کچھ جامعۃ الرشید کے بارے میں

جامعۃ الرشید اور میرا بالواسطہ تعارف اب سے کوئی ایک سال قبل 26 جولائی 2009ء کو ہوا جب مجھے پہلی بار اس مدرسہ اور یونیورسٹی کی تقریب تقسیم اسناد میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کے بعد رواں ماہ کی 18 تاریخ کو مجھے ایک بار پھر جامعۃ الرشید کی Graduation Ceremony میں شریک ہونے کا موقع میسر آیا۔ دونوں بار ہمارے دیرینہ محسن مفتی محمد سلمان خلیلی کی وساطت سے دعوت نامہ موصول ہوا، جس کے لیے میں ان کا بے حد مشکور و ممنون ہوں۔

جامعۃ الرشید کی تقاریب میں شریک ہونے کا ایک مقصد ان سوالات کا جواب حاصل کرنا تھا جو اکثر و بیشتر مدارس کے طرز تعلیم، کردار، طلبہ کے مستقبل اور عصری علوم و جدید طرز تعلیم کے متعلق کیے جاتے ہیں۔ اس تقریب میں شرکت کے بعد جہاں حقیقی معنی میں بڑے دینی مدارس سے ہونے والے بہت سے گلے شکوے دور ہوئے، وہیں معاشرہ میں ان کے مثبت کردار اور بہتری و جدت کی جانب گامزن تعلیمی نصاب سے بھی آگاہی حاصل ہوئی۔

اس تقریب میں مدعو دیگر بہت سے مہمانوں میں ایک نمایاں نام جاوید چودھری کا بھی تھا جنہوں نے گذشتہ روز اپنے کالم بعنوان "دروازے کھول دیں" میں جامعۃ الرشید کی اس تقریب کا بالکل درست نقشہ کھینچا۔ اور مجھ سمیت ان لوگوں کو آسانی فراہم کردی جو اس درسگاہ کو دیگر لوگوں سے متعارف کروانا چاہتے تھے۔ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ میں نے اس مثالی جامعہ کے متعلق لکھنے کی بارہا کوشش کی لیکن مجھے جامعۃ الرشید کے مقاصد اور کردار کے سامنے اپنے الفاظ بہت معمولی اور تحریر نہایت ادنا محسوس ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اخباری تراشوں کو بلاگ پر شائع نہ کرنے کے خودساختہ اصول کی خلاف ورزی پر مجبور ہوں۔

جامعۃ الرشید کے منفرد چار سالہ پوسٹ گریجویشن کورس کلیۃ الشریعۃ کی تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ جامعہ کے اغراض و مقاصد کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے یوٹیوب پر موجود ان کے اپنے طالب علموں کی بنائی گئی ویڈیوز (پہلا حصہ ، دوسرا حصہ ، تیسرا حصہ) دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ احسن آباد میں قائم جامعۃ الرشید کراچی کی مرکزی عمارت کی چند جھلکیاں بھی flickr پر موجود ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

18 تبصرے

  1. عثمان نے کہا:

    یعنی لبرل آدمی ایک اسلام بیزار دنیادار اور گناہ گار آدمی ہے۔ اور پاکیزہ دینی حلقوں کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہے۔
    پاکیزہ دینی حلقوں کے متعلق جو کچھ دینا کو معلوم ہے وہ مغرب ، یہودیوں اور فری میسن کا پروپیگینڈا ہے۔ دینی حلقے اللہ لوگ ہیں۔
    سیٹ ہے بھئی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. کاشف نصیر نے کہا:

    جامعہ رشید ایک شاندار مذہبی ادارہ ہے. میرا تعلق اس ادارے سے اس وقت سے ہے جب یہ ناظم آباد میں ہوتا تھا اور مفتی رشید مرحوم حیات تھے. اب تو یہ ادارہ سہراب گوٹھ سے آگے مین سپر ہائی پر ایک بہترین عمارت میں منتقل ہوگیا ہے. جامعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں درس نظامی کی روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم جیسے ایم بی بے بھی کرایا جارہا ہے. آج کل یہاں نوجوان عالم ڈاکڑ عدنان کاکاخیلی مصروف خدمت ہیں..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. کاشف نصیر نے کہا:

    عثمان صاحب مزاق سے ہٹ کے آپ کی بات سولہ آنے درست ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. آپ نے يہ تحرر لکھ کر بہت اچھا کيا ہمارے ہاں اکثر لوگ سمجھتے ہيں کہ دينی مداس سے لوگ جاہل ۔ انتہاء پسند اور دہشتگرد بن ک نکلتے ہيں ۔ حالانکہ ان مدارس نے ہمارے ملک کے خواندہ لوگوں ميں سے چاليس فيصد کو خواندہ بنايا ہے ۔
    کاشف نصي صاحب نے مجھے مخمصہ ميں سے نکال ديا ۔ ميرے ذہن مں يہ مدرسہ ناظم آباد ہی ميں جھاں کسی زمانہ ميں ميں ا چکا ہوں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. سعد نے کہا:

    سن کر خوشی ہوئی کہ مفتی رشید احمد صاحب کا مدرسہ ترقی کر رہا ہے۔ اللہ مفتی صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ نے کہا:

    عثمان جن دینی حلقوں نے غلط تاثرقائم کیا ہے ان کی بیخ کنی کر کے اسلام کی صحیح شکل سے روشناس کروانے والےدینی اداروں کو پرموٹ کیا جائے یہ ہے اس تمام مسئلے کا حل!!!!
    آپکا شکریہ کہ آپنےاس کالم کے ذریعے ہم سب کو بھی اس تقریب میں گھربیٹھے شریک کروایا
    🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد نے کہا:

    @ عثمان
    جاوید چودھری نے گناہ گار والی بات عجز و انکساری کے زاویے میں لکھی. اور میرے خیال سے بھی یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ مدارس کے طلبہ جتنا دین سے قربت رکھتے ہیں، اتنا کوئی اور شاید نہ رکھتا ہو. واضح رہے کہ میں ان 'رجسٹرڈ' مدارس کی بات کررہا ہوں جو مملکت خداد کی فلاح کا کام انجام دے رہے ہیں. اور جامعۃ الرشید انہی کی ایک مثال ہے.

    @ کاشف نصیر
    مزید معلومات شامل کرنے کا شکریہ. دعا ہے کہ اللہ ایسے اداروں کو آنے والے وقتوں میں مزید دوام بخشے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. عثمان نے کہا:

    @ محمداسد
    "میرے خیال سے بھی یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ مدارس کے طلبہ جتنا دین سے قربت رکھتے ہیں، اتنا کوئی اور شاید نہ رکھتا ہو"
    یہ صرف آپ کی ذاتی خیال آرائی ہوسکتی ہے دوسرے دین کا دین سے محبت ماپنے کا آپ کے پاس کوئی پیمانہ نہیں. .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عثمان نے کہا:

    تصحیح×
    دوسروں کا دین سے محبت

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد نے کہا:

    @ عثمان
    آپ نے درست فرمایا کہ یہ میرا اپنا ہی خیال ہے. جہاں تک بات ہے دین سے محبت کی، تو مجھے کسی کے دین پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں. اگر دین سے محبت، دین کی حقیقت کو جاننے اور ماننے ہی میں ہے تو بھی مدارس کے طلبہ اور علماء کرام ہم سے بہت آگے ہیں. کیوں کہ ان کی ہر شعبہ ہائے زندگی میں اولین ترجیح دین ہی ہے.

    اگر آپ کے پاس دین سے محبت ماپنے کا کوئی پیمانہ ہو تو ضرور بتلائیں. شاید مجھ سمیت اوروں کا بھی بھلا ہوجائے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. عثمان نے کہا:

    @ محمداسد
    محبت ماپنے کا پیمانہ تو آپ طے کر رہے ہیں میرے بھائی. اور اس خود ساختہ پیمانے سے اپنے ہم خیال لوگوں کو دین کی محبت میں آگے بتا رہے ہیں.
    محبت ماپنے کا تو پیمانہ کسی کے پاس نہیں.
    البتہ اگر واٹ لگانے کی بات کریں تو ایل مردسہ اور "علما کرام" نے دین کی واٹ لگانے میں کوی کسر نہیں چھوڑی. اس معاملے میں یہ "عام مسلمانوں" سے واقعی فضلیت حاصل کیے ہوئے ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. محمداسد نے کہا:

    @ عثمان
    حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے"۔ (حوالہ: صحیح بخاری)۔

    اور یہی کام جامعۃ الرشید جیسے مدارس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ امید ہے اب آپ مجھے خودساختہ پیمانے کا تعنہ دینا بند کردیں گے۔ اور مزید 'واٹ' لگانے کی کوشش دلائل کے ساتھ کریں گے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. راحت حسین نے کہا:

    اسمیں کوئی شک وہ شبہ والی بات نہیں کہ علمائے حق اور انکے شاگرد جو کہ دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ علم دین کے حصول کے لئے بھی کوشاں ہیں، مجھ ایسے دنیاداروں سے بدرجہا بہتر ہیں کہ جنکی ساری کوششیں دنیا اور اور دنیا کے حصول کا علم حاصل کرنے میں صرف ہو رہی ہیں.

    دین کا علم صرف نماز روزے حج اور وضو کے ارکان ہی جان لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ علم تو تمام علوم کا سورس ہے. اسمیں ہمارے لئے سیاسی نظام بھی وضع کیا گیا ہے اور معاشی نظام بھی.اور تحقیق اور غور و فکر کے موضوع، جسے عرف عام میں سائنس کہا جاتا ہے پر تو جتنا زور قرآن میں ہے اور اسکی جتنی تاکید کی گئی ہے، شاید کسی اور رکن دین کی نہیں کی گئی.

    آج مدارس، علمائے دین اور مدارس کے طلباء کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنایا جانے کی ایک سب سے بڑی وجہ ان میں سے اکثر کا قرآن میں غوروفکر کرنے کے واضح احکام کی حکم عدولی ہے (اور ایسے مدرسوں سے میری مراد وہ مدرسے ہیں جہاں آج بھی شام کو چھوٹے چھوٹے معصوم طالبعلموں کو ڈونگے اور بالٹیاں دے کر گھر گھر دستک دے کر شوربہ اور روٹیاں مانگنے بھیجا جاتا ہے... اور میں یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ اسمیں بھی زیادہ قصور خود ہمارا اپنا ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں بھیجتے ہیں تو اسکے سر کی مانگ سے لے کر اسکے جوتوں کے تسموں تک کا خیال رکھتے ہیں، عجیب و غریب اور بعض اوقات تو بےہودہ قسم کے فنکشنوں کی مد میں ہزاروں روپے لٹانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور وقتا فوقتا پرنسپل اور بچوں کے ٹیچر سے مل کر بچوں کی پراگریس وغیرہ بھی ڈسکس کرتے ہیں، لیکن جب وہی بچہ شام کو قرآن پڑھنے مدرسے جاتا ہے تو ہم شاذ ہی یہ بات سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں کہ دینی مدرسے کے بھی اخراجات ہوتے ہیں، بچوں کو قرآن پڑھانے اور مذہبی ارکان سکھانے والے عالم یا مولوی صاحب کا بھی گھر بار ہے اور اسکی ذمہ داریاں اور ضروریات کا بوجھ انکے شانوں پر ہے... کہاں خود مدرسے جانا، اور انکے روحانی استاد سے ملنا اور بچوں کے بارے میں ڈسکشن کرنا اور مدرسوں کے سماجی اور معاشی مسائل جاننے کی کوشش کرنا).

    ایسے میں جامعتہ الرشید جیسے اداروں کا سامنے آنا ایک بہت خوش آئیند بات ہے، اور ہم سب کو چاہئے کہ ایسے اداروں کی سپورٹ کریں یا پھر کم از کم تنقید سے گریز کریں.

    سمت اور طریقہ درست ہے یا نہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد کا متوسط اور بظاہر عام سامولوی بھی ہم میں سے بیشتر لوگوں سے زیادہ دین کی اور اللہ کی محبت رکھتا ہے، اس بات کو جھٹلانے سے پہلے میری ایک گزارش ہے کہ ذری ایک سال تک فجر کی اذان تو فی سبیل اللہ دے کر دیکھئے... یاد رہے کہ اذان دینے کے لئے اذان سے قریبا آدھ گھنٹا پہلے اٹھنا تو پڑتا ہی ہے
    . 😆 .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. عثمان نے کہا:

    @ محمداسد
    حضرت عثمان کے زمانہ عرب میں صرف قرآن ہی موجود تھا سیکھنے اور علم حاصل کرنے کے لئے۔
    قرآن سیکھنے اور رٹا مارنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. عثمان نے کہا:

    نیز جن اداروں میں تحقیق و نتقید کا تصور تو درکنار اجازت تک نہ ہو وہ جہالت پیدا کرنے کے کارخانے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. محمداسد نے کہا:

    @ عثمان
    مذکورہ قول حضرت عثمان (رض) کا نہیں بلکہ نبی کریم (ص) جسے جھٹلانا کسی مسلمان کے لیے ممکن نہیں. رہی بات تحقیق و تنقید کی تو مجھے یہ بات بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ دیگر تعلیمی اداروں اور درسگاہوں کی طرح جامعۃ الرشید بھی حسب استطاعت تحقیق کے کام میں پیش رفت کررہا ہے. اس کی تابندہ مثال ان کا روئیت ہلال پر طویل تحقیق ہے جسے کے مطابق ان کا ادارہ ہر ماہ چاند کی روئیت کے متعلق پیش گوئی کرتا ہے. اور میرے ذاتی تجربہ کے مطابق وہ اکثر و بیشتر درست بھی ثابت ہوتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ چاند کی روئیت کے موضوع پر بنائی گئی مشہور ویب سائٹ moonsighting.com پر جامعۃ الرشید کی تحقیق اردو زبان میں شائع ہوتی ہے. یہ کسی بھی پاکستانی ادارہ کا منفرد اعزاز ہے.

    مزید ایک بات یہاں بتانا مناسب خیال کرتا ہوں. جامعۃ الرشید میں داخلہ کے خواہشمند افراد کو جن تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، ان میں ایک نشست بحث و مباحثہ یعنی discussion کی بھی رکھی گئی ہے (جو انگریزی، اردو اور عربی زبان میں کی جاتی ہے). اس کا مقصد نئی نسل کے خیالات اور ترجیحات سے آگاہی حاصل کرنا ہے. جامعۃ الرشید کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے وہ ہر قسم کی مدلل تنقید کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں. بلکہ اپنے نصاب میں ضروری تبدیلی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے. کیوں کہ ہر بڑے تعلیمی ادارے کی طرح جامعہ کی انتظامیہ بھی اپنے طالب علموں کو کسی کے سامنے ڈی گریڈ ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عثمان نے کہا:

    رویت حلال کی صحت پر بات میں کسی مناسب وقت پر کروں گا. لیکن فی الحال یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جامعہ کا ماحول جدید علمی تقاضوں سے کسی حد تک ہم آہنگ ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 29 جولائی 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: کچھ جامعۃ الرشید کے بارے میں http://goo.gl/fb/VgFNX [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے