اخبار کی فنکاری

8

سابق صدر و جنرل پرویز مشرف کے دور میں موصوف اور ان کے اتحادیوں کے جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد سے شروع شروع ہم بہت متاثر ہوا کرتے تھے. صدر صاحب کا راولپنڈی میں جلسہ ہو، ق لیگ کا لاہور میں یا کسی دوسری اتحادی جماعت کا ملک کے کسی دوسرے حصہ میں’ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت سے ہم عوامی طاقت کا عملی مظاہرہ دیکھنے سعادت حاصل کرلیتے تھے. پھر کسی نے ‘اندر کی خبر’ دی کہ بھئی یہ تو سب کرائے کا مجمع ہوتا ہے. سو دوسو روپے دے کر بندوں کو بلالیا جاتا ہے اور پھر جو چاہو وہ نعرہ لگوالو. ایک پوری سوزوکی بھی کرائے پر لی جاسکتی ہے جس کے ساتھ 10+ 5 کی آفر بھی موجود ہوتی ہے. پھر کیا تھا جناب. . . ہم تو ان لوگوں میں شامل ہوگئے جو حکومت کی بے روزگاری کے خاتمہ کی اس مہم میں بھی کیڑے نکالنے لگے. اور ہمارا اس پر یقین مستحکم ہوگیا کہ جس کے پاس پیسہ زیادہ ہے، اسی کا جلسہ سب سے کامیاب ہے.

بہرحال یہ تو پرانے وقتوں کی بات تھی. پچھلے دنوں ایک واقعہ کے بعد ہماری ان تمام ‘غلط فہمیوں’ کا صفایہ ہوگیا جو ہم حکمران اتحادی جماعتوں کے جلسے جلوسوں سے منسوب کرچکے تھے. واقعہ کچھ یوں ہوا کہ روزنامہ ایکسپریس میں 6 نومبر 2009ء بروز جمعہ کے اخبار کے بالکل پہلے صفحہ پر موجود تصویر کو دیکھ کر ہم تو دنگ ہی رہ گئے. اس تصویر میں متحدہ قومی موومنٹ کے ‘بھرپور عوامی’ جلسے سے قائدتحریک جناب الطاف حسین خطاب فرمارہے تھے. لوگوں کی تعداد دیکھ کر تو ہم ‘عش عش’ کر اٹھے. لیکن برا ہو اس آنکھ کا جو گرافک ڈیزائننگ کا کمال بھانپ گئی. تصویر کو ذرا دائیں بائیں کر کے دیکھا لیکن کچھ نظر نہیں آیا. جب اوپر نیچے کا موازنہ کیا تو کچھ کچھ نظر آہی گیا. اب ذرا آپ بھی تصویر کا بغور معائنہ کریں اور اس دال میں موجود کالے کی نشاندہی کریں.

mqm-skardo-sml

اگر بہت غور و خوص کے بعد بھی ‘کمال’ نظر نہ آئے تو پھر یہاں کلک کر کےگرافک ڈیزائننگ کا کمال دیکھ لیں. اب آپ اس تصویر کے متعلق جو مطلب اخذ کریں وہ اپنی جگہ. ہم تو جناب یہ بات بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ آج کل ہونے والے جلسوں کے متعلق ہمارے خیالات بوسیدہ ہوچکے ہیں. کیوں کہ اب تو کرائے کے پٹواری کی جگہ ‘اخبار کی فنکاری’ نے لے لی ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

8 تبصرے

  1. محمد سعد کہتے ہیں

    پھر تو ہم دونوں کو اپنا اپنا دماغ اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ دماغ کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے والی کیبل کتنے روپے کی ملتی ہے؟ 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. بلاعنوان کہتے ہیں

    محمد سعد بھائی! یہ تو مجھے آپ سے معلوم کرنا چاہیے تھا کہ دماغ اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی کیبل البیرونی کے پاگل خانہ میں ایجاد ہوئی یا نہیں؟ 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. فرحان دانش کہتے ہیں

    شکر ہے یہ تصویر روزنامہ ایکسپریس 6 نومبر کی ہے ورنہ اس کاالزام بھی ایم کیوایم کے سرباندھ دیا جاتا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمد سعد کہتے ہیں

    ابھی تک تو نہیں ایجاد ہوئی۔ 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. جعفر کہتے ہیں

    پہلی حاضری ہے جی آپ کے بلاگ پر
    عمدہ طریقے سے سجایا ہے آپ نے اسے
    جہاں تک اس جلسے والی واردات کا تعلق ہے تو یہ تو چلتا ہی رہتا ہے ہمارے ہاں
    دو سو آدمیوں کے اجتماع کو لاکھوں کا مجمع کہنے سے یہ معمولی سے کاروائی تو قابل برداشت ہے …

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    بلاگ پر خوش آمدید جعفر!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. Uncle Tom کہتے ہیں

    چلو اس سے تو ثابت ہوا نہ کہ میڈیا چاہے کوی بھی ہو سب بکاو مال ہے ،

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.