یوم آزادی پر پیغام اتحاد

یوم آزادی پر سرکاری محکموں، کاروباری اداروں، ذرائع ابلاغ، سیاسی و غیر سیاسی تحریکوں اور انجمنوں کی جانب سے خصوصی نغموں کی تیاری اور ان کی اشاعت تو ماضی میں بھی آپ نے دیکھی ہی ہوگی لیکن اس بار یوم آزادی پر ایک ایسے طبقے کی جانب سے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جسے ہم 'مدارس' کے نام سے جانتے ہیں۔

اس سال پاکستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے بنوریہ میڈیا پروڈکشنز نے "پاک وطن - پیغام اتحاد" کے عنوان سے نغمہ جاری کیا ہے۔ مملک خداداد پاکستان کی محبت سے سرشار طالب علموں نے جس محنت اور لگن سے، بغیر کسی بیرونی تکنیکی امداد کے تحقیق سے تیاری تک کا تمام کام مدرسے کے اندر ہی انجام دیا، اس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے!

یہ استاد امانت علی خان کی آواز میں مشہور سدابہار ملی نغمے "اے وطن پیارے وطن" کا ری-میک ہے جسے معروف نعت خواں نعمان شاہ، مولانا انس یونس، حافظ ابوبکر اور جنید جمشید نے پڑھا ہے۔ اس نغمے میں موسیقی نہیں، نمود و نمائش نہیں اور فحاشی و عریانی بھی نہیں۔ اگر ہے تو صرف پاک وطن سے محبت کا اظہار اور متحد ہونے کا پیغام ہے۔

ملک میں جاری نفرتوں کی لہر ختم کرنے اور باہمی اتحاد کے فروغ کی ایک کوشش "پاک وطن" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے اس اقدام سے نہ صرف مدارس کے خلاف پھیلائے گئے زہر کا تریاق ہوگا بلکہ دینی درس گاہوں میں پڑھنے والوں کی اہلیت اور قابلیت پر اٹھنے والے سوالوں کا عملی اور مثالی جواب بھی میسر آگیا ہے۔

اس نغمے کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے درمیان علماء دین کی نصیحتیں بھی شامل کیے گئے ہیں جو بلاشبہ اس یوم آزادی پر یہ سب سے بہترین پیغامات ہیں جو ہر پاکستانی تک پہنچائے جانے چاہیئں۔ لہٰذا انہی جید علماء کرام کے الفاظ اور آخر میں نغمے کی ویڈیو پر اس بلاگ کا اختتام کر رہا ہوں۔

پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بنانے کی کوشش کریں۔ پاکستانی بننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فرقہ واریت اور باہمی خانہ جنگی سے اپنے آپ کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کریں۔ سب متحد ہو کر ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ (مفتی تقی عثمانی)

قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال میں برداشت نہ کیا جائے۔ ہمارا نام مسلمان ہے۔ ہمارا نام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سنی نہیں ہے۔ (مفتی رفیع عثمانی)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

8 تبصرے

  1. Muhammad Zubair Mirza نے کہا:

    منفی باتوں اوراعتراضات کاجواب اس صورت میں ہی بہترہے:) مکمل بلاگ گھرجاکرپڑھ کے تبصرہ تحریرکرتاہوں- ایک قابل فخرپیش کش ہے -

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. میں کل سے اسے باربار سن رہاہوں ہربار آنکھیں نم ہوجاتی ہیں - اتحاد ویکجہتی کے لیے ایک بہترین ، قابلِ تعریف اور
    فخریہ پیش کش ہے - آج میں نے اپنے کچھ ساتھیوں کو دکھایا ان امریکیوں نے مدارس اور مولویوں کے بارے میں جو سنا ہے
    جو پڑھا ہے اُن کے مطابق تو مدرسوں میں بلخصوص اور پورے پاکستان میں بلعموم مولوی کلاشنکوف لیے قتل وغارت کرتے ہیں - جب میں اُن کو یہ دیکھا رہا تھا تو اُن کے چہروں پہ حیرت تھی اور میرے چہرے پہ یقینی طور پر خوشی اور فخر- باریش ، دستاریں پہننے والے مولویوں کو اس اندازمیں دیکھنا اُنھیں خوشگوار حیرت مبتلا کرگیا - بہت دیر اُنھیں اس قومی نغمے اور پیغام کا بتاتے ہوئے خود کو اس کا حصہ محسوس کیا - اسد اس بلاگ کے لیے ہمارے دل کی آواز بننے کے لیے بہت شکریہ - محتصر طورپر بہترین انداز میں اس پر روشنی ڈالی ہے جیتے رہو میاں -

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد اسد نے کہا:

    @محمد زبیرمرزا: شکریہ زبیر بھائی۔ اس نغمے کی تیاری کو قریب سے دیکھنے اور تعارفی تقریب میں حصہ لینے کے بعد مجھے یہ واجب محسوس ہوا کہ اس بارے میں سب کو بتایا جائے۔جو لوگ اتنے مشکل معاشی حالات اور وسائل کی کمی میں یہ کارنامہ انجام دے سکتے ہیں تو ان کے لیے ہم اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. ہمارا نام مسلمان ہے،دیوبندی بریلوی یا سنی نہیں،،، بہت قابل فخر اقدام ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. کاشف نے کہا:

    وطنیت کی عصبیت...

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. سیما آفتاب نے کہا:

    نہایت قابل ستائش کاوش ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. سلمان غنی نے کہا:

    تخریبی قوتیں ہر زمانے میں رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ تعمیری کام انجام دینے والوں کی بھی کمی کسی زمانے میں نہیں رہی۔ ہمیں ایسے افراد کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ ہندو پاک کے عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ تعمیری کام انجام دینے والوں کو متحد کیا جائے۔۔اس سے نہ صرف دونوں ملکوں کا بھلا ہوگا بلکہ ہماری آپس کی دوریاں بھی ختم ہوں گی۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. محمد اسد نے کہا:

    @سلمان غنی: صد فی صد متفق!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے