لاپتہ افراد کا قصور

8

“میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے . . . which bothers me alot . . . یہ پورے اٹھارہ کروڑ میں اگر چند لوگوں کو اٹھایا گیا ہے . . . تو ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی تو پرابلم ہوگا . . .” یہ الفاظ سینئر صحافی حسن نثار کے ہیں جو انہوں نے اپنے پروگرام چوراہا میں بطور میزبان ادا کیے. لاپتہ افراد سے متعلق کچھ اسی طرح کی بات اب سے تقریباً ڈھائی سال قبل میرے دوست نے بھی کی تھی. میرا دوست اس وقت کی حکومت کا بہت حامی تھا اور آنکھ بند کر کے حکومتی اقدامات کا دفع کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا. اس کا کہنا تھا کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں سے اگر چند مخصوص لوگوں کو اٹھا لیا گیا ہے تو ان لوگوں کی ذات میں ضرور کوئی مشکوک چیز ہوگی. ورنہ امریکا بھلا کیوں معصوم پاکستانیوں سے چھیڑ چھاڑ کرے گا؟ میرا جواب اس وقت بھی وہی تھا جو آج ہے.

دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک پاکستان کے سیکڑوں شہری لاپتہ ہو چکے ہیں. اس وقت کی آمر حکومت نے جہاں امریکا بہادر کے سامنے سر تسلیم خم کیا، وہیں جذبہ ایمانی اور قومی وحدت کو بھی چند ڈالروں کے عوض بیچ ڈالا. پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً افغانستان سے ملحقہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بڑے پیمانہ پر عام شہریوں کو اٹھا کر القاعدہ اور طالبان کا لیبل لگا کر امریکا کے ہاتھوں فروخت کر دیا. ان سب باتوں کی تصدیق سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب In the Line of Fire میں بھی مختصراَ کی ہے.

ان سب باتوں کے بعد ہر ذی شعور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان معصوم لوگوں کا امریکا سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کیا تعلق تھا؟ ان کا قصور کیا تھا؟ یہ لوگ راہ چلتے، مسجد سے آتے جاتے، دفتر سے واپسی پر کیوں اٹھا لیے گئے؟ لیکن ان سب میں سے ایک سوال تک کا بھی جواب کسی کو نہیں معلوم. اور یہ جواب معلوم کیا بھی نہیں جاسکتا. کیوں کہ ان لاپتہ افراد میں نہ ہی کوئی بے نظیر ہے کہ جس کے لیے اقوام متحدہ کمیشن پر لاکھوں ڈالر کیے جائیں. ان میں کوئی بشریٰ زیدی بھی نہیں جس کے لئے شہر بھر میں جلسے جلوس نکالے جائیں اور اس کے مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جائے. ان میں کوئی اکبر بگٹی بھی نہیں جس کے خلاف کاروائی کو ملکی سالمیت کے خلاف کہا جائے. ان میں کوئی جج، کوئی چیف جسٹس بھی نہیں جس کی نظر بندی ختم کرنے یا بازیابی کے لئے لانگ مارچ کئے جائیں. ان میں کوئی مختارا مائی بھی نہیں جس کی نمائش کر کے عورتوں کی فلاح کے نام پر اربوں ڈالر بٹورے جاسکیں.

لاپتہ افراد کی اس بدقسمت فہرست میں تو وہ لوگ شامل ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں. ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو صرف ملک کی خدمت کرنے کے لئے دوسروں کو ٹھوکر مار کر وطن واپس چلے آئے. ان لوگوں میں تو وہ ڈاکٹر، انجینئر شامل ہیں جو ملک کے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے بے چین رہتے تھے، جنہوں نے صرف اپنے دینی اور قومی بھائیوں کے حق میں آواز بلند کی اور ان کی خدمت کا عہد کیا. تو بھلا کیا ضرورت ہے ان لوگوں کو دشمن سے بچانے کی. ان لوگوں کو غلاموں اور لونڈیوں کی طرح فروخت کردیا گیا اور خوب پیسے بنالیے گئے. ان میں سے کئی گوانتامو میں سڑ رہے ہیں تو کئی افغانستان کی جیلوں میں تڑپ رہے ہیں.

ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ سالوں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں سر توڑ کوششیں کررہے ہیں. یہ بے سروسامان لوگ کبھی کسی ایم پی کے در پہ چاتے ہیں تو کبھی اسمبلی کے سامنے پر امن جلوس نکالتے ہیں. یہ لوگ انصاف مانگنے کے لئے کبھی سیاسی جماعتوں کے وعدوں پر اعتبار کرتے ہیں تو کبھی آزاد عدلیہ کی باتوں سے امید باندھ لیتے ہیں. ایک ماں اپنے بیٹے کی بازیابی کی خاطر آمر کے قدموں تک میں گرجانے کو تیار ہے. اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ کرنے والے ان لوگوں پر کبھی لاٹھی چارج کیا جاتا ہے تو کبھی ڈنڈوں سے ان کی دھلائی کی جاتی ہے. اپنے ماں باپ کی تلاش میں نکلنے والوں کی شلوار پھاڑ دی جاتی ہے، عورتوں کے سر سے سرعام چادریں گھسیٹ لی جاتی ہیں.

کیا کبھی ہمارے جمہوریت پسندوں نے ان بوڑھے ہاتھوں کے بارے میں سوچا جو اپنے رب سے صرف ایک دعا کرتی ہے کہ مرنے سے پہلے اس کے جگر کے ٹکڑے کی شکل دکھا دے. کیا خواتین کی حقوق کی بات کرنے والوں نے اس بیوی، بیٹی، ماں کے بارے میں سوچا کہ جو اپنے خاوند، بھائی اور بیٹے کو پانے کی خواہش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں. بچوں پر تشدد کے خلاف کام کرنے والوں نے کبھی ان بچوں کے بارے میں سوچا جو اپنے ماں باپ کے نہ ہونے سے ذہنی کوفت کا شکار ہیں. کیا کسی عوامی جماعت نے صدق دل سے ان لوگوں کے دکھ کو محسوس کیا جن کے پیارے ان سے جدا کر دیے گئے؟ حقوق نسواں کا علم تھامنے والوں نے وہ کرب محسوس کیا جو پاکستان کی بیٹیاں پانچ سال سے غیروں کے ہاتھوں اپنی عزت کو داغدار کرتے ہوئے محسوس کرتی ہیں؟ کیا کبھی انسانی حقوق کی بات کرنے والوں نے ان پاکستانیوں کے حق میں آواز اٹھائی جن کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جارہا ہے؟ کیا آئین کی حکمرانی، قانون کی عملداری کی باتیں کرنے والے میڈیا نے ان لوگوں کے بارے میں بات کی جنہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے؟

قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ ہم سے دریافت کریں گے کہ اے بندہ تو نے اپنے مظلوم مسلمان بھائی کو سفاک دہشت گردوں سے بچانے کے لئے کیا کیا؟ ظالم کو اپنی ہاتھ سے، زبان سے یا قلم سے روکنے کی کوشش کی؟ کیا تم نے دل میں ہی اس ظالم کو برا سمجھتے ہوئے بددعا دی؟ تو کیا ہم اپنے رب کا سامنا کر پائیں گے؟ کیا ہم اپنے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے، حقیقت کو نظرانداز کرتے اپنے رب کو یہی کہیں گے کہ اے خدا! تیرے بندوں میں کوئی نقص یا کوئی نا کوئی پرابلم تو ضرور ہوگا، تبھی وہ ظالموں کی ہاتھوں تنگ ہوئے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

8 تبصرے

  1. میرا پاکستان کہتے ہیں

    چلیں فرض کر لیں ان کا قصور تھا مگر ملک میں جنگل کا قانوں تو ہے نہیں کہ بناں جرم ثابت کیے غائب کر دیا جائے. اگر ان کا قصور تھا تو انہیں عدالت میں اپنی بیگناہی ثابت کرنے کیلیے پیش کیا جاتا. حسن نثار کو بیگناہوں کے غائب ہونے کا اس دن احساس ہو گا جس دن وہ خود کسی ایسی مصیبت میں گرفتار ہوئے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    اگر کسی پر کوئی الزام قانون کی خلاف ورزی کا ہو تو اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے یا عدالت کے حُکم پر گرفتار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بغیر اگر کسی مْجرم کو بھی گرفتار کیا جائے تو گرفتار کرنے والے کے خلاف حبسِ بے جا کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے ۔ غائب کرنا اور اغواء کرنا برابر کے جرم ہیں اور غائب کرنے کے بعد اقرار نہ کرنا دوہرا جُرم ہے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. فارغ کہتے ہیں

    آپ نے بھی کس مایوسی کے پیغمبر کے الفاظ کوٹ کر دئے. وہ شخص جو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیتا ہے اس کی بدذبانی پر ادارے کو معافی مانگنا پڑتی ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمداسد کہتے ہیں

    @میرا پاکستان
    میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں. کسی بھی آزاد ملک کے شہریوں کو اس طرح طریقہ سے پکڑنا نہ صرف قانونی بلکہ انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے.

    @افتخار اجمل بھوپال
    سابقہ و حالیہ حکومتوں نے بھرپور کوشش کی کے کسی طرح اس معاملہ کو دبایا جائے. ان کے انہیں اقدامات نے ان پر شک کو دوام بخشا ہے. اب بھی اگر مجرم گرففتار نہ ہوئے تو ان کا شمار بھی انہی ظالموں میں کیا جائے گا.

    @فارغ
    بلاگ پر خوش آمدید.
    آپ نے درست فرمایا کہ حسن نثار صاحب سینئر صحافی ہونے کے باوجود بعض اوقات نامناسب الفاظ استعمال کر بیٹھتے ہیں کہ قارئین دنگ رہ جائیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. جاویداقبال کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    آپ کی تحریرواقعی قابل لائق تحسین ہے۔واقعی ہم مسلمان ہیں پاکستانی ہیں لیکن ہم میں سےغیرت آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہےکیونکہ جب بندہ بےغیرت ہوجاتاہےتوہرچیزختم ہوجاتی ہے۔کئی لوگ ایسےہیں جوکہ ایسی باتیں کرتےہیں میراان سےیہی سوال ہے کہ وہ لوگ اٹھائےگئےہیں مسلمان ہیں پاکستانی ہےکیاپاکستانی عدالتیں ایسی ہی کمزورہےیاہماراملک اتناہی کمزورہوگیاہےکہ لوگوں کوبغیرکسی ثبوت کےبغیرکسی آیف آئی آرکےاٹھاکےامریکہ بہادرکی جھولی میں دےدیاجائے۔اللہ تعالی ہم کوسچااورپکامسلمان اورپاکستانی بنائے۔آمین ثم آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    @جاویداقبال
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، بلاگ پر خوش آمدید اور پسندیدگی کا شکریہ.
    کوئی ملکی ادارہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں کہ اس سے غلطی ہوئی یا اس نے کمزوری کا مظاہرہ کیا. مجموعی اور انفرادی طور پر جب لالچ کا عنصر معاشرے میں شامل ہوجائے تو وہیں سے بے غیرتی کی شروعات ہو جاتی ہے. اللہ تعالیٰ آپ کی نیک تمناؤں کو قبول فرمائے. آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد کہتے ہیں

    @ نعیم اکرم ملک
    بلاگ پر خوش آمدید.
    بے حس لوگوں کی مکمل کہانی اس ایک جملہ میں پنہاں ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.