پاکستان یا پورنستان؟

18

اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ایسے کئی لوگ نظر آئیں گے جو پاکستانی قوم کی برائیاں کرتے انہیں صلواتیں سناتے، انہیں بددعائیں اور کوسنے دیتے نہیں تھکتے۔ یہ لوگ کسی آنجہانی دین کے ماننے والے ہوں یا جاپانی دین کے، ان کے نزدیک اس وقت دنیا کی اگر کوئی بدقسمت قوم ہے تو وہ یہی ایک پاکستانی قوم ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ہر منطقی اور غیر منتقی دلیل کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس میں اکثر و بیشتر جذبات میں آکر اس قوم کی وہ وہ معاشرتی برائیاں بیان کر بیٹھتے ہیں جو یہاں کے باسیوں نے کبھی سنی یا دیکھی بھی نہیں ہوتیں۔ ان لوگوں کے نزدیک پاکی لوگ دنیا بھر کے لیے باعث ناپاکی ہیں۔

ایسے ہی لوگوں کی ترجمانی 13 جولائی 2010ء کو فوکس نیوز میں چھپنے والے مضمون میں سامنے آئی کہ جس میں پاکستان کو انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی الفاظ سرچ کرنے والا ملک قرار دیا۔ اس مضمون کی مصنفہ کیلی مورگن کے بقول “پاک کہلانے والا ملک دراصل ناپاک الفاظ کے سرچ کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہے”۔ ہمارے ساتھی بلاگر حماد ڈار کے بلاگ پر مضمون کے جواب میں تحریر شائع ہوئی جس میں فوکس نیوز کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیا گیا ہے۔ اس مضمون کا اردو ترجمہ (چند ضروری ترامیم کے ساتھ) درج ذیل ہے۔

(نوٹ: یہ تحریر تمام عمر کے قارئین کے لئے موزوں نہیں)

آج فوکس نیوز ڈاٹ کام پر پاکستان کے متعلق ایک مضمون شائع ہوا جس میں پاکستان کو پورنستان قرار دیتے ہوئے سرچ انجن میں غیر اخلاقی مواد ڈھونڈے والے ممالک میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے۔ فوکس نیوز نے جن مخصوص الفاظوں کی نشاندہی کی وہ یقیناَ نہ تو جعلی اور نہ ہی غلط۔ میں اس سے انکار نہیں کررہا کہ یہ الفاظ پاکستان میں سرچ نہیں کیے جاتے ہیں اور نہ ہی اس سےانکار ممکن ہے کہ ‘پورن’ پاکستان میں کافی معروف ہوچکا ہے۔ لیکن میں فوکس نیوز کے اس الزام سے قطعاَ متفق نہیں کہ پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کنندگان دنیا بھر میں غیر اخلاقی مواد ڈھونڈنے والی اقوام میں سرفہرست ہیں۔

یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ جن الفاظوں کی بنیاد پر فوکس نیوز نے اپنی رپورٹ مرتب کی ان کا شمار غیر اخلاقی الفاظ کی طویل فہرست میں بہت نچلے درجے پر ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل تصویر میں فوکس نیوز کے استعمال کردہ الفاظوں کا موازنہ دیگر متعلقہ الفاظوں مثلاَ ‘سیکس’ اور ‘پورن’ سے کیا گیا ہے۔

اگر آپ تصویر کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات صاف ظاہر ہوجائے گی کہ غیر اخلاقی الفاظ میں ‘سیکس’ سب سے زیادہ مستعمل ہے۔ اس کے بعد لفظ ‘پورن’ سب سے زیادہ سرچ کیا جاتا ہے۔ جبکہ دیگر الفاظوں کے اعداد و شمار انتہائی کم ہیں جن کی تصویر میں موجودگی میگنی فائنگ گلاس ہی کی مدد سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فوکس نیوز کی رپورت میں استعمال کردہ الفاظ سرچ انجن میں بہت ہی کم تلاش کیے جاتے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہوچکی کہ غیر اخلاقی مواد تلاش کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ ‘سیکس’ اور ‘پورن’ ہیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ بذریعہ سرچ انجن سب سے زیادہ کس خطہ سے استعمال کیے جاتے ہیں؟

سب سے زیادہ لفظ ‘سیکس‘ تلاش کرنے والے ممالک اور شہر:۔

سب سے زیادہ لفظ ‘پورن‘ تلاش کرنے والے ممالک اور شہر:۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار میں پاکستان کا نام کسی بھی فہرست میں موجود نہیں۔ فوکس نیوز جیسے عالمی شہرت یافتہ بین الاقوامی نشریاتی ادارہ کے لیے یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ وہ فہرست میں موجود ممالک کی جگہ پاکستان کو اولین غیر اخلاقی قوم قرار دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی مواد تلاش کرنے کے بے بنیاد الزام کے بجائے انہیں پاکستان کو موسیقی تلاش کرنے والے ممالک میں شامل کرنا چاہیے کیوں کہ صوفی میوزک سب سے زیادہ اسی خطہ میں تلاش کی جاتی رہی ہے۔

(بشکریہ و اجازت: حماد ڈار)

اگر اب بھی آپ کے خیال میں فوکس نیوز کا گوگل ٹرینڈز کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نشاندہی درست عمل ہے تو ذرا دیکھیے کہ سب سے زیادہ بم بنانے کے خواہشمند دہشت گرد کہاں پائے جاتے ہیں؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

18 تبصرے

  1. یاسر عمران مرزا کہتے ہیں

    کول میوزون والے بھائی نے شاید بم بنانے کی تلاش کا ذکر نہیں کیا۔ یہ میں آپ کے بلاگ پر پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں۔ اور قابل ذکر اضافہ ہے یہ۔

    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے اکثرلکیر کے فقیر ہیں۔ ہمیں جو دکھا دیا جائے یا بتا دیا جائے ہم اسی کو سچ مان لیتے ہیں۔ میں نے اس خبر کے شائع ہونے کے بعد اکثر پاکستانی اردو اخبارات کو یہ خبر من وعن شائع کرتے دیکھا۔ اخبار پر پرنٹ شدہ چیز تو واپس نہیں ہو سکتی لیکن بلاگ پر شائع ہونے والی تحریر مٹائی بھی جا سکتی ہے۔

    میں نے کئی پاکستانی بلاگران کو بھی یہ خبر شائع کرتے دیکھا جو مختصر سے وقفے کے بعد ہٹا لی گئی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں پاکستان کے ٹاپ بلاگ جن کا پیج رینک ۶ یا اوپر ہے بھی شامل ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. عثمان کہتے ہیں

    اچھا کیا یہ شائع کرکے. خاص طور پر یہ بم بنانے والی سرچ تو واقعی دلچسپ ہے. اور الفاظ بھی تلاش کر کے دیکھو. کیا کیا نکلتا ہے.
    لیکن یہ اپنے جاپانییوں کو کیوں واٹ لگا رہے ہو؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عمران اشرف کہتے ہیں

    بہت اعلی تجزیہ و ترجمہ. اس تحقیق کو دوسرے ذرائع ابلاغ تک بھی پہنچانا چاہیے. .پ یقینا داد کے مستحق ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. یاسرخوامخواہ جاپانی کہتے ہیں

    دیکھئے جی۔جاپانیوں کا کیا دین ایمان! پیدا ھوتے ہیں۔چرچ میں شادی کرتے ہیں کرسمس پر ھلا گلا کرتے ہیں اور آخر میں بدھسٹ طریقے سے کریا کرم کروالیتے ہیں۔
    پورنو دیکھنا تو تخیل میں اضافے کی اچھی مشقت ہے جی۔
    خوامخواہ میں ٹینشن کیوں لیتے ہیں۔ جنہوں نے اخلاقی بد حالی کا الزام لگایا ھے اور پاک لوگاں کو شرم آرہی ھے۔تو عرض ھے الزام لگانے والوں نے واٹ لگائی ھے۔ان کے نزدیک یہ کوئی اخلاق سے گری ھوئی بات نہیں ھے۔بس پاک لوگاں کا شور شرابا دیکھنا مقصود ھے۔اب ھائے ھائے کریں یا انداز جوانی ھے کہہ کر گذر جائیں۔ یا ثبوت دیں کہ ہم تو پاک لوگ ہیں۔انداز اپنا اپنا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. شعیب صفدر کہتے ہیں

    بہت عمدہ تجریہ و ترجمہ!!!.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. راشد کامران کہتے ہیں

    2004 رئیلی؟
    جبکہ پاکستان میں نیٹ کا استعمال محدود تھا.. کوئی قابل فخر بات تو نہیں لیکن میں نے ابھی ابھی آپ کے کی ورڈ سرچ کیے ہیں پاکستان سیکس میں دو ہزار چار سے دو ہزار دس میں دوسرے اور فری پورن سیکس میں تیسرے نمبر پر ہے.. آپ تمام لوگ گوگل انسائٹ پر خود چیک کرلیں.

    http://www.google.com/insights/search/#

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    حماد ڈار صاحب اور آپ کی محنت قابلِ تعريف ہے ۔ آپ لوہ کمپيوٹر بالخصوص انٹرنيٹ کے ماہر ہيں ذرا عملی دنيا کی طرف جا کر جھانکيئے اور حقيقت کو پہچاننے کی کوشش کیجئے ۔ ميں گوگل اور اس طرح کی دوسرے ذرائع سے اپنے بلاگ کی ہردلعزيزی ديکھتا ہوں تو خود ہی حيران رہ جاتا ہوں ۔ ميں نے اس چيز کا اندراج پانچ سال پورے ہونے پر کيا تو کسی نے اعتراض نہ کيا ۔ کيا يہ درست ہے کہ ميرا اُردو بلاگ روزانہ بارہ ہزار سے زيادہ لوگ ديکھتے ہيں ؟ نہيں ۔ اسی طرح کئی اور الفاظ لکھ کر تلاش کيجئے تو عجيب عجيب نتيجے آئيں گے ۔ يہ سب شعبدہ بازی ہے جس پر ہمارے عام لوگ يقين کر ليتے ہيں
    درست کہ پاکستان ميں بھی لوگ ننگی سائيٹس ديکھتے ہيں مگر يہ لوگ کون ہيں پھر ان کا مقابلہ يورپی يا امريکی عوام سے کيجئے تو حقيقت سامنے آ جائے گی ۔ ايک فرق ميں بتا دوں پاکستان ميں شايد ہی کوئی شخص ہو جو اپنی ماں بيوی بہن يا جوان بيٹی کے سامنے ننی عورتوں کی تصاوير ديکھے مگر امريکا ميں ايسا ہوتا ہے اور يہاں تک ہوتا ہے کہ بوڑھا داد اپنی نوجوان پوتی کو ھدائت ديتا ہے کہ يہ کرو وہ کرو
    جس نسل نے پاکستان بنانے ميں کردار ادا کیا تھا اسے پہلی کہا جائے تو اب تيسری نسل کاروبار سنبھالے ہوئے ہے اور چوتھی نسل اس کيلئے پر تول رہی ہے ۔ پريشان کُن بات يہ ہے کہ يہ تيسری نسل پہلی نسل سے بہت زيادہ فرنگی کی ذہنی غلام ہے ۔ يہاں تک کہ آزادی کيلئے اپنا تن من دھن لگانے والوں کے خلاف فرنگی اور ہندو لالے کے بنائے ہوئے الزامات لگانے سے بھی گريز نہيں کرتے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. عدنان کہتے ہیں

    السلامُ علیکم بھائی
    بہت شکریہ آپ کا یقین کیجئے میں بہت پریشان تھا یہ خبر سن کر حالانکہ مجھے علم تھا کہ خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے . مگر میں سلام کرتا ہوں آپ جیسے وطن پرستوں کو سلام کرتا ہوں جو ان لعنتیوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. سید محمد کاشف کہتے ہیں

    ترجمعہ بہت اعلا ہے،
    میں نے یہ خبر پہلی دفعہ ڈان آخبار کے ایک مشہور کالم نگار کے مضمون میں پڑھی تھی، وہ خبر اور فیس بوک کے مسئلے کو نتھی کر کر پاکستانیوں کو طعنے مار رہے تھے. میں خود ایک صحافی ہوں اور مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی خس و پیش نہیں کہ ہمارے صحافتی برادری کا ایک مسئلہ یہ ہے مغربی زرائع ابلاغ کی کسی بھی خبر کو معن و ععن چھاپ دیتے ہیں. چاہے نیویارک مین بیٹھ کر پاکستان کے حوالے سے کی گئی سروے ہی کیوں نہ ہو.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. شازل کہتے ہیں

    آپ نے کافی جرات سے کام لے کر صحیح تجزیہ پیش کیا
    چونکہ ہمارے ہاں سیکس اتنا عام نہیں ہے اس لیے اس کے متعلق خواہش پائی جاتی ہے اس کے مقابلے میں یورپ وغیرہ اور کچھ ایشیائی ممالک میں سیکس اتنا سرایت کرچکا ہے کہ وہ شاید اس کے متعلق سرچ کرنے کا وہ شوق نہیں رکھتے۔
    ویسے بھی سارے سائیڈ افیکٹس ہمارے حصے میں آتے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. فرحان دانش کہتے ہیں

    پاکستان کےخلاف ایک اور سازش

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. Muhammad Asim Javed کہتے ہیں

    Asalam u alaikum dear all yeh salay Yahudi aur Indian Pakistan ko badnaam aur is ko gair mustakam kar rahe hein. aise galat news shaya kar ke Pakistan balke Musalmano ko badnaam karne ki shazish hai Bhai sb app ne bohat acha iqdam kiya hai agar is ko newspaper par shaya kar dein to acha ho ga warna mein zaror koshish karon ga Inshalah

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. ضیاء الحسن خان کہتے ہیں

    کسی نے سہی کہا ھے سچ ہمیشہ کڑوا ھوتا ھے ،
    محترم اسد صاحب
    تُسی وڈے شرارتی ہو۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. طا ہر کہتے ہیں

    g yeh baat to hia but bahd main google in is chez ko deny kia ha…………….fox news is just like fox…………ab pakistan main bht sarey log +ve kaam kar rahey hian………just see the bloggers..they are the best………ap ka blog bht unique aur nice looking hia asad ………. good

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. ناصرتیموری کہتے ہیں

    بہت اچھا اور بروقت جواب دیا ہے . آللہ اور زور قلم دے . آمین.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. مصطفےٰ ملک کہتے ہیں

    بہت اعلیٰ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. ارسلان الیاس کہتے ہیں

    بہت ہی خوب

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.