مثبت سوچ کا فقدان

انسان بذات خود نیکی کے برعکس بدی کی طرف جتنی جلد راغب ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح اسے دوسروں کے عیب، برائیاں، کوتاہیاں، غلطیاں اور برے کام بھی اچھے کاموں سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اور جب ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگے تو پھر معاشرے میں محبت و بھائی چارہ کے بجائے باہمی نفرت پنپتی ہےاور کچھ ہی عرصے بعد ہر فرد کے دل و دماغ میں اپنے ارد گرد موجود انسانوں سے بغض کی کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہوتی ہے چاہے وہ اس کا پڑوسی ہو، محلہ کمیٹی یا مسجد کا امام ہو، ریاست کا سربراہ یا فوج کا سپہ سالار ہی کیوں نہ ہو۔

ابتداء میں اس ناپسندیدگی کے اثرات صرف بے اعتمادی تک محدود ہوتے ہیں لیکن بڑھتے بڑھتے بات نفرت تک جا پہنچتی ہے۔ پھر اچھے کاموں کی تعریف بھی ناپید ہوجاتی ہے۔ معاشرہ اچھے لوگوں کو بھی گندے سسٹم کا حصہ گردانتے ہوئے ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے سے ہچکچاتا ہیں۔

کچھ یہی سلوک ہمارے ریاستی ستونوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ حکومت، افواج، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ نے جتنے برے کام کیے اور کررہے ہیں اس پر ہم سب نے یکجان ہو کر شدید تنقید کے ذریعے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اس اظہار نفرت میں ہم یہ سوچنا بھی بھول گئے کہ آیا ان اداروں میں کوئی کام اچھا بھی ہورہا ہے؟ اور بالفرض محال کسی شخص یا ادارے نے کوئی اچھا کام کیا بھی تو ہم نے اس کی تعریف کے بجائے چپ سادھ لی۔ اب اسے دیانتدار افراد کی حوصلہ شکنی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے کاموں کی جانب کوئی نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا جبکہ وہی شخص یا اداراہ اگر رائی برابر بھی غلط کام کرے تو اسے پہاڑ بناتے دیر نہیں لگتی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے
محمد زبیرمرزا says:

جیتے رہو لڑکے جی خوش ہوگیا - سوچ سیدھی تو عمل سیدھا - اچھا سوچنے کی ذرا سی مشق کرنی ہوتی پھر منفی خیالات کو جھٹکنا آسان ہوجاتاہے - منفی سوچ سب سے پہلے تو سوچنے والی کو ہی نقصان پہنچاتی بعد میں کسی اور کو - میاں بات یہ حقیقت پسندی کا لیبل لگا کہ جتنا جی چاہیے زہراُگل لیں لیکن چارباتیں کسی کے بارے میں اچھی کہیں تو خوشامدی یا احمقوں کی جنت کے باسی کہلائیں - خیر دنیا اچھی سوچ سی ہی آبادہے اور انشاءاللہ مثبت سوچ پھُولتی پھلتی رہے گی -
اخلاقی اقدار پہ بھی کچھ لکھو اور خاص طورپرسوشل میڈیا میں اس کا کردار-

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ویسے آپ نے کبھی غور کیا کہ ایسی تحاریر پر تبصرے بہت کم ہوتے ہیں بلکہ ایک بھی ہو جائے تو وہ بھی بڑی بات ہے۔ بندہ ایک چھوٹی سی بات سوچ سوچ کر فلسفے کو گہرائیوں تک سمجھ کر تحریر لکھتا ہے لیکن۔۔۔۔۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
ہما says:

بالکل ایسا ہی ہے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب