ہم کس گلی جا رہے ہیں؟

ایک وقت تھا کہ جب ہم اپنے بڑے بوڑھوں سے کراچی میں ہونے واقعات کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ یہاں کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات کو  اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور کڑے وقتوں کو برداشت کیا ہے کہ جن کا آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ان میں فرقہ وارانہ و لسانی فسادات کے دوران کھمبے بجنے اور گدھے جلائے جانے تک سبھی کچھ شامل ہے۔ گو کہ ہمیں اس طرح کی 'تاریخی داستانیں' سنانے والی آنکھیں کراچی کے اچھے حالات دیکھنے کی آس لیے تاریک ہوچکیں لیکن اس شہر میں آج بھی ویسا ہی ماحول، ویسی ہی بو، ویسا ہی ڈر اور ویسا ہی خوف محسوس ہوتا کہ جو اندوہناک واقعات سنتے ہوئے ہوتی تھی۔ بس فرق پڑا ہے تو صرف اتنا کہ پہلے جائز و ناجائز اور اچھے و برے کی تمیز تھی لیکن اب شاید وہ بھی ناپید ہوچکی ہے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا کہ جب 12 مئی 2007ء کو کراچی نے حکومتی سرپرستی میں پلے پوئے گِدھوں کو نہتے انسانوں کا شکار کرتے دیکھا۔ روشنیوں کے شہر کے لیے یہ دن کس قدر "تاریکی" حیثیت رکھتا ہے اس کا اندازہ ہر سال 12 مئی کو مقتولین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قاتلوں کی دہائیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو اس روز غم کربلاء کا سا ماحول پیدا کرتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مجرموں کو پکڑنا تو درکنار ذمہ اداروں سے یہ تک نہیں پوچھا گیا کہ وہ اس روز تماش بین کیوں بنے رہے؟ بہرحال! جب قانون کے لمبے ہاتھ ظالموں کا روکنے میں ناکام رہیں تو ظالم کے ہاتھ لمبے اور قانون کے چھوٹے پڑنے لگتے ہیں۔

چونکہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کے مجرم سرے عام گھومتے پھر رہے ہیں اس لیے مجھے کم از کم اس بات پر قطعاً حیرانی نہیں ہوگی اگر آنے والے وقتوں میں ہمیں اس طرح کے مزید واقعات دیکھنے کو ملیں۔ ازرائے تشفی جملے کے آخر میں خدانخواستہ لکھنا چاہتا ہوں لیکن حالیہ مہاجر صوبہ کی بازگشت کسی نئے فساد کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔

صوبے کی تحریک کو عوامی بنانے کے لیے مہاجر صوبہ لبریشن آرمی نے کراچی میں وال چاکنگ، پوسٹرز، اور لٹریچرز تقسیم کیئے گئے وہ تو اپنی جگہ لیکن جس قسم کے خطوط سندھ کے اراکین اسمبلی کو بھیجے گئے اس سے اس تحریک کے پیچھے چھپی سازشی سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں مہاجر صوبے کے لیے کی جانے والی اس پمفلٹی دہشت گردی کا جواب حسب توقع دھمکی آمیز اور غیر اخلاقی الفاظوں کا مجموعہ چھاپ کر دیا گیا ہے جسے آپ کراچی کی دیواروں پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

مذہبی شدت پسندی پر اٹھنے والی آوازیں اور انگلیاں نہ جانے اس غیر مذہبی / لسانی شدت پسندی پر کیوں خاموش اور فالج زدہ ہوجاتی ہیں کہ جو ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے اس شہر کا امن تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ صوبہ بنانے یا اس کے خلاف تحریک چلانے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن ہر قسم کے دنیاوی و اخلاقی قوانین سے ماوراء موجودہ شدت پسند تحاریک ہمیں ایک بند گلی کی جانب دھکیلنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی کہ جس کے آخر میں بربادی ہی اس شہر کا مقدر بنے گی۔

 

مہاجر صوبہ لبریشن آرمی کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کو لکھا جانے والا خط

 

مہاجر صوبے کے خلاف منظر عام پر آنے والا پمفلٹ

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. سعود نے کہا:

    😥

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. اِنّا لِلہِ وَ اِنّا ِالَہِ رَجِعُون

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. اگر روزنامہ امت نا ہوتا تو اس قسم کی سنسنی خیز اور دۃشت سے بھرپور خبریں دیواروں اور وال چاکنگ کے ساتھ ہی دم توڑدیتیں.
    مہاجر صوبہ لبریشن آرمی نامی مخلوق کونسے سیارے پر پائی جاتی ہے اور لاکھوں کفن اور کروڑوں گولیاں بانٹنے والے سندھی قوم پرست کہاں پائے جاتے ہیں؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. یاسر عمران نے کہا:

    سر جی لگتا یہ ہے کہ لوگ خود ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں، اور سیاست دان ان کی اسی سوچ کو ہوا دے کر اپنے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ لالچ نے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑا، یہی لالچ اسے قبر کی تاریکی میں اتار کر دم لے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. راحت حسین نے کہا:

    استغفراللہ.
    اللہ ہمیں اور ہمارے پاکستانی بہن بھائیوں کو فسادیوں کے شر سے محفوظ رکھے (آمین).

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. ﺳﻌﻴﺪ نے کہا:

    ﻣﻴﮟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﻼﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ (ﮔﻠﻴﮑﺴﯽ ﻭﺍﺋﮯ +ﺍﻭﭘﻴﺮﺍ) ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺑﻼﮒ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﻳﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﻳﺎﮞ ﺣﺼﮧ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﻴﮟ ﺁﺭﮨﺎ.... ﺳﻮ ﺑﻐﻴﺮ ﭘﮍﮬﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد نے کہا:

    @ﺳﻌﻴﺪ: تکلیف کی معذرت. غالبآ گہرے رنگوں کے باعث آپ موبائل پر بلاگ تحریر نہ پڑھ سکے. بلاگ کو بہتر بنانے اور موبائل براؤزرز سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کروں گا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. اسد حبیب نے کہا:

    اب اس سے زیادہ نہ کچھ کہا جا سکتا ہے اور نہ دل کرتا ہے

    "برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلو کافی ہے
    ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہو گا؟؟" 🙁

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. نعمان یونس نے کہا:

    جمہوری سیاست سیاست اور صرف سیاست...

    یہ لسانی بنیاد پر جیتنے والے خود اپنی قوم کے خیرخواہ نہیں.

    دونوں نے اپنی قوموں کو بدنام کیا.... اور اس سے بڑھ کر اپنے ہی لوگوں کو قربان کیا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. azhar نے کہا:

    pakistan main agar subay banay hain tu lasani bunyad per nahi balkay intezami zaroorat kay tehat banay chahiyen

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 8 اگست 2012

    [...] البتہ کئی چھوٹے چھوٹے گلیشیئر آ رہے تھے مگر یہ سب کے سب بلاعنوان تھے۔ کھائیوں میں جفاکش پرندے اڑ رہے تھے اور یقینا ان کے [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے