راجہ

3

ایک تھا راجہ۔ وہ عام قصے کہانیوں کے راجاؤں اور مہاراجاؤں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کا تعلق سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں حاجی سائیں داد سے تھا۔ وہ اپنے والدین کی پہلی اور آخری اولاد تھا جو شادی کے دس سال بعد انہیں ملی۔ اس نرینہ اولاد کے لیے باپ روشن خان نے کتنی دعائیں کیں اور  ماں نے کہاں کہاں منتیں مانگیں اور وہ ایک الگ داستان ہے۔ والدین نے اکلوتی اولاد کو نازوں سے پال پوس کر بڑا کیا اور اچھے وقتوں میں اپنے راجہ کی شادی ایک میٹرک پاس لڑکی نجمہ سے کردی اور یوں اس کہانی میں راجہ کے ساتھ رانی بھی شامل ہو گئی۔

سال 2008ء میں الیکشن ہوئے تو راجہ نے بھی ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے ‘تیر’ پر ٹھپہ لگایا۔ اس کے کانوں میں جلسے جلوسوں میں موجود سینکڑوں لوگوں کے سامنے کیے گئے سیاسی وعدوں کی گونج کے علاوہ دل میں غریب عوام اور شہداء کی پارٹی کے لیے ہمدردی بھی موجود تھی۔ پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر راجہ  نے ان سے روٹی، کپڑا اور مکان کی آس لگا لی۔ انتخابات کے نتائج آئے تو راجہ کی پارٹی وفاق اور صوبہ سندھ میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ راجہ اس کامیابی پر بہت خوش ہوا کیوں کہ اب اسے پارٹی کی خدمت کرنے کا صلہ ملنے والا تھا۔

راجہ کے والدین بوڑھے ہوگئے اور وہ دو بچوں کا باپ بن گیا تو اسے والدین کا سہارا اور خاندان کی کفالت کے لیے نوکری کی ضرورت پیش آئی۔ مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دینے والے اس غریب راجہ کی نظریں اپنی محسن پارٹی کی جانب ٹکیں کہ جنہوں نے اس سے کئی ایک وعدے کیے تھے۔ راجہ نے نوکری کے حصول کے لیے اپنی پارٹی کے نمائندوں سے بات کی، پھر تھوڑی کوششوں سے اوپر تک رسائی حاصل کی اور مقامی نمائندے سے بہتر نوکری کی درخواست کی لیکن کسی شخص کے پاس راجہ کی درخواست کو ایک نظر دیکھنے کا بھی وقت نہیں تھا۔

مقامی اور صوبائی نمائندوں سے مایوس ہو کر اس نے حکمراں جماعت کے اعلیٰ عہدیداران سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ راجہ کے والد نے اسے بارہا اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کے بارے میں بتایا لیکن راجہ جیسا شخص بھلا قائدین کے وعدوں کو کیسے بھول سکتا تھا۔ وہ اسلام آباد جانے پر بضد رہا اور والدین نے اکلوتی اولاد کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے جوڑ توڑ کر کچھ پیسوں کا بندوبست کردیا اور یوں راجہ اسلام آباد پہنچ گیا۔

راجہ نے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا سوچا مگر ناکامی ہوئی تو پھر صدارتی محل کی جانب قدم اٹھانے کی کوشش کی لیکن اسے وزیر اعظم یا صدر سے ملاقات تو درکنار ان کی ایک جھلک بھی نہ دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ دو روز تک حکومتی اہل کاروں سے ملاقات کی کوششیں کرنے کے بعد بالآخر 24 اکتوبر 2011ء کو راجہ نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے خود کو نظر آتش کر کے غربت، تنگ دستی سمیت تمام غموں سے آزاد کرلیا۔

