پاکستان میں کیا کیا ہوگا؟

علامہ انور صابری مرحوم برصغیر کے معروف شاعر اور مسلم رہنماء تھے. ان کا تعلق مجلس احرار لاسلام سے تھا. تحریک آزادی کے وقت ان کی سیاسی نظموں کو بہت شہرت حاصل ہوئی. انہی میں سے ایک درج ذیل نظم انہوں نے 1946ء کے انتخابات کے موقع پر کہی. یہ فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ آیا وہ اس نظم کو صابری صاحب کی دور اندیشی و خدشات سمجھیں، وعظ و نصیحت گردانیں، یا پھر کچھ اور اخذ کریں. لیکن اس بات کو شاید ہی کوئی جھٹلاسکے کہ اس نظم میں موجود صابری صاحب کے الفاظ 64 سال گزرنے کے بعد حقائق کے صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہیں.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

33 تبصرے

  1. جس غلطی کو شہنشاہ خطابت نے بہت پہلے تسلیم کر لیا تھا اب کریدتے ہو جو راکھ جستجو کیا ہے .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. arifkarim نے کہا:

    یہ دور اندیشی نہیں اس بات کا اثبوت ہے کہ پاکستان کو مجلس احرار چلا رہی ہے! :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عبداللہ نے کہا:

    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5319745,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. عبداللہ نے کہا:

    (محمداسد نے حذف کیا)

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. Hasan نے کہا:

    اسکو
    self fulfilling prophecy
    کہتے ہيں- انہی پاکستان کے مخالف مولويوں نے مذہبب کا وہ انتہاپسندانہ طرز عمل پيش کيا ہے کہ کچھ لوگ انتہاپسند بن گئے ہيں، کچھ مذہب سے بيزار اور باقی درميان ميں بيٹھے سوچ رہے ہيں کہ کيا کريں-

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. ابوشامل نے کہا:

    تو بھارت میں کون سا مسلمان دودھ کی نہروں میں نہا رہے ہیں؟ دونوں جگہ ایک سا حال ہے پاکستان نہ ہوتا، ہندوستان ہوتا۔ حرکتیں ہماری یہی رہنا تھیں۔ میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ اقبال کی شاعری زندہ شاعری ہے، لگتا ہے آج کے لیے لکھا ہے۔ جواب ملا جب تک ہماری حرکتیں نہ بدلیں گی اقبال کی شاعری بھی زندہ رہے گی 😀 ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. عنیقہ ناز نے کہا:

    یہ ایک دانشوارانہ ویژن کا نمونہ ہے ایسا ویژن جو حالات و واقعات اور افراد کو دیانتدارانہ نظر سے دیکھنے پہ پیدا ہوتا ہے. آج سے چونسٹھ سال پہلے انہوں نے پاکستان بنانے کے پیچھے موجود عوامل کو جان لیا تھا. البتہ ہم پچھلے باسٹھ سال سے جھوٹ بول رہے ہیں اور اتنا بول رہے ہیں کہ اسے ہی سچ سمجھتے ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. بلوُ نے کہا:

    میں ابو شامل صاحب کی بات سے سہمت ہوں
    ویسے مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ پوسٹ اوپر والی ہے یا جو عبدِاوم نے لکھی ہے وہ ہے؟؟؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. مولانا ابوالکلام آذاد سے کسی نے پوچھا کہ آپ تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت کبھی قائم نہیں ہو سکے گی کیونکہ تحریک پاکستان کی باگ ڈور جاگیردار اور زمیں دار طبقہ کے ہاتھ میں ہے جن کا مزاج جمہوری نہیں ہے ۔ قائد اعظم کو بھی اس کا احساس تھا مگر وہ کچھ زیادہ اس سلسلے میں کر سکنے کی پوزیشن میں نہ تھے ۔ کوئی اور راہ اس وقت موجود بھی تو نہیں تھی کیونکہ کانگرسی وزارتوں کے مختصر دور میں مسلمان اپنی درگت بنتا دیکھ چکے تھے ۔ مانا کہ پاکستان ہنوز اپنی اصل منزل سے دور ہے مگر کیا یہ ہمیں اس بات کی دعوت نہیں دیتا کہ ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو پاکستان کی بہتری کے لئے وقف کر دیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد نے کہا:

    @ محمد ریاض شاہد
    آپ کا اندازہ بالکل درست ہے کہ قائداعظم کو بھی ان چیزوں کا ادراک ہوچکا تھا. تبھی انہوں نے اپنی جیب میں موجود کھوٹے سکوں کی نشاندہی کی تھی. لیکن درحقیقت پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ ایک نظریہ کا نام تھا. لوگوں کی نیت میں فطور بجا لیکن نظریات کو بالائے طاق رکھ دینا بھی سمجھ سے باہر ہے.

    @ arifkarim
    مجلس اپنے سخت نظریات اور پابندی کے باعث عوامی مقبولیت کھورہی ہے، ملک چلانا تو پھر دور کی بات ہے.

    @ عبداللہ
    آپ کے غیر متعلقہ لنک اور کاپی تبصرہ کا شکریہ. لنک دینے کے بعد اس چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہی مواد یہاں بھی چھاپ دیا جائے. اس لئے حذف کردیا گیا ہے.

    @ Hassan
    بلاگ پر خوش آمدید اور تبصرہ کا شکریہ.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمداسد نے کہا:

    @ ابوشامل
    ہمارے بعض احباب اب بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ بھارتی مسلمان پاکستانی مسلمان سے زیادہ بہتر زندگی گزاررہا ہے. مرتا بھی ہے تو یہ غم نہیں ہوتا کہ اپنے مسلمان بھائی کے ہاتھوں مرا. 😕

    @ عنیقہ ناز
    آپ کی آمد سے قبل میں یہ سمجھتا تھا کہ بلاگ پر کسی تکنیکی غلطی کے باعث یہاں خواتین کا داخلہ ممکن نہیں رہا 😀 . اب آپ کے آمد سے یہ غلط فہمی دور ہوگئی لہٰذا بلاگ پر خوش آمدید 🙂 .
    پاکستان بن جانے کے بعد اب پیچھے دیکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہی. یہ چیز ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ پارٹیشن نہ ہوتا تو یوں ہوتا. اب جبکہ ہم ایک آزاد ملک میں جی رہے ہیں تو اس کی آزادی برقرار رکھنا اور اسے آگے لے کر جانا اب ہماری ذمہ داری ہے.

    @ بلو
    امید ہے اب پوسٹ کی پہچان میں دشواری نہیں ہوگی 😉

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ نے کہا:

    محمد اسد یہ لنک ہرگز غیر متعلقہ نہیں تھا! کیا یہ سب جو آج کراچی سمیت پورے ملک میں ہورہا ہے یہ ان ہی لوگوں کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہےجنکا ذکر مولانا ابوالکلام آزاد،علامہ انور صابری اور دیگران نے کیا تھا!
    اور کراچی کی جو اسٹریٹجک پوزیشن ہے اس سے پاکستان کے دشمن بخوبی واقف ہیں اور اسی لیئے اس طرح کے گھناؤنے کھیل اب بھی جاری ہیں!
    رہی بات پیچھے دیکھنے کی تو پیچھے دیکھنا چاہیئے تاکہ ہم ان غلطیوں کو دہرانے سے بچ سکیں جو کرتے آئے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عبداللہ نے کہا:

    ایسے کوئی احباب نہیں ہیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ انڈیا کے مسلمان پاکستان کے مسلمانوں سے بہتر ذندگی گزار رہے ہیں،
    ہاں یہ ضرور ہے کہ انڈیا کہ مسلمان جب پاکستان میں مسلمان ایک دوسرے کو مارتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ہندوؤں کے ہاتھوں مرتے ہیں آپ تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں مررہے ہیں ایسا کیوں ہے!
    باقی انڈیا کی نئی نسل تو اس بات پر فخر کیا کرتی ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں جمہوریت ہے اور جو قرض لے کر عیاشیاں نہیں کرتا 🙁

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. عبداللہ نے کہا:

    بلو میاں آپ کہاں یہاں آگئے جاکر اپنے پسندیدہ موضوع پر جناب خاور صاحب سے تربیت حاصل کریں 😳

