اسلام ، انصاف اور انڈیمنٹی

11

عدالت کا حکم سننا تھا کہ لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی. سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ آیا موجودہ معاشرہ میں ایسا فیصلہ ہونا ممکن ہے؟ کچھ لوگوں کے چہرے ناگواری کا اظہار کررہے تھے تو کچھ عدالتی فیصلہ پر حیران و پریشان بھی تھے. ایسے میں چند مصلحت پسند لوگوں نے زمینی حقائق اور وسیع تر قبائلی مفاد میں “ڈیل” کروانے کا مشورہ دیا. جن کو یہ مشورہ بہتر لگا وہ اس پر عمل کروانے کے لیے جت گئے. گفت و شنید کے بعد فیصلہ ہوا کہ عدالت سے “انڈیمنٹی” کی درخواست کی جائے. لیکن مسئلہ یہ تھا کہ درخواست کرے بھی تو بھلا کون. کوئی بھی شخص عدالت اور قاضی کے سامنے بولنے کی جسارت نہیں رکھتا. لہٰذا ایسے فرد کی تلاش شروع ہوئی کہ جسے باآسانی اپنی باتوں سے لبھایا جاسکے اور جو سپہ سالار کا قریبی اور قابل اعتماد ساتھی بھی ہو. مطلوبہ شخص ملنے کے بعد اسے قاضئ عدالت کے پاس بھیجا گیا تا کہ وہ انڈیمنٹی کی درخواست کر سکے. لیکن اپنے چہیتے ساتھی کی سفارش پر قاضی کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا.

یہ وہ وقت تھا کہ جب عرب میں جہالت اپنی تمام تر برائیوں کے ساتھ چڑ پکڑ چکی تھی. عدل و مساوات کا معیار بھی خاندان، قبیلہ اور رنگ و نسل کے لحاظ سے الگ اور جدا تھا. عدالتوں میں فیصلہ سے قبل ملزم کی حیثیت کو تولا جاتا. اگر وہ شخص اعلیٰ رتبہ کا مالک ہے یا کسی اونچے خاندان سے قربت رکھتا ہے تو اسے سزا دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. لیکن اگر کوئی معمولی شخص چھوٹا سا بھی جرم کر بیٹھے تو عدالت اسے سخت سے سخت سزا سنا کر نشانہ عبرت بنا دیتی. ایسے ماحول میں کہ جہاں ذات پات کی تقسیم مختلف ناموں سے رائج تھی، اسلام نے ایک منصفانہ نظام پیش کیا. اس نظام میں تمام لوگوں کو بلاامتیاز انصاف فراہم کیا جاتا. کسی بھی شخص کو اس کی مالی یا مادنی حیثیت پر تولے جانے کے بجائے حقائق اور شواہد کی روشنی میں مجرم قرار دیا جاتا.

مذکورہ واقعہ بھی مکہ مکرمہ کے اسلام کی روشنی سے منور ہونے کے بعد کا ہے. فتح مکہ کے بعد جب قبیلہ مخزوم کی فاطمہ نامی بااثر اور متمول عورت کو چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ دینے کی سزا سنا دی گئی تو قریش کو یہ ڈر لاحق ہوا کہ اس سزا پر عمل سے قبیلہ مخزوم سے ان کے تعلقات خراب ہوجائیں گے. اسی لیے انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو عدالت نبوی (ص) میں بھیجا جنہوں نے اس عورت کے حق میں سفارش کی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لاڈلے صحابی کی اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا جس پر حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں معذرت چاہی. لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرزنش پر بس نہیں کیا بلکہ تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایسی بات کہی جس نے عدل و انصاف کی ایک مثال قائم کردی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بے شک تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب کبھی کسی امیر نے چوری کی تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور جب کبھی کسی کمزور نے چوری کی تو اس پر حد قائم کر دی. قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کے ہاتھ کاٹتا.”

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اسلام انصاف کے معاملے میں کسی انڈیمنٹی پر یقین نہیں رکھتا. امیر ہو یا غریب، آقا ہو یا غلام، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، حاکم ہو یا محکوم، اسلام سب کے لیے یکساں انصاف فراہم کرنے پر زور دیتا ہے. کسی شخص یا اعلیٰ عہدہ کی قربت حاصل ہونے پر انڈیمنٹی کا تصور اسلام میں قطعآ موجود نہیں جس کا واضح ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے. درحقیقت غیر منصفانہ نظام عدل ریاست کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ صرف قرآن کریم بلکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی انصاف کا بول بالا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے. کسی بھی ملک میں انصاف کا نظام بغیر کسی حیل و حجت جاری رہنا وہاں موجود عوام کو تسلی اور مملکت کی سلامتی کو دوام بخشتا ہے. ایک اچھا اور منصفانہ عدالتی نظام کسی بھی ملک کی بقاء اور سلامتی کے لیے اتنا ہی ضروری جتنا ملک کے دفاع کے لئے افواج کا کردار ضروری ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

