ہزارہ مسئلہ کا حل: کانفرنس یا ریفرنڈم؟

صوبہ سرحد کے بڑے حصہ پر مشتمل ہزارہ ڈویژن کی عوام کا علیحدہ شناخت کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں. صوبہ سرحد اور پنجاب کے چند مشترکہ علاقوں پر مشتمل ہزارہ صوبے کے قیام کی سیاسی جدوجہد کافی عرصہ سے جاری تھی لیکن صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کے فیصلہ کے بعد گذشتہ دو ہفتوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی. گو کہ سیاسی حلقوں نے نئے نام پر باہمی رضامندی کا اعلان تو کردیا، لیکن ہزارہ ڈیویژن میں بسنے والے لوگ اس نام پر متفق نظر نہیں آتے جس کی بڑی وجہ اس میں لسانیت کی آمیزش ہے. کئی سال کی محنت ضائع ہوجانے اور اپنے اوپر کسی اور قومیت کا نام مسلط ہونے پر لوگوں کا غم و غصہ تو ایک طرف، سب سے حیران کن کردار ان سیاسی جماعتوں کا ہے جنہوں نے نام کے چھوٹے سے معاملہ کو لے کر بے حسی، ضد اور ہڈدھرمی کی انتہاء کردی ہے.

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام چھوٹی بڑی جماعتیں سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا قطعاَ کوئی تجربہ نہیں رکھتیں. تبھی موجودہ معاملہ کو پرامن اور بہتر طریقہ سے سلجھانے کے بجائے اسے سیاسی و لسانی فرقہ واریت کا روپ دے کر مزید الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے. ایسے میں کہ جب ملک کے بڑے سیاسی گروہ سیاسی انتقام اور قوت کے مظاہرہ کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کر رہی ہیں متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف کے سربراہان کی جانب سے اس مسئلہ کو پرامن طور پر حل کرنے کی دو قدرے مختلف آراء سامنے آئیں جو کہ بہرحال ان سیاسی جماعتوں کی بنسبت بہتر قدم کے جن کی وجہ سے آج ہزارہ ڈیویژن ہڑتالوں اور مظاہروں کی زد میں ہے.

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونے کے بجائے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور گول میز کانفرنس کے انعقاد کا مشورہ دیا تاکہ تمام سیاسی قوتیں افہام و تفہیم اور مذاکرات کا راستہ اپنا کر کسی ایک فیصلہ پر متفق ہوسکیں. آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سے پچھلے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کو بھی اس مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع میسر تو آسکتا ہے، لیکن یہاں سوال ہزارہ میں بسنے والے لوگوں کی ترجمانی کا ہے کہ وہ جماعتیں جو آئینی کمیٹی کا حصہ تھیں اور وہ جنہوں نے قومی اسمبلی میں نئے نام کے حق میں ووٹ دیا وہ اب کیسے کسی نئے نتیجہ پر پہنچ پائیں گے؟

دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس اہم مسئلہ پر ریفرنڈم کی تجویز پیش کی ہے. کیونکہ ان کے مطابق یہ مسئلہ کسی لسانی اور قومی بنیاد سے بالاتر ہوکر خطہ میں بسنے والے عوام کے خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ صوبہ سرحد کے نئے نام یا ہزارہ صوبے کے قیام پر لوگوں سے براہ راست رائے لی جائے. اور اس کا سب سے بہترین حل ریفرنڈم کی صورت میں موجود ہے. گو کہ ریفرنڈم کی آئین میں گنجائش موجود ہے اور ماضی میں دو صدور اپنے انتخاب کے لیے ریفرنڈم کرواچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ریفرنڈم کا اہتمام اور انعقاد ایک بڑا اور وقت طلب کام ہے.

موجودہ حالات میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو ان دو آپشنز کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن زیادہ موثر نظر نہیں آتا. اس لیے ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو چاہیے کہ معاملہ کو طول دینے اور سیاسی شدت پسندی کو تقویت ملنے سے قبل ہی اس مسئلہ کو حل کرنے کی سعی کریں. کیوں کہ اکثر درست فیصلہ صرف خراب ٹائمنگ کی وجہ سے ایک بڑی غلطی کا روپ دھار لیتے ہیں.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. سعد نے کہا:

    آج سنا ہے کہ حالات نارمل ہو گئے ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. ايک بات جسے سب فراموش کر رہے ہيں يا پھر تاريخ سے واقف نہيں ہيں يہ ہے کہ قبائلی علاقہ اور سوات کو چھوڑ کر باقی سارا صوبہ سرحد جسے اب خيبر پختون خواہ کا نام ديا جا رہا ہے ۔ پورا پنجاب اور سندھ کا کچھ شمالی حصہ ۔ يہ سب ايک صوبہ تھا جس کا نام مُغلوں نے پنجاب رکھا تھا ۔ انگريزوں کو اس صوبے سے بہت خوف تھا ۔ اُنہوں نے نئے صوبے بنائے اور پنجاب کو چھوٹا کر ديا ۔ يہ کام 1901ء سے 1910ء تک ہوا تھا ۔ پنجابی کوئی زبان نہ تھی کيونکہ اس علاقے ميں فارسی اور براہمی کی مختلف بگڑی شکليں بولی جاتی تھيں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عبداللہ نے کہا:

    اجمل صاحب ہر بلاگ پر اسی قسم کی گفتگو فرمارہے ہیں اور میرے سوال کا جواب نہیں دیتے کہ 1901 میں تو ہندوستان اور پاکستان بھی ایک تھے تو کیا انہیں بھی ایک کردیا جائے
    😆
    ویسے ایسے لوگوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
    😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. فرحان دانش نے کہا:

    اے این پی صوبہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی اور بلوچستان میں پختونوں کے حقوق اور ان کی شناخت کا مطالبہ کرتی ہے لیکن جب بات ان کے اپنے صوبے میں بسنے والے غیر پختونوں کی اور سندھ میں بسنے والے غیر سندھیوں ( اردو اسپیکنگ )کی شناخت کی آتی ہے تو اے این پی کا موقف بالکل تبدیل ہو جاتا ہے ـ یہ دوہرا معیار اے این پی کی جمہوریت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے ـ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. راشد کامران نے کہا:

    آپشنز کی بات تو وہاں آءے گی جہاں پر امن حل کی تلاش ہو.. بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں کی اکثریت کو تو ایسے ایشوز درکار ہوتے ہیں جس کے سہارے وہ آگ اور خون میں لپیٹ کر معاملات کو اپنی پندرہ منٹ کی شہرت کا ذریعہ بنائیں. اور صوبہ سرحد کی تبدیلی نام نے وہ موقع فراہم کردیا ہے. اصل معاملات سے توجہ ہٹا کر ثانوی مسائل میں عوام کو کس طرح الجھایا جاتا ہے یہ ہمارے سیاستدان خوب جانتے ہیں..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد نے کہا:

    @ سعد
    سنا تو ہم نے بھی ہے لیکن آئندہ کی ضمانت کون دے سکتا ہے بھلا. لارے لپے دے کر معاملہ کو دبایا گیا تو یہ پھر زیادہ شدت سے سر اٹھائے گا. 😐

    @ افتخار اجمل بھوپال
    آپ کی بات بجا، لیکن انگریزوں کی جانب سے کی جانے والی تقسیم لسانی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ انہوں نے صوبوں کا نظام آسانی سے چلانے کے لیے تقسیم کی. اسی طرح بمبئی سندھ اور بنگال وغیرہ کی تقسیم بھی کی گئی. جسے کے بعد اس مسئلہ کو سیاسی نظریہ سے دیکھا گیا.

    @ عبداللہ
    🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد نے کہا:

    @ فرحان دانش
    اے این پی کا رویہ ہمیشہ سے قومی مفاد پر لسانی فساد پر ترجیح دینے والا رہا ہے. بدقسمتی سے اس طرح کا رویہ اور بھی بہت سے جماعتوں کا رہا ہے. جن کی فہرست بنائی جائے تو ختم ہونے میں نہ آئے.

    @ راشد کامران
    متفق. حیرت انگیز طور پر وفاق کی علامت سمجھی جانے والی جماعتوں کا رویہ چھوٹی جماعتوں کی نسبت انتہائی مایوس کن رہا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    ہزارے شزارے کا مسئلہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں اور اگر ہے بھی تو اس کا جلدی کچھ نہیں ہونے والا. عدلیہ حکومت جنگ کا نیا سیزن آنے والا سارے اس میں مصروف ہو جائیں گے اور گلیوں میں دوبارہ ست مرزا یار پھرے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی اس مسئلےکوویسےہی ہوادی جارہی ہے جبکہ نام سےکچھ فرق نہیں پڑنےوالااصل مزا توہےکہ صوبہ ترقی کی منازل بھی طے کرےلیکن ہائےہمارےناسمجھ عوام

    والسلام
    جاویداقبال

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. دانیال دانش نے کہا:

    سیاسی ورکروں پر گولیاں چلیں۔۔ اور کہنتے ہیں یہ کوئی مسئلہ نہیں ۔ڈیڑھ سوسے زائد لوگ زخمی حالت میں اسپتال پہنچے جن میں سے ایک درجن سے زائد شہید ہوگئے ۔بتائے گزشتہ تیس سالوں میں کب کسی سیاسی جلسے پر پولیس نے فائرنگ کی ہے ۔نہیں۔تو پھر یہاں سیاسی جدوجہد کو کیوں کچلنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔
    صرف اور صرف اس لئے کہ اس خطے کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستانیت کی بات کی ہے ۔اس لئے انہیں سزادی جارہی ہے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمداسد نے کہا:

    @ دانیال دانش
    سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید.
    دراصل مسائل کی ابتداء ان سیاسی جماعتوں کی وجہ سے شروع ہوئی جنہوں نے آئینی کمیٹی اور پھر پارلیمان میں اس قراردا کے حق میں ووٹ دیا. اس وقت تک نہ ہی سیاسی ورکر جاگے تھے اور نہ ہی یہ معاملہ مسئلہ میں تبدیل ہوا تھا. بعد ازاں سابق حکمران جماعت کو اچانک اپنی پاور دکھانے کا شوق چڑھ آیا اور انہوں نے ہی مقابلہ کی فضاء کو فروغ دیا.
    میں آپ کی بات تسلیم کرتا ہوں کہ یہ خطہ پاکستانیت کی بات کرتا رہا، لیکن اب جو بات کی جارہی ہے، وہ پاکستان کو ایک نئے مسئلہ میں جھونکنے کے مترادف ہے. لسانی بنیاد پر اگر ایک صوبہ بھی بنا تو پھر مزید دسیوں صوبوں کا مطالبہ بھی سامنے آجائے گا، اور یوں لسانی تقسیم کا رواج چل پڑے گا. جو کہ ہمارے ملک کے لیے قطعاَ بہتر نہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے