بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟

32

دنیا کا ہر لکھاری، ادیب، شاعر اور صحافی چاہتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔ اسی طرح ہر بلاگر کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بلاگز زیادہ سے زیادہ پڑھے جائیں، بلاگ پر زیادہ سے زیادہ تبصرے کیے جائیں، بلاگ کو سوشل نیٹ ورکس پر زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ بلاگ پر آئیں۔ لیکن اتنے سارے “زیادہ سے زیادہ” حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بلاگر ایسا مواد تخلیق کریں جس میں پڑھنے والوں کی زیادہ سے زیادہ دلچسپی ہو۔

اب بلاگ پر قارئین کی دلچسپی کو پیدا کرنے اور پھر اسے برقرار رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جہاں موضوع، انداز تحریر، اردو فونٹ، بلاگ کی تھیم وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں وہیں بلاگ کی طوالت بھی ارادی یا غیر ارادی طور پر قاری کو تحریر پڑھنے، اس پر تبصرہ کرنے اور اسے سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: اردو بلاگ اور اردو میگزین کے لیے بہتر تھیم ہیومن

بہت سے لکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بلاگ پر ہمیشہ کم از کم الفاظ استعمال کرنے چاہیں یعنی مختصر ترین لکھنا چاہیے۔ اس کی دلیل میں یہ کہا جاتا ہے انٹرنیٹ پر بہت سا مواد موجود ہے اور لوگوں کے پاس وقت کم ہے، اس لیے اگر بلاگ زیادہ طویل لکھے جائیں تو اکثری قاری بغیر پڑھے ہی چلے جاتے ہیں۔ دوسری جانب طویل لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بلاگ کا موضوع اور اندازہ تحریر دلچسپ ہو تو طوالت محسوس نہیں ہوتی لہٰذا بلاگ کی لمبائی چوڑائی کے بجائے اس کے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔

میں ذاتی طور پر چونکہ تکنیکی معاملات میں بھی دلچسپی رکھتا ہوں اس لیے جب اس پر تحقیق شروع کی کہ بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟ تو علم ہوا کہ گوگل اور دیگر سرچ انجنز بھی زیادہ مواد کو بہتر خیال کرتے ہیں۔ لیکن کیا اردو بلاگز اور ویب سائٹس کو سرچ انجنز کے ناز نخرے اٹھانے کی ضرورت ہے؟ میرا جواب ہے: نہیں۔ اس کی وجہ مختصراً اسی بلاگ کے آخر میں بیان کردی ہے۔

بہرحال، انٹرنیٹ پر تحقیق، بلاگستان میں عمومی رویوں اور سوشل میڈیا صارفین کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد جو نتائج اخذ حاصل ہوئے وہ درج ذیل ہیں۔

75 تا 400 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

یہ انتہائی مختصر بلاگ ہوتے ہیں جو چند جملوں یا پیرگرام پر مشتمل ہوجاتے ہیں۔ انہیں مائیکرو بلاگ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس طرح کی تحاریر لوگ زیادہ پڑھتے ہیں اور ان پر اظہار خیال بھی کرتے ہیں۔ تو اگر آپ کو زیادہ تبصرے حاصل کرنے ہیں تو مختصر اور پر اثر لکھیں۔ ویسے اتنے کم الفاظ کی تحاریر کو سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک اور ٹویٹر پر لکھا جائے تو زیادہ موزوں رہے گا۔ لیکن چونکہ سوشل نیٹ ورکس پر شایع ہونے والے مواد بہت جلد نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور مستقبل کے لیے قابل تلاش بھی نہیں رہتا، اس لیے ایسے موضوعات جو سالہا سال پڑھے جانے کے قابل ہوں انہیں ضرور بلاگ پر شایع کرنا چاہیے۔

400 تا 800 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

بلاگنگ کے گرو چار سو سے آٹھ سو الفاظ تک پر مشتمل بلاگ لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود بھی اکثر اسی پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ اتنے الفاظ میں ایک بلاگ کے اندر بات مکمل کی جاسکتی ہے۔ اس طوالت کے بلاگ لوگ کم وقت میں مکمل پڑھ بھی لیتے ہیں اور تبصرہ نہ بھی کریں تو سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک، ٹویٹر اور گوگل پلس پر شیئر کرنے کا رجحان کافی پایا جاتا ہے۔

800 تا 1200 الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

الفاظ کی یہ تعداد چونکہ اخبارات میں کالم و مضامین لکھنے کے لیے استعمال ہوتی آرہی ہے اس لیے صحافت سے شدبد رکھنے والے بلاگر اسے زیادہ مناسب خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات عام طور پر دیکھی گئی ہے کہ جدت کے دلدادہ افراد بھی کتاب اور اخبارات کو کاغذی شکل ہی میں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور آن لائن انسیت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر طویل مضمون نہیں پڑھ پاتے۔ اور اگر اتنے طویل بلاگ کو لوگ دلچسپی سے پڑھ بھی لیں تو تبصرے کم ہی کرتے ہیں البتہ ایسے بلاگ مختلف اقتباسات کی صورت میں سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کیے جاتے ہیں۔

1200 سے زائد الفاظ کا بلاگ

پڑھنے کا رجحان: تبصرے: سوشل شیئرنگ:

اتنے طویل بلاگز لوگ کم پڑھتے ہیں یوں تبصروں کا رجحان بھی نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ اگر واقعی کوئی بلاگ ایسا ہو کہ جس کا احاطہ ہزار الفاظ میں نہ ہوسکے تو بہتر رہے گا کہ اسے آڈیو بلاگ یا ویڈیو بلاگ کی شکل دے دی جائے۔ آڈیو بلاگ میں سامع سننے کے ساتھ دوسرے کام بھی کرسکتا ہے اور یوں وقت کا احساس نہیں ہوتا۔ ویڈیو بلاگنگ میں چونکہ منظر دکھانے کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے بہت سے الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سرچ انجن مثلاً گوگل اور بنگ چونکہ مواد کے بھوکے ہوتے ہیں، اس لیے ان کو طویل مضامین، تحاریر اور بلاگرز بہت پسند آتے ہیں۔ سرچ انجن سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایسے موضوعات پر لکھیں جو لوگ سرچ بھی کرتے ہوں کیوں کہ اگر آپ ایسے موضوع پر لکھیں کہ جو کوئی تلاش ہی نہ کرتا ہو یا پڑھنا ہی نہ چاہتا ہو تو پھر آپ اپنا قیمتی وقت ضایع کر رہے ہیں۔

اردو رسم الخط میں سرچنگ کا رجحان انتہائی کم ہونے کی وجہ سے آن لائن اردو مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے سرچ انجنز زیادہ فائدہ مند نہیں رہے۔ مثلاً اردو زبان میں لفظ پاکستان تلاش کرنے والوں کی تعداد میں pakistan تلاش کرنے والوں سے کئی سو گنا کم ہے۔ اس لیے اردو کے بلاگز اور ویب سائٹس کا فی الوقت سرچ انجن آپٹیمائزیشن پر توجہ دینا زیادہ کارآمد نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

32 تبصرے

  1. جواد احمد خان کہتے ہیں

    اس مضمون سے بالکل متفق ہوں. اگر آپ کم سے کم الفاظ میں بات نہیں کر سکتے تو بلاگنگ آپکے لیے موزوں نہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. نورین تبسم کہتے ہیں

    بہت اچھی اور واضح تحریر…. انتہائی کارآمد معلومات فراہم کیں آپ نے..
    مجھے نیٹ پر اکاؤنٹ بنائے اور بلاگنگ کرتے ابھی تین سال بھی نہیں ہوئے اس لیے کوئی ماہرانہ رائے دینے کی قطعی مجاز نہیں. اور تکنیکی معاملات پر تو میرا بلاگ بھی بہت پیچھے ہے جس پر رہنمائی کی درخواست بھی ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. سعد مقصود کہتے ہیں

    بہترین بلاگ ہے مجھ جیسا نیا بلاگر اس سے بہت کچھ سیکھ چکا ہے بہت شکریہ اہم معلومات کا بھائی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمد زبیرمرزا کہتے ہیں

    مجھ سے نو آموز کے لیے بے حدمفید ہے یہ تحریر کافی معلومات آپ نے ہم تک پہنچادی – شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمد سعد کہتے ہیں

    میں تو بھئی، تحریر کے فارمیٹ کی تعریف کرنے آیا ہوں۔ خاص طور پر جس انداز میں ہر طرح کی تحریر کے ساتھ ابتداء میں تین اہم خصوصیات کا مختصر موازنہ کیا گیا ہے۔ اس سے تحریر جلدی میں گزرتے قارئین کے لیے بھی زیادہ مفید ہو گئی ہے کہ اہم نکات فوراً نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. کاشف نصیر کہتے ہیں

    میرے مطابق فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے بلاگرز کے لئے 75 تا 400 الفاظ اور باقاعدہ بلاگ لکھنے والوں کے لئے 400 تا 800 الفاظ ہونے چاہئے۔ اسی طرح جب کوئی علمی اور تحقیقی موضوع پر قلم اٹھائے تو پھر وہ ہرگز ہرگز طوالت کی فکر نہ کریں، اور موضوع کو اس وقت نہ سمیٹے جب تک خود اسکے نزدیک انصاف نہ ہوگیا ہو۔ بعض بلاگرز بلاگ کو اپنی ادبی تصانیف جیسے شاعری، افسانے اور ڈراموں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں، انکے لئے 800 تا 1200 الفاظ آئیڈیل ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. Sarwat AJ کہتے ہیں

    اتنا خوش خط بلاگ کہ دهک رہ گئے
    آپ ایسا کریں ….بلاگز کا کلینک کهول لیں ….. امراض اور اعراض کی تشخیص کرکے دوا دارو کا بندوبست کردیں …… بلاگ المخلوقات کی دعائیں سمیٹیں
    بلاگ کی طوالت ایسی ہو کہ قاری پہ خفقان طاری نہ ہو ….. جو کہ میرے خیال میں 80% قارئین کو زیادہ سارے حروف دیکھ کر ہوجاتا ہے …..
    کم کم ہی محنتی طالبِ علم ہوتے ہیں جو بڑے ہو کر لمبے بلاگز، کالمز اور کتابیں پڑهنے والے بن جاتے ہیں ….. ورنہ بلاگ کے اس طرف اور دوسری طرف کا مشاہدہ اور تجربہ یہی ہے کہ خال خال ہی جڑ کر بیٹھ کر پڑهنے والے اردو قاری ہیں ….. بہت ہی کم ….

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. نجیب عالم کہتے ہیں

    ایک بہت اچھی تحریر جو تمام بلاگرز کے اہم اور کارآمد ہے…اگر مناسب سمجھیں تو اس کا عنوان تبدیل کر کے ” بلاگ کیسے لکھنا چاہئے ” کر دیں … اور اوپر ٹیب پر اس کا مستقل لنک فراہم کردیں…

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. اسریٰ غوری کہتے ہیں

    بہت خوب ایک زبردست اور ہم جیسے سیکھنے والوں کے لیے بہترین رہنما تحریر

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. مبشر محمود کہتے ہیں

    میں اتفاق کرتا ہو کہ 400 تا 800 الفاظ کا بلاگ صحیح رہے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. farhat tahir کہتے ہیں

    such an informative blog! I complete my blog in 1300 to 1500. now will try 1000. within

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. محمد اسلم فہیم کہتے ہیں

    ہم تو طالب علم ہیں آپ کے بلاگ سے کچھ سیکھ تو سکتے ہیں لیکن تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عمیر محمود کہتے ہیں

    بہت منفرد اور فائدہ مند تحریر۔ آپ بتا سکتے ہیں یہ اعداد و شمار کہاں سے حاصل کیے؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. نورین تبسم کہتے ہیں

    @Sarwat AJ:
    سچ کہا ثروت عبدالجبار۔ میں بھی کہوں کہ اس بلاگ کی کیا چیز بہت خاص اور منفرد ہے جو سمجھ نہیں آرہی تھی ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. محمد اسد کہتے ہیں

    @جواد احمد خان: بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب!

    @نورین تبسم: ضرور ان شاء اللہ، عید کے بعد فرصت سے بلاگ اسپاٹ کے حوالے سے بھی لکھنا شروع کروں گا. امید ہے ساتھی بلاگران اسے مفید پائیں گے.

    @سعد مقصود اور @محمد زبیرمرزا: پسندیدگی کا شکریہ برادران!

    @کاشف نصیر: بہت مناسب رائے ہے. میں اتفاق کرتا ہوں.

    @Sarwat AJ: جی بالکل، میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ طوالت کم رکھی جائے اور اگر زیادہ طویل بلاگ ہوجائے تو اسے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے.

    @نجیب عالم: تجویز کا شکریہ نجیب بھائی. اوپر لنک شامل کیے دیتا ہوں البتہ “بلاگ کیسے لکھنا چاہئے” کا عنوان بہت وسیع ہے. میں کوشش کروں گا کہ اس سلسلے میں مزید بلاگ لکھوں اور پھر ان کا مجموعہ آپ کی تجویز کردہ سرخی کے ساتھ شایع کروں.

    @اسریٰ غوری اور @مبشر محمود: آپ دونوں کا بہت شکریہ.

    @farhat tahir: پسند کرنے کا شکریہ. میری رائے میں ایک موضوع پر مختصر لکھنا ممکن نا ہو تو اسے قسط وار کیا جاسکتا ہے. باقی آڈیو اور ویڈیو بلاگ کے حوالے سے اپنی رائے شامل بلاگ کر چکا ہوں.

    @محمد اسلم فہیم: ارے ڈاکٹر صاحب! جتنا آپ کا تجربہ ہے اتنی تو ہماری کل عمر ہے 🙂 آپ ہمیں سکھانے کے لیے ہی سہی، تبصرہ کر دیا کریں۔

    @عمیر محمود: یہ اعداد و شمار کسی ایک جگہ سے حاصل نہیں کیے گئے بلکہ انہیں مرتب کرنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا پڑا۔ گوگل کرنے پر اس موضوع پر کئی انگریزی مضامین ظاہر ہوجائیں گے جو بہت مفید ہیں، لیکن اردو اور انگریزی کے فرق + مغرب و مشرق میں پڑھنے کے رجحان اور ٹیکنالوجی کے فرق کو دیکھا گیا، جس سے اندازے اور اعداد انتہائی مختلف ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اپنا تجزیہ پیش کرنے سے پہلے موضوعاتی، ذاتی اور اخباری اردو بلاگز کو کھنگالا گیا، سوشل میڈیا پر لکھنے والوں کی پروفائلز کو جانچا اور پھر کچھ ذاتی منصوبوں میں لوگوں کی رائے اور خواہش جانی اور اس طرح کے دیگر مراحل کے بعد حتمی رائے بلاگ بند کی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. محمد نعیم کہتے ہیں

    ایک اچھا موضوع زیر بحث لایا گیا ہے۔ میری رائے کے مطابق یہ مختصر پڑھنے اور لکھنے کا دور ہے۔ کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر طویل تحریریں پڑھنا ایک وقت اور توجہ طلب کام ہے۔ تحریر اگر مختصر ہو گی تو سب پڑھنے میں دلچسپی لیں گے۔ باقی نوسو ہزار الفاظ کی تحریر اگر کوئی ویب کے لیے لکھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ مختلف تصاویر،ویڈیوز اور انفوگرامز کے ذریعے دلکش بنائے۔ روکھے سوکھے اتنے زیادہ الفاظ ویسے ہی کسی کو ہضم نہیں ہوں گے۔ نہ کوئی اس طرف آئے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    بہت اچھی اور معلوماتی تحریر ہے ۔ اس قسم کی تحاریر شائع ہوتی رہنا چاہئیں ۔ درست کہ تحریر کی زیادہ طوالت دلچسپی رکھنے والے قاری کیلئے بھی منفی اثر رکھتی ہے ۔ میں جمعہ جمعہ آٹھ دن کا بلاگر ہوں ۔ کہتے ہیں کہ آدمی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے سو میری رائے یہ ہے ” وقت وقت کی بات ہے ۔ جس طرح موسم بدل چکے ہں اسی طرح دلچسپیاں بھی بدل گئی ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں یہی کوئی آٹھ دس سال قبل ۔ تنقیدی تبصرے بھی ہوتے تھے اور کیڑے بھی نکالے جاتے تھے لیکن ساتھ ہی محنت سے معلوماتی تحریر لکھی جائے تو بہت قاری بن جاتے تھے ۔ تحریر پر مزید معلومات کیلئے سوالات پوچھے جاتے تھے ۔ اب تیز روی کا زمانہ آ گیا ہے ۔ معیار کی قدر کم ہے ۔ چنانچہ کیا کیا جائے اس کا قیاس مشکل ہے ۔ گو ایسے قاری اب بھی ہیں جو معیاری خواہ طویل ہوں تحاریر پڑھتے ہیں“۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. علی کہتے ہیں

