کرکٹ بورڈ کی حماقتیں

آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی 150 رنز سے ہار کا غم کسی کو بھلائے نہیں بھول رہا۔ لگتا ہے کہ یہ غم اگلی ہار تک ہنوز برقرار رہے گا۔ بہر کیف، ماضی کی طرح اس بار بھی اس شرمناک شکست کی ذمہ داری ان گیارہ کھلاڑیوں پر ڈالی جارہی ہے، جو میدان میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کھیلنے اترے۔ کرکٹ کے ماہرین سے لے کر شائقین تک سب ہی اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ البتہ کرکٹ بورڈ کی پے در پے ناقص فیصلوں اور ناکام حکمت عملیوں کی طرف کم ہی لوگ توجہ دے رہے ہیں، جو دراصل ٹیم کی اس بری طرح ہارنے کی بڑی اور اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

سمجھ نہیں آتا کہ کرکٹ بورڈ کی بے وقوفیوں کا نوحہ کہاں سے شروع کیا جائے۔ آسٹریلیا کے خلاف اس کے ہوم گراونڈ میں شرمناک شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو قرار دے کر کچھ پر پابندی اور کچھ پر جرمانہ لگا کر کرکٹ بورڈ نے اپنی 'ذمہ داری' پوری کردی۔ اس اقدام سے کرکٹ بورڈ کے عہدیداران کو تو کوئی فرق پڑا نہیں، البتہ پاکستانی کرکٹ کو محمد یوسف جیسے بہترین کھلاڑی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے علاوہ یونس خان کو بھی جبراَ کنارہ کش کردیا گیا۔ شاہد خان آفریدی، اکمل برادران اور شعیب ملک  کو پہلے سزا سنائی گئی اور پھر خود ہی تمام سزا اور جرمانہ معاف کر کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کا سرٹیفیکٹ بھی جاری کردیا گیا۔

کرکٹ بورڈ کی نا معقولیوں کا سلسلہ ابھی جاری و ساری ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ہارتے ہارتے جیت کر اور جیتے جیتے ہار کر ٹیم واپس آئی تو اسے سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ شاہد خان آفریدی کے سر کپتانی کا تاج سجا کر انہیں سری لنکا کے لیے روانہ کردیا گیا۔ بعد ازاں وہاں پر ناکامی کے بعد بھی کرکٹ بورڈ کو اپنی غلطیاں نظر نہیں آئیں اور یوں ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف 'فٹ' قرار دے دیا گیا۔

آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز دراصل پاکستان میں کھیلی جانی تھی جو کہ حالات کے باعث دوسرے ملک منتقل کرنا پڑی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ جیسے ملک کا انتخاب کیوں کیا جہاں کا موسم اور گراونڈ کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے لیے سازگار نہیں تھے۔ تیسرے ملک کا انتخاب چونکہ پاکستان کا حق تھا، اس لیے پی سی بی کو بنگلہ دیش، سری لنکا یا دبئی کے شہروں میں سے کسی شہر کا انتخاب کرنا چاہیے تھا جو کہ موسم و دیگر کنڈیشنز میں پاکستانی ٹیم کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوتا۔

حالیہ سیریز کی پلیننگ میں دوسری بڑی حماقت پہلے ہی میچ میں دو نئے کھلاڑیوں عمر امین اور اظہر علی کو ٹیسٹ کیپ دینا تھا۔ آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف شعیب ملک اور یونس خان کو باہر بٹھا کر بیک وقت دو نئے کھلاڑیوں کو کھلانا دراصل حماقت در حماقت ہے۔ اگر دونوں کھلاڑیوں کو اسی سیریز میں ٹیسٹ کیپ دینا اتنا ہی ضروری تھا تو اس کے لیے ایک میچ میں ایک کھلاڑی کو کھلا کر یہ خواہش پوری کی جاسکتی تھی، لیکن یہ بات سیلیکٹرز کو سمجھائے بھی تو کون؟

پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کےفوری بعد شاہد آفریدی کا ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بورڈ نے بخوشی قبول کر تے ہی یہ خبر عام کردی گئی کہ پاکستان سے محمد یوسف کو بلا لیا گیا ہے۔ دوسری طرف سلمان بٹ کو کپتان اور کامران اکمل کو نائب کپتان بنا دیا گیا۔ یہ وہی کامران اکمل ہیں جنہیں چند ماہ پہلے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شدید تنقید اور سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ساتھ ہی ٹیم انتظامیہ شعیب ملک کی ٹیم کے ساتھ رہنے کے بجائے ثانیہ مرزا کے ساتھ ہنی مون منانے پر بھی کسی قسم کی ایکشن تو درکنار تبصرہ تک سے انکاری ہے۔ یہ محمد یوسف جیسے عظیم کھلاڑی اور یونس خان جیسے بہترین بیٹسمین کے ساتھ سنگین مزاق اور منظور نظر افراد کو نوازنے کی بڑی مثال ہے۔

بورڈ کے عمر رسیدہ سربراہ اعجاز بٹ اور ان کی ٹیم کے تمام تر فیصلہ اس وقت پاکستانی ٹیم کے خلاف ہی جارہے ہیں۔ پہلے مایہ ناز کھلاڑیوں کو بورڈ کی جانب سے جبری رخصت پر بھیجنا پھر شعیب ملک کو ٹیم میں واپسی کے لیے سیاستدانوں کا سہارا لینا اور اب شاہد آفریدی کا اعتراف گناہ اور کفارہ کی کوشش، بورڈ اور ٹیم میں نئی گروہ بندیوں کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اگلے ٹیسٹ میچز جیتنا تو ایک طرف ڈرا بھی کر لے تو اسے ٹیم کی فتح سمجھنا چاہیے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@ عثمان
گرمی تو عثمان یہاں پاکستان میں بھی بہت ہونی تھی. اگر ہوم سیریز اپنے ہوم گراونڈ میں ہوتی تو بھی ان لوگوں کو گرمی میں ہی کھیلنا پڑتا. چلیں دبئی یا شارجہ نہ سہی لیکن بنگلہ دیش اور سری لنکا موزوں ترین جگہیں تھیں جنہیں بورڈ نے نظر انداز کر کے بہت بڑی غلطی کی.

انگلینڈ کی بنسبت پاکستان کو اس خطہ سے بہت اچھا کراوڈ سپورٹ بھی مل سکتا تھا. انگلینڈ میں شائقین کی طرف سے زیادہ حوصلہ افزائی آسٹریلیا کے حصہ میں آئی.

@ DuFFeR - ڈفر
کم از کم انگلینڈ میں موجود کلبز کے کنویں سے تو بہتر ہوتا ناں 😆

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@ عثمان
بنگلہ دیش کی خیر ہے البتہ دبئی ان کے لئے تیل کا کنواں ثابت ہوگا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
عثمان says:

یار
جولائی کے وسط میں دبئی یا بنگلہ دیش مین میچ کروانا تو بہت مشکل ہے. کیوں گرمی میں بیچاروں کی جان نکلوا رہے ہو. 😆

باقی پاکستان مین کرکٹ کا ڈھانچہ ہی مربط نظام پر استوار نہین. یہ حرکتیں چلتی رہیں گی.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب