جیو تو ایسے!

لو کا تھپیڑا ہمارے چہروں کی طرف بڑھا اور بس اسٹاپ پر موجود تمام ہی لوگوں نے اپنے منہ کو ہاتھ میں تھامی ہوئی مختلف چیزوں سے ڈھانپنے کی کوشش شروع کردی۔ جن کے پاس کچھ نہ تھا انہوں نے ہاتھ ہی سے اپنے چہرہ کو گرم لو سے بچانے کی سعی کی۔ سب کے چہروں پر موجود کوفت کی چھاپ مزید گہری ہوگئی۔

ستمبر کا مہینہ پوری شدت سے ستم گر ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔ اسٹاپ پر موجود سب ہی افراد ماتھے پر شکن لیے اور آنکھوں کو میچ کیے بس کے انتظار میں کھڑے ہوئے تھے۔ لیکن بس کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا۔ مجھ سمیت سب ہی کے چہروں سے صاف ظاہر تھا کہ انہیں یہ بس اسٹاپ جہنم کا کوئی کونا محسوس ہورہا ہے۔

ایسے میں اچانک مجمع کے پیچھے سے ایک فقیر کی سدا سنائی دی۔ کچھڑی نما داڑھی اور میلے کپڑے پہنا وہ عمر رسیدہ شخص بس کے انتظار میں کھڑے لوگوں کے پاس باری باری جا کر ہاتھ پھیلاتا اور مختلف دعائیں دے رہا تھا۔ جواباَ کچھ سخی لوگوں نے اس کی مدد کی جبکہ دیگر نے چاروناچار اس گرمی کو باعث عبرت سمجھتے ہوئے جہنم کی آگ سے خلاصی کی دعا کرتے ہوئے چند سکے اس غریب کی لکیروں بھری ہتھیلی پر رکھ دیے۔

اسٹاپ پر موجود تمام لوگوں سے فارغ ہو کر وہ سڑک کی طرف چلا گیا۔ "اس سڑی ہوئی گرمی میں یہ اپنی منزل تک کیسے جائے گاَ؟" یہ سوال ذہن میں آتے ہی سب ترس بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے۔ وہ چند قدم آگے بڑھا، وہاں کھڑے ٹیکسی ڈرائیور سے چند جملوں کا تبادلہ کیا اور پھر ٹیکسی میں بیٹھ کر چلتا بنا۔ بس کے انتظار میں کھڑے تمام ہی لوگوں نے پہلے ٹیکسی کو گھورا اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کھسیانے انداز میں مسکرانے لگے۔ ٹیکسی کے پیچھے جلی حروف میں لکھا تھا "جیو تو ایسے!"۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

بہت خوب! 😀

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ جعفر
آئندہ آپ کے مزے کا تسلی بخش علاج خیال کیا جائے گا. 😀

@ آصف احمد بھٹی
بلاگ پر خوش آمدید اور پتے کی بات کرنے کا شکریہ صاحب. ہمارے حکمرانوں کا انداز فقیری بھی اور چیزوں کی طرح نرالا ہی ہوتا ہے 🙂

@ جاویداقبال
کراچی کے موسم کا تو نہ پوچھیے صاحب. یہاں سال بھر دو ہی موسم ہوتے ہیں. ایک زیادہ گرمی اور ایک کم گرمی. اور لو ہی تو ہے جو یہاں بغیر ٹیکس چلتی ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

کراچی میں ستمبر میں بھی لو سوسکتی ہے.
اب کراچی آجائیں میں آپ اور بھی ایسی انہونیاں دیکھاوں گا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت خوب، واقعی بہت خوب جیوتوایسے۔ لیکن ستمبرمیں لوواقعی بات ہضم نہیں ہورہی ہاں جون میں توکہاجاسکتاہےیہ ستمبرمیں لووالامعاملہ کیاہےجی؟

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

😆 😆 😆
آپ اس فقیر کی بات کررہے ہیں، یورپ اور امریکہ کے لوگ پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشیاں اور مزے دیکھ کر ناجانے کتنی بار اس طرح کی کھسانی ہنسی ہنستے ہیں...

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

😆 😆 😆
کیا لطف کا جینا ھے جی۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
آصف احمد بھٹی says:

السلام علیکم
جناب عالی ، یقینا آپ کی کہانی کے ہیرو ( فقیر بھائی صاحب ) ہمارے محترم صدر صاحب سے بہت متاثر رہے ہونگے ، کیونکہ ہمارے صدر صاحب بھی اِس ’’ جیو تو ایسے ‘‘ مقولے پر کچھ ایسے ہی عمل کرتے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جعفر says:

تھوڑی سی تفصیل اور تھوڑا سا ڈرامہ اور ڈالتے
تو کلائمکس کا مزا دوبالا ہوجاتا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت خوب
😆 😆 😆 😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عبداللہ says:

فقیربن کر یا ٹیکسی ڈرائیور بن کر؟؟؟؟؟؟؟؟؟
🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عبداللہ says:

😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب