پاکستانیوں پر حملہ

گزشتہ روز پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہونے والے سفاک دہشت گردی کے واقعات میں 90 سے زائد لوگ ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے. اس افسوس ناک سانحہ کے بعد تمام ہی مبصرین نے اپنے اپنے انداز میں مذمت کی. لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ نے عادتاَ یا پھر مجبوراً اس واقعہ کو پاکستان کی اقلیتی برادری 'قادیانیوں' کے خلاف حملہ گردانا اور اس کے تانے بانے ماضی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی فرقہ وارانہ وارداتوں سے جوڑ دیا. بظاہر قادیانی مراکز پر نظر آنے والا حملہ حقیقت میں پاکستانیوں پر حملہ ہے کیونکہ مذکورہ واقعہ کئی زاویوں ماضی میں ہوئے راولپنڈی و دیگر شہروں میں مسلمانوں کی مساجد پر حملوں سے مشابہت رکھتا ہے جن میں غیر اقلیتی برادی سے تعلق رکھنے والے افراد کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا.

اقلیت پر حملہ اس وقت تصور کیا جاتا ہے جب کسی خطہ کی اکثریت، چاہے وہ رنگ، نسل، قوم یا مذہب کی بنیاد پر ہو، کسی مخصوص اقلیتی گروہ پر حملہ آور ہوتی ہے. اس کی مثال بھارت میں ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے. جن میں ایک طرف انتہاپسند ہندووں کا گروہ مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچاتا ہے تو دوسری طرف قانون نافظ کرنے والے ادارے خون کی ہولی کھیلنے والوں کا ہاتھ روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں. اس مثال کے برعکس لاہور میں جو واقعات وقوع پذیر ہوئے ان میں قادیانی مراکز کو نشانہ بنانے والوں کا کسی اقلیتی یا اکثریتی فرقے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا کیونکہ دہشت گردوں کا کوئی دین ہوتا ہے نہ مذہب.

اگر تجزیہ نگاروں کے اس مفروضہ کو درست مان لیا جائے کہ حملہ حقیقیت میں پاکستان پر نہیں بلکہ یہاں موجود اکثریت کا اقلیت پر ہے تو بھلا بتایئے کہ عبادتگاہوں میں یرغمال قادیانیوں کو ان دہشت گردوں سے بچانے کے لئے جو لوگ میدان میں اترے کیا ان سب کا تعلق بھی قادیانی اقلیت سے تھا یا پھر وہ اس اکثریت سے تعلق رکھتے ہیں جسے لفظوں کی ہیر پھیر میں ان واقعات کا ذمہ دارا گردانا جارہا ہے. پنجاب پولیس کے علاوہ ہسپتالوں میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی جان توڑ کوشش کرنے والے ڈاکٹروں و دیگر عملہ کی بڑی تعداد بھی اُسی اکثریت سے تعلق رکھتی ہے جسے بلاواسطہ ان واقعات کا ذمہ دار ٹہرانے کی کوشش کی جارہی ہے.

دراصل ماضی کی طرح یہ حملہ بھی کسی مخصوص نظریا رکھنے والے گروہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانی شہریوں کے خلاف ہے. اس واقعہ کا مقصد پاکستان میں موجود اقلیتوں میں احساس محرومی اجاگر کرنا اور آپس کے فرقہ وارانہ انتشار کو قوت بخشنا ہے. اس سے قبل راولپنڈی میں مسجد پر نماز جمعہ کے دوران ہوئے حملہ اور کراچی میں ماہ محرم میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات جیسی کئی ایک مثالیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ان دہشت گردوں کے لئے کسی پاکستانی کا مذہب، فرقہ یا قومیت معنیٰ نہیں رکھتی. یہ حملہ بھی حقیقت میں پاکستان کے خلاف ہے نا کہ کسی مخصوص گروہ کے خلاف. ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کو اپنی عوام سے بلا تفریق رنگ و نسل حمایت درکار ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ پاک فوج کی کاروائی کے ردعمل میں ہونے والے واقعات کو مخصوص رنگ دے کر اپنے ذاتی بغض کا اظہار کرنے کے بجائے تمام اقلیتی و اکثریتی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کریں.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

28 تبصرے

  1. بہت اچھے طریقے سے بات کو جو غلط انداز دیا جا رہا ہے اسے سلجھانے کی کوشش ہے۔ بہت شکریہ بھائی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃو برکاتہ،
    کیاکہیں لوگوں کوسامنےکی چیزنظرنہیں آتی یاکہ انہوں نےجان بوجھ کرآنکھیں بندکیں ہیں یاکہ انکامقصدبس یہی ہےکہ ہرواقع کواسلام اورملاکےخلاف استعمال کرناہے۔ اللہ تعالی ہم پررحم کرے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. فرحان دانش نے کہا:

    پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کب تک خراب رہے گی ؟کل لاہور میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی اس کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟؟حکومت کو چاہئے کہ دہشت گردی 😈 کا سدباب کرے اور اس دہشت گردی 😈 کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    @ فرحان دانش
    بالکل صحیح کہا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    اور بلا عنوان صاحب
    تسی وی پولے بادشاہ ای او
    بین بجانے کا کوئی فائدہ ہے؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. پھپھے کٹنی نے کہا:

    دو جگہ ايک ہی وقت ميں ايک ہی فرقے کے لوگوں پر حملہ اس فرقے پر حملہ تھا نہ کہ پاکستان پر ہاں البتہ حملہ آ ور وہی ہو سکتے ہيں جو کبھي مسجد پر حملہ کرتے ہيں کبھی امام باڑے پر کبھی بازار ميں تو کبھی سکول پر ، انکا مذہب شدت پسندی ہے اور مقصد مجھے نامعلوم ہے اور دل انکا پتھر اور تربيت ان کی صفر

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. عنیقہ ناز نے کہا:

    اپ ذرا فضا میں موجود اس آڈیو ٹیپ کی بازگشت کو بھی ذہن میں رکھیں جس میں حامد میر نے قادیانیوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا. پھر کچھ عرصے پہلے ٹی وی کے ایک چینل پہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بیان یاد کریں کہ قادیانی واجب القتل ہیں . اسکے بعد جن لوگوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے انکے پس منظر کو دیکھیں اور پھر سے اپنے بیان پہ غور کریں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. اپنا کوریا نے کہا:

    جب کوئی ملک لوگوں کے مال و جان کے حفاظت کی جگہ لوگوں کی آخرت سنوارنے کا ٹھيکہ لے ليتا ہے تو اس کا يہ نتيجہ تو ہونا ہے۔ يہ حملہ بے شک قابل مذمت ہے اور اس کی ذمہ داری ان لوگو پر بھی ہے جنھوں نے مسلمان اور کافر کی تعريف کی ہے۔ آج بھی لوگ اس مسلے کو حل کرنے کے ليے اچھے برے مسلمان کی اصطلاح استعمال کرتے ہيں جوکہ ايک اور بڑا مذاق ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. شازل نے کہا:

    آپ نے بلاشبہ ایک بہترین پوسٹ لکھی ہے اور درست پوائنٹس آٹھائے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. محمداسد نے کہا:

    @ پھپھے کٹنی
    بیک وقت دو مقامات پر حملہ کی یہ پہلی کاروائی نہیں. اس سے قبل اگر آپ کو یاد ہو تو گذشتہ یوم عاشور پر کراچی بھی دو دھماکوں سے گونج اٹھا تھا. لیکن اس وقت تو کسی نے اس حملہ کو اکثریت پر حملہ قرار نہیں دیا، بلکہ اسے دشمنان پاکستان و اسلام ہی کی کاروائی ہی تعبیر کیا گیا.

    عام حالات میں اگر اس طرح کا واقعہ ہوتا تو پھر اقلیت پر حملہ کا شک ہوسکتا تھا. لیکن ان حملوں کا طریقہ کار، اس میں ملوث لوگ اور تحریک طالبان پنجاب ونگ کا اقرار یہ بات واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ حملہ دراصل پاک فوج کے خلاف جاری جنگ کا تسلسل ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمداسد نے کہا:

    @ عنیقہ ناز
    میرے خیال میں آپ نے جن دو لوگوں یا باتوں کا ذکر کی وہ دونوں ہی متنازع ہیں. حامد میر کی مبینہ آڈیو ٹیپ ابھی تک درست یا غلط ثابت نہ ہوسکی اور نہ ہی اس پر تجزیہ کرنے والے یک رخی بات کرنے کی پوزیشن میں ہیں. یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ بیک وقت حامد میر کو CIA اور طالبان کا ساتھی قرار دینا کس طرح ممکن ہے؟ نیز ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نا تو خود عالم ہیں اور نہ ان کا پروگرام عالمانہ. بہرحال یہ متضاد چیزیں پھر کبھی سہی ابھی موضوع پر بات کرلیتے ہیں.

    عرض صرف اتنا ہے کہ دو اشخاص کو دیکھنے اور ان کی مثال کے بجائے کیوں نا براہ راست ان لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا جائے جو قادیانیت کے خلاف سرگرم عمل ہیں. ان تنظیموں میں ایک بڑا نام مجلس تحفظ ختم نبوت ہے جس کے قریباَ تمام اعلیٰ رہنماؤں نے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور یہ بات صاف بیان کی ہے قادیانیت کو برا جاننے والا قادیانیوں کو بھی انسان سمجھتا ہے اور انہیں بے گناہ مارنے والے کو دہشت گرد تعبیر کرتا ہے.

    یہ بات سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ اقلیت پر حملہ کرنے والی اکثریت اپنے ہر ظلم و ستم کے کارنامہ کی ذمہ داری اقلیت کی حرکات پر ہی ڈالتی ہے، لیکن یہاں حملہ پاکستانیوں پر ہوا ہے اس لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ بھی تمام نامی گرامی تنظیمیں مذمت اور اظہار افسوس کررہی ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی فرقے سے ہو..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. منیر عباسی نے کہا:

    ایک بہت اچھی اور متوازن تحریر. آپ کو اور زیادہ لکھنا چاہئے.
    تحریر کا متوازن ہونا اس لئے ضروری ہے کہ ہر کوئی مصنف کے مطلب سے اپنی مرضی کے معانی نہ اخذ کرتا پھرے.

    @فرحان دانش صاحب براہ مہربانی ہر بلاگ پر یہ سوال نہ چسپاں کرتے پھریں، اگر آپ کے پاس جواب ہے تو وہ بھی عنایت فرما دیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عنیقہ ناز نے کہا:

    یہ لیجءیے ایک لنک ہے جو کسی نے میرے بلاگ پہ دیا ہے. دیکھئیے گا.
    http://criticalppp.org/lubp/archives/11797#comments
    اس لنک میں ایک تصویر موجود ہے ایک بل بورڈ کی جس میں حکومت پنجاب کا نام بھی موجود ہے. پھر اسکے بعد کہئیے کہ جن لوگوں سے نفرت کا اتنا اظہار کیا جائے. انکے قتل پہ مذمتی بیان جاری کر دینا کیا معنی رکھتا ہے.
    یہ آپ نے ایک دلچسپ بات کہی کہ
    اقلیت پر حملہ اس وقت تصور کیا جاتا ہے جب کسی خطہ کی اکثریت، چاہے وہ رنگ، نسل، قوم یا مذہب کی بنیاد پر ہو، کسی مخصوص اقلیتی گروہ پر حملہ آور ہوتی ہے. اس کی مثال بھارت میں ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے. جن میں ایک طرف انتہاپسند ہندووں کا گروہ مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچاتا ہے تو دوسری طرف قانون نافظ کرنے والے ادارے خون کی ہولی کھیلنے والوں کا ہاتھ روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں

    اب پاکستانی پولیس کی آنکھوں دیکھی کار کردگی بتاتی ہوں جسکے بعد آپ خود فیصلہ کیجئے گا کہ کیا اب بھی آپ اپنے اس بیان پہ قائم ہیں. یہ واقعہ میری آنکھوں کے سامنے چودہ دسمبر انیس سو چھیاسی کو پیش آیا.جب پٹھانوں کےمسلحہ گروہوں نے جو کہ کلاشنکوف سے لیکر راکٹ لانچر سمیت ہر ہتحیار سے لیس تھے. علی گڑھ کالونی پہ حملہ کر دیا. علاقے میں کسی شخص کے پاس اپنی حفاظت کے لئے ایک پستول بھی نہ تھا. پوری کالونی کو جلا کر خاک کر دیا گیا. ڈیڑھ سو سے زائد لوگ ، بے گناہ لوگ مارے گئے. پولیس کالونی میں داخل ہونے والے تمام راستوں پہ تعینات تھی مگر ان میں سے کوئ بھی انکو بچانے نہیں آیا، اور وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشائ بنے دیکھتے رہے. .صبح آٹھ بجے سے جاری ہنگامہ جو دن کے بارہ بجے مسلح حملے میں تبدیل ہو گیا. اسکو روکنے کے لئے شام کو چار بجے علاقے میں رینجرز داخل ہوتی ہے. اسکے بعد مذمتی بیانات،لسانیت اور عصبیت کے خلاف کام کرنے کے عہد، تعصب کو غیر اسلامی قرار دینے کی باتیں.لیکن شاید کسی کو محسوس ہوا ہو کہ جن بچوں نے اس تمام سانحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ پولیس، ریاستی تشدد، رویوں کی منافقت،کو کتنے بہتر طور پہ سمجھتے ہونگے.
    کوئ یہ کہے کہ ان دہشت گردوں کا کوئ مذہب نہیں تھا تو کتنی کتابی اور غلط بات ہوگی. ریاست اس صورت حال کو پیدا کرتی ہے اسے آہستہ آہستہ اس طرف دھکیلتی ہے. انکے حامی اس میں حمایت کر کے ریاستی حکام کے ضمیر کو سلانے میں اہم کردار دا کرتے ہیں. پھر جب کوئ سانحہ ہو جاتا ہے تو آپ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئ مذہب نہیں ہوتا
    حامد میر ، نواز شریف کی طرح پہلے تو اس بات سے کلی طور پہ انکاری تھے کہ انہوں نے نے یہ کہا ہی نہیں. پھر انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے یہ باتیں پیپلز پارٹی کے ایک رکن سے تخلئیے کی باتوں میں کی تھی اور فون پہ نہیں کی تھی. آپ کا یہ کہنا کہ ابھی اسکا فیصلہ ہونا باقی ہے. اس طرھح ہمیں زرداری یا رحمان ملک کے خلاف بھی آواز نہیں اٹھانی چاہئیے کہ انکے فیصلے ہونا باقی ہیں. جب انکے فیصلے ہو جائیں گے تو پھر آپکی اٹھاء ہوء آواز کی کیا اہمیت ہوگی. اسے سمجھنا ابھی باقی ہے. اسی طرح ڈاکٹر عامر لیاقت حسین چاہے کسی بھی قسم کا عالم ہو، اگر ا ملک کے ایک بڑے ٹی وی چینل سے ان کا یہ بیان نشر ہو رہا ہو تو اسکی اہمیت ہے. کیونکہ میڈیا کو یہ طاقت ھاصل ہے کہ وہ لوگوں کی برین واشنگ کرے. ایم کیو ایم نے اس واقعے کے بعد انکی پارٹی رکنیت ختم کی. لیکن متعلقہ ادارے نے اس سلسلے میں کوئ وضاحت نہیں دی. یہاں یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ان ڈاکٹر صاحب سے شدید طور پہ متائثر ہے. اس پہ آپکا انہیں نظر انداز کر دینا. اسکی کیا اہمیت ہے. یہ آپکی عمومی پاکستانی معاشرے کے روئیے سے صرف نظر کرنے کے برابر ہے جسے میں ایک متوازن رویہ نہیں کہونگی. یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں اس بات سے خوشی ہوئ کہ یہ سانحہ پیش آیا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. محمداسد نے کہا:

    @ عنیقہ ناز
    ضروری نہیں کہ جس شخص یا تنظیم سے آپ کے نظریاتی اختلاف ہوں، ان کے غیر انسانی قتل عام پر بھی آپ کو افسوس نا ہو. ہماری سیاست ایسے بیشمار رہنماوں سے بھری ہوئی جنہیں تمام زندگی مخالفت کا سامنا رہا لیکن ان کی وفات کے بعد سب نے ان کو مہان بنا لیا. غرض یہ کہ طرز مخالفت میں فرق ہوتا ہے جو محسوس کرنے والوں کو ہی پتا چل سکتا ہے نا کہ اندھی تقلید کی بنیاد پر کریٹیکل ویب بلاگ بنانے سے. یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیت کے خلاف سرگرم ہیں، لیکن اس طرح کی دہشت گردی کی کوئی حمایت کرتا ہے نہ کرسکتا ہے.

    اسی کی دہائی میں کراچی والوں نے جو سانحات و واقعات دیکھے اس میں سو فیصد لسانیت کی آمیزش تھی. معلوم نہیں آپ کس زاویہ سے اسے اقلیت پر حملہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں حالانکہ کل کے کراچی اور آج کے کراچی میں پٹھان یا مہاجر دونوں لسانی تنظیموں کے ہولڈ رکھنے کے تناسب میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں.

    اس میں کسی قسم کی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا ہے. کیونکہ اگر ان کا تھوڑا سا بھی کسی دین سے تعلق ہوتا تو وہ اس کی پیروی کرتے نا کہ کھلے عام اس کی توہین کے لئے قتل و غارت گری کرتے. اگر آپ کے خیال میں قتل کی وارداتوں میں ملوث لوگ صرف مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنائے جاتے ہیں تو یہ بتایئے کہ کبھی خودکش دھماکہ کرنے، موبائل فون یا نقدی چھیننے پر مزاحمت کرنے والوں یا ٹارگٹ کلنگ کرنے والا مارنے سے پہلے یہ بات دریافت کرتا ہے کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے اور کیا نہیں؟ معلوم نہیں آپ اس "کتابی" نظریہ سے زبردستی نظر چرانے کی کوششوں میں ہیں یا پھر کوئی اور وجہ ہے. حالانکہ اس کو سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں.

    میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ حامد میر کا فیصلہ ہونا باقی ہے. میں اس غیر متعلقہ موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا لیکن آپ بارہا ان باتوں کو بیچ میں لاکھڑا کرتی ہیں.

    اگر کوئی موچی کسی مریض سے یہ کہہ دے کہ تمہیں کینسر ہے تو کیا مریض مان لے گا؟ ہر گز نہیں چہ جائیکہ اس کی تصدیق مستند ڈاکٹر سے نا ہوجائے. بالکل اسی طرح اگر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین یا کوئی اور کسی کو قتل کا فتویٰ جاری کرتے ہیں تو وہ بھی invalid ہی ہوگا جب تک کوئی مستند عالم اس کی تصدیق نہ کردے. جو لوگ ان کی تقلید کرتے ہیں میری نظر میں وہ غلط سمت کی جانب گامزن ہیں، چاہے ان شخصیت پرستوں کی تعداد ہزاروں میں ہو یا کروڑوں میں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. بہت اچھی تحریر ہے۔ اوپر کے تبصرے میں سانحہ علیگڑھ کا چشم کشا حال بیان کیا گیا ہے۔ میں بھی اس کا شاہد ہوں لیکن میں نے اور بھی بہت سے واقعات کو اپنی انکھوں سے وقوع پذیر ہوتے دیکھا۔ دہشت گردوں کا کوئ مذہب نہیں ہوتا کتابی اور غلط بات ہے تو پھر نجانے فاروق دادا، مبین ٹنڈا، فہیم کمانڈو کس مذہب اور فلسفے کے پیرو تھے۔۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. عبداللہ نے کہا:

    وقار اعظم یہ نام بھی آپکی اسی پولس نے دیئے تھے جو علی گڑھ اور قصبہ کالونی میں کھڑی تماشہ دیکھتی رہی اور پھر انکو ماورائے عدالت قتل بھی انہی نے کیا تاکہ ان کا پول نہ کھل جائے!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عبداللہ نے کہا:

    محمد اسد میں صرف اتنا کہوں گا کہ میرے کئی عزیز
    کراچی کے مدرسوں سے بھی فارغ التحصیل ہیں اور لاہور کے بھی اور قادیانی واجب القتل ہیں اس پر سب ایمان رکھتے ہیں،کیوں؟اگر ہمارا انسانیت پر یقین ہو اور خود کو اللہ کے آگے جواب دہ سمجھتے ہوں تو ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے!
    بہر حال یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ اس طرح کے دہشت گرد معمولی تعلیم دین کی حاصل کیئے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا تعلق کسی غریب یا لوئر مڈل کلاس گھرنے سے ہوتا ہے اور یہ اصل دہشت گردوں کے ہاتھ کا کھلونا بن کر تباہی پھیلاتے ہیں!
    جبتک پاکستان میں جہالت غربت اور نفرت بوئی جاتی رہے گی استحصال کی کھاد کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے
    رہیں گے اور انہیں کوئی کبھی بھی نہیں روک سکے گا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. سچا پا کستانی نے کہا:

    تسی وی پولے بادشاہ ای او :mrgreen: :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. راحت حسین نے کہا:

    میری ناقص سمجھ میں تو بات یہیں تک آئی ہے کہ حملہ خواہ پاک فوج پر ہو، پاکستان کے کسی ادارے پر، کسی بھی پاکستانی شہری یا پاکستان کی کسی اقلیتی برادری پرہو۔۔۔۔ درحقیقت پاکستان اور اسکی سالمیت پر ہی حملہ ہے۔ ایسی دہشت گردی کے واقعات کی وجہ خواہ بیرونی ہاتھ کو ٹھہرائیں یا فساد فی سبیل للہ کے علمبرداروں کو (ویسے بھی یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں)۔۔۔ میں اسد بھائی سے اتفاق کروں گا کہ انکا تعلق کم از کم کسی سچے مذہب سے ہر گز نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کا احترام تو مذاہب کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  20. لطف الا سلام نے کہا:

    در اصل احمدی مسلمانوں کو خاص طور پر پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ماڈل ٹاؤن مسجد کو مہینوں قبل ایسی دھمکیاں مل رھی تھیں-کہ تم لوگ کافر ہو، جہاد کے منکر ہو وغیرہ وغیرہ- دو تین برس قبل القاعدہ کے ایمن الزواھری نے جماعت احمدیہ کو اسلام دشمن طبقات میں شامل کیا تھا-
    پھر یہ بھی نوٹ کر لیں کہ یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے۔ مونگ رسول میں مسجد حملہ میں آٹھ احمدی شہید ہوے۔ اس سے قبل گھٹیالیاں میں بیس سے زائد احمدی اللہ کی راہ میں قربان ہوے۔ سن 53 سے شروع کریں تو بات ھزاروں میں جا پہنچے گی۔
    اس لئے شرم کریں اور سچائی کو قبول کریں- سچ قبول کریں گے تو ظلم کا مداوا ہو سکے گا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ منوانے پر آے تو بہت دیر ہو جاے گی آپ جیسوں کے لئے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  21. اسفند یار علی نے کہا:

    بہت عمدہ فرمایا اآپ نے بھائی اقلیت ہو یا اکثریت ہیں تو پاکستان کے شہری اور ان کے لیے اپنی جانیں خطرے میں کس نے ڈالیں انہی پاکستانیوں نے میرے دوست یہ صرف پروپیگنڈا ہے پاکستان کو بدنام کرنے کا دوست وقت ہے کچھ سمجھنے کا اور متحد ہو نے کا ہے دوست ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے ہمیں اپنے اصل دشمن کے خلاف متحد ہونا ہماری فوجیں ہمارے ہی نوجوان اس میں شہید ہو رہے ہیں اور ہم پھر سے سنی شیعہ احمدی کے چکروں میں پر رہے ہیں ہم کب تک اسی بات ہر ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہیں گے ہم اب مٹحد ہونا ہے براہ مہربانی اپنی اپنی زمہ داریوں کو سمجھیں اور پاکستان کے لیے سوچیں۔۔۔ احمدی ہمارے پاکستانی بھائی ہیں ہمیں اتنے ہی عزیز ہیں جتنا کوئی بھی اور پاکستانی عزیز ہے۔۔۔ شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  22. نذر حافی نے کہا:

    عنیقہ ناز کی بات میں وزن ہے:
    عنیقہ ناز کا تبصرہ:
    مئی 29, 2010 at 11:29 PM
    اپ ذرا فضا میں موجود اس آڈیو ٹیپ کی بازگشت کو بھی ذہن میں رکھیں جس میں حامد میر نے قادیانیوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا. پھر کچھ عرصے پہلے ٹی وی کے ایک چینل پہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بیان یاد کریں کہ قادیانی واجب القتل ہیں . اسکے بعد جن لوگوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے انکے پس منظر کو دیکھیں اور پھر سے اپنے بیان پہ غور کریں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  23. محمداسد نے کہا:

    @ لطف الا سلام، @ اسفند یار علی اور @ نذر حافی صاحبان بلاگ پر خوش آمدید

    نذر حافی بات صرف اتنی سی ہے کہ ان نامور صحافیوں کا مقابلہ آپ کسی بڑے عالم سے نہیں کرسکتے. دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ کسی شخص کی رائے میں اگر کوئی واجب القتل ہے بھی تو اس کا طریقہ یہ نہیں جو مذکورہ کاروائی میں استعمال ہوا. خلاصہ یہ ہے کہ کسی قابل قدر شخصیت نے اس حملہ کی حمایت کی نہ تعریف، پھر بھی نامعلوم کیوں اسے دیگر واقعات سے علیحدہ کر کے فرقہ وارانہ نوعیت کا سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے. حالانکہ دہشت گردی کے خلاف موجود جنگ میں سب ہی اس کا شکار ہوئے ہیں نا کہ مخصوص گروہ.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  24. نذر حافی نے کہا:

    بسم اللہ ۔۔۔
    جناب اسد صاحب۔۔۔السلام علیکم
    عرض یہ ہے کہ دہشت گردی صرف گولی یا بم دھماکے یا تلوار سے ہی نہیں ہوتی بلکہ دہشت گردی تو زبان اور قلم سے بھی ہوتی ہے۔جس طرح خودکش بم دھماکے کرنے والے یالوگوں کو گولیاں مارنے والے نفرت اور لعنت کے مستحق ہیں اسی طرح زبان اور قلم سے بھی لوگوں کو کشت و خون پر ابھارنے والے بھی تو لعنت و نفرت کے مستحق ہیں۔ہمارے ہاں فکری پستی کایہ عالم ہے کہ اگر کوئی خود کش ھملہ کرے تو ہم اس کی تو مذمت کرتے ہیں لیکن جو ایک تقیر سے سینکڑوں لوگوں کو مشتعل کرتے ہیں اور ٹی وی پروگام کے ذریعے ہزاروں بے گناہ انسانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں،ہم ان کے خلاف نہ صرف یہ کہ زبان نہیں کھولتے بلکہ انہیں بزرگ عالم دین اور جید صحافی کہہ کر پکارتے ہیں۔
    ہماری ملکی و قومی سلامتی کاتقاضا یہی ہے کہ ہم تمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر ہر طرح کی دہشت گردی کی بھی اور دہشت گردوں کی بھی کھل کر مذمت کریں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  25. نذر حافی نے کہا:

    رہی بات ڈاکٹر عامربے لیاقت اور حامد میر کی توآج شعور و آگاہی کے دور میں ان کی حقیقت سے کون آشنا نہیں اور کون نہیں جانتا کہ یہ کس کے لئے کام کر رہے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  26. نذر حافی نے کہا:

    جناب۔۔۔
    ڈاکوعامربےلیاقت کو عالم کہنا اسلام اور علما کی توہین ہے۔میں سب کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ اس شکص کے بارے میں سنجیدہ طور پر تحقیق کریں کہ یہ کس کا ایجنٹ ہے اور کیا کیا گل کھلا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  27. نذر حافی نے کہا:

    اے کاش۔۔۔۔ہم ڈکٹر اور ڈاکو نیز ایک دین وملک کے محافظ اور ایک سی آئی اے کے ایجنٹ صحافی میں کچھ تو فرق کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  28. نذر حافی نے کہا:

    بات یہ نہیں کہ ایسا عامرلیاقت یا حامدمیر کے کہنے پہ ہوا ہے بات یہ ہے کہ لوگوں کی رائے اور ماحول بنانےمیں ایسے لوگ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔یعنی بلاواسطہ نہ سہی تو بلواسطہ اور پس پردہ قاتل اسی طرح کے ہوتے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے