ناکام بم سازش کے اثرات

نیویارک کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ٹائم سکوائر پر پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کی مبینہ بم دھماکہ کرنے کی کوشش اور پھر گرفتاری نے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کو خصوصاً پریشان کیا. ہمارے ایک رقیب نے بھی مذکورہ واقعہ پر اپنی تشویش اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فیصل شہزاد کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور واقعہ کے فوری بعد امریکی حکومت و میڈیا کے مثبت اقدام کو بھی بہت سراہا. ان کے بقول امریکا کی جانب سے وہی رویہ اپنایا جانا چاہیے تھا جو ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف اختیار کیا لیکن یہ امریکیوں کی پاکستان سے ہمدردی اور دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومتی اعلامیہ میں پاکستان کا کوئی ذکر کیا نہ ہی امریکی میڈیا نے واقعہ کی آڑ میں پاکستان کے خلاف کسی قسم کی لابنگ کی. میں اپنے دوست کی اس بات پر مسکرا کر رہ گیا.

ٹائم اسکوائر پر مبینہ ناکام بم دھماکہ کے فوری بعد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی نظریں امریکا کی جانب مرکوز ہوگئیں. فیصل شہزاد کی گرفتاری کے فوری بعد امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی حکومت کو واقعہ کے متعلق مختصر تفصیلات دی گئیں تو ہماری حکومت نے سب سے پہلا کام فیصل شہزاد کے عزیزوں کو زیرحراست لینے کا کیا. دوسری طرف ہمارا میڈیا بھی یہ بات ثابت کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا کہ مبینہ حملہ آور فیصل شہزاد کا تعلق پاکستان ہی سے ہے اور اس نے ٹریننگ بھی یہیں سے حاصل کی. تحریک طالبان کی جانب سے واقعہ کو قبول کرنے اور پھر تردید کرنے کی خبریں موصول ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ پاک فوج کے ترجمان میجر اطہر عباس کی جنب سے دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستانی طالبان کی قوت ختم ہوچکی اور وہ امریکا میں کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کی سکت نہیں رکھتے. اس اعلامیہ کے بعد امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے بھی واقعہ میں پاکستانی طالبان کے ملوث ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا.

دو اعلیٰ سطحی تردیدوں کے بعد امریکا نے اپنی تمام تر 'ہمدردیوں' کو ایک طرف رکھ دیا اور اٹارنی جنرل کے جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو براہ راست اس واقعہ میں ملوث قرار دے دیا گیا نیز امریکی میڈیا نے بھی پاکستانی سرزمین کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنے کا پرانا پروپگنڈا ایک بار پھر شروع کردیا گیا. یہاں تک کہ مشہور امریکی پروگرام 60 Minutes میں امریکی وزیر داخلہ ہیلری کلنٹن نے میں نچلی سطح کے پاکستانیوں کو طالبان کے ہمدرد قرار دیتے ہوئے اسامہ اور ملا عمر کو سپورٹ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا. ساتھ ہی آئندہ ایسے واقعات ہونے کی صورت میں امریکا کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر کاروائی کی دھمکی بھی دی اور حکومت پاکستان سے do more کا روایتی بھی مطالبہ کیا.

اگر شروع سے آخر تک اس اہم واقعہ کو دیکھا جائے تو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اس پورے واقعہ کی یکطرفہ تحقیق کی گئی اور انتہائی سبک رفتاری سے مجرموں کا تعین کرتے ہوئے ان کے اور پاکستان خلاف پروپگنڈا کا آغاز بھی کردیا گیا. ایک پاکستانی نژاد کے ملوث ہونے کے باوجود پاکستانی ایجنسیز کو تحقیقات سے دور رکھا گیا. پاکستانی حکومت پر دباؤ کے ذریعے فیصل شہزاد کے گھر والوں کو زیر حراست لے کر امریکی اہلکاروں کی تفتیش کا سلسلہ شروع بھی ہوا لیکن امریکا میں رہائش پذیر فیصل شہزاد کی بیوی ہما میاں کو ڈھونڈنے اور ان سے تحقیقات کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. FBI نے ہما میاں کو اس واقعہ سے لاتعلق قرار دیتے ہوئے ان کی امریکا میں موجودگی کی تردید تو کی لیکن فیصل شہزاد کی بیوی اور دو بچوں کا سراغ لگانے کی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی جو کہ انتہائی حیران کن بات ہے. اس کے علاوہ بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ فراہم کرنے والے کے خلاف بھی کسی قسم کی کاروائی سامنے نہیں آئی. نیز فیصل شہزاد کی گرفارتی کے بعد انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بجائے زیرحراست رکھ کر تمام واقعات کا 'اقبال جرم' کروالیا گیا.

اس تمام تر واقعہ کی آڑ میں امریکا پاکستانی افواج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں غیر ضروری آپریشن نہ کرنے کے اعلان کے جواب میں اپنا دباؤ بڑھانا چاہتا ہے. فاٹا کی 6 ایجنسیز میں کامیاب آپریشن کے بعد باقی رہ جانے والی ایجنسی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ امریکا کی جانب سے بہت پرانا ہے جس کا مطالبہ سخت و نرم انداز میں بارہا کیا جاچکا ہے. اس کی بڑی وجہ وہاں موجود حافظ گل بہادر اور جلال ایدین حقانی کے مبینہ ٹھکانے ہیں جو کہ افغان طالبان کے بہت بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں. اس کے باوجود پاکستانی افواج شمالی وزیرستان میں کسی بھی قسم کے آپریشن سے انکار کرتی رہی ہے. چونکہ پاکستانی افواج اور شمالی وزیرستان میں موجود طالبان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا ہے، اس لیے پاکستانی افواج ان قبائل کے خلاف کسی بھی قسم کا انتہائی اقدام کرنے سے گریزاں ہیں. اس معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے گل بہادر یا حقانی گروپ کے طالبان بھی پاکستانیوں کو نشانہ نہیں بنارہے. باوجود اس کے امریکا کی جانب سے کئی بار ڈرون حملوں کے ذریعے ان معاہدہوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور اب بھی کی جارہی ہے. صرف رواں سال شمالی وزیرستان میں ساٹھ ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن مین زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے.

فیصل شہزاد کی اس ناکام کوشش سے کسی کو کچھ فائدہ ہو یا نہ ہو امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کا جواز ضرور مل جائے گا. اس کے ساتھ پاکستان سے آنے والوں کی اضافی اسکیننگ کا مطالبہ بھی امریکی حلقوں میں زور پکڑتا جائے گا. سب سے زیادہ مشکل کا شکار وہ افراد خصوصاَ نوجوان ہوں گے جو تعلیم یا روزگار کی نیت سے امریکا میں مقیم ہیں. انہیں امریکی حکومت سمیت عام امریکیوں کی جانب سے نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے. گویا امریکی حکومت اس واقعہ کو فل کیش کرانے کی پوزیشن میں ہے. جہاں تک پاکستان پر اس واقعہ کے وسیع اثرات کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا کہ آیا ماضی کی طرح پاکستانی حکومت اور افواج امریکی دباؤ میں آکر جلد بازی میں شمالی وزیرستان میں آپریشان کا آغاز کرتی ہیں یا پھر خون خرابہ کے بغیر سیاسی داؤ پیج اور مربوط حکمت عملی کے تحت وہاں موجود طالبان و دیگر غیر ریاستی دہشت گردوں کا سفایا کرتی ہیں.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

موضوع کی نزاکت ديکھيں اور اوپر تبصرے ديکھيں خير قوم کی مشترکہ پٹائی اس اصول کے تحت ہو گی کہ گہيوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے ادھر البتہ گھن پورے گھيوں کو چاٹنے کے چکر ميں ہے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
ہیلو۔ہائے۔اےاواے says:

بہت اچھا کہنا تو اب مجبوری ہی ٹھہری کیولکہ کسی دوسرے کی مرضی کا تبصرہ تو اس دوسرے کے سامنے بیٹھ کر ہی کیا جاسکتا ہے ۔ اب آپ کی بھی اپنی ہی مرضی ہے کہ بھوپال موڈ میں خود سے ہی نہ چلے جائیں ۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
سعد says:

بھائی صاحب پاکستان کی باری تو آنی ہی ہے ایک دن چاہے جو مرضی کرلیں!

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جو شخص ميرے بلاگ پر ہیلو۔ہائے۔اےاواے کے نام سے تبصرے کرتا رہا ہے اور ميرا نام بلاگ ايڈريس اور ای ميل ايڈريس استعمال کر کے فضول تبصرے لکھے ہيں اُس کی شناخت يہ ہے
111.68.99.#

اس تبصرے کا جواب دیںجواب