پاک فوج زندہ باد

پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کو ملک میں تباہ کاریاں مچاتے ہوئے تقریباَ ایک مہینہ ہوا چاہتا ہے۔ آپ اس تمام عرصہ کے اخبارات اٹھا کر خبریں پڑھ لیں، چاہیں تو کوئی غیر سرکاری مستند ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والی خبریں سماعت فرمالیں یا پھر ٹی وی چینلز کے ذریعے سیلاب کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرلیں۔ آپ کو صرف ایک ادارہ اپنے سیلاب زدگان بھائیوں اور بہنوں کی بے لوث مدد کرتے ہوئے نظر آئے گا جو ہے پاک فوج۔

ملک میں ہونے والی تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ ان متاثرین کی مدد کے لیے کئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے مصروف عمل ہیں۔ لیکن پاک فوج کی بلاامتیاز عملی امداد سب سے زیادہ قابل تحسین ہے۔ گلگت بلتستان کا ضلع دیامر ہو یا خیبر پختونخواہ کا ضلع نوشہرہ، پنجاب کا ضلع مظفر گڑھ ہو یا سندھ کا ضلع گھوٹکی ہو، بلوچستان کا ضلع ہرنائی ہو یا جعفرآباد، آپ کو امدادی کاموں میں سب سے زیادہ متحرک اگر کوئی سرکاری ادارہ نظر آئے گا تو وہ ہے پاک فوج۔

ملک کی کسی حصہ میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی عملی مدد کرنا ہو، سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے بے یار و مددگار لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچانا ہو، کئی کئی دنوں کے بھوکے بچوں، بزرگوں اور عورتوں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنا ہو، میڈیکل کیمپ میں بیماریوں سے بچانے کے لیے علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنا ہو، شہروں کا رابطہ بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پل اور روڈ تعمیر کرنا ہو، کسی شہر کو بچانے کے لیے بند کے پشتوں کی مرمت کرنا ہو یا سیلاب سے قبل دیگر حفاظتی اقدامات کرنا ہوں، ان تمام کاموں میں اگر کوئی سرکاری ادارہ مصروف ہے تو وہ ہے پاک فوج۔

یہ بات درست ہے کہ ماضی میں فوجی جرنیلوں کے اقدامات کی بدولت فوج کی عوام میں مقبولیت کو شدید نقصان پہنچا، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سیلاب کی موجودہ صورتحال میں فوج کا اہم اور فعال کردار ماضی کی تلخیوں کو کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوگا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی عوام پر آنے والے اس کڑے وقت میں جمہوری حکومت کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے بعد صرف پاک فوج ہی وہ ادارہ نظر آتا ہے جو متاثرین کی عملی مدد میں پیش پیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوام کی اکثریت مدد کے لیے اپنے منتخب کردہ MNA یا MPA کے انتظار کے بجائے جس ادارے کی طرف دیکھ رہی ہے، وہ ہے پاک فوج۔

سیلابی ریلہ اب بھی مختلف علاقوں میں تباہیاں مچاتے ہوئے اپنی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر فلاحی اداروں کی جانب سے تمام مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل ہے۔ اگر آپ بھی پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کی سیلاب سے متاثر لوگوں کی عملی اور مالی امداد میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈالنا چاہیں تو اپنی رقوم "آرمی ریلیف فنڈ (اکاونٹ نمبر: 00280101218258) عسکری بینک لمیٹڈ، جنرل ہیڈکوارٹر برانچ، راولپنڈی" میں ملک کے کسی بھی حصہ سے جمع کرواسکتے ہیں۔ پاک فوج کے ذریعے امداد فراہم کرنے کے دیگر طریقوں سے متعلق جاننے کے لیے پاک فوج کی ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

8 تبصرے

  1. کاشف نصیر نے کہا:

    میں نے 2005 میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے کئی ماہ بحثیث رضاکار پاک فوج کے ساتھ کام کیا ہے اور میں نے اس ادارے کو بہت قریب سے دیکھا ہے. چنانچہ میں آپ کی اس بات کی سو فیصد تائید کرتا ہوں کہ آج بھی یعنی سیلاب زدگان کی امداد کے لئے مرکزی افواج پاکستان ہی ادا کررہی ہے اور ہم کم از کم اس قومی حادثے کے دوران پاک فوج پر بھرپور اعتماد کرسکتے ہیں. البتہ یہ ادارہ ملک کی آدھی سے زیادہ کمائی کھا جاتا ہے اور اسکا کام ہی ہےکہ اس طرح کے سانحات میں افرادی قوت فراہم کرے.

    لیکن جہاں تک آپ کا یہ کہنا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاک فوج کا وقار بڑھا تو میں اس قطع متفق نہیں ہوں. کیونکہ ابھی انتشار کا وقت نہیں ہے اس لئے میں 1951 سے آج تک کہ فوج کے کرتوت آپ کو گنوانا نہیں چاہتا.

    بہرحال پوسٹ اچھی ہے، سخت باتیں کرنے کے لئے معذرت.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. فرحان دانش نے کہا:

    جہاں سیاستدان ناکام ہو گئے وہاں فوج بہتر کام کر رہی ہے . اس وجہ سے فوج کی عوام میں مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. خرم ابن شبیر نے کہا:

    میرا خال ہے یہ وقت انتشار کا نہیں ہے اس لیے اس موضوع پر بات کرنا بلکے سوچنا ہی بہتر ہے میرا یہ بھی خیال ہے کہ اس وقت صرف یہ دیکھنا چاہے کے کام کون کر رہا ہے یہ نہین دیکھنا چاہے کہ پہلے کیا کام کرتے رہے ہیں الحمداللہ
    پاک فوج ہر مشکل میں عوام کے کام آئی ہے
    کاشف بھائی آپ کی بات بھی درست ہے لیکن ساری فوج ایسی نہیں کچھ جرنیل ایسے ہیں
    ہمیں چاہے کہ ہم مل کر اس وقت اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. محمداسد نے کہا:

    @ کاشف نصیر
    یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فوج سے زیادہ منظم ادارہ ہمارے ملک میں موجود نہیں. یہی وجہ ہے کہ فوج جس کام میں ہاتھ ڈالتی ہے اسے انتہا تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی.
    رہی بات کرتوتوں کی تو میرے خیال سے فوج 1951ء سے ہی نہیں بلکہ اسی دن بے لگام ہوگئی تھی جب جنرل گریسی نے کشمیر پر بھارتی قبضہ کے خلاف قائداعظم کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا۔ تاریخ تو کاشف بھائی بہت تلخ یادوں سے بھری ہے۔ لیکن یہ وقت آپس کے انتشار کو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ایک طرف رکھ دینے کا ہے.

    @ فرحان دانش
    مجھے خوشی ہے کہ آپ نے سیاستدانوں کو ناکام قرار دیا نا کہ جمہوریت کو. فوج کی عوام میں مقبولیت کا گراف پچھلی چند دہائیوں سے ویریئشن کا شکار رہا ہے. دیکھیے اس میں استحکام کب آتا ہے.

    @ خرم ابن شبیر
    بجا فرمایا. یقین جانیے کہ اگر آج ہم گڑھے مردے اکھاڑنے بیٹھے تو مزید قبریں ہمارا مقدر ٹہریں گی.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. عدنان شاہد نے کہا:

    پاک فوج زندہ باد

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. اسد اللہ خان نے کہا:

    پا کستان میں صرف فوج ہی بہتر ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. کاشف نصیر نے کہا:

    جی ہاں.
    میں نے بھی یہی کہا اور یہ بھی کہ کم از کم اس وقت ہمیں انتشار سے بچنا چاہئے اور افواج پاکستان سے بھرپور تعاون کرنا چاہئے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. نغمہ سحرِ نے کہا:

    بلکل بجا فرمایا کہ اس وقت فوج نے جس طرح سے اپنی ڈیوٹی بلکہ اپنا فرض ادا کیا ہے وہ تعریف و تحسین لائق ہے مگر اس تعریف اور تحسین کی آڑ میں سول اداروں کی ناکامی قرار دینا ناانصافی ہے کیونکہ ہم اپنی افواج پر اپنی قومی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں افواج پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں اور افرادی قوت بھی آخر یہ پاکستانی فوج ہے اگر یہ ایسے موقعوں اپنا فرض ادا نہیں کرے گی تو کب کرے گی .امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ابھی پچھلے دنوں جو سیلاب آیا تھا جس کو قطرینہ کا نام دیا گیا تھا وہاں کئی شہروں کا مکمل کنٹرول امریکی فوج کے حوالے کردیا گیا تھا وہاں کسی نے یہ نہیں کہا کے یہ سول اداروں یا سیاست دانوں کی ناکامی ہے اور ابھی روس کے شہر ماسکو کے گرد و نواح کے جنگل میں آگ پر قابو پانے اور متاثرین کی مدد کیلئے فوج کو استعمال کیا وہاں بھی کسی نے یہ نہیں کہا کے حکومت نکمی ہے اگر تمام سول اداروں اور فوج کے بجٹ پر نظر ڈالو تو ساری حقیقت نظر آجاۓ گی اور جو کچھ افواج پاکستان کر رہی ہے وہ سول حکومت کے احکامات کے تحت کر رہی ہے صرف ایک کام ہمارے جنرل اپنی مرضی سے کرتے ہیں وہ ہے اقتدار پر قبضہ . آج جو عزت افواج پاکستان کو مل رہی ہے وہ اسی سول حکومت کے ماتحت کام کرنے سے مل رہی ہے ورنہ ابھی کچھ سال پہلے تمام یونٹوں میں یہ سرکلر بھیجا گیا تھا کہ یونیفام اور فوجی گاڑیوں میں پبلک مقامات پر نہ جائیں .جو لوگ آرمی اور جنرلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کی مقبولیت سیاست دانوں سے زیادہ ہے وہ ہی پاکستانی فوج کے دشمن ہیں اور پھر فوج کو بدنامی کی دلدل میں لیجانا چاہتیں ہیں . جو جتنا کام کر رہا ہے اسکی تعریف ضرور کریں لیکن کسی کا کسی سے مقابلہ نہ کریں .شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے