میرا پہلا روزہ

جب بھی گزرے ہوئے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں اور اس کا عکس ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے ہمیشہ دھندلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ اوروں کے ساتھ بھی ہوتا ہے یا نہیں کہ جھلکیوں کی صورت میں منظر سامنے آجاتا ہے لیکن ایسا دھندلا کہ جیسے کوئی بہت ہی پرانا نوٹ سرف سے دھو دیا گیا ہو یا روشنی زیادہ ہونے کی وجہ سے تصویر سفیدی مائل ہوگئی ہو۔ تھوڑی توجہ سے فریکوئنسی سیٹ ہونے پر تصویر واضح ہوجاتی ہے۔ پھر دل کرتا ہے کہ اس وقت کو بار بار ریوائنڈی کر کے دیکھا جائے جب ہمارے دل و دماغ پاک و صاف اور ظاہر و باطن کسی قسم کی بناوٹ سے پاک تھے۔ مسکراتے تو ایسے کھل کھلا کر سامنے والا بھی ہنس دے اور روتے تو ایسا منہ بنا کر کہ دیکھنے والا بھی روہانسا ہوجائے۔

کچھ ایسی ہی دھندلی تصاویر جنوری 1997ء کی بھی دماغ میں محفوظ ہیں کہ جب اپنی نویں سالگرہ سے چند روز قبل میں نے پہلا روزہ رکھا یا یوں کہیے کہ میری روزہ کشائی ہوئی۔ اس دن کی پہلی جھلک جو ذہن میں آتی ہے وہ سحری کی ہے۔ ٹھنڈے ٹھنڈے موسم میں گرما گرم اور مزے مزے کی چیزیں دسترخوان پر سجی ہیں۔ ابو اور امی کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرا رہی ہیں کہ اسد پانی پی لو، بیٹا دہی کھا لو، کھانا اچھی طرح کھا لیا ناں؟ چلو اب چائے پی لو سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے۔

روزہ رکھنے کا شوق کیسے ہوا؟ اس بارے میں کچھ زیادہ تو یاد نہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دینی معاملات کی طرف راغب کرنے میں ابتدائی اسکول نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ گلشن کے علاقے میں قائم اس تعلیمی ادارے کا نام  'روضۃ الاطفال' تھا جہاں اقراء کے طرز  تعلیم پر دی جاتی تھی۔ یعنی صبح میں عصری تعلیم اور دوپہر میں قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ اساتذہ میں سے اکثر نہ صرف اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ صوم و صلاۃ کے بھی پابند تھے۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے بچوں میں نماز اور روزے کا شوق پیدا ہو ہی جاتا ہے۔

بچوں کو مکمل روزہ رکھوانے سے پہلے ان کا شوق پورا کرنے کے لیے آدھے دن کا روزہ رکھوایا جاتا ہے جسے چڑی روزہ کہتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں چڑی روزے کے ساتھ یا شاید اس سے پہلے بچوں کی ضد پر ایک داڑھ کا روزہ بھی رکھوایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کوئی بچہ روزہ رکھنے کی ضد کرے تو اسے کہا جاتا تھا کہ ٹھیک ہے تم آج دائیں یا بائیں داڑھ کا روزہ رکھ لو اور اب اس طرف سے کچھ کھانا نہ پینا۔ جبکہ دوسری طرف سے کھانے پینے کی اجازت ہے۔ مابدولت نے بھی اس ایک داڑھ کے روزے کے بہت مزے لیے۔

بہرحال، یہ تو یاد نہیں کہ اس دن اسکول تھا یا نہیں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ سحری کے بعد سو کر اٹھے تو امی نے اچھی طرح ٹھونک بجا کر روزے دار کو چیک کیا اور پوچھا کہ روزہ تو نہیں لگ رہا، پیاس تو نہیں لگ رہی؟ وغیرہ وغیرہ۔ تمام سوالوں کے جواب مسکرا کر نفی میں جواب دیے اور یوں وقت گزرنا شروع ہوا۔ ظہر کی نماز گھر کے قریب واقع غوثیہ مسجد میں ادا کی اور پھر کچھ دیر قرآن کی تلاوت کر کے واپس ہو لیے۔ ابھی کچھ دیر آرام کیا تھا کہ عصر سے پہلے ہی گھر میں بزرگوں اور کزنز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

کزنز کے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے نکلے تو گھر کے قریب رہنے والے دوست بھی ساتھ ہو لیے۔ سفید کرتے پائجامے پر اونی سویٹر اور اجلی ٹوپیوں والے نونہالوں کا قافلہ مزید بڑا ہوگیا۔ ہنستے کھیلتے گلیوں میں سے گزرتے تو لوگ دلچسپی سے ہمیں دیکھتے۔ غوثیہ مسجد میں نل سے وضو کرنے کے انتظام کے علاوہ حوض بھی بنا ہوا تھا۔ عصر کے لیے وہاں سے وضو کیا اور نماز سے فارغ ہو کر گھر کی راہ لی جہاں کافی مہمان جمع ہوچکے تھے۔

بچپن میں قدرے شرمیلی طبیعت کا تھا اس لیے مہمانوں کو سلام کر کے کچن میں گھس جاتا کہ امی کا ہاتھ بٹا دوں لیکن یہ کہہ کر باہر کردیا جاتا ہے کہ جاؤ اور مہمانوں سے سلام دعا کرو۔ میں چونکہ پلوٹی کا ہوں اس لیے گھر میں شہزادے کی سی اہمیت حاصل تھی۔ وقت افطار سے پہلے ہی دونوں اماؤں (دادی اور نانی) نے اپنے درمیان میں بٹھا لیا اور ہم دلہا کی طرح شرماتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستیوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ یہ وقت جب بھی یاد آتا ہے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور دل سے دادی مرحومہ کے لیے جنت میں اعلی درجات اور نانی کی عمر میں برکت کی دعا نکلتی ہے۔

افطار سے کچھ دیر پہلے دسترخوان بچھایا گیا اور طرح طرح کے لوازمات سے سجا دیا گیا۔ شربت، دہی بڑے، پھل، سینڈوچ کے علاوہ ایک منفرد چیز 'لونگ چڑے' بھی موجود تھی کہ جو دہلی والوں کی افطاری کا خاص آئٹم ہے۔ آج بھی آپ لونگ چڑے کھانا چاہیں تو برنس روڈ، دہلی کالونی، اردو بازار، بہادرآباد کے قرب و جوار میں دستیاب ہوتے ہیں۔

عام دنوں میں تو ہم افطاری کی ہر کھٹی مٹھی چیز پر ہاتھ صاف کرنا فرض عین سمجھتے تھے لیکن اس دن بہت ہی مختصر افطار کیا اور جلدی سے مسجد کی راہ لی۔ سوچا کچھ مہمان رخصت ہوجائیں تو ہم شرمیلے پن کو فرج میں رکھ کر بے تکلفی سے پیٹ پوجا کریں گے لیکن واپسی پر تو مہمانوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہوچکی تھی۔ مرتے کیا نہ کرتے، تھوڑا کھایا، تھوڑا پیا اور بہت سے تحائف وصول کیے۔ یوں روزہ کشائی کا دن خوشی خوشی تمام ہوا۔

میرا ایک کزن کہتا تھا کہ ہم خوش قسمت رہے کہ جب بچپن میں رمضان آیا تو جاڑے کا موسم تھا یوں مختصر روزوں کے ساتھ شروعات کا موقع ملا۔ جب ہم جوان ہوں گے تو روزے گرمیوں میں اور لمبے لمبے ہوں گے لیکن ہمیں ان شاء اللہ کوئی مسئلہ نہ ہوگا کیوں کہ ہم اس وقت جسمانی اور روحانی اعتبار سے زیادہ توانا ہوں گے۔ پھر جب ہم بوڑھے ہوں گے تو روزے پھر سردیوں میں آئیں گے اور یوں اللہ نے ہمارے لیے معاملہ آسان کردیا۔ یہ بہرحال میرے کزن کا فارمولا ہے جسے میں کبھی کبھی دل کو مطمئن کرنے کے لیے دہرا لیتا ہوں۔

اس تحریر کا شجر نسب:
شعیب صفدر بھائی نے روزہ کشائی پر بلاگ کا آغاز کیا اور رمضان رفیق کو دعوت دی کہ وہ اس موضوع پر لکھیں۔ پھر رمضان بھائی نے مجھ سے پہلے روزے کی روداد بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کے سامنے ہے۔ اور اب میں اس سلسلے کو مزید آگے بڑھتائے ہوئے ان بلاگران سے اسی موضوع پر بلاگ لکھنے کی درخواست کر رہا ہوں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

24 تبصرے

  1. Fahad Shabbir نے کہا:

    1997 main 8 saal :O tab main 7th class main tha 😛

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. Wajdaan Alam نے کہا:

    میں واقعی میں اب تک یہی سمجھتا رہا کہ آپ بابا جی ہیں :/

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. زبیر مرزا نے کہا:

    اس تحریر کو معلوماتی ، معصوماتی اور جذباتی کہیں تو بے جا نہیں ہوگا - اچھی بات یہ ہے اس تحریرکی کہ آپ نے اس کمالکی منظرنگاری کی ہے کہ ہم نے خودکو اس روزہ کشائی میں شامل سمجھا -ویسے آپ جس قدر بھولے بھالے نونہال سے ہیں اگرآپ پہلا روزہ 2015 میں کہتے تو بھی ہم مان لیتے:) - جیتے رہوں اورللہ تعالٰی آپ کوبے شمار خوشیاں اور رحمتیں وبرکتیں عطا فرائے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. ایم شاہد یوسف نے کہا:

    اپکی یاداشت کافی اچھی ہے، اتنی باتیں یاد ہیں اپکو،، ہم کو تو یہ بھی بھول جاتا ہیکہ کل افطاری میں کیا کھایا تھا۔۔اپکی معصوم سی تحریر پڑھ کے کچھ یادیں البتہ تازہ ہو گئی۔۔چڑی روزے ہم نے بھی بڑے رکھے ہیں :ڈ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. شعیب صفدر نے کہا:

    بہترین یادیں. آپ کا روزہ تو نہایت عمدہ رہا. خاص کر روزہ کشائی والے دن کی تقریب کی. سواد آ گیا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمد رمضان رفیق نے کہا:

    شکریہ ۔۔۔بلاگ لکھنے کے لئے۔۔۔۔۔کتنے لوگ ایک ہی موضوع پر لکھ رہے ہیں لیکن سب کا رنگ جدا ہے۔۔۔۔بہت اچھا لکھا آپ نے۔۔۔۔اور یہ جو آپ کو تحائف ملے ہیں تو دل میں خیال جاگا ہے کہ بڑے شہروں میں پیدا ہونے کے بڑے فائدے ہیں۔۔۔ہمارے گاوں میں تو کسی کی بھی روزہ کشائی نہ ہوتی تھی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. اسریٰ غوری نے کہا:

    بچپن کی یادیں بڑی ہی معصومانہ ، خوبصورت اورماشاءاللہ بہت ہی خوبصورتی کیساتھ آپ نے اپنی روزہ کشائی کے تقریب میں ہمیں بھی شرکت کروادی ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. بہت خوب مزا آیا پڑھ کے
    ویسے میں تو آپ کو اپنا ہم عمر ہی سمجھتا رہا لیکن آپ تو ہمارے "بچوں" کے جیسے نکلے مطلب جب آپ نے پہلا روزہ رکھا تو مجھے ڈاکٹر کی کرسی پہ بیٹھے ایک برس گزر چکا تھا، آپ نے بچپن میں شرمیلا ہونے کی بات کی خیر سے وہ تو اب بھی ویسے ہی لگتے ہیں 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. محمد اسد نے کہا:

    @Fahad Shabbir: چلیے فہد بھائی کوئی خاص فرق نہیں، آپ ایک سال پیچھے ہی رہے 😀 میں عمر کے آٹھ سال اور آپ اسکول کے ساتویں سال 😉

    @Wajdaan Alam: میں اس کی وجہ ضرور جاننا چاہوں گا 🙂

    @زبیر مرزا: آمین۔ شکریہ زبیر بھائی۔ شاید آپ واحد شخصیت ہیں جو مجھے ابھی نونہالوں میں شمار کر رہی ہے، باقیوں نے تو میرے باباجی ہونے کا پروپگنڈا کیا ہوا ہے 🙂

    @ایم شاہد یوسف: شکریہ شاہد بھائی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمد اسد نے کہا:

    @شعیب صفدر: جی الحمدللہ، ان دنوں کے روزے بہت اچھے رہے۔ اللہ تعالیٰ آگے بھی آسانیاں فرمائے۔ آمین

    @Anas Alam Habibullah: شکریہ انس

    @محمد رمضان رفیق: بلاگستان کا یہ خاصہ ہے کہ یہاں ہر ایک کا اپنا منفرد انداز ہے۔ اور سب ہی بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ بڑے شہروں کے جہاں فائدے ہیں وہی کچھ نقصانات بھی ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمد اسد نے کہا:

    @اسریٰ غوری: بہت شکریہ۔ آپ کو ٹیگ کرنے کی جسارت کی ہے، جب ممکن ہو اس حوالے سے بلاگ ضرور لکھیے گا اور سلسلے کو مزید آگے بھی بڑھائیے گا۔

    @محمد اسلم فہیم: ہاہاہا ڈاکٹر صاحب آپ نے تو حد ہی کردی۔ آپ کی عمر کے ہوتے تو اللہ جانے کہاں ہوتے۔ بہرحال! اپنے ہم عصروں میں شمار کرنے کا شکریہ، ہمارے لیے یہ بھی اعزاز کی بات ہے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. نورین تبسم نے کہا:

    ایک خوبصورت تحریر.
    اردو بلاگرز کا اصل روپ چاہے وہ شخصیت کا عکاس ہے یا لکھنے کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے... رمضان کی ان بےساختہ تحاریر میں کھل کر سامنے آ رہا ہے. بچپن کی باتیں کرتے سب اتنے ہی معصوم اتنے ہی پیارے لگ رہے ہیں جیسے اسی دور میں سانس لے رہے ہوں .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. محمد اسد نے کہا:

    @نورین تبسم: ایک عرصے بعد بلاگ پر آپ کا تبصرہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ بہت شکریہ۔ یادیں پتنگ کی ڈور کی طرح ہوتی ہیں۔ جتنی ڈھیل دیتے جائیں وہ اتنی ہی دور، اتنی ہی اوپر جاتی رہتی ہیں۔ جہاں آپ نے تھوڑا کھیچا تانی کی، وہیں سلسلہ تھم گیا اور ڈور ٹوٹ گئی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. محمد نعیم نے کہا:

    درحقیقت بچپن ہی وہ بے فکر اور حقیقی خوشیوں پر مبنی دور ہوتا ہے۔ جسے یاد کر کے انسان ساری زندگی مسکرا سکتا ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. کوثر بیگ نے کہا:

    واہ بہت عمدہ لکها . آپ کی روزے رکهائی تو بہت دهوم سے ہوئی تهیماشاءاللہ . کتنے پیارے دنوں کی یادیں ہمیں بتائی ہیں .آپ میرے بچوں کی عمر کے ہیں اور اتنی اچهی تحریر کا انداز دیکهکر بہت خوشی ہوئی ... جیتے رہیں خوش رہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. Fahim Patel نے کہا:

    یادداشت کی تعریف کرنی ہوگی 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. محمد اسد نے کہا:

    @محمد نعیم: صد فی صد درست نعیم بھائی۔

    @کوثر بیگ: بلاگ پر آمد اور تبصرے کا شکریہ۔ بس یادوں کے در پر دستک دی تو وہ خود ہی کھلتے چلے گئے اور بہت کچھ جو سالہا سال سے یاد نہ تھا، الفاظ کے سانچوں میں ڈھل کر بلاگ پر آگیا۔

    @Fahim Patel: شکریہ 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. نعیم خان نے کہا:

    بچپن کی یادوں کو آپ نے بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے اور پھر جس طرح آپ نے اپنے روزہ کشائی کا احوال بیان کیا یوں لگ رہا تھا جیسے میں بھی مہمانوں میں کہیں بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بہت خوب۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. sarwat AJ نے کہا:

    پہلے پیراگراف میں بہت زبردست انداز میں یادوں کا میکنزم لکھا ... واقعی یادداشت ، اللی کی ایک بہت ہی شاندار نعمت ہے کہ یٹھے بٹھائے ٹایم مشین کی طرح بچپن میں سیریں ہوتی رہیں کرائے کے بغیر .....
    کسی وقت "لونگ چڑے" کا چہرہ کروادیں ... سمجھیں ... ہم نے کھا لیے..
    اللہ محبت کرنے والے بزرگوں اور پیاروں کو سلامت رکھے اور اپنی رحمتیں نازل فرمائے
    سدا خوش رہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 5 جولائی 2015

    […] کہ وہ اس موضوع پر لکھیں۔ پھر رمضان بھائی سے ہوا یہ سلسہ محمد اسد بھائی کے ذریعے ہم تک پہنچا اور اب میں اس سلسلے کو مزید […]

  2. 7 جولائی 2015

    […] کی دعوت دینے کے لئے بلاگی ٹیگ کا استعمال کیا تھا۔ مجھے اسد اسلم نے ٹیگ کرکے اس موضوع پر لکھنے کی تحریک کی۔ کیونکہ اپنے […]

  3. 11 جولائی 2015

    […] تحریر: میرا پہلا روزہ […]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے