دو کشتیوں کے سوار

5

گزشتہ چند سالوں کے دوران ہمارے معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص نوجوانوں کے مذہبی رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر آپ کے پاس موبائل فون ہے یا آپ نے سوشل میڈیا کی کسی معروف ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے تو یقیناً اپنے دوست و احباب کے درمیان رہتے ہوئے قرآنی آیات، احادیث، اقوام زریں اور مختلف اسلامی معلومات کی شیئرنگ میں اضافہ محسوس کیا ہی ہوگا۔

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب رمضان کے صرف ابتدائی دنوں ہی میں مساجد بھری ہوئی نظر آتی تھیں لیکن آج پورا مہینہ ہی رونق لگی رہتی ہے۔ پہلے معتکفین حضرات اور تراویح پڑھانے والے حافظ صاحبان کو لوگ ناموں سے جانتے تھے اور ان کی تعداد انگلیوں پر گن لیا کرتے تھے لیکن اب رمضان المبارک میں اعتکاف اور تراویح پڑھانے کے خواہش مندوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوگیا ہے کہ مساجد میں قرعہ اندازیاں کی جارہی ہیں۔

معروف شخصیات مثلاً جنید جمشید ، سعید انور اور ان کے دیگر ہم عصر کرکٹرز نے بھی مذہب پسندی اختیار کر کے نوجوان نسل کو متاثر کرنے میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ یوں ہمارے یہاں مختصر محافل بڑے اجتماعات میں تبدیل ہوگئیں، چھوٹے مدارس وسیع ہو کر جامع مسجد بن گئے اور ان میں وعظ، ذکر اور تبلیغ کے لیے لوگوں کی آمد و رفت بھی بڑھ گئی۔

لیکن ان سب کے باوجود مجموعی طور پر ہم اب بھی ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہیں جس کی بڑی وجہ موجودہ نسل کا بیک وقت مختلف سمت  میں جانے والی دو کشتیوں میں سوار ہونا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تبلیغ دین سے وابستہ اور خود کو مذہب پسند ثابت کرنے والے افراد کی ایک تعداد ایسی ہے جو ملک میں اجتماعی تبدیلی کی کوششوں کے لیے کی جانے والی سیاست میں ایسے لوگوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے کہ جن کا مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ گویا ان کے لیے دین محض مخصوص چار دیواری تک اختیار کیے رکھنے کی چیز ہے اور مسجد کے دروازے سے بایاں پیر باہر رکھتے ہی زندگی کے دیگر امور میں اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

آج بھی ہمارے درمیان ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی تمام زندگی لوگوں کو فضائل اعمال سے درس دینے میں صرف ہوئی لیکن انہوں نے ووٹ ہمیشہ اپنی روایتی یا لسانی وابستگی کی بنیاد پر دیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ سیاسی جماعتوں قتل و غارت گری، لوٹ کھسوٹ اور مذہب مخالف کاموں کا ناقابل فراموش ریکارڈ رکھتی ہے۔ نوجوان نسل اپنے بزرگوں سے مختلف اسلامی مسائل پر بحث کرتی ہے تو ان کی ذہانت پر رشک آتا ہے لیکن جب بات مملکت کے نظام میں تبدیلی کی آتی ہے تو ان کا انقلابی ذہن اس شخص یا جماعت کا انتخاب کرتا ہے کہ جو مذہب کو کسی خاطر میں لاتے ہیں نہ ان کے منشور میں اس کا کوئی ذکر تک موجود ہے۔ اس طرح دین کی تبلیغ سے وابستہ افراد بذات خود دین کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

اگر موجودہ نسل حق اور باطل کی پہچان نہ کرسکی، سیاسی جماعتوں کے ماضی و حال سمیت تمام تر حقائق سے آگہی کے باوجود ایسے افراد کو چنتی رہی جو ملک کے لیے نقصان کا باعث ہیں یا منزل کے حصول کی کوشش کے بجائے قائد کی تلاش میں شخصیت پرستی کرتی رہی تو ایسی صورتحال میں ذہن اس بات کو قبول کرنے سے انکاری ہے کہ ہم اس ملک میں کبھی انقلابی تبدیلیاں ہوتی دیکھ سکیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. ڈفر کہتے ہیں

    ایک دم ویل سیڈ
    کل میرا ایک دوست کہہ را تھا کہ پاکستان کا مسئلہ تعلیم کی کمی ھے
    اور میں اسے کہہ را تھا یہ ساری قوم گریجوئٹ بھی ھو جاائے تو پھر بھی جاہلوں کا ٹولہ ہی رہے گی
    لیکن فرق یہ ہو گا کہ وہ پڑھے لکھے جاہل ہوں گے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمد بلال خان کہتے ہیں

    بلکل درست لکھا آپ نے ، میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہتے ہیں

    اللہ کرے ۔ نوجوانوں سمیت پوری قوم کے دل میں آپکی بات اتر جائے۔ اور وہ اس پہ عمل کرنے لگے تو امید کافی ہے ہماری بہت سی مصیبتیں ختم ہوجائیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. کاشف نصیر کہتے ہیں

    میں تصویر کے دونوں رخ دیکھنے ہونگے، پہلا رخ تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مذہب سے قریب ہورہی ہے اور دوسری طرف مذہب اور مذہبی روئیوں سے بغاوت بھی اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے، روشن خیالی اور مذہب پسندی لی لاتعداد اقسام کے ساتھ ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ ان تمام چیزوں کے ساتھ جو سب کرپشن اور بددیانتی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے جو ہر طبقہ میں اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اسکی کی سب سے بڑی وجہ “کمزور ریاست” ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. فرینڈ کہتے ہیں

    بلکل درست.. اللہ آج کی نوجوان نسل کو صراط مستقیم پر چلائے. آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.