    ای میل کا بہت شکریہ میں نے پڑھ لیا تھا پہلے ہی لیکن تبصرہ اس لیے نہیں کیا میں نہ ماہر انجینئر نا اچھا لکھاری نہ اچھا سیکھنے والا تو بندہ کیا تبصرہ کرے- بس یہی لکھے دیتا ہوں میرے اکثر بلاگ 1200 سے زائد الفاظ کے ہیں- اور جو کہانیاں ہوتی ہیں وہ تو جتنی طویل ہو جائیں میں نے کبھی نہیں روکا- لیکن بلاگ 1600-1700 سے بڑھ جائے تو میں روک لیتا ہوں اور رسپانس جو اچھا ہوتا ہے اس پر تبصرے بھی آتے ہیں، ٹریفک یہ ہے کہ اوسطاً 100 وزٹ روز ہوتے ہیں – باقی میرا خیال اور میری رائے محفوظ ہی رہنے دیں تو بہتر ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. زکریا ایوبی کہتے ہیں

    نئے بلاگرز کے لیے ایک رہنما تحریر ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. محمد ہارون راجپوت کہتے ہیں

    تبصرہ کرنے کی گستاخی ہم نہیں کر سلتے اآپ نے جو لجھا ہے خوب لکھا ہے جناب نئے بلاگرز کو اس طرح کی رہنمائی کی بہت اشد ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایک بہترین ورکشاپ کا مواد بھی ہے نئے بلاگرز کے لیے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. فاطمہ خان کہتے ہیں

    جی آپ نے بہت سہی بات کہی ہے ان باتوں کا لحاظ ہونا چاہیئے. کچھ بلاگرذ اس کا لحاظ کم رکھتے ہیں نام لینا دل شکنی ہوگی.

    میں بھی محسوس کی ہوں آسان زبان میں جو بات پیش کی جاسکتی ہو اسے فلسفیانہ انداز میں طول دیا جاتا ہے. چند سطور پڑھنے کے بعد بوریت محسوس ہونے لگتی ہے تو وہاں سے Exit ہونا پڑتا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  22. عمیر کہتے ہیں

    اعلیٰ موضوع کا انتخاب کیا ہے آپ نے۔ بلاگنگ کے بارے میں اسی طرح کی مزید تحاریر کی ضرورت ہے جو انٹر نیٹ پہ موجود معلومات کا احاطہ کریں لیکن اس میں اردو اور اردو قارئین کے رجحانات کو بھی مد نظر رکھیں۔
    میں خود تو تقریبا ایک سال سے بلاگستان سے خود ساختہ “ملک بدری” کا شکار ہوں لیکن پڑھنے کیلئے کبھی کبھار ضرور چکر لگا لیا کرتا ہوں۔ بلاگستان میں موجود ٹرینڈز، ممکنہ موضوعات و رجحانات پہ بھی اگر کوئی تحریر قلم بند کر سکیں تو بہت ہی اچھا ہو۔ بعض اوقات ایک بلاگر کو کسی کی تحریر یا موضوع دیکھ کر اس سے ملتا جلتا کچھ ذہن میں آ جاتا ہے جسے وہ لکھ لیتا ہے۔ اگر انگریزی زبان کے بلاگز کو دیکھا جائے تو ان میں اکثر اس طرح کی تحاریر ملتی ہیں جن میں بلاگرز کیلئے ممکنہ موضوعات پیش کیے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے اس سے لکھنے والوں کو تحریک ملتی ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  23. نعیم خان کہتے ہیں

    نئے اور پرانے لکھنے والوں کیلئے ایک جامع تحریر ہے۔ انشاء اللہ ان ہدایات کو مدنظر رکھیں گے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  24. زوہیب اکرم کہتے ہیں

    صرف دو لفظ کہنا چاہوں گا
    “بہت عمدہ”

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  25. عادل وادھوا کہتے ہیں

    میرا خیال ھے کہ نجیبّ عالم نے بُنیّادی بات کی تھی،
    مضمون کا ماخز، یعنی سرّ پپیٹ اور پیرّ کے بارے میں اور واقعّی میں راقم نے بلاگ کے ان تینوّں اجزاء پہ کوئی روشنیّ نھی ڈالی، بلکہ،
    سمجھانے کی کوششّ اتنی سی تھی کہ بلاگ کے الفاظ مُختلف لوگ کتنے اتعمال کریں تو فائدہ مند بلاگ لِکھا جا سکتا ھے،
    میرا خیال ھے ایک اچھّی کاوشّ ھے،
    اور بلاگ/ مضمون لِکھّا کیسے جائے اِس بارے میں طالبعلموّں کو ضرور گائیڈ کیا جان چاھئے،
    نوجوان اپنا قیمتّ وقت اگر دینا چاھیں تو اُن کی حوصلہ افزائی ضروری ھے،

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  26. breakno.com کہتے ہیں

    nice sharing i like this

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  27. کائنات بشیر کہتے ہیں

    بہت مفید، کارآمد موضوع اٹھایا۔شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  28. عادَل سُہیل ظفر کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    جزاک اللہ خیراً بھائی محمد اسد صاحب ، ماشاء اللہ بہت اچھی معلومات مہیا کی ہیں ، جو یقیناً اردو بلاگرز کے لیے کافی مدد گار ہیں ، باِذن اللہ ،
    یہ بات تو واقعتاً اِنسانی نفسیات کے مُطابق ہے کہ طویل موضوعات کو پڑھنے والے کم ہوتے ہیں ، لیکن بعض موضوعات ، اور بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں مکمل معلومات مہیا کرنا ناگزیر ہوتا ہے ، کہ ناقص معلومات عموماً غلط فہمیوں کا سبب بن جاتی ہیں ،
    یا یہ کہ مختلف قِسم کی معلومات کا وجود اُن معاملات یا موضوعات کو پہلے ہی گھن چکر بنائے ہوتے ہیں ، اور قارئین کو اُس چکر میں سے نکالنے کے لیے اُن کے سامنے کافی تفصیلات پیش کرنا پڑتی ہیں ، لہذا الفاظ کی پابندی یا کم سے کم الفاظ والا نسخہ وہاں کام نہیں آتا ،
    جیسا کہ میرے بلاگ میں عموماً کافی طویل مضامین ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ اُن کے موضوعات اور موضوعات سے متعلق پہلے سے موجود معلومات اور خبروں کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُن کا ہر طرف سے احاطہ کیا جائے ،
    پس آپ کی پیش کردہ معلومات کے پیش نظر ، اور میرے تجربے اور مشاہدے کے مُطابق میں یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ کسی بھی لکھنے یا بولنے والے کو یہ کوشش کرنا ہی چاہیے کہ وہ بات کو مختصر لیکن مدلل رکھے ، اور جہاں تک ممکن ہو زیر تحریر یا زیر کلام موضوع تک ہی محدود رہے ،
    عربی میں ایک مقولہ ہے کہ “””خیر الکلام ما قل و ما دل و یکون فی الخیر وللخیر ::: سب سے اچھی بات وہ ہے جو مختصر اور مدلل ہو اور خیر والے معاملے میں ہو اور خیر کے لیے ہو”””، والسلام علیکم۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  29. راشد حمزہ کہتے ہیں

    اسد بھائی!! بلاگز کی ٹیکنیک پر مفصل اور معنی خیز تحریروں پر ڈھیروں داد..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  30. ثاقب کہتے ہیں

    جناب اردو میں اسٹوری لکھنے کی کوئی سائٹ یا کوئی بلاگ ہو تو ضرور بتائیے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.