موبائل استعمال کرنے کے آداب

Paktel پاکستان کی پہلی موبائل کمپنی تھی جس نے 1991ء میں اپنی سروس کا آغاز کیا. یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب موبائل فون امیر گھرانوں کی پہچان ہوا کرتا تھا. پاک ٹیل کو بعدازاں دوسری موبائل کمپنی نے اور پھر چینی موبائل کمپنی نے خرید لیا جو کہ اب Zong کے نام سے جاری ہے. 90ء کی دہائی کے بعد جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پاکستان میں موبائل کمپنیوں اور استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے. ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 96 ملین سے زائد لوگ موبائل فون کا استعمال کررہے ہیں جس کے بعد پاکستان کو سب سے زیادہ موبائل استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پانچواں نمبر حاصل ہے. نئے اور منفرد پیکجز دینے میں موبائل کمپنیوں کمپنیوں کا مقابلہ بھی زور و شور سے جاری ہے اور انہی پیکجز کو متعارف کروانے کے لئے نئی طرز کے اشتہارات بھی سامنے آنے شروع ہوچکے ہیں.

کل یوٹیوب پر Paktel کے چند پرانے اشتہارات دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں موبائل استعمال کے استعمال کے آداب کا احترام کرنے کی تلقین کی گئی تھی. ان اشتہارات کو 3D سوفٹوئیرز کی مدد سے بہت مہارت سے بنایا گیا ہے جو قابل دید ہے. ان اشتہارات کی مدد سے موبائل استعمال کنندگان کو مساجد میں موبائل کھلا رکھنے، تعلیمی سرگرمیوں مثلا کلاس روم میں موبائل کے استعمال کرنے اور ڈرایونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال کے علاوہ محافل میں موبائل فون کے استعمال جیسی غیر اخلاقی حرکات کرنے سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے.

ان اشتہارات کا موازنہ اگر آج کے اشتہارات سے کیا جائے تو پاک ٹیل کے پرانے اشتہارات آج کے اخلاقیت سوز اور ناچنے گانے والے اشتہارات سے زیادہ بہتر معلوم ہوتے ہیں. پرانے اشتہارات میں موبائل استعمال کرنے والوں کو جس طرح کے آداب و احترام کا درس دیا گیا ہے، وہ ہماری روز مرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں. جبکہ آج کے اشتہارات میں ادب و احترام سکھانا تو دور کی بات، انتہائی غیراخلاقی اور بے ڈھنگے طریقہ سے مختلف پیکجز متعارف کرواکر اپنا وقت برباد کرنے کے نت نئے طریقہ بتلائے جاتے ہیں. پاک ٹیل کے پرانے کمپیوٹرازڈ اشتہارات جس وقت بنائے گئے ہوں گے، اس وقت کے مقابلے میں آج اس طرز کے اشتہارات نہ صرف سستے بنتے ہیں بلکہ ان پر زیادہ وقت بھی خرچ نہیں ہوتا.

موجودہ دور میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے لیے سب سے زیادہ درد سر موبائل فون استعمال کرنے والوں کی غیر اخلاقی سرگرمیاں ہیں. مساجد میں دوران نماز مختلف نغموں کے دھنوں میں بجتی ہوئی رنگ ٹونز ہوں یا لائبریری اور ہسپتالوں وغیرہ میں لوگوں کا بلند آواز سے موبائل فون پر بات کرنا دوسروں کو تکلیف دیتا ہے. اسی طرح دوران سفر موبائل فون کا استعمال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اکثر و بیشتر حادثات کا باعث بھی بنتا ہے. لہٰذا موبائل کمپنیوں کی جانب سے اپنی سروس استعمال کرنے والوں کو اخلاقیات کا درس دینے اور موبائل کے غلط استعمال سے بچانے کے لئے بھی کوششیں کرنی چاہیں. نئی کمپنیوں کو پاک ٹیل جیسی پرانی کمپنی سے کم از کم یہی سیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح لوگوں کو موبائل کے استعمال کے اخلاقی اصولوں پر عمل کا طریقہ سکھایا جاسکتا ہے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے
صابر says:

میں نے کچھ دن پہلے اس پر لکھا
http://sabir786.blogspot.com/2009/11/blog-post.html

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اب بچے گھر آکر بتاتے ہوں گے کہ امی امی آج فلاں گانا سنا مسجد میں ۔۔۔ امی پوچھیں گی بیٹا وہ کیسے ،، امی وہ عشا کی دوسری رکعت میں رکوع میں جاتے وقت ایک انکل کو فون آگیا تھا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

السلام علیکم۔
روزنامچے کی اتنی عمدہ شروعات مبارک ہو۔ امید ہے کہ آئندہ بھی نصیحت سے بھرپور تحاریر دیکھنے کو ملیں گی۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب