متحدہ قومی موومنٹ میدان مار لے

16

mqm-nro

سابق صدر و جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نافظ کیا جانے والے این آر او 28 نومبر کو اپنی مدت پوری کررہا ہے. جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آتی جارہی ہے ویسے ویسے سیاسی ہل چل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.سپریم کورٹ نے بال حکومت کے کورٹ میں ڈالی جسے حکومت تمام تر دعوں کے باوجود سنبھال نہ سکی. اس کی بڑی وجہ فرینڈلی اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کا این آر او مخالف رویہ تھا. جس وقت پیپلز پارٹی این آر او کو اسمبلی میں پاس کروانے کے دعوے کررہی تھی اس وقت اس کے اتحادیوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئیے اور ساتھ دینے سے انکار کردیا. ان میں متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست تھی. متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے صدر صاحب کو اپنے ساتھیوں سمیت قربانی کا مشورہ دیتے ہوئے سسٹم کو بچانے کا مشورہ دیا تھا. متحدہ قومی موومنٹ کی این آر او کی بروقت مخالفت کو بے پناہ سراہا گیا اور ہر طبقے کی جانب سے خوب داد موصول ہوئی. یہ قدرت کی طرف سے متحدہ قومی موومنٹ کا امتحان تھا جس میں وہ پوری اتری.

اب جب وزیراعظم کے حکم کے مطابق این آر او سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی فہرست جاری ہوئی تو اس میں سب سے اوپرمتحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کا نام ہے جنہوں نے اس قانون کے تحت سب سے زیادہ 72 مقدمات سے خلاصی حاصل کی. جن میں 31 قتل، 11 اقدام قتل اور 2 اغواء کے مقدمات بھی شامل ہیں. اس فہرست میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے کل 11 اراکین کے نام ہیں جن میں موجودہ وفاقی وزیر فاروق ستار، سینیٹر بابر غوری، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، صوبائی وزیر برائے سپلائی اینڈ پرائسز شعیب بخاری سمیت رابطہ کمیٹی کے کنوینیر ڈاکٹر عمران فاروق، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کنور خالد یونس، ڈاکٹر صفدر باقری، سابق مشیر داخلہ وسیم اختر اور صوبائی مشیر نعمان سہگل بھی شامل ہیں. ان تمام حضرات کے مقدمات کی کُل تعداد 182ہے.

این آر او کی بروقت مخالفت کے وقت متحدہ کی جانب سے بارہا اس سے استفادہ حاصل نہ کرنے کی بات بھی کی گئی. لیکن فہرست کے اجراء کے بعد یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعد سب سے زیادہ فائدہ متحدہ قومی موومنٹ نے ہی اٹھایا ہے. یہاں سے متحدہ قومی موومنٹ کا دوسرا بڑا امتحان شروع ہوتا ہے جو کہ پہلے والے امتحان سے کسی قدر مشکل بھی ہے. لیکن مجھے امید ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت اس بار بھی ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر درست راستہ کا انتخاب کرے گی کیونکہ این آر او کی مخالفت کر کے جو نیک نامی متحدہ قومی موومنٹ کے حق میں آئی وہ اسے کھونا نہیں چاہتی.

مجھے امید ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد اپنے کارکنان کو بالکل وہی مشورہ دیں گے جو انہوں نے چند روز قبل صدر آسف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کو دیا تھا. الطاف حسین اپنے اور اپنے اراکین کو اس کالے قانون کی کالک سے بچانے کے لئے اپنی ذاتی خواہشات کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے. وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے تمام کیسز کا سامنا کریں گے اور عدالت کے ہر فیصلہ کو کھلے دل سے قبول کریں گے. مجھے قوی امید ہے کہ اس بار الطاف حسین اپنی جماعت سے شخصیت پرستی کا خاتمہ کر کے اپنے جانشین کو اس کی قیادت کی ذمہ داری سونپ دیں گے تاوقتیکہ ان کو تمام کیسز سے باعزت بری کردیا جائے. مجھے یہ بھی امید ہے کہ قائدتحریک ان وزراء سے مستعفی ہونے کا کہیں گے کہ جنہوں نے این آر او سے فائڈہ اٹھایا اور وہ موجودہ حکومت کا حصہ ہیں. وہ متحدہ قومی موومنٹ کے عام جیالہ سے لے کر رابطہ کمیٹی تک ہر شخص کو این آر او جیسے کالے قوانین کو ماننے سے منع فرمادیں گے اور کہدیں گے کہ ہم آج سے کسی آمر، جابر، کرپٹ، دھوکہ باز اور انتہاپسند حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی ایسے قانون کو مانیں گے کہ جس سے عوام کے بجائے صرف خواص کو فائدہ پہنچتا ہو.

مجھے توقع ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اس بار اپنے عمل سے ثابت کردے گی کہ وہ کسی علاقائی یا لسانی جماعت نہیں بلکہ پورے ملک کی جماعت ہے جو اس استحصالی قانون کو نہیں مانتی. متحدہ قومی موومنٹ یہ ثابت کردے گی کہ اس کی صفوں میں کوئی قاتل ہے نہ کرپٹ . متحدہ قومی موومنٹ اس بار ثابت کردے گی کہ اب وہ کسی بیوروکریسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی ڈوریں بیرون ملک جڑی ہیں. متحدہ قومی موومنٹ اس بار میچورٹی کا برملا مظاہرہ کر تے ہوئے اپنے آپ کو اس قانون سے پاک کرلے گی اور ایک بار پھر دیگر جماعتوں سے آگے نکل کر میدان مارلے گی.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

16 تبصرے

  1. عبداللہ کہتے ہیں

    محمد اسد آپ انکو کیا کہیں گے جنہوں نے یہ جھوٹے مقدمات بنوائے تھے،بڑے افسوس کی بات ہے کہ سب حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے پھر بھی آپ کا پرنالہ وہیں گررہا ہے!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عبداللہ کہتے ہیں

    محمد اسد کہا جاتا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو جتنا ہضم ہو سکے اگر آپ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کا الطاف حسین سے لیا گیا انٹرویو نہیں دیکھا یا دیکھ کر بھی انجان بن رہے ہیں تو افسوس کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے !شاہد مسعود نے پوچھا تھا کہ کیا آپ یا اپ کی پارٹی این آر او سے فائدہ اٹھا نے والوں میں شامل نہیں ہے! جس کے جواب میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ جو جھوٹے مقدمات اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے خلاف بنائے تھے وہ باقائدہ ججوں کے ایک پینل نے دیکھنے کے بعد اور ثبوت نہ ہونے کے بعد خارج کیئے ہیں،پھر بھی اگر اعلی عدالتیں ہمیں طلب کریں گی تو ہم ضرور حاضر ہوں گے اور ان مقدمات کا کھلی عدالتوں میں سامنا کریں گے تو
    نائی رے نائی کتنے بال ججمان جی گھبراؤ نہیں مونڈے مانڈے سب آگے آئے جاتے ہیں:)

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عبداللہ کہتے ہیں

    ویسے ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ سب کا زور الطاف حسین کے متحدہ کی سربراہی چھوڑ دینے پر کیوں ہے!
    نہ تو وہ انتخابات لڑتا ہے نہ اس کا کسی کرپشن میں نام ہے اور اب تو وہ ملک میں بھی نہیں ہے پھر بھی آپ لوگوں کی دہشت کا یہ عالم ہے:)
    بھائی متحدہ میں فیصلے الطاف حسین اکیلا نہیں کرتا ہے رابطہ کمیٹی کے ارکان جو بھی فیصلہ کرتے ہیں وہ بھی اسے اسی طرح تسلیم کرتا ہے جس طرح پارٹی کے دوسرے لوگ اور اگر معاملہ قومی نوعیت کا ہو تو وہ اس پر دوسرے کارکنان سے بھی رائے لیتا ہے اور عام عوام سے بھی تو جب تک عوام چاہیں گے وہ متحدہ کی سربراہی کرتا رہے گا چاہے دشمنوں کے کلیجوں پر سانپ ہی لوٹتے رہیں:)
    اصل میں آپلوگوں کو ابھی تک جمہوریت کی عادت نہیں ہوئی ہے اس لیئے یہ باتیں شائد آپکو سمجھ نہ ائیں یا ہضم نہ ہوں آپ کے لیڈروں نے آپ کو اس کی عادت جو نہیں ڈالی ہے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمداسد کہتے ہیں

    @عبداللہ
    بلاگ پر خوش آمدید.
    این آر او سے جن لوگوں نے فائدہ اٹھایا ان کی کل تعداد 8041 ہے. ان تمام لوگ اور ان کے رشتہ داروں و ہمدردوں کا یہی کہنا ہے کہ مقدمات جھوٹے تھے یا سیاسی بدلہ لینے کے لئے بنائے گئے تھے. لہٰذا آپ کو بھی پورا حق حاصل ہے اپنے محسنین کو دفاع کرنے کا. 😉

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ڈفر - DuFFeR کہتے ہیں

    جن کے پرنالے ہوتے ہی نہیں اب ان کو بندہ کیا بتائے کہ پرنالے جگہ نہیں بدلتے :mrgreen: ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عبداللہ کہتے ہیں

    محمد اسد صاحب محسن وہ صرف میرے نہیں پورے کراچی کے ہیں ،بلکل جناب جب اپ لوگوں کو الزامات لگانے کا حق ہے تو ہمیں دفاع کا حق تو ملنا ہی چاہیئے!
    رہی بات ڈفر صاحب کی ڈفری کی تو جن کے پرنالے ہوتے ہیں انہیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیئے کہ جب کسی کے پرنالے کی غلاظت کسی دوسرے کے گھر میں گرنے لگے تو پرنالے کا رخ بدلنا بھی پڑ جاتا ہے !

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد کہتے ہیں

    @ڈفر
    نیز بغیر پرنالے کے کیا کچھ باہر نہیں نکلتا یہ بھی سب کو پتا ہے 😉

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. جعفر کہتے ہیں

    ہاں جی متحدہ قومی موومنٹ والے بہت اصول پسند، جمہوری اور روادار لوگ ہیں…
    آپ کو اگر یاد ہو کہ جنرل مشرف خاں صاحب کے صدقے بھی یہی جاتے تھے… جب وہ بےچارے طبلہ بجانے لگے تو یہ عظیم اصول پسند ان کو ایسے بھول گئے “جیسے جانتے نہیں” پھر آئے پاکستان کھپے (اور کھپ رہا پاکستان اب) فیم جناب زرداری اور ایک نئی سیاست کی داغ بیل ڈالی گئی جسے قبروں پر فاتحہ کی سیاست کا متبرک نام دیا گیا. اب ان صاحب کا بھی چل چلاؤ ہے تو اب شریفوں سے اکھ مٹکا شروع ہے…. اکثر محلوں میں ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کے بارے میں پورے محلے کے لڑکوں کو گمان ہوتا ہے کہ یہ میرے ساتھ سیٹ ہے…
    :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. عبداللہ کہتے ہیں

    جعفر صاحب واہ !جناب نے * * * * * * * * *
    * * * * * * * * * کا پتہ بھی چلے 😆

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد کہتے ہیں

    @عبداللہ
    میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کا تبصرہ میں مجبوراَ ترمیم کرنی پڑی. دراصل یہ لندن سیکریٹیریٹ یا نائن زیرو نہیں جہاں ذاتیات پر اس طرح کی بدزبانی برداشت کی جائے. آئندہ احتیاط کیجئے گا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. عبداللہ کہتے ہیں

    خوب اسد صاحب اور آپ کے ہم زباں نے تو بہت ہی اعلی ذباں استعمال کی ہے اس لیئے ان کا تبصرہ موجود ہے اور ان کے اور آپکے اندر کے بغض کو خوب پیش بھی کررہا ہے!
    شرم انکو مگر نہیں آتی!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ کہتے ہیں

    بس اپنی اپنی ذہنیت کی بات ہے ! یہ حضرت اکثر لڑکیوں کے بارے میں ہی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور؟اور اب بھی انہوں نے اس کا اعادہ کیا تھا ،سو مینے انہیں مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ زرا اس دائرے سے باہر نکل کر بھی کچھ سوچ لیا کریں!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عبداللہ کہتے ہیں

    لندن سیکریٹیریٹ اور نائن زیرو کو چھوڑیں اپنے ارد گرد کی زبان ہی ملاحظہ فرمالیں اس سے تو کئی گناہ بہتر ہے میری زبان الحمد للہ،یا آپ لوگون کو صرف دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت ہی بننا آتا ہے 😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. فرحان دانش کہتے ہیں

    تمام جھوٹے مقدمے ہیں

    اس کا واضح ثبوت میجر کلیم کیس ہے جس میں میجر کلیم کو آلٹا عدالت نے جھوٹا مقدمہ درج کروانے پر 5ہزار روپے جرمانہ کیا میجر کلیم کو جھوٹا کہا۔

    ایک اور جھوٹا مقدمہ حکیم سیعد کیس ہے ۔ اس کیس سے ایم کیو ایم بری ہو چکی ہے

    ایم کیوایم نے عدالتوں کو فیس کرنے کا اعلان ہت پہلے ہی کر دیا تھا۔ اب فیصلہ عدالتوں میں ہوگا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. محمداسد کہتے ہیں

    @فرحان دانش
    ضروری نہیں کہ کسی ایک کیس کا چھوٹا تمام برائیں سے پاک ہو. یہ تو ماننا پڑے گا کہ مقدمات بہرحال عدالت میں موجود تھے اور ہیں چاہے جھوٹے ہوں یا سچے. ایم کیو ایم کے سربراہ نے این آر او کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر مملکت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سسٹم کو بچانے کے لئے قربانی دیں. یہ مشورہ تو اس وقت اچھا لگتا کہ جب وہ اس پر خود عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں. ایسے میں عدالتوں کا سامنا کرنے کا اعلان بھی چند حرفی دعوہ کے علاوہ کچھ نہیں لگتا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.