تھوڑا سا احساس چاہیے

12

یہ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں۔ 14 اپریل 2010ء کی صبح چین کے مغربی صوبے چنگھائی میں شدید زلزلہ آیا۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر چھ اعشاریہ نو اور گہرائی دس کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلہ میں ڈھائی ہزار افراد جاں بحق، بارہ ہزار زخمی اور دو سو ستر کے قریب لاپتہ ہوئے۔ اس کے علاوہ یہ زلزلہ دو لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر گیا۔

چین میں جس وقت یہ زلزلہ آیا، اس وقت چینی صدر ہو جنتاو برازیل کے دورے پر موجود تھے جہاں انہیں دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں برازیل، بھارت اور روس کے ساتھ بات چیت میں چین کی نمائندگی کرنی تھی۔ یہ برکس ممالک کے درمیان ہونے والی اہم ترین ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ اس طے شدہ ملاقات کے بعد چینی صدر کو ونزویلہ اور چلی کا بھی دورہ کرنا تھا۔ لیکن ان کا یہ تمام کام، تمام مصروفیات اس زلزلہ کی نظر ہوگئیں۔ اپنے ملک میں آنے والے اس زلزلہ کی خبر سنتے ہی انہوں نے اپنی تمام ملاقاتیں اور دورے غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کیے اور اپنے ملک پہنچے۔

چین میں جس وقت یہ زلزلہ آیا، اس وقت چینی وزیراعظم وین جیاباؤ تین ایشیائی ممالک کے دورے کو حتمی شکل دے رہے تھے۔ اس دورہ کے دوران انہیں برونائی، انڈونیشیاء اور میانمار جانا تھا۔ ان کا یہ دورہ بھی پہلے سے طے شدہ تھا لیکن اس زلزلہ کی شدت نے وزیراعظم کے اس دورہ کو بھی ملتوی ہونے پر مجبور کردیا۔ 65 سالہ وزیراعظم نے فوراَ سے بیشتر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور چینی عوام کو یہ باور کرایا کہ حکومت ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

یہ وہی چین ہے جسے پاکستان کا لازوال دوست مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ چین کی ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کی مدد کرنا ہے۔ شاہراہ قراقرم سے لے کر JF-7 تھنڈر تک پاک چین دوستی کی واضح مثال ہیں۔ پاکستان کی فوج سے لے کر بیروکریٹس اور حکومت سے لے کر عوام نے چین سے بہت کچھ حاصل کیا۔  آدھی صدی سے بھی پرانی اس دوستی میں چین سے ہم نے کئی چیزیں لیں لیکن چینی حکمرانوں کے دل میں عوام کے لیے موجود احساس ہم کبھی حاصل نہیں کرسکے۔ جس کا اندازہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور حکومتی رویہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

ذرا سوچیے! اگر ہمارے حکمران چین سے احساس کا سبق سیکھ لیتے تو وہ چین میں آنے والے شدید زلزلہ سے کہیں زیادہ تباہی و بربادی پھیلانے والے سیلاب کے دوران اپنے ملک کی عوام کو یوں سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے کاروبار میں نہ لگے رہتے۔ اگر ہمارے صدر چین کے صدر سے ملاقات کے دوران AID کی فرمائش کے بجائے احساس کا تحفہ مانگ لیتے تو وہ آج اپنے ہی گھروں کے ملبے پر بیٹھ کر روتی بلکتی عوام کے پیسوں پر محلوں میں عیاشی نہ کررہے ہوتے۔ اگر ہمارے وزیراعظم چین کے وزیراعظم سے احساس کرنا سیکھ لیتے تو وہ آج تھری پیس سوٹ میں ٹی وی پر بیٹھ کر امداد کے اعلانات کے بجائے خود سیلاب زدہ علاقوں میں اترتے اور سیلاب زدگان کی پریشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اندر سب سے زیادہ کمی احساس کی ہے۔ اگر ہم اور ہمارے حکمرانوں کے اندر یہ کمی دور ہوجائے تو ہم بھی چین کی طرح بڑے مسئلہ اپنے زور بازو پر حل کرسکتے ہیں۔ میں خدا سے دعا گو ہوں کہ اے اللہ ہم بے حسوں کو تھوڑا سا احساس عطا فرمادے۔ آمین

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

12 تبصرے

  1. شازل کہتے ہیں

    یہاں کس کو فکر ہے
    لاشیں اٹھانے والے تھک گئے مگر گرانے والے نہ تھکے اور نہ تکھیں گے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. فرحان دانش کہتے ہیں

    چینی حکمران تواپنی قوم سے مخلص ہے پر ہمارے:twisted: حکمران نہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. طالوت کہتے ہیں

    ہم اور ہمارے حکمران ایک دوسرے کے دکھوں میں اضافہ تو کر سکتے ہیں مگر سکھوں میں نہیں ۔ عورتوں و بچوں کو لئے سڑکوں کے کنارے راتیں بسر کرنے والے مصیبت زدہ کل کو ہماری کسی مصیبت میں کام نہ آئے تو ہمیں گلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں نگل رہی ہیں اور ایک طرف لاشیں باقاعدہ منصوبے کے تحت گرائی جا رہی ہیں ۔ ایک طرف جعلی ریلیف کیمپ لگا کر فوٹو سیشن کئے جا رہے ہیں دوسری طرف صدر پاکستان اور کابینہ کی یورپ میں عیاشیاں چل رہی ہیں۔ اور اس پر مزید سنئے کہ ضمنی انتخابات میں پھر وہی گھسے پٹے اسمبلیوں کی زینت بننے جا رہے ہیں ۔
    اپنے پاؤں پہ آپ کلہاڑی مار کے جیو !۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    يوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہميں ايسے حکمران چننے کی سزا دے رہا ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. عین لام میم کہتے ہیں

    احساس……. یہ کیا ہوتا ہے جی…؟
    وزیر اعظم کی آمد پہ جعلی ہسپتال اور امدادی کیمپ لگا لینے والے لوگوں کے سامنے احساس کی بات کر کے کیوں خود شرمندہ ہوتے ہیں جی…… اپنے ہونے پہ رونا آتا ہے…

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ کہتے ہیں

    شازل آپکا تعلق بھی غالبا پنجاب سے ہے ،آپکو ابھی تک وہاں مصیبت میں گھرے لوگوں کا احساس نہیں ہوا ہے! کراچی کے لاشیں گرانے والے بغیر تصدیق کے ایم کیو ایم والے ہوگئے اور یہ رپورٹیں جو کہہ رہی ہیں وہ نہ تو کوئی سازش ہے اور نہ ہی کوئی مسئلہ!
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/08/100806_flood_aid_politics.shtml

    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5874823,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
    جتنا مروڑ کراچی کے لیئے اٹھتا ہے اتنا اگر اپنے شہروں کے لیئے اٹھے تو آپ لوگوں کو کراچی آنا ہی نہ پڑے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. وقاراعظم کہتے ہیں

    بحیثیت مجموعی، ہمارا معاشرا ایک بے حس معاشرہ ہوگیا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ بے حس حکمران ہم پر مسلط ہوگئے ہیں۔ اور انھیں ہم نے خود ہی مسلط کیا ہے۔ اگر ہم بے حسی ترک کردیں تو شاید معاملات صحیح ڈگر پر چل پڑیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. عدنان مسعود کہتے ہیں

    بہت خوب کہا اسد صاحب کہ ‘اگر ہمارے صدر چین کے صدر سے ملاقات کے دوران AID کی فرمائش کے بجائے احساس کا تحفہ مانگ لیتے ‘۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. کاشف نصیر کہتے ہیں

    زرداری صاحب کو کچھ نہ کہیئے انہوں نے وسیع تر قومی (ذاتی) مفاد کے حصول کیلئے برطانیہ اور فرانس کا دورہ کیا تھا. انکے دورہ کی مخالفت کرنے والے جانتے نہیں کہ اس کے کتنے سمرات ظاہر ہوں گے. یہ محمد اسعد جیسے لوگ اس ملک(زرداری) کا بھلا نہیں چاہتے.
    فوزیہ وہاب

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. ام ایمن کہتے ہیں

    آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.