کراچی کا غریب مزدور

چھوٹے سے کمرہ میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ ماں کی چارپائی کے کنارے بیٹھا اجازت طلب نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ماں کی کیفیت بھی عجیب تھی۔ وہ اس کی طرف دیکھتی اور پھر آنکھیں پھیر لیتی۔ شاید وہ آنکھوں میں موجود سمندر کو اس سے چھپانا چاہتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ وہ کسی نیتجے پر نہیں پہنچ پارہی۔ یا اگر ایک لمحہ کو فیصلہ کرتی ہے تو اگلے ہی لمحہ اس کا فیصلہ دل میں اٹھتے والے خدشوں  اور اندیشوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ پھر آخر کار ماں نے دل پر پتھر رکھ گلوگیر آواز میں کہا "جا بیٹا! اللہ تیری حفاظت کرے"۔ وہ بے یقینی کی کیفیت سے ماں کی طرف دیکھنے لگا۔

دوسری طرف نہ جانے کب اس کی بہن آئی اور اس کے بازو پر کالے دھاگے سے تعویظ باندھ دیا۔ وہ ماں کو تکنے میں اتنا مگن تھا کہ اسے اس کا احساس ہی نہ ہوا۔ پھر اچانک اسے کچھ محسوس ہوا تو وہ چونک سا گیا۔ پاس کھڑی بہن خدا سے اپنے بھائی کی سلامتی کا ذمہ لینے کی ضد کررہی تھی۔ وہ کبھی بازو پر بندھے تعویظ کو دیکھتا تو کبھی پاس کھڑی نازک سی پر نگاہ ڈالتا۔

کھانسنے کی آواز آئی تو اسے کمرے میں باپ کی موجودگی کا احساس ہوا۔ باپ کے چہرے پر تپتے صحراؤں میں چلنے والی آندھی کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے باپ نے چھکے ہوئے کندھوں کو اٹھایا اور اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔ وہ فرط جذبات سے اپنے باپ سے بغل گیر ہوگیا۔ اسے باپ کا دل اپنے سینے میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ چند لمحے باپ کے جسم کی گرمائش اپنے جسم میں جذب کرتا رہا اور پھر بڑی مشکل سے اپنے آپ کو اس سے الگ کر کے تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھ گیا۔

دروازے پر اس کا چھوٹا بھائی ننھی ننھی انگلیوں سے اپنے آنکھیں مسل رہا تھا۔ اس نے آنکھوں سے باہر آتے سمندر کو بڑی مشکل سے روکتے ہوئے اسے بھی گلے لگالیا۔ وہ اسے کہنا چاہتا تھا کہ سب کا خیال رکھے، لیکن آواز تو جیسے حلق ہی میں گھٹ کر رہ گئی۔ اس نے بھائی کے کاندھے کو تھتھپاتے ہوئے اسے اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے لکڑی کے بوسیدے دروازے کھول کر گھر کی دہلیز کو پار کر گیا۔

صبح کی روشنی آہستہ آہستہ پھیلتی جارہی تھی اور وہ غریب مزدور کراچی کے بازار میں کام کی تلاش کے لیے گھر سے نکل چکا تھا ۔ ۔ ۔ شاید واپس آنے کے لیے یا شاید ۔ ۔ ۔ لسانیت کی بھینٹ چڑھ جانے کے لیے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

24 تبصرے

  1. ھارون اعظم نے کہا:

    اسد بھائی، بہت خوب لکھا ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عبداللہ نے کہا:

    کیا آپکو یقین ہے کہ یہ قتل و غارت گری جو کراچی میں ہورہی ہے اس کی بنیاد لسانیت ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. نعمان نے کہا:

    بہت ہی ڈرامے باز فیملی ہے۔ انداز تحریر میں یاسیت مزاح کی حد تک زیادہ ہے۔کافی بیکار اور بے ڈھنگی تحریر ہے۔ فرط جذبات سے بغلگیر چارپائی سے لگی ماں کھانسی زدہ باپ لاچار و بے کس بہن۔ کوئی حد ہے یار۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. کاشف نصیر نے کہا:

    عبداللہ میاں تمہیں آج شک ہےکہ یہ قتل و غارت گری جو کراچی میں ہورہی ہے اس کی بنیاد لسانیت ہے۔ ہاکستان کی سیکولر تکون یعنی اے این پی، ایم کیو ایم اور پی پی پی کی پیار محبت کی دہوملائی داستان پر کیا تم بھی یقین رکھتے ہو۔
    حد ہے پردہ پوشی کی ۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. اگر یہ لسانیت کی غارت گری نہیں ھے تو کس خباثت کی غارت گری ھے؟
    یہ کاٹھے انگریزوں یا برگر انگریزوں کے گھر کا ڈرامہ نہیں ھے۔اس لئے انہیں نہیں معلوم کہ غریب مزدور کے ہر گھر میں ایسا ہی ڈرامہ ہوتا ھے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ نے کہا:

    کاشف نصیر یہ وہ ڈرامہ ہے جو 62 سال سے اس ملک میں کھیلا جارہا ہے غریبوں کے حقوق غصب کیئے رکھنے کے لیئے اور انہین تم جیسے دو چار بے وقوف بھی مل ہی جاتے ہیں اپنے اس ڈرامے کو جاری و ساری رکھنے کے لیئے کبھی مذ ہب کے نام پر اور کبھی وطنیت کے نام پر !!!
    😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. عبداللہ نے کہا:

    اے این پی ،ایم کیو ایم اور پی پی پی میں اپنے بندے شامل کر کے ان سے بھی وہی کام لیاجاتا ہے جو مذہبی جماعتوں میں اپنے دہشتگرد پہنچاکر لیاجاتا ہے!!!
    لیکن اب سب نے ان نام نہاد پارٹی ورکرز سے اپنا ہاتھ اٹھالیا ہے اب تو جو کرےگا وہ بھرے گا جلد یا بدیر،انشاءاللہ
    اب بھی وقت ہے اپنا قبلہ سیدھا کرلو!
    😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. کاشف نصیر نے کہا:

    بندے شامل کرکے کیا مطلب
    پاکستان کا یہ سیکولر تکون تو بنایا ہی دہشت گردوں نے ہے.
    اور یہ اب کا لفظ ہم پچھلے کئی سالوں سے سنتے آرہے ہیں لیکن ہر دفعہ کوئی شاہی سید، کوئی زولفقار مرزا اور کوئی وسیم اختر غلاضت مچاکر سارے دعوں کی کلئی کھول دیتے ہیں. اے این پی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی یعنی بھائی زرداری، الطاف اور اسفند یار، تینوں کا تلعق کسی انسانی قبیلے سے نہیں کسی خونخوار حیوانی قبیلہ سے معلوم ہوتا ہے. بات سچ ہے کسی کو کڑوی لگتی ہے تو بھلے لگے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. کاشف ، بھائی زرداری یا بھائی الطاف یا اسفند یا ر کی مریدی میں آکر لسانی تفریق اور نام نہا د قومیت پرستی شروع کرکے غارت گری شروع کردیں۔غربا کے گلہ کاٹنا مت بھولئے گا۔
    قبلہ درست ہوجائے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. عبداللہ نے کہا:

    واقعی جاہلوں کے سامنے خاموش رہنا ہی عقلمندی ہوتی ہے! 😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. جاویداقبال نے کہا:

    ویسےایک بات توطےہےکہ جب سےسیاسی طورپرایم کیوایم سےپیپلزپارٹی کااختلاف شروع ہوااسی دن سےلاشوں پرلاشیں گررہیں۔ لیکن ہم لوگ تواپنےآپ سےبھی لڑتےرہتےہیں متحدکسطرح ہوسکتےہیں کیونکہ ہرکوئی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدبناکردوسرےکوکافرہےکانعرہ لگادیتاہےیہی حال سیاسی پارٹیوں کاہے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ نے کہا:

    جاوید اقبال پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اختلافات کوئی آج کے تو نہیں اور کیا یہی اختلافات پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں نہیں ہیں تو پنجاب میں جتنی قتل و غارت گری ہوتی ہے کیا اسے ہم ان دونون پارٹیوں کی ذاتی لڑائی سمجھیں ؟؟؟
    اور جب پچھلی حکومت میں یہ دونوں پارٹیاں برسر اقتدار تھیں تب بھی یہ اختلافات موجود تھے !
    مگر تب کیا یہی حالات تھے؟؟؟؟؟؟؟
    لاشیں گرانے والے کوئی اور ہی ہاتھ ہیں،کچھ ملکی کچھ غیرملکیِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ لڑائی نہ سیاسی ہے نہ لسانی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. محمداسد نے کہا:

    @ عبداللہ
    مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری اس کی بنیادی وجوہات جاننا ہیں. اور یہ تو آپ کو علم ہوگا ہی کہ کراچی جیسا شہر کئی بار 'کھلے عام' لسانی فسادات دیکھ چکا ہے. اب جبکہ حکومتی جماعتیں چت بھی ہمارا اور پت بھی ہمارا والا معاملہ رکھنا چاہتے ہیں. لہٰذا ان لسانی بنیادوں پر قائم جماعتوں کے پاس سوائے پیٹھ پیچھے وار کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں.
    یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ایم کیو ایم اور اے این ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتیں ہیں. دونوں ہی جماعتیں نہ صرف ایک دوسرے پر ٹارگٹ کلنگ کے الزامات لگاتی ہیں بلکہ گذشتہ دنوں میڈیا پر دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں. تو جب کھلے عام ان کے غصہ کا یہ عالم ہے تو درپردہ کیا ہوگا؟
    رہی بات "تیسرے ہاتھ" کی تو یہ تان محض پیپلز پارٹی کی ہے جسے بلوچستان اور سرحد تک میں تیسرا ہاتھ یعنی بھارت و اسرائیل نظر آتے ہیں. در حقیقت کھاؤ اور کھانے دو کی پالیسی پر عمل پیرا پیپلز پارٹی بیک وقت ایک میان میں دو تلواریں رکھنا چاہتی ہے. اسی لیے وہ بارہا تمام ذمہ داری اس "تیسرے ہاتھ" پر ڈال دیتی ہے. لیکن آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ "تیسرا ہاتھ" کیسا ہے جو دو جماعتوں کے مذاکرات ہوجانے کے بعد غائب ہوجاتا ہے.
    شیر شاہ میں ہونے والے افسوس ناک واقعے کے بعد فاروق ستار صاحب کی جانب سے حملہ آوروں کا جو حلیہ پیش کیا گیا وہ بھی بہت معنٰی خیز ہے. آپ اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کا اشارہ بخوبی جانتے ہوں گے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. عبداللہ نے کہا:

    اشارہ کیا اس سانحہ کا ذمہ دار لیاری گینگ وار کے لوگون کو انہوں نے صاف صاف ٹھرایا ہے،باقی اگر اتنا غصہ ہوتا اے این پی اور ایم کیو ایم کے درمیاں تو اے این پی والے اورنگی کا الیکشن یوں آسانی سے ایم کیو ایم کو جیتنے نہ دیتے وہ جو کچھ آپس میں میڈیا پر کرتے ہیں مجھے تو نورا کشتی ہی لگتی ہے بالکل ویسی ہی جیسی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ہے شائد اس طرح پھندا ڈال کر اصل مجرموں پر گرفت کی جاتی ہو یہ میری خوش فہمی بھی ہو سکتی ہے،مگر نتائج میری خوش فہمی کو حقیقت کا رنگ دیتے نظر آتے ہیں!!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. عبداللہ نے کہا:

    ایک بات میری سمجھ مین نہیں آتی کے کیا پورے پاکستان میں امن اور سکون ہے اور صرف کراچی میں ہی قتل و غارت گری ہے؟؟؟؟؟؟
    اور ہر قتل کو صرف کراچی میں کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جاتا ہے ایسا پنجاب اور سرحد میں ہونے والے قتل و غارت پر کیوں نہیں کیا جاتا؟؟؟؟؟؟؟
    پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ کچھ مخصوص قوتیں ہیں جو کراچی کے واقعات کو خصوصا اچھالتی ہیں اور اپنی مرضی کا رنگ دینا پسند کرتی ہیں اور انکی زبان بولنے والامیڈیا اس میں کلی پھندنے لگاکر اس میں مزید رنگ بھرتا ہے یوں کراچی سے باہر رہنے والوں کا تاثر ہم کراچی والون سے بالکل مختلف ہوجاتا ہے
    کچھ تو ہوتے ہیں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے ہیں!!!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. عبداللہ نے کہا:

    جی ہوسکتا ہے کہ وہ تیسرا ہاتھ کیوں کہ یہی چاہتا ہے کہ شک ان پارٹیوں پر ہو اسی لیئے جیسے ہی کوئی سلسلہ شروع ہوتا ہے خاموشی چھا جاتی ہے،

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عبداللہ نے کہا:

    ویسے جتنا شور و غوغا کراچی کے لیئے مچایاجاتا ہے ان بلاگس پر اتنا بلوچستان کے لیئے کیوں نہیں ہوتا؟؟؟؟؟؟؟
    http://www.voanews.com/urdu/news/Baluchistan-Situation-01Nov10-106449163.html

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. کاشف نصیر نے کہا:

    عبداللہ تم بلاوجہ کی پارٹی پرست اور شخصیت پرستی کا شکار ہو ورنہ حقیقت سے اتنے بے خبر بھی جتنے بنتے ہو،۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. محمداسد نے کہا:

    @ عبداللہ
    میری سمجھ سے تو کم از کم یہ بات بالکل باہر کے کہ یہ کیسی نورا کشتی ہے کہ جس میں عوام ہی مرتے ہیں اور کشتی کے پہلوان میدان مارلیتے ہیں. اس طرح کی حکمت عملیاں تو سیاست میں بھی ناقابل اعتبار سمجھی جاتی ہیں. یہاں تو پھر لوگوں کی لاشیں گررہی ہیں بھائی. اس "تیسرے ہاتھ" کے خلاف جب کبھی کراچی میں آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو حکومت صرف بیانات سے آگے کچھ نہیں کرتی جو کہ بہت معنی خیز ہے. اگر واقعات میں غیر سیاسی ملزمان ملوث ہیں تو ان کی نشاندہی کے لیے تو ہر جماعت کو آگے آنا چاہیے. ناکہ ٹی وی پر کسی قسم کی نوری کشتی کر کے عوام کو بہکایا جائے.

    رہی بات کراچی تو اس شہر کی اہمیت سے کون واقف نہیں. ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی اور شہر کے واقعہ کا ردعمل کراچی میں سامنے آیا ہو. لیکن یہاں ہونے والے واقعات نہ صرف حکومتی بلکہ عالمی سطح پر زیادہ اہمیت کے حامل ہیں. ممکن کے اردو بلاگز کے متعلق آپ کا شکوہ درست ہو لیکن یہ کراچی میں جاری قدیم مسئلہ سے نظر چرانے کے لیے کافی نہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. عبداللہ نے کہا:

    سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مرنے والوں میں سے اکثریت بے نام و نشان ہوتی ہے اکا دکا عوام میں سے اور یا پھر سیاسی کارکن ہوتے ہیں،
    یہ بے نام و نشان لوگ جن کے بارے میں میڈیا بھی خاموش رہتا ہے مجرم بھی ہوسکتے ہیں گوکہ یہ ماورائے عدالت قتل کہلائیں گے،
    باقی جو مجرم سیاسی کارکنوں کا روپ بھر کر سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شامل ہو چکے ہیں ایجینسیاں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ محض آپکا خیال ہے کہ حکومت کچھ نہیں کررہی مسلسل مجرم پکڑے بھی جارہے ہیں البتہ رفتار کم ہے اور اس کی بنیادی وجہ پولس مین موجود کالی بھیڑوں کا ان مجرمون کا سرپرست ہونا بھی ہے اور کئی بڑے سیاست داں بھی انہیں پالتے ہین جن پر ہاتھ دالنے کے لیئے مضبوط شوائد کا ہونا ضروری ہے ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پرانے پکڑے جاتے ہیں اور نئے آتے رہتے ہیں مجرمون کی نرسریز کا قلع قمع کئے بغیر معاملات مکمل کنٹرول میں نہیں آئیںگے،کراچی میں کثیر تعداد پیسے والوں کی بستی ہے اس لیئے بھی مجرم جوق درجوق یہاں کا رخ کرتے ہیں،
    کراچی میں جو کراچی کے نمائندے ہیں انہیں دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا اور سچ تو یہ کہ بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں کی ابتر صورت حال پر صرف اس لیئے بات نہین ہوتی کہ وہاں تو قبضہ پکا ہے جبکہ کراچی والے کراچی پر قبضہ پکا ہونے نہین دیتے اسی لیئے ہر اشو کو اچھالا جاتا ہے بڑھاوا دیا جاتا اور حقائق کا ادراک کیئے بغیر ہر الزام ایم کیو ایم پر ڈال کر اسے بدنام کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. عبداللہ نے کہا:

    وضاحت،
    کراچی میں جو کراچی کے نمائندے ہین انہیں کراچی سے باہر والے دل سے تسلیم نہیں کرتے!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  22. جعفر نے کہا:

    اسد میاں
    اپنے بلاگ پر چھاڑیاں وغیرہ کٹوا لیا کریں
    سینگ وغیرہ پھنس جاتے ہیں
    مسوم جانوروں کے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے