نہیں بھائی نہیں!

21

کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک شخص نے اپنی زندگی سے پریشان ہو کر خودکشی کا ارادہ کیا۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ گھر سے روانہ ہوا تو کچھ پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی ساتھ لے لیے۔ رستے میں ایک دوست ملا اور حال چال دریافت کیا تو جواب میں اس شخص نے روتی ہوئی صورت میں سارا مدعا بیان کردیا۔ دوست نے حیرت سے پوچھا کہ بھئی مرنے جا رہے ہو تو یہ پھل اور سبزیاں کیوں ساتھ ہیں؟ اس شخص نے برا سا منہ بنا کر کہا کہ اگر گاڑی لیٹ ہو گئی تو مجھے کھانا کون دے گا؟

جب سے الطاف حسین کا مرتے دم تک بھوک ہڑتال کا فیصلہ اور اس کے لیے مقامی انتظامیہ سے اجازت طلب کرنے کے بارے میں پڑھا ہے، بار بار یہی لطیفہ ذہن میں آرہا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ قائد تحریک اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی سے پریشان ہیں جن میں سب سے زیادہ قابل ذکر گورے و کالے رینجرز والے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانوی قوانین کے مطابق تادم مرگ بھوک ہڑتال نہیں کی جاسکتی اس لیے اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے پھل اور سبزیاں وغیرہ ساتھ رکھنا بھی ان کی مجبوری ٹھہری۔

خدشہ ہے کہ اس بار قائد تحریک کے اپنے ہی ساتھی بھائی انہیں بھوک ہڑتال کر کے ہیرو بننے کی کوشش سے بعض رکھنے کی سازش کریں گے۔ جلد ہی رابطہ کمیٹی کی طرف سے یہ بیان آئے گا کہ قائد محترم رمضان کے روزوں اور عبادات کے باعث پہلے ہی سوکھ کر کانٹا ہو رہے ہیں اس لیے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اور پھر اگر الطاف بھائی “ہیلووووووووووووووو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری آواز آرہی ہے؟” کے ساتھ خطاب شروع کر کے اپنے ہمدردوں سے بھوک ہڑتال کے بارے میں مشورہ طلب کریں تو مجمع “نہیں بھائی نہیں” کے فرمائشی نعروں کے ساتھ انہیں اپنا فیصلہ بادل نخواستہ واپس لینے پر مجبور کردے گا۔

البتہ ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ الطاف حسین کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ ان کی زندگی کا وہ دوسرا فیصلہ ہے کہ جس پر مخالفین بھی انہیں استقامت کی دعا دے رہے ہیں۔ اسی طرح کا پہلا فیصلہ پاکستان سے فرار کا تھا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ آج اپنے دشمنوں ہی کی دعاؤں سے چوبیس سال بعد بھی خود ساختہ جلاوطنی کے فیصلے پر قائم و دائم ہیں۔

ویسے اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو الطاف حسین کا یہ فیصلہ کراچی والوں کے لیے ون-ون سچویشن (win-win situation) ہے۔ اگر اس بھوک ہڑتال کا نتیجہ الطاف بھائی کے انتقال کی صورت میں نکلا تو کراچی کا ایک بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اگر وہ کسی طرح بچ گئے تو قومی امید ہے کہ ان کا موٹاپا کم ہوجائے گا جس سے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی بہت سی بیماریاں بشمول دماغی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

21 تبصرے

  1. Faizan Baig کہتے ہیں

    چار کندھوں کو پریشانی نہیں ہوگی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمد انس کہتے ہیں

    الطاف بھائی نے بڑی دور کی نگاہ پائی ہے دونوں صورتوں میں فائدہ الطاف بھائی کا ہی ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمدزبیرمرزا کہتے ہیں

    میاں کراچی میں رہتے ہو کچھ تو خیال خاطرِ احباب کرلیتے – ویسے تحریر دلچسپ ہے اور انداز بے ساختہ- سیاست میں مزاح تو عام سی بات لیکن جس طرح آپ نے لکھا وہ قابلِ توجہ اور تعریف ہے-

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. ایم شاہد یوسف کہتے ہیں

    یہ بات تو پکّی ہے کے الطاف بھائی بھوک ہڑتال اپنے کارکنوں کی پرزور آزمائش پر ختم کر دیں گے لیکن کارکن بھی تنگ آگئے ہیں روزانہ کی ہڑتاولوں اور دھمکیوں سے اب اُن کو چاہیے کے وہ بھائی سے ہڑتال پر مرتے دم تک قائم رہنے کا کہیں پھر چانس ہے کے کراچی والوں کی گلو خلاصی ہو جائے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. جواد احمد خان کہتے ہیں

    ایم کیو ایم پر بھلے سے سیاسی معنوں میں زوال نا آیا ہو. مگر الطاف حسین زوال کا شکار ہوچکا ہے.لیڈر جب سنک جائے تو پیچھے کھڑی قیادت کو اسے زور زبردستی اتار لینا چائیے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. Fahim Patel کہتے ہیں

    اسد بھائی بہت شاندار ۔۔۔۔۔ طرز تحریر بھی عمدہ اور بلاگ پر لے جانے کا طریقہ بھی شاندار 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. Shoaib Yaseen کہتے ہیں

    خدشہ ہے کہ اس بار قائد تحریک کے اپنے ہی ساتھی بھائی انہیں بھوک ہڑتال کر کے ہیرو بننے کی کوشش سے بعض رکھنے کی سازش کریں گے…. ……….یہاں باز رکھنا متوقع تھا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. عدنان کہتے ہیں

    یہ ڈرامے جلد ختم ہونے چاہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    محترم ۔ آپ نے سب درست لکھا ہے
    میں نے بچپن میں ایک کہانی سُنی تھی ۔ ایک لڑکا اپنی ماں کا بہت لاڈلا تھا ۔ جب کوئی ناجائز خواہش ظاہر کرتا اور ماں نہ مانتی تو چھت پر چڑھ کر کہتا ”ماں ۔ میں چھلانگ لگانے لگا ہوں“۔ ماں بیچاری پریشان ہو جاتی اور بیٹے کی بات مان لیتی ۔ فرمائشیں پوری کرتے کرتے ماں تھک چُکی تھی کہ ایک دن بیٹا پھر چھت پر چڑھ کر بولا ”ماں ۔ میں چھلانگ لگانے لگا ہوں“۔ ماں نے کہا ” لگا دے چھلانگ یہ روز روز کی بک بک تو ختم ہو“۔ بیٹا نیچے اُتر آیا اور بولا ” اچھا ماں ۔ میں تیری بات مان لیتا ہوں“۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. کاشف کہتے ہیں

    بھائی کی خدمت میں:
    ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
    کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. نعمان یونس کہتے ہیں

    مطلب بھوک ہڑتال پر اسلامی احکامات سے زیادہ برطانوی قانون اہم ہیں 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. زاہد علی خان کہتے ہیں

    میری زاتی رائے ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ الطاف حسین اینڈ کمپنی کو اپنے حواسوں سے اتاردینا چاہیے۔ بہت عمدہ تحریر ہے لیکن اس موضوع کو ہم جتنا ڈسکس کریں گے چاہے منفی انداز میں ھی کیوں نا ہو لوگوں کے ذہنوں میں ترو تازہ رہے گا۔ اسے ماضی کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اگنور کیا جائے یہ اپنی موت آپ مرنے کے سارے انتظامات خود کر رہے ہیں۔ البتہ لوگوں کو خوف کی حالت سے باہر نکالنے کے لیے کیا لکھا جائے وہ زیادہ اہم ہے۔ مجھے یاد ہے جیو کے ایک پروگرام “ہم سب امید سے ہیں” جس میں سیاستدانوں کا پیروڈی کے ذریعے مزاق اڑایا جاتا ہے میں خود ایم کیو ایم کی لیڈرشپ نے زبردستی جیو انتظامیہ سے زور دے کر کہا کہ الطاف حسین کو بھی مزاق اڑائے جانے والے لیڈروں کی صف میں شامل کیا جائے، اس طرح وہ چاہتے تھے کی الطاف کو عوام نفسیاتی طور پر قومی سطح کا لیڈر تصور کرے۔ یہ تو ایک ضمنی تبصرہ تھا تاہم آپ کی تحریر بہت عمدہ ہےجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اہک اعلی درجے کے لکھاری بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ آپ ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عادِل سہیل ظفر کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، بہت خوب بھائی محمد اسد صاحب ، آپ نے الطاف حسین کے بارے میں کافی لطافت کے ساتھ حقائق ذِکر کیے ہیں ، اللہ کرے کہ اُس کے پیروکار اِن کو سمجھ سکیں ، تمام تبصروں میں سے مجھے ذاتی طور پر بھائی زاہد علی خان صاحب کا تبصرہ بہت مُناسب لگا ہے ، واقعتاً ہمیں ایسے لوگوں کی خبروں کو کچھ اس طرح سے نظر انداز کرنا چاہیے کہ دوسروں کو بھی احساس ہو کہ یہ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ ان کی خبروں اور باتوں کی طورف توجہ کی جائے، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو وہ کچھ کہنے اور کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جس میں وہ راضی ہوتا ہے اور ہمارے دِین دُنیا اور آخرت کی خیر ہوتی ہے ۔ والسلام علیکم۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. سلیم اللہ شیخ کہتے ہیں

    ماشاء اللہ اسد بھائی
    بہت اچھے انداز میں لکھا ہے. میں افتخار اجمل بھوپال صاحب کے تبصرے کی تائید کروں گا کہ کیوںکہ میری بھی یہی رائے ہے. اگر آپ لوگوں کو یاد ہو گذشتہ برس بھی انہوں نے قیادت چھوڑنے کا ڈرامہ کیا اور جناح گرائونڈ میں جلسے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا میں واپس آجائوں؟ تو سب سے اگلی صفوں میں بیٹھے ہوئے ایک ادھیڑ عمر کارکن نے جذباتی ہوکر کہا تھا کہ ہاں بھائی آپ واپس آجائیں، یہاں آپ کی ضرورت ہے وغیرہ . تو اب یہ وقت آنے والا ہے کہ ان کے لوگ ہی ان سے بیزار ہوجائیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. Wasio Ali Khan Abbasi کہتے ہیں

    I quite agree with the idea. It does happen that MQM’s leader can benefit in both ways, by going through the experience of hunger strike and surviving it or by getting his demands fulfilled and not go through it. But followers of MQM need to understand that old theatrics will not work any longer. People have tolerated until now because they are unsure what the future holds AFTER Altaf Hussain. Once that question is answered or people stop caring about that possibility, everything the party has claimed to achieve will be all for naught.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. سیما آفتاب کہتے ہیں

    بہت خوب لکھا ہے 🙂

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. نعیم خان کہتے ہیں

    واہ بہت اچھی تحریر ہے۔ اس خبر سے مہران سے خیبر تک لوگ خوش ہیں اور اُمید ہے کہ موصوف اتنے کروڑوں لوگوں کی خوشی پر پانی نہیں پھیریں گے اور اپنی بات پر عمل کرکے رہیں گے آخر وہ بھی ایک غیرت مند انسان ہیں اور جو کہہ دیتے ہیں اس پر اس دفعہ قائم رہیں گے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.