پاکستانی جاسوس کبوتر

ستارہ چینل کی بریکنگ نیوز میں آپ کا سواگت ہے. ابھی ابھی ہمیں کھبر ملی ہے کہ ایک پاکستانی جاسوس کو بھارتی پولیس نے امرتسر سے پکڑلیا ہے. اس جاسوس کو مکامی لوگوں نے اس وکت دیکھا جب وہ سڑک کے کنارے بیٹھا "گٹر گوں. . . گٹر گوں . . ." کررہا تھا. شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی صورت دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ سرحد پار یانی پاکستان سے آیا ہے. اس لیے انہوں نے ترنت پولیس کو اس کی کھبرکی تو پولیس نے اس جاسوس کو گھیرے میں لے لیا اور کٹھن مکابلہ کے بعد اسے دھر کرلیا۔ آکھری کھبروں تک جاسوس کو پولیس کے SAIR یانی اسپیشل ایئرکنڈیشن انویسٹیگیشن روم میں رکھا گیا ہے جہاں اس سے کھسوسی تفتیش جاری ہے. لیکن جاسوس بہت ٹرینڈ مانیٰ سدھایا ہوا مالوم ہوتا ہے تبھی وہ "گٹر گوں . . . گٹر گوں . . " کے علاوہ کچھ نہیں بول رہا. اس اہم ترین مدعہ پر ہمارے سموارداتا اشوک گنگولی نے ایکسکلوسیو رپورٹ تیار کی ہے، آیئے دیکھتے ہیں.

انیسویں صدی کے لوگوں نے جب کبوتروں کو 'Love Letter' رسانی کے لیے شروع کیا تو پاکستانیوں کو اس میں دِکھ گیا بھارت کے کھلاف نیا اٹوٹ ہتھیار. اس نے بگیر وکت گنوائے آتنگ وادی تنظیموں سے سانٹھ گانٹھ کر کبوتر سدھائی سیکھی اور بنایا ایک ایسا ہتھیار جس پر کسی کو شک بھی نہ گزرسکتا ہے. یانی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے. جی ہاں! ایک ایسا کبوتر جو رکھ سکتا ہے بھارتی سیناؤں کی نکل و ہرکت پر نظر اور دے سکتا ہے پاکستانی سیناؤں کو پل پل کی کھبر. پاکستان کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ کبوتر نکلا تھا جاسوسی کرنے لیکن بھارتی جوانوں بن گئے اس کی راہ میں چٹان.

اس جاسوس کبوتر کے پروں پر لگی مہر ایک کھاس کسم کی روشنائی سے لگائی ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ پاکستانی سائنسدانوں نے اس کبوتر کو کہوٹا ایٹمی رئیکٹر میں ٹسٹ بھی کیا ہے. کاغذ پر اتنگ وادیوں کے ٹریننگ کیمپ کا لکھا پتا اور ساتھ ہی تھا ایک ربر بینڈ جو ہتھیاروں کی بناوٹ میں بھی کام آتا ہے. اس کبوتر کا شریر جتنا سفید دکھتا ہے اتنا ہی اس کا دھن کالا ہے. بالکل پاکستانی نیتاؤں کی طرح جو ایک اوڑ تو بھارتی اٹوٹ انگ پر مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری اوڑ ایسے سدھائے ہوئے کبوتروں کو بھارتی زمین پر جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں. یہ ہے بھارت کے لیے کھترے کی ایک اور گھنٹی اور وکت ہے پاکستان کے کھلاف ایسے ہتھیار تیار کرنے کا جو کبوتروں اور کبوتریوں کو اپنے جال میں پھانس سکیں. کیمرہ مین راجیش ڈسولا کے ساتھ اشوک گنگولی، ستارہ چینل، امرتسر، پنجاب.

آپ کا بہت بہت دھنے واد اشکوک. یہ تھے ہمارے سموارداتا جو بتارہے تھے جدید ترین پاکستانی جاسوس کبوتر کی کہانی اور جگا رہے تھے ہم سب ہی دیش سیواؤں کو جنہیں ضرورت ہے پاکستان کے کھلاف اٹھ کھڑا ہونے کی. اب چلتے ہیں مامول کی نشریات پر اور دیکھتے ہیں پروگرام نا کوئی ہم جیسا!!!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

ایک عمدہ پیروڈی کی آ پ نے بھارتی میڈیا کی بہترین۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
محمد زبیرمرزا says:

خبر کو آپ کی تحریر نے مزید پُرمزاح اور دلچسپ بنادیا - اور وہ شعر یاد آگیا
پجن کبوتر ، اُڈن فلائی
لُک ویکھو ، آسمان اسکائی
آپ جیسے بزرگوں کی تحریروں سے ہی تو ہم انٹرنیٹ پرپڑھنا لکھنا سیکھ رہے ہیں 🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ نذر حافی
پسندیدگی کا شکریہ. آپ کا تبصرہ غالباَ تعارف کے صفحہ سے بدل گیا تھا جسے میں نے موضوع کی مناسبت سے یہاں لگا دیا ہے.

@ یاسر عمران مرزا
ار ے صاحب اس کبوتر کی تو جتنی تعریف کی جائے کم ہے. کیونکہ ایسا نایاب کبوتر کے بارے میں ہم نے دیکھا، سنا نہ پڑھا. 🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ارے واہ
میں نے تو سمجھا یہ صرف کبوتر کی خبر ہو گی، کیوں کہ میں یہ خبر بی بی سے پر پڑھ چکا تھا، لیکن یہاں تو کہانی ہی بڑی زبردست بنائی ہے آپ نے، واہ واہ مزا آ گیا
لیکن ٹائٹل کچھ سادہ سا ہے جس کی وجہ سے ہمیں پہلے اس پوسٹ کی طرف اٹریکشن نہیں ہوئی۔ 😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
نذر حافی says:

slam.parosioun k kabbotar to atay jatay hain.achy paroce khabi shak nahain kartay.wasay bhe indi hakomat ko khuch samgh layna chaheie jes mulk k kaboutar etnay advance houn us mulk k kabotar baaz kasay houn gay? wasay khuch arsa phely iran nain bhe zahedan say 1 jasos kabotar ko pakra tha.laiken aqlmandoun ke tarahan us par etna time zaie nahain kia tha kioun kah yeh kabotar tha koi koi kabotar baz to na tha.bas parosion (india) ke ezat es main hay kah apnay alfaz wapas lay kar tamam kabotrun say ezhar afsos karain warana kia pata aaj kabotar bahja kal aount(camel) na bhej dain.........geo pakistan...On

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ سید محمد کاشف
بلاگ پر آمد اور پسندیدگی کا شکریہ

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت عمدہ ، ہندی لہجے اور بھارتی نیوز چینلز کے انداز میں لکھا گیا یہ مضمون واقعی شاندار ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ ڈفر - DuFFeR
برداشت کرنے کا دھنے واد 😛

@ عثمان
بلاگ پر خوش آمدید بولے تو سواگت ہے. 🙂 نہیں یار! یہ چیزیں تو بس زبان کا ٹیسٹ بدلنے کے لئے استعمال کرلینی چاہیں. ورنہ ہماری اردو کا بھلا کیا مقابلہ اس سے 😉

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عثمان says:

یار آپ کو تو ایک بلاگ ہندی میں بھی لکھنا چاہئے۔ 😀

دلچسپ انداز ہے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

یار بڑی مزیدار پوسٹ ہے یہ تو :mrgreen: ۔
زبردست
دل خوش ہو گیا پڑھ کے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

آپ تمام کا تحریر پسندید کرنے کا ایک بار پھر شکریہ

@ انکل ٹام
ارے واہ انکل ٹام!۔
اس بات کی اور تو خیال ہی نہیں گیا۔
اب تو واقعی یہ چیک کرنا پڑے گا کہ کہیں اس کبوتر کے پاس جعفر کا سندیسا تو نہیں تھا 😆 ۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

واہ اسد بھائی زبردست، پڑھنے کے بعد ہنسی روکنا مشکل ہوگیا
😆
ویسے تصویر آپ نے خوب لگائی ہے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

یار اس کبوتر کا مجھے پتا ہے ۔ یہ جعفر بھای نے ثانیہ مرزا کے گھر والوں کی طرف بھیجا تھا ۔ اور کوشش یہ تھی کہ کسی طرح ثانیہ کی شادی شعیب سے ختم کروا کر جعفر بھای سے کروا دی جاے ۔۔۔ لیکن بیچارہ پکڑا گیا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت زبردست مزا آ گیا۔ 😛 😛
ویسے اگر آپ "خطرے" کی جگہ "کھترے" لکھ دیتے تو مزا چہ بالا ہوجاتا۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

کیا کہنے اسد بھائی ایک ایسا کبوتر ہمیں بھی مل جائے کاش یہ نہیں بتایا کہ یہ کبوتر ہندوستان میں جا کہاں رہا تھا 😛

بہت خوب اچھا لکھا ہے آپ نے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

آپ تمام کی پسندیدگی کا شکریہ

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
سعد says:

@ افتخار اجمل بھوپال
آپ بھی اسی طرح کا لکھ سکتے ہیں بشرطیکہ بکثرت بھارتی فلمیں اور ٹی وی چینل دیکھتے ہوں

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

يہ کہانی ميں نے بھی سُنی تھی اور بہت دير تک ہنستا رہا تھا ۔ آپ نے کبوتر کے گلے ميں دُوربين ڈال کر کمال کر ديا ہے اور لکھا بھی کمال کا ہے ۔ ميں يہ زبان نہيں لکھ سکتا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جعفر says:

اچھی ہے
🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

صبح سویرے اپنے ہی لبوں کی چٹک سے آج کے دن کی ابتدا اچھی ھوئی۔ 😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب