حکومت کی وگ

wigدنیائے ٹینس کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی آندرے آگاسی نے نومبر 2009ء میں اپنی کتاب اوپن (Open) کا اجراء کیا. اپنی اس سوانحہ حیات میں جہاں انہوں نے اور بہت سی دلچسپ باتوں کو ذکر کیا وہیں اپنے اس ہیئر اسٹائل کا راز بھی افشاں کیا کہ جو ایک طویل عرصہ تک نوجوانوں میں مقبول رہا. انہوں نے لکھا کہ میں 1990ء میں فرنچ اوپن کے فائنل میچ میں ان کے بالوں کا مخصوص انداز دراصل ایک "وگ" تھی جو کہ انہوں نے تیزی سے گرتے ہوئے بالوں کو چھپانے کے لئے پہن رکھی تھی. وہ لکھتے ہیں کہ اس وگ کے گرجانے کے خوف کی وجہ سے وہ اپنی تمام تر توجہ کھیل پر مرکوز نہ رکھ سکے جس کی وجہ سے انہیں ایک اہم ترین میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا.

آج پیپلز پارٹی کا بھی وہی حال ہے جو انیس سال قبل آندرے اگاسی کا ایک انتہائی نازک موقع پر تھا. حکومتی جماعت ایک ایسے ٹینس کورٹ میں پہنچ چکی ہے جہاں اسے پے در پے کئی حریفوں کا سامنا ہے. اور ہماری حکومت بھی وہی غلطی کررہی ہے کہ جو اس عظیم کھلاڑی کے لئے پچھتاوے کا باعث بنی. موجودہ حکومتی اراکین بشمول گورنر پنجاب اور اٹارنی جنرل کے حالیہ بیانات سے واضح اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اس وقت انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور پوری طاقت محض اپنی "وگ" کو بچانے میں خرچ کررہی ہے.

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے عہدیداران عوام کی خاطر نہیں بلکہ صرف اور صرف اس "وگ" کی خاطر حکومت کر رہے ہیں. انہیں شاید اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ وہ ایک اہم اور نازک موقع پر ملکی قیادت پر براجمان ہیں. حکومت ایک ایسے میدان میں کھڑی ہے جہاں چھوٹی سی غلطی جمہوری سسٹم بالخصوص پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے. ہماری حکومت اس "وگ" کو بچانے کے لئے جتنی بھاگ دوڑ کررہی ہے، اگر اتنی ہی کوششیں ملک میں امن و استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کی جائیں تو نہ صرف پاکستان تاریخ کے مشکل ترین دور سے باہر نکل سکتا ہے بلکہ ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز بھی کرسکتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کو اس مشکل اور اہم میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس "وگ" کی پرواہ چھوڑنی ہوگی تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ ملک دشمن عناصر کو زیر کرنے پر مرکوز کرسکے. گیلانی حکومت کو یہ فیصلہ جلد کرنا ہوگا کہ آیا اسے یہ "وگ" سنبھالنی ہے یا پھر کٹھن میدان میں پاکستان کو مطلوب کامیابی سے ہمکنار کرانا ہے. اس سے پہلے پہلے کہ تینوں راؤنڈ مکمل ہوجائیں اور حکومت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا تھا یہ خبر پڑھ کر کہ آندرے اگاسی کے مشہور زمانہ بال اصلی نہ تھے۔ ہمارے بچپن کا پسندیدہ ترین ٹینس کھلاڑی، جس کی نقل میں ہم بھی بال بڑھانے کی تمنا دل میں لیے بیٹھے رہے، یہ الگ بات کہ گھر والوں کی سختی کی وجہ سے اس پر عملی جامہ نہ پہنا سکے، بہت افسوس ہوا کہ وہ زلفیں نقلی نکلیں۔
گنجا اگاسی مجھے کبھی پسند نہیں آیا شاید اس کے بالوں ہی میں کوئی کشش تھی جو اسے ایک کرشماتی کھلاڑی بناتی تھی۔ بہرحال اس کے علاوہ کوئی اور کھلاڑی ٹینس میں کبھی نہیں اچھا لگا نہ کھیل کے لحاظ سے نہ شخصیت کے لحاظ سے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جعفر says:

ہماری اشرافیہ کسی کو اپنے کرتوتوں کا حساب دینے کے نظریے پر بالکل یقین نہیں رکھتی
بنی اسرائیل کی طرح یہ بھی خود کو خدا کے لاڈلے سمجھتے ہیں اور جو ان کے من میں آئے اس کو کرنےمیں ہچکچاتے نہیں
تو ایسی صورت میں وگ تو ان کی آن اور ایمان کا مسئلہ ہے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب