ملزموں کی حکومت

mulzimon-ki-hukumat

کہتے ہیں جو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں وہ ہمیشہ ترقی پذیر رہتی ہیں. ہمارے ملک کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے. موجودہ حکومتی عہدیداران کے ماضی پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ملزموں کی حکومت قائم ہے۔ جو ماضی میں جتنا عرصہ جیل میں رہا وہ آج اتنے ہی بڑے عہدے پر فائز نظر آتا ہے۔ جناب صدر آصف علی زرداری منی لانڈرنگ، غیر قانونی عمارتوں کے قیام، ٹریکٹروں کی خریداری سمیت فرانس سے خریدی جانے والی آبدوزوں کے سودے پر کمیشن جیسے الزامات میں ملوث رہے. مملک کی اہم وزارت دفاع پر فائز، چوہدری احمد مختار بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ملوث رہے. وزیر داخلہ رحمان ملک پر ییلو کیب اسکیم میں خرد برد کا الزام کا رہا. گورنر سندھ عشرت العباد کے علاوہ دیگر وفاقی وزراء بابر غوری، شعیب بخاری، فاروق ستار پر بھی قتل اور اقدام قتل کا الزام رہا. ان ملزموں اور ان کے دیگر ساتھیوں نے اپنے کالے کارناموں کو ایک کالے قانون کی مدد سے مٹانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے.

بات ماضی تک رہتی تو پھر کوئی بہانہ تراش خراش کر برداشت کرلی جاتی. لیکن حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی جس طرح کے کھلم کھلا غیر اخلاقی اور خلاف قانون کام انجام دیے جارہے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی. ایک ترقی پذیر ملک کے صدر نے سرکاری خرچ پر بیرون ملک دورے کئے جس سے ملک کو کچھ فائدہ نہ ہوا بلکہ قومی خزانہ میں کروڑوں روپے کی کمی واقع ہوئی. وزیر اطلاعات و گورنر بلتستان قمرالزماں کائرہ نے نیویارک میں جو رنگ رلیاں کھیلیں وہ پورے پاکستان نے دیکھیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں. پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف کے خلاف چھ بار بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جا چکے ہیں لیکن وزیر صاحب عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ. بہبودآبادی کی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں بازاری زبان استعمال کر کے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ بھی وزیروں کی فوج کی فعال رکن ہیں. حال ہی میں وفاقی وزیر بابر اعوان پر عدالت میں تین کروڑ روپے کمیشن لینے کا الزام بھی لگا اور وہ اس پر خاموش رہے. یہ سب قوم کے زخموں میں نمک چھڑکنے کے مترادف ہے.

کسی وزیر کے پاس اتنا وقت اور صلاحیت موجود نہیں کہ وہ کرپشن، قتل، اقدام قتل سمیت غیر قانونی یا غیر اخلاقی حرکت کرنے پر شرمندہ ہو یا اپنا دفاع کرسکے. یہ تمام لوگ عدالت تو دور کی بات عوام اور میڈیا تک کے سامنے اپنا دفاع نہیں کرپاتے. جب ان کے غلط کاموں کے بارے میں دریافت کیا جائے تو یہ مدمقابل پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیتے ہیں. گذشتہ دنوں وفاقی وزیر جناب سردار عبدالقیوم نے ایک پروگرام میں کرپشن کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے کرپشن نہ کرنے والوں کو بے وقوف قرار دے دیا. جب حکومت میں ایسے لوگ شامل ہوں جو ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کی سیاست اور وزارت کررہے ہوں تب تک کسی سیاسی اداکار کو ضرورت نہیں کہ وہ ان کے کارناموں کی نشاندہی کرے. ان کے اعمال سے ان کا چھپا ہوا چہرہ ازخود سب کے سامنے عیاں ہوتا جارہا ہے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

10 تبصرے

  1. عبداللہ نے کہا:

    دفاع عدالت میں کیا جاتا ہے اور جب عدالت طلب کرے گی تو دفاع بھی کرلیں گے لوگ!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. جعفر نے کہا:

    دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کا کچھ شک تو ہونے لگا ہے۔۔۔
    اللہ کرے یہ شک یقین میں بدل جائے۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد نے کہا:

    @عبداللہ
    میں عرض کرچکا ہوں کہ راولپنڈی کے سول جج کی جانب سے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی، راجہ پرویز اشرف سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر دو اراکین کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں جس کے بعد سے وہ سیاسی منظرنامہ سے غائب ہیں. اس طرح عدالتی حکم کی خلاف ورزی وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دل میں چور ہو۔

    @جعفر
    امید پہ دنیا قائم ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. بہت دنوں بعد حاضر ہوا ہوں لیکن خواہش ہر دم رہی ہے ۔ آپ کی تحاریر حاضر زمانہ میں رہنے والوں کو تو سمجھ آ سکتی ہیں مگر اُن کو نہیں جو صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوں
    آپ نے لکھا ہے
    جو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں وہ ہمیشہ ترقی پذیر رہتی ہیں
    میں نے تو پڑھا تھا
    جو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں وہ غرق ہو جاتی ہیں
    اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمداسد نے کہا:

    @افتخار اجمل
    بلاگ پر آنے، پڑھنے اور سمجھنے کا شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. arifkarim نے کہا:

    ’’کہتے ہیں جو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں وہ ہمیشہ ترقی پذیر رہتی ہیں‘‘
    مغرب کا بھی یہی حال ہے مگر وہ ترقی پزیر نہیں ہیں۔ ❓

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد نے کہا:

    @arifkarim
    بلاگ پر خوش آمدید
    مغرب میں دراصل لولی لنگڑی جمہوریت نہیں شاید اسی لیے ان کی بہت سی اچھائیاں ان کی غلطیوں پر غالب آجاتی ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. arifkarim نے کہا:

    یہاں پر جمہوریت بلڈربرگ گروپ پلین کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی جمہوریت امریکہ کی ذمہ داری ہے 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. فرحان دانش نے کہا:

    مجرم چاہے جس ماں کا لال ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے. :mrgreen: .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد نے کہا:

    @arifkarim
    یہاں کی تو آمریت بھی امریکا کی ذمہ داری ہے 😀

    @فرحان دانش
    بالکل جناب! اس سے کون انکار کر سکتا ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے