور ان سے یکساں محبت بھی کرتا ہوں،مجھے تو ہر انسان چاہے وہ مسلمان ہویا غیر مسلم پیارا لگتا ہے کہ وہ میرے اللہ کی تخلیق ہے!!!
    میرے آدھے سندھی اور آدھے اردو اسپیکنگ ہونے پر ایک جاہل اور بد تہذ یب شخص یاسر خوامخواہ نے جس طرح کا تبصرہ کیا ہے وہ بھی کچھ لوگوں کو نظر آنا چاہیئے مگر اس سے صرف نظر کیا گیا ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کے سینوں میں ٹھنڈک پہنچ رہی ہے جو میری لکھی سچائیوں کو ہضم نہیں کر پارہے تھے،
    جہانزیب اشرف کی پوسٹ پر یہ تبصرہ آج بھی موجود ہے!
    http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/#comments
    کیا تبصرہ نگاروں کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟یا یہاں بھی بلاگر اور تبصرہ نگار کا فرق ملحوظ رکھتے ہوئے تعصب برتا جائے گا؟؟؟؟
    اور اس پوسٹ سے میرے جو بھی تبصرے مٹائے گئے،وہ یہاں موجود ہیں جن میں ایسی کوئی ناگوار بات نہیں تھی صرف سچائی کی طرف ہی اشارہ کیا گیا تھا!
    http://anqasha.blogspot.com/2010/08/blog-post_11.html
    معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ جس طرح چاہیں دوسروں کو ذلیل کریں انہیں پورا حق حاصل ہے،لیکن دوسرے اگر ان کی کمیونٹی میں پھیلے ہوئے جرائم کی طرف اشارہ بھی کردیں تو یہ بھڑوں کے چھتے کی طرح اسے چمٹ جائیں گے،بھائی میں کیا اپنے پاس سے بات کرتا ہوں میں بھی تو میڈیا میں جو رپورٹ کیا جاتا ہے اسی حوالے سے بات کہتا ہوں!!!
    اگرمیڈیا غلط ہے تو اسے لگام دیں اور اگر اپنے اندرخرابیاں ہیں تو انہیں ایڈمٹ کرین جب مرض کو مانیں گے نہیں تو علاج کیسے کریں گے!
    بہت سے سن آف دی سوائل کو آج یہ صاف صاف بتا دوں کےمیرے والد پاکستان بننے سے پہلے سے کراچی میں رہائش پزیر تھے تو میں بھی سو کالڈ سن آف دی سوائل ہوا،مگر مجھے اس لفظ سے اتنی نفرت ہے کہ میں گالی دینا پسند نہ کرنے کے باوجود ایسے لوگوں کو جو خود کو سن آف دی سوائل کہہ کہہ کر فخر کرتے ہیں سن آف دی سوائن کہنا پسند کرتا ہوں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسری قوموں اور خصو صا مہاجروں پلس لیاقت علی خان سے نفرت کی گھٹی دے کر بڑے کئے گئے!
    اور ان کی نفرت لا محدود ہوتی ہے سوائے اپنی برادری کے یہ ہر دوسرے شخص سے نفرت کرتے ہیں یا اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں!!!
    مگرانہیں اپنی یہ خامی یا تو سجھائی نہیں دیتی یا یہ اسے سرے سے خامی سمجھتے ہی نہیں ہیں!
    اب ایسے لوگوں سے آپ کوئی صحتمندانہ بحث مباحثہ کر بھی نہیں سکتے کہ یہ فورا گالی گلوچ یا سامنے والے کی بے عزتی پر اتر آتے ہیں، اس کی تعلیم یا خاندان یا کمیونٹی کے حوالے سے اسے ذلیل کرنا شروع کردیتے ہیں !!!!
    مجھے ان لوگون نے کیا کیا نہیں کہا مینے ان کی باتوں کاجواب دیا مگر کوشش کی کہ حد سے باہر نہ نکلوں ،اور یہ میری ایک بات غلط ثابت نہیں کرسکے!!!
    اور ان لوگوں میں اکثریت ان کی ہے جو خود بمع اپنے خاندان کے پاکستان ہمیشہ کے لیئے چھوڑکر جا چکے ہیں یا اپنی اولادوں کو باہر سیٹل کروا چکے ہیں ،اور جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑتی ہے یہ دور دور نظر نہین آتے مگر پھر بھی یہ سن اف دی سوائل ہیں اور یہ ملک انہی عظیم لوگوں کے لیئے بنایا گیا تھا،باقی ہم جیسے بے وقوف جن کا جینا مرنا اسی ملک کے لیئے ہے ہماری نہ تو کوئی اوقات ہے اور نہ حیثیت!
    مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں کے متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جاگیردار گھرانے!
    رہی بے نام تبصروں کی بات تو میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ کہتا ہوں کہ یہ بے نام لوگ کون ہیں میں انہیں ہر گز نہیں جانتا، اور جو بھی گالم گلوچ کے جواب مین گالم گلوچ کرتا ہے وہ یا تو اردو بولنے والوں کا دشمن ہے یا نادان دوست!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  23. جہانزیب اشرف کہتے ہیں

    @ عبداللہآپ کے نام سے جو تبصرے خذف کئے گئے ہیں وہ ایمسٹرڈیم، ہالینڈ اور جنوبی کوریا کے آئی پی ایڈریس سے کئے گئے تھے . اور یہ تب ہوا جب میں نے تحریر کے تبصروں پر نظامت فعال کی تھی . اب یہ آپ کا فرض ہے کہ بتاتے پھریں کہ ایک شخص کے تبصرے جو منظور نہیں کئے گئے تھے وہ تین ممالک کی آئی پی بالکل ایک ہی جیسے کیسے ہوگئے؟ جبکہ اس وقت تک وہ شائع نہیں ہوئے . اور میری نظر میں ابھی تک کسی نے آپ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ بے نام اور دوسروں کے نام پر تبصرے کرنے والے آپ ہیں، چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق آپ اس بات کی صفائیاں اب خود ہی دینے لگ گئے ہیں، جس سے میرے شک کو تقویت پہنچتی ہےکہ یہ سب آپ کر رہے ہیں .
    ویسے دوسروں کو غیر ممالک میں بیٹھنے کا طعنہ دینے والے خود یہ طعنے ریاض سے بیٹھ کر کس حساب سے دیتے ہیں؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  24. عبداللہ کہتے ہیں

    جہانزیب اشرف ،اگر اللہ کو حاضر ناضر جان کر ایک بات کہنے کے باوجود آپ مجھے جھوٹا کہہ رہے ہیں تو مجھے بھی آپکو جھوٹا سمجھنے میں ایک رتی شبہ نہیں اب بات اپنے گلے میں آپڑی ہے تو اس طرح کے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں مگر اس طرح جناب اپنی رہی سہی عزت بھی گنوا دیں گے انشاءاللہ اور اپنے اس جھوٹ کا جناب کے پاس کیا ثبوت ہے؟؟؟پہلے ثبوت مہیا کریں پھر بات کریں!
    رہی چور کی داڑھی میں تنکے والی بات تو وہ بھی اللہ جلد ہی کھلوا دے گا کہ کون چور ہے اور کس کی داڑھی میں تنکا ہے میرا ائی پی ایڈریس ابوسعد کی اس پوسٹ پر فرحان نے دیا تھاا
    http://talkhaabau.wordpress.com/2010/08/04/%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%aa%da%be%d8%a7%d8%9f%d8%a7%db%8c%d9%85/#comments
    اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں جانتا اور اگر یہی بات تھی تو جب آپ مجھے اپنے بلاگ پر لعن طعن کررہے تھے تب ہی اس بات کو کیوں نہ اچھالا؟؟؟؟؟
    اور یہی آپکے جھوٹا ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے!
    باقی رہی سعودی عرب میں رہنے کی بات تو میں یہاں اس لیئے مقیم ہوں کہ مجھے میرے شہر میں روزگار نہیں ملا اب اس کی وجہ بتاؤں گا تو تعصب میں شمار کیاجائے گا باقی مینے جناب کی طرح یہاں کی نیشنلیٹی نہیں لے رکھی بمع اپنے پورے خاندان کے میں آج بھی پاکستانی ہوں اور ائندہ بھی رہوںگا بارہا کینڈا کی نیشلٹی کی افر ہوئی مگر سب اپکی طرح سمجھدار نہیں ہوتے ! ہوتے ہیں کچھ میرے جیسے بے وقوف بھی!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  25. عبداللہ کہتے ہیں

    جہانزیب اشرف ایک بات یاد رکھیئے گا جو دوسروں کے لیئے گڑھا کھودتا ہے ایک دن خود بھی اسی میں جاگرتا ہے!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  26. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    جہانزیب اشرف صاحب، پچھلے کئ مہینوں میں ہی نہیں بلکہ میری بلاگنگ کی مدت اب تقریبآ سوا سال ہو گئ ہے. اس سارے عرصے میں میں نے اپنی کسی بھی تحریر میں پاکستان کی کسی بھی قومیت کو ازراہ دلیل جانور کہا ہو تو بتائیے. مجھے آپکی اس تحریر سے یہ تکلیف نہیں کہ آپ نے یوپی سے آنےوالے مہاجرین کو خدا جانے کس بنیاد پہ بندر کی نسل قرار دیا. اپنے حسن ظن پہ یہی سمجھتی ہوں کہ آجکل آپ ڈارون کو پڑھ رہے ہیں . اور اس جوش میں آپ اتنے بڑھ گئے کہ خود کو ہنومان بنا ڈالا اور دوسروں کو بندر
    میری تکلیف تو حقائق پہ ہے جو آپ نے ایک قوم کو برتر ثابت کرنے کے لئے غلط بتائے ہیں. ان میں سے ایک پہ میں نے ااپنی تازہ پوسٹ بھی لکھی ہے. اردو زبان کا ارتقاء، اگر آپ اسے نہیں پڑھنا چاہتے تو اس پہ موجود وارث صاحب کا تبصرہ ضرور پڑھ لیجئیے گا
    آپکے بیانات ایسے ہیں کہ معلومات رکھنے والے پنجابی بھی کہیں گے یہ آپ نہ لکھتے تو آپکا بھرم رہ جاتا.میں نے آج تک کبھی ایسے غلط حوالہ جات نہیں دئیے کہ لکھنوی پلائو ہلاکو خان کی فوج کا من بھاتا تھا اور میرے بزرگ پاکستان لے کر آئے تھے.
    آپکی اس تحریر میں بہت ساری باتیں صحیح کی جانی چاہئیں. اور بہت ساری باتوں کو مختلف لوگوں کو وقت ملنے پہ زیر بحث لانا چاہئیے کیونکہ جو تاریخ آپ نے عالم طیش میں بتائ یہ وہ ہے جو مسخ کر کے ہمارے یہاں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہےکسی بھی ذی ہوش شخص کو اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ آج سے دس ہزار سال پہلے اسکے آباء اجداد کیا کر رہے تھے. بلکہ اسے اس سے بھی فرق نہیں پڑتاکہ اس وقت اسکے ابا جان کیا کر رہے ہیں.، صرف اس سے فرق پڑتا ہے کہ آج وہ خود کیا کر رہا ہے.
    اسد صاحب، میں نے یہاں کو دوبارہ پڑھا، تو آپکو یہ چیز تعصب لگتی ہے کہ افغانیوں کو پاکستان میں ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر لانے کا ذمہ دار سمجھا جائے، یا آپ کو یہ چیز تعصب لگتی ہے کہ پاکستان کی مخلتف قومیتوں میں سے پٹھان اور بلوچیوں کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے کون پسماندگی کا زیادہ شکار ہے. اسکی وجوہات پہ کچھ سوچنا تو گناہ ہوگا.یا آپکو یہ چیز رتعصب لگتی ہے کہ مختلف قومیتوں کے رائج الوقت ناموں سے انہیں یاد کیا جائے تو آپ کچھ کوڈنگ کر دیجئے تاکہ وہی استعمال ہو.
    پھر آپکو یہ چیز بھی تعصب لگتی ہو گی کہ دنہیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے مختلف النوع کثیر الآبادی والے شہروں میں ان قومیتوں کا حساب رکھا جاتا ہے تاکہ شہر کی سوک سہولیات کی فراہمی اور انفرا اسٹرکچر اور قانون سازی کے وقت انکے مزاج اور پس منظر کو سامنے رکھا جائے.
    یہ ہمارا سیاسی اور سماجی پس منظر ہے جہاں سیاست لسانیت سے جڑی ہوئ ہے. اور جب ہم کسی لسانیت کی اکائ میں اتریں تو ذاتیں اور برداریاں نکل آتی ہیں. پاکستان کی کوئ سیاسی جماعت چاہے اس میں مذہبی جماعتیں بھی ہوں اس اثر سے آزاد نہیں. تو کیا سیاست کی بدحالی جو چیزیں سامنے لا رہی ہے اس سے منہ چھپا لیا جائے. کیونکہ لوگوں کو یہ احساس بالکل نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ خود جس بھائ چارگی کے نہ ہونے کا شور مچاتے ہیں اس میں وہ خود گوڈوں گوڈوں ڈوبے ہوئے ہیں.
    جہانزیب اور خاور صاحب اس سے پہلے کیا کچھ لکھتے رہے مگر میں نے کبھی اس پہ کچھ نہیں لکھا، نہ ان پہ تبصرہ کیا. ڈفر کی کسی پوسٹ پہ تو خاور صاحب اتنے جوش میں آئے کہ یوپی کے مہاجرین کو پاکستان سے نکل جانے کا حکم دے دیا. آپ میں سے کسی کو یہ بات بری نہیں لگی. کیونکہ اس پہ کسی میرے جیسے نے تبصرہ نہیں کیا تھا
    میرے بھائ، اگر آپ اپنے رد عمل کو ہر وقت یکساں نہیں رکھتے تو یہ چیز تعصب میں آتی ہے.
    اگر آپ نے اپنی زندگی میں کوئ بنیادی اصول مقرر کیا ہے لیکن وہ بنیادی اصول آپکے دائرے میں آنے والے ہر شخص کے لئے یکساں نہیں تو یہ چیز تعصب کہلاتی ہے. آج آپ اپنے آپ سمیت ہر کسی کو اس بنیاد پہ جانچیں اور بتائیں کہ کتنے لوگ تعصب سے پاک ہیں.
    میرا آپکی اس پوسٹ پہ یہ آخری تبصرہ ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  27. نغمہ سحرِ کہتے ہیں

    آپ کی تحریر اچھی لگی کوئی ایسا سانچہ بھی تیار کریں جو فرقہ پرستوں کے بھی کام آسکے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.