نوشہرو فیروز کے راجہ رند کی ایک سال پرانے واقعے کو سب بھول چکے ہوں گے۔ اسمبلی میں بیٹھے 270 ارکان اسمبلی کے ذہنوں سے بھی یہ راجہ محو ہوچکا ہوگا۔ باقی اراکین اسمبلی تو ایک طرف راجہ جیسے کارکنوں کی محنتوں اور ووٹوں سے قومی اسمبلی میں پہنچنے والے سید ظفر علی شاہ اور مرتضی خان جتوئی بھی اپنے حلقے کے اس غریب راجہ کو بھول چکے ہوں گے۔ کیوں کہ ایسے کئی راجا تو آتے جاتے ہی رہتے ہیں۔

میں اس تمام واقعہ کا قصور وار راجہ ہی کو ٹھراتا ہوں کیوں اس نے خودکشی کے لیے انتہائی غلط وقت کا انتخاب کیا۔ راجہ نے جس وقت اسلام آباد پہنچنے اور اپنی پارٹی کے اہل کاروں سے ملنے کی کوشش کی اس وقت پوری پارٹی سابقہ سربراہ نصرت بھٹو کے انتقال پر شدید دکھ دکھ اور رنج میں تھی۔ راجہ کو اپنی اوقات دیکھتے ہوئے اپنی خودکشی کو مؤخر کردینا چاہیے تھا کیوں کہ نصرت بھٹو کے قصیدے پڑھنے میں مصروف سیاسی رہنما اور ذرائع ابلاغ اس پر توجہ دینے میں اپنا وقت کیوں ضائع کرتے۔

راجہ اگر تھوڑا انتظار کرتا تو مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم یا ان کے وزراء کی فوج ظفر موج میں سے کوئی راجہ کی دہائی سنتا اور اسے اپنے گھر یا دفتر میں چھوٹی موٹی نوکری دے سکتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صدر صاحب فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کسی محکمے میں بھرتی کروادیتے یا کم از کم کسی انکم سپورٹ پروگرام سے اس کی مدد ہی فرما دیتے۔ اب آپ یہی دیکھ لیں کہ فریال تالپور نے راجہ کی بیوہ کو ایک لاکھ روپے اور نوکری دی۔ راجہ کی میت کو جس وقت سپرد خاک کیا جارہا تھا ٹھیک اسی وقت اس کے گھر تیسرے بچے کی ولادت ہوئی۔ راجہ تھوڑا صبر کرتا تو اپنے بیٹے کی شکل دیکھ پاتا لیکن اسے شاید یہ خوف تاری تھا کہ وہ  اس بچے کو کیا منہ دکھائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. عبدالقدوس کہتے ہیں

    کمال کرتے ہو پانڈے جی. سرکاری نوکر نا ہوگئی خالہ جی کے گھر کی کھیر ہوگئی
    راجہ صاحب نے کتنے کوُ ایم اے کیئے تھے جو اُن کو سرکار دھتکار رہی تھی تو اُن سے زیادتی ہورہی تھی؟ اگر اسی راجہ کسی جگہ کلرک یا چپڑاسی بھی لگا دیا جاتا تو آپ ہی نے پوسٹ لگانی تھی کہ سیاسی بھرتی ہے اور حق دار کا حق مارا ہے.
    ارے بھائی چھوڑو بھی یار اتنی ہی غیرت تھی تو کسی فیکٹری میں ملازمت کرلیتا 8 ہزار ماہواری تو بھرتی ہوتے ہی مل جایا کرتی. اب چوپ لے امب خود کو آگ لگا کر.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عمار ابنِ ضیا کہتے ہیں

    نہ جانے ایسے اور کتنے راجاؤں نے یہ انجام بھگتنا ہے۔ 😥

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد کہتے ہیں

    @عبدالقدوس: تو پا جی روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا جانوروں کے لیے تھا؟ سیاسی لیڈر جلسوں میں ملازمتیں اور نوکریاں دینے کی بات کرتے ہیں، اور جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو صرف خواص کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ جو پارٹی جعلی ڈگری والے کو ٹکٹ دے سکتی ہے تو کیا وہ ایک جیالے کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتی؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.