جمہوریت کا ریپ

0

“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔” وہ قہقہے پر قہقہے لگائے جا رہا تھا اور میں تھا کہ جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ دل تو چاہ رہا تھا اسے گلا دبا کر خاموش کردوں لیکن اس وقت ٹی وی اسکرین پر جلتی بجھتی لال پٹیاں زیادہ اہم تھیں کہ جس میں وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک (پہ اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری سے مذاکرات کا پروگرام طے ہونے کی خبریں چل رہی تھیں۔

” میں نہ کہتا تھا کہ بھائی فوج آجائے گی! اور تم تھے کہ مان کر ہی نہ دیتے تھے۔” قہقہے رکے تو وہ طنزیہ انداز میں کہنے لگا۔ “حکومت مضبوط ہے، عدلیہ آزاد ہے!” وہ میری نقل اتارنے لگا لیکن پھر مجھ پر کچھ اثر نہ ہوا۔ “بھائی یہاں سب کچھ فوج کی مرضی سے ہی ہوتا ہے، یہ جمہوری حکومت وکومت، یہ آزاد عدلیہ ودلیہ کچھ نہیں ہوتا، یہ سب سراب ہے دھوکہ ہے۔” میں خاموش رہا، میری نظریں اسکرین پر جمی رہیں۔ “کل تم نے کہا تھا کہ عدالتی حکم پر ایف آئی آر درج ہوجائے تو معاملہ ختم ہوجائے گا؟ اب دیکھ لو آج ایف آئی آر درج ہوئی تو قادری نے ایف آئی آر ماننے سے انکار کردیا۔ اس پر بھی تم نے کہا کہ اب حکومت اس سے زیادہ ‘نیچے’ نہیں آئے گی اور اب قادری کو جھکنا پڑے گا۔ پھر کیا ہوا؟ بھاری مینڈیٹ، تیسری بار وزیراعظم، مسلسل دوسری بار ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت، گئی نا تیل لینے؟ آخر کار اسی کو مدد کے لیے بلانا پڑا ناں جس کے سابق سربراہ کو سولی پر لٹکا رہے تھے؟”

اب کی بار میں نے خاموشی توڑی اور اس کی طرف دیکھ کر چیختے ہوئے کہا “بس کرو جھوٹے آدمی! فوج نہیں آئی، مارشل لاء نہیں لگا، منتخب حکومت بھی وہی ہے، انقلاب اور آزدی کا بھی دور تک کوئی اتا پتا نہیں اور ۔۔۔۔ ” میں اس سے زیادہ نہ کہہ سکا کہ اور الفاظ جیسے کھو گئے۔

اس بات کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ذہن میں سوالات اب تک گردش کر رہے ہیں۔ یہ سب کیوں ہوا؟ فوج نے عوام سے “آمنا سامنا” کرنے سے انکار کیوں کیا؟ ایسے حالات پہلی بار تو نہیں ہوئے۔ پھر نواز شریف نے راحیل شریف کو ثالث کیوں تجویز کیا؟ فوجی تو حکومت کے ماتحت ہوتا ہے بھلا سیاست میں اس کا عمل دخل کیسے ہوگا۔ پھر فوج کی ثالثی کا سن کر عمران خان اور طاہر القادری کے چہرے کیوں دمک اٹھے؟ ناصر الملک، سراج الحق اور خورشید شاہ کی ثالثی کی پیشکشوں اور کوششوں پر تو ان کے تیور مزید بگڑتے ہی جا رہے تھے۔

مگر ان سب باتوں سے۔۔۔ ان سب سوالوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بس اسی میں خوش ہو لینا چاہیے کہ فوج آئی نہ منتخب حکومت کہیں گئی۔ کیا ہوا اگر جمہوریت کا ریپ ہوگیا، “ڈی ریل” تو نہیں ہوئی ناں!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.