مصطفی کمال کی بغاوت: ‘بھائی’ کو فرق تو پڑے گا!

10

گزشتہ روز کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال اپنے آبائی شہر لوٹ آئے۔ کراچی آتے ہی انہوں نے جو کام کیا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حتی کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عہدیداران بھی اپنے سابق سینیٹر کی آمد اور مقاصد سے لاعلم تھے۔ سابق ناظم نے کراچی آمد کے بعد کافی طویل پریس کانفرنس کی جس کا چرچہ اب تک ذرائع ابلاغ پر جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شرابی ہیں اور وہ نشے میں دھت ہو کر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ نیز یہ کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ تنظیم را سے تعلقات اور را پس پردہ متحدہ کی مالی مدد کرتی رہی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے تک برسر اقتدار رہی لیکن عوام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ الطاف حسین نے کارکنوں سے رابطہ کمیٹی کو ذلیل کروایا۔ انہوں یہ بھی اعتراف کیا کہ ہم نے الطاف حسین کے لیے دشمن بنائے لیکن انہیں مہاجروں کی کوئی فکر نہیں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کے نام لیے جنہیں الطاف حسین نے دہشت گرد بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین نے دو نسلوں کو ختم کردیا اور مہاجروں کی آئندہ نسلوں کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اور ان جیسی کئی شکایات اور الزامات انہوں نے متحدہ اور اس کے قائد الطاف حسین پر لگائے۔ میں نے ان کی پریس کانفرنس سے متعلق کافی کچھ دیکھا اور آج کے اخبارات میں پڑھا لیکن کوئی ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے “انکشاف” کہا جاسکتا ہو۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ تمام باتیں پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پہلے متحدہ کے سیاسی مخالفین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ باتیں کہا کرتے تھے یا پھر جیلوں میں قید مجرمان کے منہ سے متحدہ کی غیر قانونی سرگومیوں میں ملوث ہونے کا علم ہوا کرتا تھا۔ تو پھر مصطفی کمال کو سنجیدہ لینے کی وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے: مصطفی کمال کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے رکن نہیں رہے بلکہ ان کی تربیت نائن زیرو میں ‘بھائی لوگوں’ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ وہ نائن زیرو میں جھاڑو لگاتے تھے یا ٹیلی فون اٹھاتے تھے، بہرحال تھے تو ایم کیو ایم ہی کے زیر سایہ۔ پھر الطاف حسین نے انہیں متحدہ کے پیدائشی کارکنان، سیاسی رہنماؤں سمیت کئی ساتھی بھائیوں پر فوقیت دی۔ ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں کراچی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ مصطفی کمال ہی ہیں کہ جنہیں دنیا کا بہترین میئر قرار دیئے جانے کا پروپگنڈا کیا گیا۔ کراچی کے لوگوں کو انہی کی کارکردگی دکھا کر بلدیاتی الیکشن جیتا گیا اور متحدہ کے سیاسی رہنما درجنوں مصطفی کمال دینے کا وعدہ کرتے رہے۔ کراچی والوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ الطاف حسین نے سوائے مصطفی کمال کے کسی کو اتنا پیار دیا ہے:

mustafa kamaal altaf hussain mqm

اس لیے آپ مصطفی کمال کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ ذوالفقار مرزا نہیں کہ جنہیں سیاسی حریف کہہ کر رد کردیا جائے۔ یہ آفاق احمد یا عامر خان نہیں جو لوگوں کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔ یہ صولت مرزا اور اجمل پہاڑی بھی نہیں کہ جن سے بھائی لوگ لاتعلقی کا اعلان کر سکیں۔ یہ تو حق پرست بھائیوں کے “اپنے” ہیں۔ لہٰذا آپ مانیں یا نہ مانیں! بھائی کو مصطفی کمال کی بغاوت سے فرق تو پڑے گا…

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

10 تبصرے

  1. رائے محمد اذلان کہتے ہیں

    فرق پڑھے یا نہ پڑھے لیکن جس نئے ٹرک کی بتی کی شنید کافی عرصہ سے ہو رہی تھی لگتا ہے یہ اس کی آمد آمد ہے…

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمداسلم فہیم کہتے ہیں

    اب مےں فرق پڑے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد سراج الا سلام کہتے ہیں

    آپ کی بات کسی حد تک درست ہے کہ کچھ تو ہوگا ، فرق تو پڑے گا لیکن ایک بات کہوں ، عصبیت انسان کو اندھا کر دیتی ہے – اسی لئے اس جملے نے آج سے تین ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں کام دکھایا کہ “اپنے تو اپنے ہوتے ہیں ” . آپ کی کوشش اور کاوش انتہائی وابل تحسین ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عامر مرزا کہتے ہیں

    نہ صرف فرق پڑے گا بلکہ پڑنا شروع ہو چکا ہے۔ جو باتیں غیر کرتے تھے وہ اب اپنوں کے منہ سے سنیں تو فرق پڑتا ہے۔ کوئی نئی جماعت نہیں بنے گی، متحدہ کے اندر ہی بہتری آئے گی۔ یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ یاد رہے آفاق، عامر کا جواب الطاف خود دیتا تھا اور اب؟ وہ تو ہوش و حواس سے عاری ہے۔ صولت اور پہاڑی سے چھٹکارہ آسان تھا کہ جیل میں تھے، لیکن مصطفیٰ کمال؟ یاد رہے متحدہ کی بدمعاشی کو ہر ضرب کے بعد ہاتھوں پر اٹھایا گیا لیکن اب اس کا امکان کم ہے۔
    جہاں تک بات رہ گئی تعصب کی تو وہ صرف لسانی ہی نہیں ہوتا۔ مسلکی، فقہی، معاشی اور گروہی بھی ہوتا ہے۔ متحدہ کے ووٹر کوئی اچھنبا نہیں، ہماری ایک بڑی تعداد ان مختلف النوع تعصبات کے زیرِ اثر ہی ووٹ دیتی ہے۔
    آنے والا وقت بہتر ہوگا، اللہ اپنا کرم ضرور کرے گا۔ ہاں وہ کرم شاید ہماری خواہشات کے مطابق نہ ہو۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. Muhammad Adeel کہتے ہیں

    Dear Muhammd Asad,
    You have written absolutely right the problem is that memory of karachi’s people is very weak. They don’t want to listen any single sentence against their leader.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. اقبال حسین کہتے ہیں

    میں جناب عامر مرزا صاحب کے تبصرے اور خیالات کی تائید کرتا ہوں اور اللہ سے بہتری کی امید رکھتا ہوں. اللہ ہی ہے جو امیدوں کا پورا کرنے والا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. ریحان علی کہتے ہیں

    جی فرق تو ضرور پڑے گا لیکن اس کے اثرات کراچی آپریشن کے نتائج سے مختلف نہ ہونگے۔ ایم کیو ایم حقیقی اپنی طبعی موت مرنے کو ہے اور جس طرح جماعتِ اسلامی کے ضعف کے بعد توانا تحریکِ انصاف کھڑی کی گئی اسی طرح حقیقی (آفاق) کے بعد “تقسیم کرو اور راج کرو” کے ایجنڈے کے تحت مصطفیٰ کمال کو پنڈال میں بھیجا گیاہے۔ اور کیا کمال ہے کہ قائم خانی (باباۓ چائنا کٹنگ) اور حماد صدیقی (رابطہ کمیٹی کے تضلیل کار) کی ہمنوائی میں مکمل آشیرباد کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے۔
    فرق لوگوں میں حساسِ محرومی کا اضافہ اور نتیجتاً اپنوں کی اپنائیت کی جلہ کے سوا کچھ خاص نہیں۔بہر کیف، تجربہ ، مشاہدہ اور اس طرح کے سابقہ اقدامات کے نتائج کچھ اچھی امیدوں کو جنم نہیں لینے دے رہے کیونکہ الطاف، آفاق اور کمال سب کا ماخذ ایک ہی ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. محمد اسد کہتے ہیں

    @ریحان علی: خوب! تو نتیجہ یہ ہوا کہ باد مخالف سے الطاف مزید اونچا اُڑنے کو ہے!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. Pakistani Politics کہتے ہیں

    is se ksi ko kuch fark nhy pary ga.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.