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. بلو صاحب
    عبد اوم کی جدت پسند آئی مگر ایک مسلمان اور عبداللہ جیسے خوبصورت نام کو بگاڑنے کا گناہ یقیننا آپ کے اعمال میں لکھا جا چکا ہے . “ میاں اتنا غصہ نہ کرو اور غور سے سنو۔ لقب اور نام رکھنے کو ہم صرف تفریح اور ہنسی مذاق سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ تفریح نہیں بلکہ بہت بڑی بداخلاقی ہے جس سے اللہ تعالٰی نے سختی سے روکا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے “ وَلَا تَنَابَزُوا بِالاَلقَاب (الحجرات - 11) اور ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے نہ پکارو۔“

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. راحت حسین نے کہا:

    السلامُ علیکم۔
    اس ضمن میں محض پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا، یا طنز و تضحیک کا نشانہ بنانا میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا یہ سب پاکستان ہی میں ہو رہا ہے؟ میرے خیال میں تو یہ اوپر بیان کی گئی خصلتیں ساری دنیا کے ہی مسلمانوں میں بدرجہء اُتم موجود ہیں۔
    بات میخانوں کی ہو یا غیروں سے یارانوں کی، عقل سے عاری اور لوگوں کو مذہب سے متنفر کرنیوالی دو پاؤں پہ چلنے والی مخلوق کی ہو یا جہالت، بے انصافی اور زرپرستی کی۔۔۔ سب ہی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں ہیں۔

    جب تک تبدیلی باہر سے لانے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔جب تک ڈنڈے کے زور پر دوسروں کو سیدھا کرنے دعوے کئے جاتے رہیں گے۔ جب تک ہم اپنے گھر کے سامنے والی نالی میں رُکے گند کو اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ٹھہرا کر بری الذمہ ہوتے رہیں گے (مثال)، یہ سب کچھ ہونا اتنی حیرت کی بات نہیں۔ تبدیلی اندر سے اٹھا کرتی ہے، باہر سے مسلط نہیں کی جاسکتی۔۔۔ ایمان دلوں میں داخل ہوا کرتا ہے، ڈنڈے سے نہیں ٹھونسا جاسکتا۔
    حاکم جور کا مائل ہوگا۔۔۔ خوب فرمایا ہے علامہ مرحوم نے، مقصد ان پر تنقید نہیں، لیکن کیا یہ درست نہیں ہے کہ جیسی پرجا ہوتی ہے ویسا ہی راجہ اس پر مسلط ہوتا ہے؟۔۔۔ آخر کہیں تو کمی ہے نا کہ بد جاتا ہے تو بدتر آجاتا ہے، بڑی کشمکش سے بدتر سے جان چھوٹتی ہے تو بدترین کا سامنا ہوتا ہے۔
    اوپر والوں کی بات چھوڑیں۔۔۔ سرکاری کلرک کی مثال لے لیں، عام طور سے سفید پوش طبقے ہی سے تعلق رکھتے ہیں نا؟ کبھی ان صاحب سے جا کر پوچھئے کہ جنکو واسطہ پڑا ہو۔۔۔ جہاں تک محترم کی پہنچ ہوتی ہے، سائل کی تو ناک سے لکیریں نکلوا دیتے ہیں۔ (اگر کسی سے دلآزاری ہوئی ہو تو تہہ دل سے معذرت، بات صرف بطور مثال پیش کی ہے) کہ اوپر والے بھی تو ہم ہی میں سے ہوتے ہیں۔ جس جس کی جہاں جہاں تک پہنچ ہے "شکایت کا موقع نہیں دیتا"۔

    خلاصہ یہ کہ ہم کبھی پاکستان کو کوسنے لگتے ہیں، کبھی پاکستان بنانے والوں کو۔۔۔ کبھی اسلام کا "نفاذ" نہ ہونا سارے مسائل کی جڑ کہلاتا ہے، کبھی ہر مسئلے کے پیچھے امریکی سازش کارفرما نظر آتی ہے۔لیکن خود اپنا محاسبہ (انفرادی طور پر) کرنے کا سوچنا تک گوارا نہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عبداللہ نے کہا:

