اقبال اور ہم

22

“میں علامہ اقبال سے ملنا چاہتا ہوں” یہ الفاظ سن کر میرے دوست کی ہنسی نکل گئی۔ گو کہ میں نے بات مکمل سنجیدگی سے کہی لیکن اس کے باوجود وہ اسے سن کر ہنستا ہی چلا گیا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس کا بھی یہی حال ہوتا۔ آئسکریم پارلر میں ہم سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے دو چار لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بمشکل اپنی ہنسی کو ضبط کرتے ہوئے پوچھا “کیوں بھئی؟ آخر تم اقبال سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟” میں نے جواب دیا “بچپن میں بہت سے رسالوں میں پڑھا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال جیسی شخصیات خوابوں میں آتی ہیں اور وہ ملاقات کرنے والے سے بات کرتے ہیں، انہیں نصیحت بھی کرتے ہیں”۔ “لیکن وہ صرف تصوراتی ملاقات ہوتی ہے” اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “ہاں! لیکن اس کے باوجود ہر سال 9 نومبر کو میری یہ خواہش تازہ جاتی ہے کہ کسی طرح میری اس عظیم شاعر سے ملاقات ہوجائے”۔ میری اس بات پر ایک بار پھر اس کی ہنسی نکل گئی۔

میں نے اسے گھورا، لیکن اثر نہ ہوتا دیکھ کر آہستگی سے کہا “میں سیریس ہوں یار!” یہ سن کر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا اور مجھ سے پوچھا “اچھا، اگر بالفرض اقبال سے ملاقات ہو بھی گئی تو کیا کرو گے؟”۔ میں سوچنے لگا لیکن اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا، وہ خود ہی بول پڑا “تم ایسا کرنا کہ اقبال کو ملک کی تاریخ اور حال احوال بتانا، پاکستان کے قیام سے لے کر اس کے دو لخت ہوجانے تک، جمہوری حکومتوں کی کرپشن سے لے کر فوجی حکومتوں کے مظالم تک، قوم پرستی سے لے کر مذہبی فرقہ واریت تک سب کچھ بتادینا، اور انہیں بھی اس ملک سے محبت رکھنے والے ہر شخص کی طرح رنجیدہ و افسردہ کردینا” اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔

پھر سنجیدہ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوا “اقبال کو بتانا کہ جس وطن کا خواب آپ نے دیکھا وہ ہماری ناعاقبت اندیشیوں کی نظر ہوکر ٹوٹ گیا۔ یہ سن کر اگر اقبال تمہیں نصیحت کریں کہ ‘سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا’ تو انہیں بتانا کہ یہ اوصاف تو کب کے پچھلی نسلوں کے ساتھ ہی ناپید ہوگئے۔ تم انہیں کہنا کہ اے علامہ! جس وطن کو مذہب کا کفن قرار دیا، آج ہم اسی کی پرستش کررہے ہیں۔ ہمارے میدان، ہماری گلیاں، ہمارے ایوان سب وطن پرستی اور قوم پرستی کے نعروں سے گونج رہے ہیں، اگر یہ سن کر اقبال پریشان ہو کر تم سے کہیں کہ ‘قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں’ تو انہیں بتانا کہ اب یہاں مذہب پسندی جرم ٹہرا، قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت اب دہشت گردوں کے عناصر قرار پائے اور دینِ فکرِ غیور اب دینِ فکرِ مجبور بنا دیا گیا” وہ خلاف توقع بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا۔

اس نے دو گھڑی سانس لیا اور پھر دوبارہ کہا “علامہ صاحب کو آج کے ‘اقبال ڈے’ کا بھی ضرور بتانا۔ انہیں موسیقی کی دہنوں پر نظمیں پڑھنے والوں کا بھی بتانا۔ انہیں کہنا کہ اب ہم جیسے جوانوں کی خودی کھوچکی، ان کی عقابی روح بھی مردار ہوچکی، ان کی منزل آسمان نہیں عیش و عشرت ہے، آج کے محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے نہیں ہوتے بلکہ نرم و گداز افرنگی صوفوں اور ایرانی قالینوں پر آرام فرماتے ہیں۔ انہیں بتانا کہ ہم میں ذوق یقیں باقی ہے اور نہ نگاہ مرد مومن، گر ہے تو بس اغیار کی غلامی جس سے نجات کی اسلامیوں میں قوت نہیں، چونکہ وہ ایک جمعیت نہیں، سو ملت بھی نہیں” یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر رکا اور پھر تھکے تھکے لہجے میں کہنے لگا “لیکن مجھے لگتا ہے کہ تم یہ سب باتیں کہہ بھی دو تو علامہ اقبال ہماری بے وفائی کی یہ داستان سن نہیں سکیں گے”۔ وہ خاموش ہوگیا اور میں جھکی ہوئی آنکھوں سے سامنے رکھے آئسکریم کپ کو دیکھنے لگا۔ جس میں موجود آئسکریم مجھے اپنی طرح شرم سے پانی پانی ہوتی محسوس ہورہی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

22 تبصرے

  1. fikrepakistan کہتے ہیں

    کاش کہ علامہ کی فکر کو ٹھیک سے سمجھ لیا گیا ھوتا تو آج کا پاکستان صحیح معنوں میں پاک اس تان ھوتا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    ہم تو سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ایک ہزار کلوگرام دحماکہ خیز مادہ استعمال کر کے کراچی میں سی آئ ڈی کی عمارت اڑائ اور اسکی ذمہ داری قبول کی وہ دہشت گرد ہیں. وہ تمام لوگ جو انکے کاز اور جدو جہد کی حمایت کرتے ہیں ان کا دفاع کرتے ہیں وہ انکے حمائیتی ہیں.
    اب آپ بتائیے، کیا انہیں مذہبی عناصر سمجھا جائے، انہیں جبروتو قدقسی و قہاری غفاری سمجھا جائے یا دہشتگرد. وہ لوگ جو انکی حمایت کرتے ہیں اور انکا دفاع کرتے ہیں انہیں کس کھاتے میں رکھا جائے. ذوق یقیں پیدا کرنے والوں کےکھاتے میں ، نگاہ مرد مومن رکھنے والوں کے کھاتے میں یا دہشت گردوں کے حوصلے بڑھانے والے بے وقوفوں میں.
    اگر آپ کے پاس ان سوالوں کے جواب نہیں ہیں تو پلیز اقبال سے ضرور پوچھئیے گا مجھے یقین ہے وہ کہیں گے. ہم نے اپنے عہد کے مسئلے حل کئے بچہ. تو دوسرا اقبال بن اور اپنے زمانے کے مسئلے حل کر. میرا بیان، قرآن نہیں کہ ہر زمانے کے لئے سازگار ہو.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. جعفر کہتے ہیں

    چوہدری ساب کا سٹائل چھلک ریا اس میں
    اور ہاں لگے ہاتھوں ان سے ہی یہ بھی پوچھ لیجیے گا کہ
    بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، زبان کے نام پر قتل و غارت کیا ان کی روشن خیالی اور آزاد فکری کے سانچے پر پورے اترتے ہیں؟
    اگر نہیں تو یہ سب کرنے والوں اور ان کے ‘فکری حمایتیوں’ کے لیے کیا ٹائٹل مناسب ہوں گے؟
    کچھ نستعلیق سے لفظ پوچھ لیجیے گا ان سے کیونکہ ان کی فارسی سنا ہے بہت عمدہ تھی
    میں تو جاہل سا ‘پنجابی’ ہوں. جو لفظ میرے ذہن میں آرہے ہیں، وہ نہایت نامناسب لیکن عین فٹ بیٹھتے ہیں… آہو…

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. راحت حسین کہتے ہیں

    ماشاءاللہ جی، جزاک اللہ.
    دلوں کی بھڑاس نکالنے کا ایک اپنا ہی ‘سواد’ ہوتا ہے باشاہو… کسی کی بولتی (بزعم خود) بند کرا کے جو سکون جی کو ملتا ہے اور جو چسکے کی نیند آتی ہے، ایسا سکون اور نیند تو جون میں یخ لسی پی کر سونے سے بھی نہیں آتی.

    اسد جی، ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے.، جزاک اللہ… آپ کی تحاریر بہت اچھی ہوتی ہیں.
    . علامہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، ہم یقینا اسکی تعبیر نہیں ہیں… لیکن ساتھ ہی ساتھ جو ‘مذہب پسندی’ انکی آئیڈیل تھی، اسمیں یقینا کوئی انتہا پسند ملا بھی نہیں تھا جو داڑھی نہ رکھنے والوں کے سر پہ ڈنڈا دے مارنے کے چکر میں ہو… نہ ہی قہاری و جبروت سے انکی یہ مراد ہوگی کہ اپنے ہی ملک کے پہلے سے ستائے ہوئے مظلوم لوگوں کے دل دھماکوں اور خودکش حملوں سے مزید دہلا دو.

    میرا نہیں خیال کہ محمد علی جناح جیسے قابل بندے کو سامنے لا کر، قانونی جنگ لڑ کر، علم، عقل، تعلیم ، جدوجہد اور “بامقصد” قربانیوں دے کر سرذمین پاک حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والا علامہ اقبال کبھی ان عقل سے پیدل اور جہالت میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے ‘جہلائے عظام’ کی تائید کر سکتا کے کہ جنہوں نے اپنی فطری بےوقوفی، سنگدلی اور تاریخی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے اور ذمینی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوے وہ فیصلے کیے کہ سارا عالم اسلام جسکا خمیازہ بھگت رہا ہےا ور خدا جانے کب تک بھگتتا رہے گا….

    خیر… اچھی تحریر تھی اور نظریاتی اختلاف کے باوجود پسند آئی… لکھتے رہئے گا..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمداسد کہتے ہیں

    @ fikrepakistan
    بالکل!

    @ عنیقہ ناز
    یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ ہمیں ہر ظلم کے پیچھے اسلام ، مسلمان اور مرد مومن ہی نظر آتا ہے. لیکن کبھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ مظلوم کا مذہب بھی معلوم کرلیا جائے. دہشت گردی کے واقعات میں ملوث اور ان کے حمایتیوں کا مسلمان ہونے کا دعوی تو فی الفور مان لیا جاتا ہے، لیکن ان لوگوں کے ایمان اور دین کی طرف دیکھا تک نہیں جاتا جو آج بھی مسجدوں میں کھڑے ہوکر کسی خودکش حملہ سے بے خوف خدا کی عبادت میں مشغول ہیں. معلوم نہیں یہ کونسا فارمولا ہے کہ جس کی رو سے دہشت گردوں ہی کو مرد مومن بنا دیا جاتا ہے لیکن ملک و دین کا سپاہی اگر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے شہید ہوجائے اسے مرد مومن تسلیم نہیں کیا جاتا. اس سے اسلام مظلوم جو ثابت نہیں ہوتا. چونکہ تمام مسلمانوں کو ایک لکڑی سے ہانکے جانے کے لیے ضروری ہے کہ نام نہادوں کو خود ساختہ رول ماڈل بنا کر اسلام کا قہاری و جبروتی تصور پیش کیا جائے اس لیے قدوسی و غفاری کو بھی جبرآ اسی فہرست میں کھڑا کردیا جائے. اور یہی معاملہ ذوق یقیں کا بھی ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    محمد اسد صاحب، محض مسجد میں کھڑے ہونے والے اور انکو اڑانے والے ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی اہل ایماں ہیں جو اس سارے واقع سے متاءثر ہوتے ہیں آپ اور ان حضرت سمیت جنکا دل صرف بھتہ خوروں کو گالیاں دینے کے لئے مچلتا ہے اور دیگران سے درخواست ہے کہ ذرا اپنی تحاریر پہ نظر ڈالئے اور غور کیجئیے کہ کتنی دفعہ ان عناصر کے خلاف انہوں نے لکھا. محض اس واقعے کو لے لیں اپ شاید کراچی میں رہتے ہیں ذرا معلوم کیجئیے کہ اس واقعے کی وجہ سے لوگوں کی کتنی بڑی تعداد کی پوری زندگی تباہ ہو گئ.مگر نہیں جناب، اس پہ کسی کے قلم میں ذرہ برابر نہ حرکت پیدا ہوئ نہ دل کی حرکت میں جنبش. اس سارے کے بعد آپ تحریر فرماتے بھی ہیں تو انہی مذہبی عناصر کی شان میں قصیدے.
    آپ اور باقی لوگ خوب اچھی طرح واقف ہیں کہ مذہبی عناصر سے مراد وہ لوگ قطعی نہیں ہوتے جو مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں. لیکن اس ساری صورت حال پہ چونکہ آپ افسوس نہیں کرنا چاہتے اس لئے لوگوں کے درمیان مذہب کو تفرقہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں. شاہد آپکو معلوم نہ ہو کہ ایم کیو ایم کی حمایت کرنے والوں میں بھی بہت سارے نمازی شامل ہیں جو مسجد میں جا کر باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں لیکن لگتا ہے ان سیدھے پنجابی کو نہیں معلوم. اظاہر سی بات ہے کہ ایک سیدھے پنجابی کو کراچی کے بارے میں جتنا معلوم ہو سکتا ہے اتنا انہیں معلوم ہے اس سے زیادہ کی وہ خواہش نہیں رکھتا. یہ نہت عجیب بات لگتی ہے کہ سیدھے پنجابیوں کی بڑی تعداد جو کبھی کراچی نہیں آئ بھتہ خوروں کے غم میں بے حال ہے. مگر یہی سیدھے پنجابی جنکے دیس میں دھماکوں کی شب برات مسلسل ہو رہی ہے. اسکی انہیں ذرا فکر نہیں.. اس سیدھے پنجابی کو معلوم نہیں کہ پھر بھی کراچی میں لوگ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف لکھتے ہیں، بھتہ خوری کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جبھی آپکے علم میں آیا کہ بھتہ خوری بھی کوئ اصطلاح ہے.
    آپکو یہ جان کر کیا حیرت ہوئ کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی نماز جنازہ پڑھائ گئ. کیا مذہبی ہونے سے آپکی مراد جماعت اسلامی میں شامل ہونا یا کسی اور مذہبی جماعت کا کارکن ہونا ہے، کیا مذہبی ہونے سے آپکی مراد ان خود کش حملہ آوروں کے لئے دفاعی بیانات کھڑے کرنے والے لوگ ہیں کیا مذہبی عناصر ہونے سے آپکی مراد خودکسش حملہ کرنے والے لوگ ہیں. یہ ساری باتیں جوب طلب ہیں
    کیونکہ اسکے بغیر یہ نہیں سمجھ میں آتا کہ ایک ایم کیو ایم کا بندہ مسجد میں کھڑا ہو کر نماز پڑھے باقاعدگی سے، تب بھی وہ مذہبی نہیں، قہاری جباری و جبروت نہیں . حتی کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی والے بھی مسجدوں میں جا کر نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں. تو پھر کن لوگوں کے حصے میں یہ اعزاز جاتا ہے.
    جہاں تک اقبال کی یاد منانے کا تذکرہ ہے. اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ سوائے انبیاء کے تمام دانشور اور ادیب اورشاعر اپنے زمانے کے عکاس ہوتے ہیں اور اپنے مسائل سے نبرد آزما. آجکے مسائل آپکو حل کرنے ہیں اقبال کو نہیں.
    اقبال اور قائد اعظم کے علاوہ ان بیس لاکھوں لوگوں کا لہو بھی اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے اس سرزمین کے لئے اپنی جانیں قربان کیں، ان لوگوں کی قربانی اہمیت رکھتی ہے جنہوں نے اس زمین کے ٹکڑے کے لئے اپنا مال و متاع سب ختم کردیا.کیا اس دن کو دیکھنے کے لئے کہ آج کی نسل مذہبی اور غیر مذہبی عناصر کے درمیان فرق کریدتی رہے تو اس سے بہتر نہ تھا کہ وہ ہندئووں کے ساتھ رہتے اور صحیح معنوں میں مذہبی تفریق کھڑی کرتے، انکے ہاتھوں مرتے اور بالکل صحیح اور مستند شہید ہوتے. .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. یاسر خوامخواہ جاپانی کہتے ہیں

    اسد صاحب ذرا وضاحت کردیں۔
    کہ اس پوسٹ میں آپ نے کہاں پر تخریب کاروں کی حمایت کی ھے۔؟
    روح کی غذا کی تھوڑی توہین ضرور کی آپ نے۔
    وہ میں بھی غیر مسلم کی جسمانی غذا کی کرتا رہتا ہوں۔
    مثلا خنزیر وغیرہ 😆
    لیکن صرف اس وجہ سے مجھے تخریب کاروں کا حمایتی نہیں سمجھا جاتا۔ 😯

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. علی عامر کہتے ہیں

    اقبال اور ہم … یہ تحریر آپ نے بہت ہی درد مندی سے قلم بند کی ہے۔ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا ، اُس کی تعبیر ابھی بہت دور ہے. بلا شبہ ہم اپنے افکار و خیالات میں مسلمان ہیں لیکن اقبال کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ اقبال مسلمان کو ہر مسئلے کے لئے قرآن سے رشتہ جوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ ہم اغیار کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں. اقبال نے تو اس نام نہاد جمہوریت کو سرمایہ دارانہ جمہوریت سے تشبیہ دے کر اس نظام کی قلعی کھول دی تھی، جبکہ ہم بالا دست پارلیمنٹ اور آئین کی حکمرانی کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے۔
    یہ دہشت گردی صرف اللہ سے دوری کا نتیجہ ہے۔ آج بھی مسلان متحد ہو کر لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ کے تحت زندگی گزارنے کی سعی کر لیں تو اللہ سے بڑھ کر ہمارا محافظ کوئی اور ہو نہیں سکتا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عبداللہ کہتے ہیں

    @ عنیقہ ناز
    ارے عنیقہ وہ اپنے علاقے کے بڑے بڑے بھتہ خوروں کی بات کررہا ہے 😛

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. جعفر کہتے ہیں

    ہاں جی گولی سے مارے تو روشن خیال
    بم سے مارے تو دہشت گرد
    در شاباش

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمداسد کہتے ہیں

    @ جعفر
    میرے خیال میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے اب خود اس قابل ہوگئے ہیں کہ اقبال سے ملاقات کا شرف حاصل کرلیں۔ تاہم اس کی تصدیق ٹارگٹ ہوجانے سے قبل کرنا مشکل ہے۔ ویسے اقبال کی فارسی ہی نہیں عربی بھی کمال کی تھی۔

    @ راحت حسین
    اس تحریر اور اس پر آپ کے تبصرے کی حد تک تو میں نظریاتی اختلاف ہوتا نہیں دیکھ رہا. راحت بھائی آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ علامہ محمد اقبال ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے. لہٰذا ان کی شخصیت پر اگر لکھا جائے تو کئی کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں. اس تھوڑے سی جگہ میں اقبال کی فکر کا احاطہ کرنے کی صلاحیت کم از کم مجھے حاصل نہیں. یہی وجہ ہے کہ تحریر کا ایک ہی موضوع نظر آرہا ہے. آپ اس سے بالکل اختلاف رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اقبال کی سوچ کو تھوڑا بہت جان لیا جائے. اس سے باآسانی پتا چلایا جاسکتا ہے کہ اقبال نہ صرف کٹھ ملائیت کے خلاف تھے بلکہ وہ انتہاپسند لادین قوتوں کے خلاف بھی کاربند تھے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. محمداسد کہتے ہیں

    @ عنیقہ ناز
    میرا اعتراض بڑا واضح ہے کہ ‘مذہبی عناصر’ انہیں ہی کیوں گردانا جاتا ہے جو کسی غلط کام میں ملوث قرار پاتے ہیں. انہیں کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا جو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتے ہیں. کیا اس سے اسلام کا تصور خراب نہیں ہوتا؟ اور کیا اس سے مسلمانوں کے نفرت میں اضافہ نہیں ہوتا؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات ہم خود دنیا بھر میں دہشت گردوں کو جبرآ مسلمان کر کے دے رہے ہیں. بات میں سیاسی جماعتوں کے ناموں شامل کر کے چٹخارے دار بنانے سے بہتر ہے کہ ہم غیر اسلامی کام کرنے والوں کا تعلق اسلام سے جوڑیں ہی نہیں. کوئی خودکش دھماکہ کرتا ہے یا ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے یا ان کا حمایتی، یہ میرے اور آپ کے نزدیک اگر غیر اسلامی کام ہے تو پھر کیوں انہیں مذہبی عناصر مانا جائے. اس کے بجائے اس شخص کو کیوں نہ مذہبی عناصر کا نمائندہ تسلیم کیا جائے جو اسلام کی درست تشریح کو عام کرتا ہے.

    @ یاسر خوامخواہ جاپانی
    اس تحریر سے تو ایسی ایسی باتیں نکالی جارہی ہیں کہ میں خود حیران بلکہ حریان ہوں. کئی بار پڑھنے کے باوجود وہ ‘حمایتی الفاظ’ ہی نہیں مل رہے کہ جو سب سے زیادہ ہدف تنقید ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. محمداسد کہتے ہیں

    @ علی عامر
    بلاگ پر خوش آمدید. میرے خیال میں جو لوگ اقبال کو قومی شاعر اور ہیرو مانتے ہیں تو وہ ضرور اقبال کے کلام کی بھی عزت کرتے ہوں گے. اور اگر وہ اقبال اور کلام اقبال کی عزت کرتے ہیں تو انہیں اسے سمجھ کر اس کی درست اور مثبت انداز میں عمل میں بھی لانا چاہیے. تاکہ بات محض قول و قرار تک محدود نہ رہے بلکہ عملی ثبوت بھی سامنے آئے.

    @ جعفر
    یہی بات تو سمجھ سے باہر ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. راحت حسین کہتے ہیں

    اس تحریر کو دو بارہ اور پھر سہ بارہ پڑھنے سے آخر بات سمجھ میں آ ہی گئی. واقعی، اس تحریر میں کہیں بھی دہشت گردی کی حمایت نہیں ہےاور نہ ہی صوبائی تعصب یا لسان پرستی کی آڑ میں کسی طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے…

    جلدی میں پڑھ کی غلط سمجھنے اور غیر متعلقہ تبصرہ کرنے کے لئے معذرت.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. کاشف نصیر کہتے ہیں

    دل تو چاہتا تھا کہ اقبال پر لکھی گئی تحریر پر کچھ اچھا سا تبصرہ کروں لیکن کچھ تبصروں کو پڑھ کر لگا کہ لوگوں کو ہر جگہ اپنے غلاضت مچانے کا شوق ہوچلا ہے سو ہم نے بھی تبصرے کا رخ موڑ کر تبصرہ پر تبصرہ کرنا مناسب سمجھا جسکے لئے پیشگی معزرت!
    @ پیاری عنیقہ آپا
    مجھے نہیں سمجھ آتا کہ دہشت گردی کو مذہبی اور راسخ سوچ رکھنے والوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے مادہ پرستوں کو اللہ سے ڈر کیوں نہیں لگتا؟ کونسی مذہبی جماعت اور کونسا نامی گرامی مذہبی عالم و رہنما نہیں جس نے دہشت گردی اور نہتے یعنی پر امن لوگوں کو مارنے یا نقصان پہنچانے کی مخالفت نہ کی ہو لیکن اسکے باوجود مذہبی لوگوں کو ملامت کرنا فیشن بن گیا ہے.
    مادہ پرستون کو گمشدہ افراد کے اہل خانہ سے سخت بضض، ڈرون حملوں پر مسرت اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے نتیجے میں پچاسوں لوگوں کے مرنے کی خبروں پر خوشی ہوتی ہے اور شہری علاقوں میں متنازعہ حملوں پر یہ جھوٹا شور مچاتے ہیں، کیوں؟ انہیں کراچی میں ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی پر مشتعمل سیکولر تکون کی دہشت گردی نظر نہیں آتی، شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں ان سیکولر تکون والوں نے جو لوگوں کو موت کی نیند سلایا یا ٹارگیٹ کلنگ اور لسانی فسادات کے نام پر یہ سیکولر تکون جو قتل و گارتگری کرتا ہے اس پر بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ یہ مادہ پرست قبیلے کے لوگ اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں ہر جگہ اور ہر خرابی کے پیچھے مذہبی انتہا پسند نظر آتے ہیں.
    آپا جی جمہور علماء کے قول کے مطابق خود کش حملے اور خودکشی دونوں اسلام میں ناجائز اور حرام ہیں البتہ اگر اسلام کے دشمنوں مسلط ہوجائیں اور دفاعی جنگ میں مقابلے کی اور کوئی ترکیب باقی نہ رہے تو اہسی صورت میں حملہ آوروں کا واضع تعین کرکے اور اس بات کی حتی المکان یقین دہانی کرکے کہ نہتے یعنی پرامن لوگ نشانہ نہیں بنیں گے آخری درجے میں ہر دور کے فقہ نے اس طرح کے حملوں کی اجازت دی ہے

    اور پاں میں نہیں سمجھتا کہ تحریک طالبان نامی تنظیم دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث یے کیونکہ حکومت یا کوئی تحقیقاتی ادارہ اس الزام کو آج تک ملک کی کسی عدالت میں ثابت نہیں کرسکا البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے میں تحریک طالبان کو مخلص سمجھتا ہوں لیکن انکے طریقے کار سے بلکل بھی متفق نہیں اور نہج کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. کاشف نصیر کہتے ہیں

    عنیقہ آپا نماز اور روزہ دین کی بنیاد ہیں پورا کا ہورا دین نہیں، پورا کا پورا دین زندگی کے ہر گوشے اللہ اور اسکے رسول صلہ اللہ و علیہ وسلم کی کامل اطاعت ہے. اور اس ہی اطاعت کے امتحان کے واسطے انسان کو پیدا کیا گیا ہے.
    یعنی جو شخص دین کو اجتماعی معاملات سے بے دخل کرکے انفرادی زندگی میں قید کرتا ہے وہ مزہبی یا دین دار نہیں سیکولر ہے۔ سیکولر یعنی بے دین! ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی اعلانیہ سیکولر نظریہ رکھتی ہیں اور پاکستان کا یہ سیکولر تکون انتہائی کرپٹ، خونخوار اور عدم برداشت کا حامل ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. وقاراعظم کہتے ہیں

    ارے صاحب بہت اچھی تحریر ہے. لکھتے وقت لگتا ہے اپنے چوہدری صاب کی روح حلول کرگئی تھی. اگر کبھی خدانخوستہ اقبال سے ملاقات ہوجائے تو کہیں سچ مچ سب نہ کہ ڈالئے گا.
    اور ہاں، دل چھوٹا نہ کریں، لوگوں کا بس چلے تو وہ قرآن کو ہی اذکار رفتہ قرار دے ڈالیں یہ تو بڑی مہربانی ہے انھوں نے. فکر اقبال کو ہی اذکاررفتہ کہا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. عنیقہ ناز کہتے ہیں

    اور پاں میں نہیں سمجھتا کہ تحریک طالبان نامی تنظیم دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث یے کیونکہ حکومت یا کوئی تحقیقاتی ادارہ اس الزام کو آج تک ملک کی کسی عدالت میں ثابت نہیں کرسکا البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے میں تحریک طالبان کو مخلص سمجھتا ہوں لیکن انکے طریقے کار سے بلکل بھی متفق نہیں اور نہج کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں

    افسوس اس تحریرر کے مندرجات پہ نثار ہونے والے تقریبآ یہی سوچ رکھتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ آخر یہاں یہ سب کیوں ہو رہا ہے.اس قسنم کی رومانوی تحاریر، رومانوی تحاریر سے مراد وہ تحریریں جو تمام تر حالات و واقعات کو آٖئڈیئل رکھ کر اخلاقی اصولوں کی پاسداری میں لکھی جاتی ہیں. ان پہ میں ایک صاف بات کہونگی کہ مجھے واہ واہ کرنے میں مزہ نہیں آتا. کیونکہ ہم ایک آئیڈیئل دنیا میں نہیں رہتے، کیونکہ ان پہ آمنا و صدقنا لہنے والے خود کوئ اخلاقی پہمانہ نہیں رکھتے، کیونکہ یہ تحاریر عام طور پہ صرف ایک جہت کو سامنے رکھ کر لکھی جاتی ہیں. انکا مقصد محض سنجیدہ تفریح کے علاوہ کچھ نہیں معلوم ہوتا. اخلاقی بھاشن ہمارے یہاں جس زور و شور سے دئیے جاتے ہیں ہم آخر انہی اخلاقی بھاشنوں پہ عمل سے کیوں دور ہیں. کبھی اس آئڈیئل تخیلاتی دنیا سے باہر نکل کر دیکھیں تو اندازہ ہو. لیکن چونکہ بحیثیت ایک قوم ہم شیزوفرینیا کے مریض ہیں اس لءے ہم اس حالت سے باہر نکل کر نہیں دیکھیں گے. اس سے باہر کی دنیا غلیظ ہے، اس سے باہر کے لوگ غلاظت کا شکار ہیں. صرف آئیڈیئل دنیا کے خوشنما پس منظر میں رہنے والے لوگ ہی بہتر اور مخلص لوگ ہیں. اس وقت تک ہم کاش نصیر صاھب کے اس بیان پہ دوبارہ سر دھنتے ہیں جو اس تحریر پہ واہ واہ کرنے والوں کی دلوں کی آواز ہوگا. اور جو آپ کے ذہن میں بھی ہوگا

    اور پاں میں نہیں سمجھتا کہ تحریک طالبان نامی تنظیم دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث یے کیونکہ حکومت یا کوئی تحقیقاتی ادارہ اس الزام کو آج تک ملک کی کسی عدالت میں ثابت نہیں کرسکا البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے میں تحریک طالبان کو مخلص سمجھتا ہوں لیکن انکے طریقے کار سے بلکل بھی متفق نہیں اور نہج کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں. .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. صفدر علی صفدر کہتے ہیں

    اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن!

    محترمہ عنیقہ صاحبہ اور دیگران ازراہِ کرم قرآن مجید کو اپنے قول و عمل کا ذریعہ بنائیں ورنہ یونہی بَک بَک کرتے عمر گزرجائے گی اور حاصل کچھ نہ ہوگا…

    بقول اقبال رحمت اللہ علیہ
    ؎ترےضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
    گرہ کُشا ہے نہ رازی، نہ صاحبِ کشاف

    اورکسی بہت ہی بھلےشاعر کا شعر ہے
    ؎ بس پڑھی تو کتابِ ہُدٰی نہ پڑھی
    ورنہ کیا نہ پڑھا آگہی کے لیے

    (مجھے شاعر کا نام نہیں معلوم،اگر کسی کو معلوم ہو تو ازراہِ کرام مجھے بھی بتا کر شکریہ کا موقع دے)

    اور سب سے آخری اورحتمی بات…
    اللہ ربّ العزّت قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں فرماتا ہے:
    “کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے..؟؟؟ یا اِنکے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں..؟؟؟؟؟” (سورۃ محمد: آیت نمبر24 )

    اللہ کے واسطے قرآن سمجھو..!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. اسد حبیب کہتے ہیں

    جناب محمد اسد صاحب! آپ نے بہت اعلیٰ تحریر لکھی ہے۔ یہ ملک بنانے کے لئے جن لوگوں نے قربانیاں دی تھیں وہ اقبال اور قائد کے نظریے سے ہی متاثر تھے۔ لوگ جو بھی کہیں سچائی یہی ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.