11 تبصرے

  1. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    سُبحان اللہ
    درود نبی کريم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم پر

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. جعفر کہتے ہیں

    عمدہ ، بامقصد اور سلجھی ہوئی تحریر۔۔۔
    نظر بددور۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. Hasnin Ahmed Awan کہتے ہیں

    Very good keep it up.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمداسد کہتے ہیں

    آپ تمام کا بہت شکریہ ❗

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. منیر عباسی کہتے ہیں

    بہت اچھی تحریر. بہت عرصے بعد کوئی آبجیکٹو قسم کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا.

    ویسے مجھے اندازہ ہو رہا ہے ” کِس ” کی انڈیمنٹی نے آپ کو یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.. آپ اسی کلرک کی بات تو نہیں کر رہے جو آج کل بہت اونچی اڑان اڑ رہا ہے؟

    🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    @ منیر عباسی
    حقیقت میں یہ تحریر 20 مئی کو فیس بک پر توہین رسالت (ص) کا جواب دینے کی ایک معمولی سی کوشش تھی۔ یہ محض اتفاق ہے یا حالات کی ستم ظریفی کہ کسی اونچی شخصیت کی انڈیمنٹی پر نشانہ معلوم ہورہا ہے۔ 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. عدنان مسعود کہتے ہیں

    بہت خوب اسد صاحب، مقصدیت سے بھرپور تحریر کا شکریہ۔

    کسی کو علم ہے کہ یہ انڈینمٹی کا کالا قانون ہمارے ملک کے آئین کا حصہ کیسے بنا، کوئی ترمیم یا بائ لاز۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. راحت حسین کہتے ہیں

    “۔۔۔جو آج کل بہت اونچی اڑان اڑ رہا ہے؟“
    آہم م م م م۔۔۔۔ “کھانسی“۔۔۔۔۔۔۔۔

    خادم تو اس آس پہ آپکے بلاگ کا دن میں تین چار مرتبہ پھیرا لگاتا رہا کہ شاید فیس بک والوں کی شر اور انکے اندرونی گند کی عکاسی کرنے والی اس حرکت پہ آپ نے کچھ لکھا ہو۔ لیکن جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ یہ تحریر اسی سلسلے میں تھی تو پھر یہیں تبصرہ کیے دیتے ہیں۔

    یہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ “ان لوگوں“ نے اپنا اصل اور گھناؤنا روپ دکھایا ہو۔ بظاہر لبرل، روشن خیال، انسانی حقوق کے علمبردار اور اخلاقی چیمپیئن ہونے کے دعویدار جان بوجھ کر اور اندرونی بغض کی وجہ سے آج آزادیِ اظہار اور کسی کو گالی دینے کا ایک ہی ترجمہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
    لیکن اسمیں بہت حد تک قصور ہمارے اپنے جاہل بھائیوں کا بھی ہے۔ کسی نا سمجھ بچے یا بیوقوف بزرگ کو کوئی تبھی چھیڑتا ہے جب وہ “چِھڑتا“ ہے۔ اس قسم کی قتل کی دھمکیاں اور بلند و بانگ دعوے تبھی کرنے چاہئیں جب امت مسلمہ متحد ہو اور اس طرح کی گستاخیوں کا ٹھوس جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ جب تک ہم ایسا کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے، میرے خیال میں کتوں کو بھونکنے دیا جائے اور اپنا راہ کھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔
    ہاں، یہ ضرور کرنا چاہیئے کہ انکے ان پلیٹ فارمز سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے کہ جنکا علم و فن سے کوئی خاص تعلق نہیں، ویسے بھی فیس بک پر جتنا وقت میں نے گزارا تھا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہ کیا، لیکن بہرحال یہ میری ذاتی رائے ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. محمداسد کہتے ہیں

    @ عدنان مسعود
    بلاگ پر خوش آمدید.
    @ راحت حسین
    میرے ذاتی خیال کے مطابق ان شر انگیزیوں کا بہترین جواب لوگوں کو درست معلومات کی فراہمی ہے. تاکہ وہ لوگ جو اسلام کی غلط تصویر دیکھ کر ان شرانگیزوں پر ایمان لے آتے ہیں، ان کے سامنے اسلام کا درست تصور پیش کیا جائے تاکہ وہ جھوٹ اور سچ کو پرکھ سکیں. اسی کوشش کی کڑی ایک تحریر یہ بھی ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. Muhammad IHSAN کہتے ہیں

    Alfaz ka ik haseen imtzaj or Dil ko Chony waly Tahreer. Inthai fikr engaz.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.