    راحت حسین صاحب آپ غلط سمجھے ہیں یہاں پاکستان کو برا نہیں کہا جارہا بلکہ ان لوگوں کو برا کہا جارہا ہے جنہوں نے اس ملک کو اس حال کو پہنچادیا ہے
    باقی پاکستان پر سب کی نظر اس لیئے رہتی ہے کہ یہ ایک آئیڈیا لوجیکل کنٹری کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ،مگر اس کی آئیڈیا لوجی کو ہائی جیک کر کے لوگوں نے اس کو نہ اسلامی رہنے دیا نہ جمہوری اور نہ فلاحی بس اسی بات کا رونا ہے 🙁

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. راحت حسین نے کہا:

    جی بالکل درست۔ خادم یہی تو عرض کر رہا ہے کہ آخر یہ لوگ ہیں کون۔۔۔ ہم آپ ہی میں سے ہیں نا، یا پھر کم از کم انکو منتخب کرنے والے تو ہم ہی ہوتے ہیں۔

    اور آئیڈیالوجی بھی یہی تھی نا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسا ملک میسر آجائے کہ جہاں وہ بلا روک ٹوک اپنی مذہبی عبادات کر سکیں اور صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ان سے امتیازی سلوک نہ برتا جائے۔ اور جہاں ہم اسلامی اصولوں کو بلا روک ٹوک اپنی عملی زندگیوں میں استعمال کر کے آزما سکیں۔ ایسا ہونے میں اب بھی کچھ مانع نہیں۔۔۔ ہاں البتہ اگر ہم چاہیں کہ کوئی اوپر سے آکر سب کچھ ٹھیک کر دے تو، ایسا کم ہی ہوتا ہے، یہ فردِ واحد کے کرنے کا کام ہی نہیں(تاآنکہ کوئی پیغمبر آجائے یا ریفارمر، پیغمبر تو خیر اب نہ آئے گا، البتہ اللہ کریم اپنا خاص فضل و کرم فرمائیں اور ہم بطور قوم خلوصِ نیت سے دعا مانگیں تو شائد ریفارمر میسر آجائے جو صاحب گفتار کی بجائے کردار کا غازی ہو)، بہر حال ایسے کام من حیث القوم ہی ہوا کرتے ہیں۔
    آئیڈیالوجی کی جو بات ہے تو مملکتِ سعودی عرب سے زیادہ اور اچھی آئیڈیالوجی تو بہرحال پاکستان کی بھی نہ ہوگی، وہاں سے جو دین کے سرچشمے پھوٹ رہے ہیں یا کارنامے انجام دئیے جا رہے ہیں وہ بھی ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔

    باقی جہاں تک بات میری سمجھ میں آرہی ہے، وہ یہ ہ کہ ہم قریبا ایک ہی بات کہہ رہے ہیں بس الفاظ کا الٹ پھیر ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. عبداللہ نے کہا:

    نہیں سعودی عرب کی آئیڈیا لوجی بھی صحیح نہیں جس ملک میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جائے اور اپنے لوگوں کو دوسروں پر ناجائز ترجیح دی جائے یا مسلم اور غیر مسلم کی ناجائز تفریق کی جائے اسے ہم کسی بھی طرح اچھی آئیڈیا لوجی نہیں مان سکتے،ہم یہودیوں کو تو برا کہتے ہیں مگر خود وہی سب کچھ کرتے ہیں،یہ سوچنے والی بات ہے! 🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. عبداللہ نے کہا:

    اور پاکستان کی آئیڈیا لوجی یہ تھی کہ ایک ایسی فلاحی مملکت جہاں بلا تخصیص مذہب و ملت رنگ و نسل عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کی جائے گی اور ان کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھا جائےگا اسے ایک موڈل ریاست بنانے کا خواب تھا قائد اعظم کا خواب!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. محمداسد نے کہا:

    @ راحت حسین
    وعلیکم السلام راحت جی! اس نظم کو پیش کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ ان لوگوں کے خیالات سامنے لائیں جو تقسیم کے خلاف تھے. ہم زبانی کلامی تو ان کے خلاف بہت کچھ کہہ لیتے ہیں لیکن ہمارا عمل سو فیصد ان کے لفظوں اور خیالات کی عکاسی کرتا ہے. اور ایسے لوگوں کو جو کہ ماضی میں متحدہ ہندوستان کے متحد مسلمانوں کی بات کرتے ہیں ان کو طقویت بخشتے ہیں. تبدیلی کا آغاز مشکل ہے مگر ناممکن نہیں.

    @ عبداللہ
    آئیڈیالوجی پر ماضی میں کافی بحث ہوچکی ہے اور آئندہ بھی ممکن ہے. اس وقت مقصد صرف اتنا باور کرانا ہے کہ ہمیں ان عوامل پر کام کرنا ہوگا کہ جن کے باعث ہم ان خرافات کا شکار ہوچکے ہیں جو ہماری درجہ بدرجہ تنزیلی کا باعث بنتی جارہی ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  22. ابوشامل نے کہا:

    ریاض شاہد صاحب! ابو الکلام آزاد میری پسندیدہ شخصیات میں سے ایک ہیں لیکن ان سے ایک گلہ میرا ہمیشہ رہا ہے، اور یہ عقدہ روز قیامت ہی کھلے گا کہ تقسیم ہند کے بعد کانگریس کے اندر کی وہ کیا کہانیاں ہیں جن کے رازوں کو وہ افشا کیے بغیر جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ولبھ بھائی پٹیل کے آہنی اقدامات کے نتیجے میں جوناگڑھ، حیدر آباد اور کشمیر پر قبضے کے فیصلے کرنے والے کون تھے؟ کیا ان علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام اور تذلیل کے اکیلے پٹیل ذمہ دار تھے ؟ کانگریس میں مولانا آزاد کی نیت پر شک کرنے والے کون تھے؟ یہ معاملات ابھی تک راز میں ہیں اور افسوس کے ساتھ میں ان کا ذمہ دار مولانا آزاد کو ٹھیراتا ہوں۔ البتہ ان کی جہاندیدہ شخصیت نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت قائم نہیں رہ سکے گی اور بعد کے واقعات نے ان کی اس بات کو درست ثابت کیا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  23. ابوشامل نے کہا:

    اور ہاں، اگر ممکن ہو تو بتائیے گا کہ کیا اس حوالے سے مولانا کی کتاب "India wins freedom" پڑھنا فائدہ مند ہوگا؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  24. جعفر نے کہا:

    اس سارے مسئلے پر میرا نقطہ نظر کسی سے بھی ہضم نہیں ہوگا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  25. عبداللہ نے کہا:

    ابو شامل جو ہاک پاکستان میں تھے وہی انڈیا میں بھی تھے سو ،اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  26. عبداللہ نے کہا:

    اس سارے معاملے میں کچھ لوگ جیت گئے اور انڈیا اور پاکستان کے عوام ہار گئے!
    جعفر یہ کالم شائد تمھارے نقطئہ نظر کی کچھ وضاحت کرسکے،
    http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/08-03-2010/col12.htm

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  27. محمداسد نے کہا:

    @ جعفر
    ہاضمہ آزما کر تو دیکھیں 😎

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  28. انکل ٹام نے کہا:

    جعفر بھای اگر ہم عبداللہ کے تبصرے ہضم کر سکتے ہیں تو آپکے کیوں نہیں ؟؟؟ ویسے اسی کسم کی باتیں مولانا عطااللہ شاہ بخاری بھی اپنی ایک تقریر میں بتا گےء ہیں وہ تقریر بھی احرار کی سایٹ پر مل سکتی ہے ۔ لیکن اس تقریر میں انہوں نے ہندوں کو بھی رگٹرا لگایا ہے ۔ اور انگریزوں کو بھی ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  29. دیکھیں کچھ باتیں ہیں جو ہر قسم کی صائب رائے سے بالاتر ہوتی ہیں۔
    ایک تو بڑی عام الفہم غلظی ہے معاشرے، قوم اور ملک کے ارتقاء میں کہ ملک، قوم یا معاشرہ رنگ، نسل یا زبان کی مشابہت سے وجود میں آیا کرتا ہے۔ بالکل غلط۔
    یورپی یونین: اکٹھے ممالک مگر ترکی کا واہگہ بارڈر آج بھی موجود ہے۔ تمام یورپی ہم نسل، ہم رنگ اور ہم زبان ہونے کے باوجود آج تک ترکی کو یورپ میں تسلیم نہیں کر سکتے۔
    مشرقی و مغربی جرمنی؟؟؟ وہاں پر بھی یہی فلاسفی لاگو ہوتی ہے۔
    درحقیقت واحد چیز اگر کوئی ہے تو وہ ہے مذہب جس کی بنیاد پر خون کے دریا پار کر لیے جاتے ہیں اور یہی دریا پار کر کے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1947 سے لے کر اب تک ہم علی اعلان یا ڈھکے چھپے لفظوں میں تقسیم کو ایک فاش غلظی ثابت کرنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں مگر دو ایسی چیزیں ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان دیگر اقوام عالم سے ممتاز ہے اور اس تقابل میں بھارتی مسلمان بھی پورے نہیں اترتے۔ بیشک میں مولان ابوالکلام آزاد اور پیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا چاہنے والا ہوں مگر پاکستان میرا ایمان ہے؛ وہ دو چیزیں ہیں؛
    نیم پلیٹ: واحد ملک ہے کرہ ارض کا جس کی نیم پلیٹ ہے "لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ" جو دنیا کے کسی اور ملک کا خاصہ نہیں ہے۔
    اقتدار اعلیٰ: شکریہ قرارداد مقاصد کا کہ ہم نے یہ اعلان تو کیا، کیا ہوا اگر ہم دل سے ابھی تک تسلیم نہیں کر سکے، مگر اعلان تو کیا ہے نہ کہ ہر قوت کا ملک دراصل اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بھی بہت بات ہے۔
    پاکستان برا نہیں ہے، برائی کو ڈھونڈنا پڑے گا کہ کہاں پر خلا رہ گیا ہے؟؟؟ اور یہ تو شائد سبھی جانتے ہیں کہ خلا کہاں ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  30. دیکھیں کچھ باتیں ہیں جو ہر قسم کی صائب رائے سے بالاتر ہوتی ہیں۔
    ایک تو بڑی عام الفہم غلظی ہے معاشرے، قوم اور ملک کے ارتقاء میں کہ ملک، قوم یا معاشرہ رنگ، نسل یا زبان کی مشابہت سے وجود میں آیا کرتا ہے۔ بالکل غلط۔
    یورپی یونین: اکٹھے ممالک مگر ترکی کا واہگہ بارڈر آج بھی موجود ہے۔ تمام یورپی ہم نسل، ہم رنگ اور ہم زبان ہونے کے باوجود آج تک ترکی کو یورپ میں تسلیم نہیں کر سکتے۔
    مشرقی و مغربی جرمنی؟؟؟ وہاں پر بھی یہی فلاسفی لاگو ہوتی ہے۔
    درحقیقت واحد چیز اگر کوئی ہے تو وہ ہے مذہب جس کی بنیاد پر خون کے دریا پار کر لیے جاتے ہیں اور یہی دریا پار کر کے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1947 سے لے کر اب تک ہم علی اعلان یا ڈھکے چھپے لفظوں میں تقسیم کو ایک فاش غلظی ثابت کرنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں مگر دو ایسی چیزیں ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان دیگر اقوام عالم سے ممتاز ہے اور اس تقابل میں بھارتی مسلمان بھی پورے نہیں اترتے۔ بیشک میں مولانا ابوالکلام آزاد اور پیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا چاہنے والا ہوں مگر پاکستان میرا ایمان ہےـــــــ وہ دو چیزیں ہیں؛
    نیم پلیٹ: واحد ملک ہے کرہ ارض کا جس کی نیم پلیٹ ہے "لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ" جو دنیا کے کسی اور ملک کا خاصہ نہیں ہے۔
    اقتدار اعلیٰ: شکریہ قرارداد مقاصد کا کہ ہم نے یہ اعلان تو کیا، کیا ہوا اگر ہم دل سے ابھی تک تسلیم نہیں کر سکے، مگر اعلان تو کیا ہے نہ کہ ہر قوت کا ملک دراصل اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بھی بہت بات ہے۔
    پاکستان برا نہیں ہے، برائی کو ڈھونڈنا پڑے گا کہ کہاں پر خلا رہ گیا ہے؟؟؟ اور یہ تو شائد سبھی جانتے ہیں کہ خلا کہاں ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  31. محمداسد نے کہا:

    @ملک کاشف اعوان:
    معذرت کہ ناچیز کی مصروفیات کے باعث آپ کا تبصرہ شائع ہونے میں قدرے تاخیر ہوئی۔ بہرحال! بلاگ پر آپ کی آمد اور عمدہ تبصرہ باعث مسرت رہا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے