حکومتی اعتراضات

12

جب سے موجودہ حکومت نے نظام مملکت سنبھالا ہے تب سے اس پر بے شمار اقسام کے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں. کوئی رشوت اور چور بازاری کی شکایت کرتا ہے تو کوئی پستی ہوئی عوام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی دہائی دیتا ہے. کوئی دہشت گردی میں حکومت کی کارکردگی پر معترض ہے تو کوئی وزراء کی فوج ظفر موج پر انگلی اٹھارہا ہے. لیکن ہماری حکومت نے کم از کم اعتراضات کے معاملے میں اپنے مخالفین کو بری طرح مات دے دی کہ جب سے اقتدار سنبھالا کچھ اور کیا ہو یا نہ کیا ہوا اعتراضات ضرور کیے.

پہلے صدر مشرف کو کرسی صدارت سے علیحدہ کرنے کے مطالبہ پر اعتراض کہ وہ آئینی صدر ہیں اس لئے انہیں ہٹانا آسان نہیں. پھر ڈوگر عدالت کو غیر آئینی قرار دینے پر اعتراض کہ وہ بھی قانونی عدالت ہے. نیز افتخار چودہری کو بحال کرنے پر اعتراض کہ وہ ننانوے کے پی سی او پر حلف اٹھاچکے ہیں. پھر میڈیا پر اعتراض کہ وہ سیاسی اداکاروں کے ذریعے زرداری اینڈ کمپنی کے خلاف کیمپین چلا رہا ہے. پھر بے نظیر کے قتل کی تحقیقات کے “عوامی” مطالبہ پر اعتراض کہ جلدی کا کام شیطان کا. پھر این آر او کے خلاف کیس کے فیصلہ پر اعتراض کہ عدالت نے باؤنڈری کراس کی. پھر سوئٹزرلینڈ میں موجود لاکھوں ڈالروں کے خلاف کیس کھولنے پر اعتراض کہ “انہیں” انڈیمنٹی حاصل ہے. غرض یہ کہ موجودہ حکومت اور اعتراضات کا چولی دامن کا ساتھ محسوس ہوتا ہے.

لیکن یہ سلسلہ اندرون ملک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس منفرد حکومت عملی سے عالمی دنیا بھی فیضیاب ہورہی ہے. اور تو اور اب پیپلز پارٹی کم زرداری حکومت نے اقوام متحدہ کی اُس رپورٹ پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں جو بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے بنائی گئی تھی. حکومتی درخواست پر دو سال کے طویل عرصے اور تقریباَ پچاسی کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی جانب سے دیگر ممالک کے اجراء کے احکامات جاری کئے گئے تھے. لیکن ہماری حکومت نے اعتراضات کا آزمودہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے 65 صفحات کی رپورٹ کو اعتراضات کے پلندوں کے ساتھ اقوام متحدہ ہی کو واپس ارسال کردیا. ٹائم گیننگ کی اس کامیاب طریقہ واردات کے بعد اب اقوام متحدہ کا حال بھی پاکستانی عوام جیسا ہوگا کہ جو باتیں معترض ٹہریں انہیں چھوڑ دیں تو بچتا کیا ہے؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

12 تبصرے

  1. ابوشامل کہتے ہیں

    تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اعتراضات کا حق صرف اور صرف حزب مخالف کو حاصل ہے؟ 😛 😛

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. پھپھے کٹنی کہتے ہیں

    تصوير اچھی لگائی ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. سعد کہتے ہیں

    آپ اعتراضستان میں رہتے ہیں اعتراض تو ہوں گے ہی 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمودالحق کہتے ہیں

    ٹائم گیننگ کی اس کامیاب طریقہ واردات کے بعد اب اقوام متحدہ کا حال بھی پاکستانی عوام جیسا ہوگا۔

    درج بالا اقتباس ” ٹائم گیننگ ایک کامیاب طریقہ واردات ”
    سیاسیات میں اب ایک نئے باب کا اضافہ ہو چکا ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ریحان شیخ کہتے ہیں

    یہ اعتراضات کا سلسلہ نیا نہیں ہے حضورِ والا.سن اسی کی دہائی کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے. کیوں کہ وہ ہی شکلیں ہیں اور وہی کرتوت
    😆

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    @ ابوشامل
    اعتراض کا حق تو سب ہی ہو حاصل ہے لیکن حکومتی اعتراضات کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کے تمام تر اعتراضات خود اپنے ہی اقوال و اعمال پر ہیں. آپ پرویز مشرف کو صدر ماننے یا عدلیہ بحالی تحریک سے لے کر اقوام متحدہ کی رپورٹ تک کے تمام پہلوں پر غور کریں تو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ تمام کاموں میں پیپلز پارٹی نے مخصوص وقت تک خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا. بعد ازاں اپنے ہی دعووں کے برعکس انہی چیزوں پر لیت و لعل سے کام لیا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد کہتے ہیں

    @ محمودالحق
    بلاگ پر خوش آمدید.

    @ ریحان شیخ
    آپ کو بھی بلاگ پر خوش آمدید.
    بات تو آپ کی سولا آنے ٹھیک ہے. لیکن اب اسی کی دہائی والی حراکات کر کے مقاصد کا حصول نا ممکن ہوگیا ہے. اس لیے جلد ہی یہ اعتراضی ڈرامہ اختتام پذیر ہوجانا چاہیے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. یاسر عمران مرزا کہتے ہیں

    جناب اعتراضات کی کافی لمبی لسٹ جمع کر دی آپ نے ، اور حکومت نے واقعی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساری ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بے شرمی تو مشرف کے وزیروں میں بھی تھی، جیسے درانی ، طارق عظیم اور شیرافگن، لیکن حالیہ حکومت میں تو کوئی بھی انسان کا پتر نظر نہیں آتا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عمران اشرف کہتے ہیں

    سب چور ہیں۔ سب اپنے مفادات کے لئے قانون کو توڑ موڑ کر استعمال کر رہے ھیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.